Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Umar Shahzad
  4. Riyasat Ya Jageer?

Riyasat Ya Jageer?

ریاست یا جاگیر؟

فروری 1986ء کی ایک گرم دوپہر تھی۔ فلپائن کے دارالحکومت منیلا کی سڑکیں انسانوں سے بھری ہوئی تھیں۔ ہزاروں لوگ ہاتھوں میں جھنڈے لیے صدارتی محل کی طرف بڑھ رہے تھے۔ محل کے اندر فرڈینینڈ مارکوس موجود تھا۔ وہی مارکوس جو بیس برس تک ملک کا طاقتور ترین شخص رہا، جس کے ایک اشارے پر قوانین بدل جاتے تھے، جس کے خاندان کو غیر معمولی مراعات حاصل تھیں اور جس کے گرد اقتدار کا ایسا حصار کھڑا ہو چکا تھا کہ اسے لگتا تھا ریاست اور اس کا خاندان ایک ہی چیز ہیں۔ مگر اس دن تاریخ نے رخ بدل لیا۔

فوج کے کئی افسر عوام کے ساتھ جا ملے۔ محل کے دروازے بند ہونے لگے۔ رات ہوتے ہوتے خبر پھیل گئی کہ مارکوس خاندان ملک چھوڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ چند گھنٹوں بعد ہیلی کاپٹر صدارتی محل کی چھت سے اڑا اور فلپائن کا سب سے طاقتور خاندان جلاوطنی کی طرف روانہ ہوگیا۔ جب عوام محل کے اندر داخل ہوئے تو انہیں سونے کے برتن، قیمتی تحائف، شاہانہ کمروں کی قطاریں اور ایسی آسائشیں ملیں جن کا تصور بھی ایک عام شہری نہیں کر سکتا تھا۔ دنیا حیران رہ گئی کہ جس ملک کے لاکھوں لوگ غربت میں زندگی گزار رہے تھے، وہاں اقتدار کے ایوانوں میں کس قدر شاہانہ زندگی بسر کی جا رہی تھی۔

تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں۔ مسئلہ صرف یہ نہیں ہوتا کہ حکمران مراعات لیتے ہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب حکمران طبقہ یہ سمجھنے لگے کہ ریاست اس کی ملکیت ہے اور قومی خزانہ اس کا ذاتی اکاؤنٹ۔ مجھے یہ واقعہ اس لیے یاد آیا کہ پاکستان میں ان دنوں عوامی نمائندوں کی مراعات ایک بار پھر موضوعِ بحث ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں سابق پارلیمنٹیرینز، ان کی بیگمات اور بچوں کے لیے بلیو پاسپورٹ کی منظوری کی خبر آئی۔

دوسری طرف خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کی حکومت نے منتخب نمائندوں کے لیے مزید سہولتوں، سرکاری ریسٹ ہاؤسز میں مفت قیام، ٹول ٹیکس سے استثنا اور دیگر مراعات کی منظورہ دی۔ یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ملک قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، بجلی کے بل متوسط طبقے کی کمر توڑ رہے ہیں اور نوجوان روزگار کے لیے دربدر پھر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ نہیں کہ منتخب نمائندوں کو سہولتیں کیوں دی جائیں۔ دنیا کی ہر جمہوریت اپنے قانون سازوں کو تنخواہ، دفتر اور ضروری انتظامی سہولتیں فراہم کرتی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ کیا ان سہولتوں کی کوئی حد بھی ہونی چاہیے یا نہیں؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ جب قوم معاشی بحران سے گزر رہی ہو تو کیا قانون سازوں کی پہلی ترجیح اپنی مراعات ہونی چاہیے؟ پاکستان کا عام آدمی صبح سے شام تک محنت کرتا ہے۔ وہ آٹے پر بھی ٹیکس دیتا ہے، چینی پر بھی، بجلی کے بل میں بھی، پٹرول میں بھی اور موبائل فون پر بھی۔ پھر جب وہ ٹیلی ویژن پر دیکھتا ہے کہ اسمبلیوں میں اس کے بچوں کی تعلیم، علاج اور روزگار سے زیادہ بحث منتخب نمائندوں کی مراعات پر ہو رہی ہے تو اس کے ذہن میں ایک ہی سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس ریاست کا اصل مالک کون ہے؟

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ اس ایوان میں ہوتا ہے جہاں دیوار پر قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر آویزاں ہوتی ہے۔ شاید ہمارے سیاست دانوں کو ایک لمحے کے لیے بھی احساس نہیں ہوتا کہ جس قائداعظم کی تصویر کے سامنے بیٹھ کر وہ اپنے لیے نئی سہولتوں کی قانون سازی کرتے ہیں، وہ اپنی ذاتی زندگی کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرتے تھے اور قومی خزانے کو عوام کی امانت سمجھتے تھے۔

