Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Komal Shahzadi
  4. Zehni Tashadud: Khamosh Tashadud Ki Aik Khatarnak Shakal

Zehni Tashadud: Khamosh Tashadud Ki Aik Khatarnak Shakal

ذہنی تشدد: خاموش تشدد کی ایک خطرناک شکل

انسانی زندگی میں الفاظ کی طاقت بہت زیادہ ہے۔ الفاظ دلوں کو جوڑ بھی سکتے ہیں اور توڑ بھی سکتے ہیں، امید بھی دے سکتے ہیں اور مایوسی کی گہری کھائی میں بھی دھکیل سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تشدد کو صرف جسمانی نقصان تک محدود سمجھنا ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تشدد کی سب سے خطرناک شکل وہ ہوتی ہے جو جسم پر نہیں بلکہ ذہن، احساسات اور شخصیت پر وار کرتی ہے۔ اسے ذہنی یا نفسیاتی تشدد کہا جاتا ہے۔

جسمانی زخم وقت کے ساتھ بھر جاتے ہیں، ان کے نشانات ماند پڑ جاتے ہیں اور درد بھی کم ہو جاتا ہے، مگر ذہنی تشدد کے زخم اکثر برسوں تک انسان کے وجود کا حصہ بنے رہتے ہیں۔ یہ زخم نہ آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں، نہ ہی ان کا کوئی ایکسرے یا میڈیکل ٹیسٹ ہوتا ہے، لیکن ان کی تکلیف اتنی شدید ہو سکتی ہے کہ انسان کی پوری زندگی متاثر ہو جائے۔

ذہنی تشدد کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خاموشی سے ہوتا ہے۔ ایک عورت یا مرد بظاہر ایک عام زندگی گزار رہا ہوتا ہے، گھر میں موجود ہوتا ہے، لوگوں کے درمیان بیٹھتا ہے، مسکراتا بھی ہے، مگر اندر سے وہ مسلسل ٹوٹ رہا ہوتا ہے۔ اس کے اعتماد کو آہستہ آہستہ ختم کیا جا رہا ہوتا ہے، اس کی صلاحیتوں کو کمتر ثابت کیا جا رہا ہوتا ہے اور اسے یہ باور کرایا جا رہا ہوتا ہے کہ وہ بے وقعت، ناکام یا نااہل ہے۔

ہمارے معاشرے میں ذہنی تشدد کی کئی شکلیں موجود ہیں۔ کسی عورت کو بار بار یہ کہنا کہ وہ کچھ نہیں کر سکتی، اس کی تعلیم یا قابلیت کا مذاق اڑانا، اس کی رائے کو اہمیت نہ دینا، ہر وقت اس پر شک کرنا، اس کی کردار کشی کرنا، دوسروں کے سامنے اس کی تذلیل کرنا، اسے جذباتی طور پر بلیک میل کرنا یا اس کے احساسات کو مسلسل نظر انداز کرنا، سب ذہنی تشدد کی مثالیں ہیں۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر لوگ اسے تشدد ہی نہیں سمجھتے۔ اگر کوئی عورت مارپیٹ کا شکار ہو تو لوگ فوراً اسے ظلم قرار دیتے ہیں، لیکن اگر وہ روزانہ تحقیر، تضحیک اور ذہنی اذیت سہہ رہی ہو تو اسے صبر، برداشت اور سمجھوتے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ یہی سوچ ذہنی تشدد کو مزید طاقت دیتی ہے اور متاثرہ فرد کو تنہائی میں دھکیل دیتی ہے۔

ذہنی تشدد کی ایک خطرناک صورت "گیس لائٹنگ" بھی ہے، جس میں متاثرہ شخص کو اس حد تک الجھا دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی یادداشت، سوچ اور فیصلوں پر ہی شک کرنے لگتا ہے۔ اسے بار بار یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ غلطی ہمیشہ اسی کی ہے، اس کی سوچ ناقص ہے اور اس کی باتوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ نتیجتاً وہ اپنی ذات پر اعتماد کھو بیٹھتا ہے اور دوسروں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے لگتا ہے۔

