Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Islam Ke Naam Par Siasat, Hasil Kya Hua?

Islam Ke Naam Par Siasat, Hasil Kya Hua?

اسلام کے نام پر سیاست، حاصل کیا ہوا؟

پاکستان کی سیاست میں مولانا فضل الرحمٰن ایک طاقتور اور متنازع شخصیت رہے ہیں کئی دہائیوں سے وہ مذہبی سیاست کے سب سے نمایاں چہرے کے طور پر سامنے آتے رہے جے یو آئی (ف) کی قیادت پارلیمانی تجربہ اور ہر بڑے سیاسی دور میں کردار یہ سب انہیں ایک مستقل قوتی کے طور پر قائم رکھتا ہے۔ مگر ایک طویل سیاسی سفر کے بعد بنیادی سوال آج بھی وہی ہے اسلام کے نام پر کی گئی اس سیاست نے عوام کو کیا دیا؟

ناقدین کا کہنا ہے کہ مولانا کی سیاست میں اصول اور مفاد کے درمیان لکیر اکثر دھندلی رہی ہے مختلف ادوار میں مختلف حکومتوں کے ساتھ اتحاد ایڈجسٹمنٹس اور مفاہمتیں یہ سب زاتی یا جماعتی مفادات کے لیے نظر آتے رہے حامی انہیں "سیاسی بصیرت کا مالک قرار دیتے ہیں جبکہ مخالفین اسے موقع پرستی یعنی مفاد پرستی سے تشبیہ دیتے ہیں خاندانی سیاست کی تنقید بھی کافی پرانی ہے۔ اگر مذہبی سیاست کا مقصد عوامی خدمت اور اسلامی اقدار کا فروغ ہے تو قیادت کو نئے اہل اور غیر خاندانی افراد کے لیے کھلا ہونا چاہیے تھا محدود دائرے میں قیادت کا سمٹنا عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا کرتا ہے۔ حال ہی میں مولانا فضل الرحمٰن کے بیانات پر شدید تنقید ہوئی ہے فوجیوں کی تنخواہ والے حوالے سے ان کے کلمات نے نہ صرف دفاع کے وزیر بلکہ عام عوام اور شہیدوں کے لواحقین کو بھی ناراض کیا جب ملک دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے تو ایسے بیانات سے عوام کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ یہ واقعہ ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کرتا ہے کہ مذہبی قیادت قومی مسائل پر کس حد تک ذمہ دارانہ اور متحدہ کردار ادا کر رہی ہے۔

ملک مہنگائی، بے روزگاری، بدعنوانی، تعلیم، صحت اور معاشی بحرانوں سے دوچار ہے عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ جو لوگ اسلام کے نام پر ووٹ مانگتے ہیں وہ ان مسائل پر سب سے زیادہ آواز بلند کریں مگر افسوس کہ مذہبی جماعتوں کی سیاست زیادہ تر اقتدار کی شراکت، وزارتیں اور سیاسی سودے بازی تک محدود رہی عملی طور پر معاشرے میں عدل، دیانت اور فلاح کا نظام قائم کرنے کی کوئی نمایاں کوشش نظر نہیں آئی ملک میں بڑھتی ہوئی بے حیائی پر بھی کسی بھی سیاسی جماعت نے ابھی تک کوئی احتجاج بلند نہیں کیا مطلب انہیں یہ چیزیں بے معنی ہیں بس انہیں ہر صورت اقتدار چاہئے وزارتیں چاہئیں اور اسکے فائدے بے حیائی بڑھے مہنگائی بڑے غریب مرے ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مذہب مقدس امانت ہے جب اسے سیاست سے جوڑا جاتا ہے تو عوام کی توقعات بہت بلند ہو جاتی ہیں عام سیاستدان سے زیادہ مذہبی رہنما پر ذمہ داری ہوتی ہے کہ اس کا قول و فعل ایک ہو اگر بیانات میں اسلام انصاف اور عوامی حقوق کا نعرہ ہو مگر عمل میں سیاسی مصلحت اور مفاد پرستی غالب رہے تو یہ نہ صرف فرد بلکہ پوری مذہبی سیاست پر اعتماد کو مجروح کرتا ہے