ریاست اور جاگیر میں فرق ہوتا ہے۔ ریاست میں حکمران خود کو عوام کا خادم سمجھتا ہے، جبکہ جاگیر میں حکمران خود کو مالک سمجھنے لگتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں یہ سوال دن بہ دن اہم ہوتا جا رہا ہے کہ ہم ریاست کی طرف بڑھ رہے ہیں یا جاگیر کی طرف۔ یہ سوال صرف حکومت سے نہیں، اپوزیشن سے بھی ہے۔ یہ سوال صرف ایک جماعت سے نہیں، ہر اس شخص سے ہے جو پارلیمنٹ کی کرسی پر بیٹھ کر قانون سازی کرتا ہے۔ کیونکہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ قومیں صرف بیرونی حملوں سے تباہ نہیں ہوتیں، وہ اس وقت بھی کمزور پڑ جاتی ہیں جب اقتدار خدمت کے بجائے مراعات کا دوسرا نام بن جائے۔

سیاست کا اصل امتحان اقتدار حاصل کرنا نہیں، اقتدار استعمال کرنا ہوتا ہے۔ دنیا کی ہر جمہوریت اپنے عوامی نمائندوں کو تنخواہ، دفتر، عملہ اور بعض سرکاری سہولتیں دیتی ہے، لیکن مہذب جمہوریتوں اور کمزور جمہوریتوں میں ایک بنیادی فرق ہے۔ وہاں قانون ساز سب سے پہلے اپنے آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔

امریکہ کو دنیا کی سب سے طاقتور جمہوریت کہا جاتا ہے۔ وہاں کانگریس کے ارکان کو مناسب تنخواہ، عملہ اور دفتری اخراجات ضرور دیے جاتے ہیں، لیکن سابق رکنِ کانگریس کو صرف اس لیے کہ وہ کبھی پارلیمنٹ کا حصہ رہا تھا، اپنے پورے خاندان کے لیے تاحیات خصوصی سرکاری مراعات نہیں ملتیں۔ نہ اس کے بچوں کو مستقل خصوصی حیثیت دی جاتی ہے اور نہ ہی ہر سابق قانون ساز کو ریاستی سکیورٹی حاصل ہوتی ہے۔ سکیورٹی صرف اسی صورت میں دی جاتی ہے جب متعلقہ ادارے حقیقی خطرے کی نشاندہی کریں یا عہدے کی نوعیت اس کا تقاضا کرے۔

برطانیہ میں تو صورتِ حال اس سے بھی زیادہ دلچسپ ہے۔ 2009ء میں صرف چند ارکانِ پارلیمنٹ کے غیر مناسب اخراجاتی دعووں نے پورے ملک میں سیاسی بھونچال پیدا کر دیا۔ اخبارات نے تفصیلات شائع کیں، عوام نے سخت ردِعمل دیا، کئی ارکان کو استعفیٰ دینا پڑا، بعض نے قومی خزانے میں رقوم واپس جمع کرائیں اور کچھ کے خلاف مقدمات بھی چلے۔ برطانوی عوام نے اپنے نمائندوں کو واضح پیغام دیا کہ قومی خزانہ کسی سیاست دان کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔

سویڈن میں ایک وزیر کو سرکاری کریڈٹ کارڈ سے معمولی ذاتی خریداری پر بھی عوام کے سامنے جواب دینا پڑا۔ وہاں کسی وزیر یا رکنِ پارلیمنٹ کی اصل طاقت اس کا پروٹوکول نہیں بلکہ اس کا کردار سمجھا جاتا ہے۔ ناروے اور ڈنمارک میں کئی وزراء عام مسافروں کے ساتھ ٹرینوں اور بسوں میں سفر کرتے ہیں۔ جرمنی میں ارکانِ پارلیمنٹ کو سہولتیں ضرور ملتی ہیں، مگر ان کے استعمال پر سخت نگرانی بھی ہوتی ہے۔ میڈیا، عدالتیں اور عوام اس نگرانی کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔

