Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Sohail Bashir Manj
  4. Akhri Marka

Akhri Marka

آخری معرکہ

جس طرح ستھرا پنجاب مہم نے صوبے کے طول و عرض سے غلاظت اور تعفن کے ڈھیروں کو سمیٹ کر عوام کو ایک پاکیزہ اور صحت مند ماحول فراہم کیا بالکل اسی طرح اب دھرتی کے ایک اور انتہائی اہم اور حساس حصے یعنی بلوچستان میں بھی ایک عظیم الشان تطہیر کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے جہاں گوادر کی گہری بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری جیسے عالمی اہمیت کے عظیم منصوبے پورے ملک کی معاشی ترقی کے ضامن ہیں لیکن کچھ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار دہشت گرد اس سنہری خطے میں بدامنی پھیلا کر یہاں کے معصوم شہریوں کا خون بہا رہے ہیں اور تعمیر و ترقی کے اس خوبصورت سفر کو روکنے کی ناکام کوششوں میں مصروف ہیں۔ ان سیکیورٹی اداروں نے جدید ترین انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں اور نیٹ ورکس کو نیست و نابود کیا ہے اور سرحد پار سے پناہ پانے والے شرپسندوں کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔

بلوچستان اس وقت عالمی جیو پولیٹکس کا وہ حساس ترین میدان جنگ بن چکا ہے جہاں پاکستان کی معاشی شہ رگ یعنی گوادر پورٹ کو کاٹنے کے لیے بین الاقوامی سطح پر انتہائی گہرے اور ہولناک جال بچھائے جا رہے ہیں گوادر اپنی سٹریٹیجک لوکیشن اور گہرے پانیوں کی بدولت دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی گزرگاہ ہے جو چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت پورے خطے کا نقشہ بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اسرائیل اور ان کی ہمنوا شیطانی طاقتیں اس منصوبے کو اپنے وجود کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کرتی ہیں۔

یہ ہندوستان اسرائیل اور شیطانی قوتیں ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہیں جن کا بنیادی مقصد نہ صرف سی پیک کو سبوتاڑ کرکے چین کے عالمی معاشی اثر و رسوخ کو روکنا ہے بلکہ پاکستان کے اندرونی امن و امان کو مستقل طور پر مفلوج کرکے ملک کو معاشی اور انتظامی سطح پر دیوالیہ کرنا ہے۔ اس گھناونے کھیل میں افغانستان کی سرزمین کو ایک بڑے لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جہاں سے را اور موساد دہشت گرد تنظیموں کی بھاری مالی معاونت اسلحے کی فراہمی اور جدید تکنیکی تربیت کے ذریعے بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ انفراسٹرکچر پر حملوں اور فرقہ وارانہ نفرتوں کو ہوا دے رہی ہیں تاکہ پاکستان مستقل طور پر دفاعی پوزیشن پر مجبور رہے اور یہاں بیرونی سرمایہ کاری کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے۔

اگر خدانخواستہ دشمن اپنے ناپاک عزائم اور چالوں میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا نقصان صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے گا بلکہ یہ پورے عالم اسلام کے لیے ایک ایسا المیہ ہوگا جس کی تلافی صدیوں ممکن نہ ہو سکے گی۔ موجودہ نازک ترین حالات کا تقاضا ہے کہ تمام مسلم ممالک اپنی مصلحت پسندی کو بالائے طاق رکھ کر پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوں کیونکہ جب تک پاکستان کا مضبوط وجود قائم ہے تب ہی تک تمام مسلم ریاستیں خود کو محفوظ اور خود مختار تصور کر سکتی ہیں۔

بلوچستان کی پاک دھرتی پر بہنے والا بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی فورسز کے غیور جوانوں کا پاکیزہ خون اب ایک ایسا ناقابل برداشت صدمہ بن چکا ہے جس کا سنگین حساب چکانے کا وقت آ گیا ہے دشمن کے ناپاک عزائم کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے اب روایتی جنگ سے بڑھ کر جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی ایک فیصلہ کن آپریشن ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس گرینڈ آپریشن کی کامیابی کے لیے یہ بھی انتہائی ضروری ہے کہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کو فوری طور پر ڈی پورٹ کیا جائے کیونکہ ہندوستان اور اسرائیل کی جانب سے افغانستان میں کی جانے والی بھاری انویسٹمنٹ اور دہشت گردی کی نرسریوں کے تانے بانے براہ راست انھی نیٹ ورکس سے جڑے ہیں۔

بلوچستان کی غیور اور غیرت مند عوام کے لیے اب وہ تاریخی لمحہ آ چکا ہے جب انہیں اپنی مٹی کا قرض چکانے کے لیے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ جب پاک فوج کے جوان آپ کے بچوں کی مسکراہٹوں اور آپ کی نسلوں کے پرامن کل کو بچانے کے لیے اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں تو دھرتی کے ہر بیٹے ہر بیٹی ہر معزز سردار اور ہر حکومتی عہدیدار پر یہ فرض عا ئد ہوتا ہے کہ وہ بی ایل اے اور ٹی ٹی پی جیسے ضمیر فروشوں کے خلاف پاک فوج کی آنکھ اور کان بن جائیں اپنے شہروں گلیوں اور محلوں میں چھپے ان آستین کے سانپوں کی خفیہ معلومات سیکیورٹی اداروں تک پہنچانے کے لیے مخبری کا ایک ایسا مضبوط عوامی نیٹ ورک قائم کریں کہ ان سفاک قاتلوں کو چھپنے کے لیے دھرتی کی کوئی کوکھ میسر نہ آ سکے۔

اس وقت سرحدوں کے آر پار ایک ایسا بے رحم اور جامع کلیئرنس آپریشن شروع ہو چکا ہے جو بلوچستان کے ایک کونے سے لے کر ایران اور افغانستان کے آخری بارڈر تک پھیلا ہوا ہے جہاں اب ان ناسوروں سے کوئی بات چیت یا رعایت نہیں ہوگی بلکہ انہیں صرف اور صرف عبرتناک انجام تک پہنچایا جائے گا۔

Check Also

Pesha Warana Raqabatein

By Ali Raza Ahmed