تاریخ گواہ ہے کہ صرف اسلام کا نام لے لینا کافی نہیں اصل معیار کردار، عمل اور مستقل مزاجی ہے جن رہنماؤں نے نعروں کے بجائے عملی اصلاحات کیں وہ یاد رکھے جاتے ہیں آج عوام نعروں سے زیادہ کارکردگی دیکھ رہے ہیں اگر دہائیوں کی سیاست کے باوجود عوام کی زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئے تو سوال اٹھنا فطری ہے۔

اسلام اقتدار کا نعرہ نہیں بلکہ عدل، امانت، دیانت اور عوامی خدمت کا مکمل ضابطہ حیات ہے جب مذہب کو صرف ووٹ، اقتدار اور سیاسی لین دین کے لیے استعمال کیا جائے تو نقصان صرف سیاست کا نہیں ہوتا دین پر عوام کا اعتماد بھی کمزور ہوتا ہے۔

اب فیصلہ عوام کا ہے وہ اب نعروں اور خطابت سے زیادہ عملی کردار، اصول پسندی اور حقیقی قربانی دیکھنا چاہتے ہیں مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام مذہبی سیاسی قیادت کو خود احتساب کرنا چاہیے کیا وہ تاریخ میں ان لوگوں میں شمار ہوں گے جنہوں نے اسلام کے نام پر معاشرے کو بدلا، یا ان میں جن کے دور میں اسلام صرف سیاسی آلہ بن کر رہ گیا؟

سیاسی قیادت کا اصل سرمایہ عوام کا اعتماد ہوتا ہے اور یہ اعتماد صرف مستقل مزاجی اور اصول پسندی سے برقرار رہتا ہےآخر میں فیصلہ عوام نے کرنا ہے وہ اب نعروں سے زیادہ کارکردگی کو دیکھتے ہیں اگر کوئی رہنما برسوں سیاست میں رہنے کے باوجود عوام کی زندگی میں نمایاں مثبت تبدیلی نہ لا سکے تو اس کی سیاست پر سوال اٹھنا ایک فطری عمل ہے اقتدار، خطابت اور سیاسی مہارت اپنی جگہ مگر تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنے عمل سے قوم کی تقدیر بدلنے میں حقیقی کردار ادا کیا۔

اسلام صرف اقتدار حاصل کرنے کا نعرہ نہیں بلکہ عدل دیانت امانت اور عوام کی خدمت کا مکمل ضابطۂ حیات ہے اس لیے جب کوئی جماعت یا رہنما اسلام کے نام پر سیاست کرتا ہے تو عوام اس سے عام سیاست دانوں سے کہیں زیادہ کردار اصول پسندی اور قربانی کی توقع رکھتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اگر دہائیوں تک مذہب کے نام پر سیاست کرنے کے باوجود عوام مہنگائی بے روزگاری بدعنوانی ناانصافی، تعلیمی پسماندگی اور اخلاقی زوال ہی کا شکار رہیں تو پھر اس سیاست کا حاصل کیا ہے؟

کیا اسلام کا نام صرف ووٹ لینے اقتدار میں حصہ پانے اور سیاسی سودے بازی کے لیے استعمال ہونا چاہیے یا پھر اس کا مقصد معاشرے میں عدل دیانت اور فلاح کا نظام قائم کرنا ہے؟ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام نعروں سے نہیں بلکہ کردار سے زندہ رہتا ہے جب مذہب کو محض سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو نقصان صرف سیاست کا نہیں ہوتا بلکہ دین پر عوام کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے یہی وہ سوال ہے جو آج عوام ہر اُس مذہبی سیاسی قیادت سے پوچھ رہی ہے جس نے برسوں اسلام کے نام پر سیاست کی، مگر جس کے دورِ عمل میں اسلام کی حقیقی تعلیمات کا عملی عکس کم ہی دکھائی دیا۔

Check Also

Dil e Khush Fehm Ki Tawaquat Ke Baraks Gambhir Tar Hote Iran America Mamlat

By Nusrat Javed