اب ذرا پاکستان کی تصویر دیکھیے۔

ایک طرف حکومت عوام کو بتاتی ہے کہ خزانہ خالی ہے، نئے ٹیکس لگانا ناگزیر ہیں، بجلی اور گیس مہنگی کرنا مجبوری ہے اور اخراجات میں کمی ضروری ہے۔ دوسری طرف عوام سنتے ہیں کہ منتخب نمائندوں کے لیے تاحیات مراعات کے قانون منظور ہو رہے ہیں۔ یہی تضاد ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کی دیوار میں پہلی دراڑ ڈالتا ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ عوامی نمائندوں کو تنخواہ یا ضروری سہولتیں نہیں ملنی چاہئیں۔ جو مناسب سہولتیں ہیں وہ ملنی چاہیے ممبر پارلیمنٹ اور اس کی اہلیہ کو بلیو پاسپورٹ بھی دے دیں لیکن جب تک وہ پارلیمنٹ کا ممبر ہے یہ نہیں کے تاحیات اور اس کے بچوں کو بھی دیتے پھریں۔ جمہوریت اشرافیہ پیدا کرنے کا نظام نہیں، عوام کی خدمت کا نظام ہے۔

ہمارے ہاں اصل مسئلہ سہولت نہیں، ترجیح ہے۔

جب ایک کسان کھاد خریدنے سے پہلے دس بار حساب لگاتا ہو، ایک مزدور اپنے بچوں کی فیس ادا کرنے کے لیے قرض لیتا ہو، ایک عام آدمی بجلی کا بل دیکھ کر پریشان ہو جاتا ہو اور ایک نوجوان ڈگری ہاتھ میں لیے نوکری کی تلاش میں دربدر پھر رہا ہو، تو ایسے وقت میں پارلیمنٹ کی ترجیح عوام کی زندگی آسان بنانا ہونی چاہیے، نہ کہ اپنی زندگی مزید آسان کرنا۔

یہاں ایک لمحے کے لیے اپنی اسمبلیوں کا منظر ذہن میں لائیے۔

ایوان کے سامنے اسپیکر کی کرسی ہے۔ اطراف میں حکومتی اور اپوزیشن بینچیں ہیں۔ دیوار پر قائداعظم محمد علی جناح کی تصویر آویزاں ہے۔ وہی قائداعظم جنہوں نے قومی خزانے کو عوام کی امانت سمجھا، جنہوں نے ذاتی اخراجات کو سرکاری خزانے پر بوجھ نہیں بننے دیا۔ افسوس یہ ہے کہ آج اسی تصویر کے سامنے بیٹھ کر اگر قانون ساز اپنے اور اپنے خاندانوں کے لیے نئی مراعات کی قانون سازی کریں تو سوال صرف سیاسی نہیں رہتا، اخلاقی بھی بن جاتا ہے۔

پاکستان کو اس وقت نئے استحقاق نہیں، نئی مثالوں کی ضرورت ہے۔ قوم اس دن زیادہ خوش ہوگی جب کوئی پارلیمنٹ یہ اعلان کرے کہ موجودہ معاشی حالات میں ہم اپنی مراعات میں اضافہ نہیں بلکہ کمی کریں گے۔ جب کوئی وزیر یہ کہے کہ عوام سے قربانی مانگنے سے پہلے حکومت خود قربانی دے گی۔ جب کوئی اسمبلی اپنے لیے نہیں بلکہ عوام کے لیے قانون بنائے گی۔

تاریخ کی کتابیں گواہ ہیں کہ سلطنتیں ہمیشہ بیرونی دشمنوں سے نہیں ٹوٹتیں، اکثر وہ اندر سے کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔ جب حکمران اور عوام دو مختلف دنیاؤں میں رہنے لگیں، جب قانون طاقتور کے لیے نرم اور کمزور کے لیے سخت ہو جائے، جب اقتدار خدمت کے بجائے مراعات کا دوسرا نام بن جائے، تو زوال دروازہ نہیں کھٹکھٹاتا، خاموشی سے اندر داخل ہو جاتا ہے۔

اسی لیے آج سوال صرف بلیو پاسپورٹ، سرکاری ریسٹ ہاؤس، ٹول ٹیکس یا سکیورٹی کا نہیں۔

اصل سوال صرف ایک ہے۔ کیا ہم ایک ایسی ریاست بنا رہے ہیں جہاں عوام قانون سے طاقت حاصل کریں، یا ایسی جاگیر جہاں طاقتور قانون سے مراعات حاصل کریں؟

اس سوال کا جواب تقریروں میں نہیں، آنے والی قانون سازی میں ملے گا۔ کیونکہ قومیں نعروں سے نہیں، انصاف سے زندہ رہتی ہیں اور انصاف کا پہلا اصول یہی ہے کہ حکمران اپنے لیے وہی قانون پسند کریں جو وہ اپنے عوام کے لیے بناتے ہیں۔

Check Also

Jharpein Aur Arab Maeeshat

By Hameed Ullah Bhatti