خواتین کے معاملے میں یہ مسئلہ اور بھی حساس ہو جاتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ، باصلاحیت اور خوددار عورت بھی اگر مسلسل ذہنی دباؤ اور تحقیر کا سامنا کرے تو اس کی شخصیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس کی تخلیقی صلاحیتیں دب جاتی ہیں، اس کا اعتماد مجروح ہو جاتا ہے اور وہ اپنی اصل پہچان کھونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی خواتین جسمانی طور پر محفوظ ہونے کے باوجود ذہنی طور پر شدید اذیت کا شکار ہوتی ہیں۔

ذہنی تشدد کے اثرات صرف جذبات تک محدود نہیں رہتے بلکہ جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ مسلسل ذہنی دباؤ بے خوابی، سر درد، ہائی بلڈ پریشر، اضطراب، ڈپریشن اور دیگر نفسیاتی و جسمانی بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔ بعض افراد اس قدر مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ زندگی سے دلچسپی کھو بیٹھتے ہیں اور ان کی سماجی و پیشہ ورانہ کارکردگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

اسلام انسان کی عزتِ نفس اور احترامِ انسانیت کا علمبردار ہے۔ قرآن کریم اور احادیثِ مبارکہ میں حسنِ اخلاق، نرم گفتگو اور اچھے رویے پر بار بار زور دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو"۔

یہ تعلیم صرف جسمانی تحفظ تک محدود نہیں بلکہ جذباتی اور نفسیاتی احترام کو بھی شامل کرتی ہے۔ کسی کو حقیر جاننا، اس کی تذلیل کرنا یا اس کے احساسات کو مجروح کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ذہنی تشدد کے مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھیں۔ والدین اپنے بچوں کے ساتھ، اساتذہ اپنے طلبہ کے ساتھ، میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ اور معاشرہ مجموعی طور پر اپنے افراد کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرے جو عزت، اعتماد اور محبت پر مبنی ہو۔ اختلافِ رائے زندگی کا حصہ ہے، مگر اختلاف کو تحقیر اور تذلیل میں تبدیل کر دینا ایک خطرناک رویہ ہے۔

ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں صرف جسمانی تشدد کم ہو، بلکہ وہ ہے جہاں لوگوں کے دل، احساسات اور عزتِ نفس بھی محفوظ ہوں۔ کیونکہ بعض اوقات ایک تلخ جملہ، ایک حقارت بھری نظر اور ایک مسلسل توہین آمیز رویہ وہ نقصان پہنچا دیتا ہے جو کوئی جسمانی ضرب بھی نہیں پہنچا سکتی۔

ذہنی تشدد دراصل ایک خاموش جنگ ہے، جس میں جسم نہیں بلکہ روح زخمی ہوتی ہے اور روح کے زخم اکثر سب سے زیادہ گہرے، سب سے زیادہ تکلیف دہ اور سب سے زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم اس خاموش اذیت کو پہچانیں، اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کریں جہاں احترام، محبت اور عزتِ نفس ہر انسان کا بنیادی حق ہو۔ آپ کے کالم میں حالیہ کوئٹہ کے افسوسناک واقعے کا حوالہ شامل کیا جا سکتا ہے۔

آج بھی جب ہم خواتین پر ہونے والے مظالم کی بات کرتے ہیں تو تیزاب گردی جیسے دل دہلا دینے والے واقعات ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتے ہیں۔ حال ہی میں کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں وہ شدید زخمی ہوگئیں۔ یہ حملہ محض ایک فرد پر نہیں بلکہ پوری انسانیت، خواتین کے وقار اور محفوظ معاشرے کے تصور پر حملہ تھا۔ رپورٹس کے مطابق متاثرہ ڈاکٹر کو شدید جلن اور زخموں کے باعث مزید علاج کے لیے منتقل کرنا پڑا جبکہ واقعے نے ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی۔

تیزاب گردی دراصل تشدد کی ان بدترین صورتوں میں سے ایک ہے جس میں مجرم صرف جسم کو نہیں جلاتا بلکہ ایک انسان کے خواب، اعتماد اور شناخت کو بھی مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ متاثرہ خواتین صرف جسمانی تکلیف ہی نہیں سہتیں بلکہ انہیں عمر بھر نفسیاتی اذیت، معاشرتی رویوں اور احساسِ محرومی کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تیزاب گردی کے زخم جسم سے زیادہ روح کو زخمی کرتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جسمانی تشدد اور تیزاب گردی کے بعد بھی سب سے طویل جنگ ذہنی تشدد کی ہوتی ہے۔ جب ایک عورت آئینے میں اپنا بدلا ہوا چہرہ دیکھتی ہے، جب اسے معاشرے کی ترس بھری نظریں یا بے حس سوالات سہنے پڑتے ہیں، تب اس کے دل پر لگنے والے زخم مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے ماہرین نفسیات کے نزدیک متاثرہ فرد کی ذہنی اور جذباتی بحالی اتنی ہی ضروری ہے جتنی جسمانی علاج۔

ذہنی تشدد، تیزاب گردی، گھریلو تشدد یا کسی بھی قسم کا ظلم صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی ناکامی ہے۔ ایک مہذب قوم وہی کہلاتی ہے جو اپنی خواتین کو خوف نہیں بلکہ تحفظ، تحقیر نہیں بلکہ احترام اور تشدد نہیں بلکہ انصاف فراہم کرے۔ کیونکہ جب ایک عورت محفوظ ہوتی ہے تو درحقیقت پوری نسل محفوظ ہوتی ہے اور جب ایک عورت پر ظلم ہوتا ہے تو اس کی بازگشت پورے معاشرے میں سنائی دیتی ہے۔ ذہنی یا نفسیاتی تشدد (Mental Torture) کو اکثر تشدد کی سب سے خطرناک اقسام میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ اس کے زخم جسم پر نظر نہیں آتے مگر روح، شخصیت اور اعتماد کو گہرا نقصان پہنچاتے ہیں۔

ذہنی تشدد میں مسلسل تضحیک، تحقیر، دھمکیاں، کردار کشی، احساسِ جرم دلانا، نظرانداز کرنا، جذباتی بلیک میلنگ اور کسی شخص کو اپنی صلاحیتوں یا حقیقت پر شک میں مبتلا کرنا شامل ہے۔ اس کا شکار فرد بظاہر معمول کے مطابق زندگی گزار رہا ہوتا ہے، لیکن اندر ہی اندر اضطراب، خوف، بے اعتمادی، ڈپریشن اور تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔

جسمانی زخم وقت کے ساتھ بھر سکتے ہیں، مگر الفاظ، رویّے اور مسلسل ذہنی دباؤ کے چھوڑے ہوئے نشانات بعض اوقات برسوں تک انسان کے دل و دماغ پر قائم رہتے ہیں۔

ذہن کے زخم دکھائی نہیں دیتے۔ مگر یہ روح کی گہرائیوں تک اتر جاتے ہیں۔ ایک تلخ لفظ، ایک مسلسل تحقیر۔ کئی بار اُن چوٹوں سے زیادہ درد دیتی ہے جو جسم پر لگتی ہیں۔ کیونکہ جسم کے زخم مندمل ہو جاتے ہیں۔ مگر ٹوٹا ہوا اعتماد اور زخمی خودی اکثر عمر بھر مرہم تلاش کرتی رہتی ہے۔

Check Also

Qurbani Ka Ehteram, Magar Ehsan Nahi

By Fazal Qadeer