Wednesday, 15 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Zubair Hafeez
  4. Urta Teer

Urta Teer

اڑتا تیر

بھلے وقتوں کی بات ہے میاں نواز شریف جرنل قیوم کی چھت میں اتفاق فاؤنڈری کا سریا ڈالتے ڈالتے پنجاب اسمبلی کی وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھ گئے۔۔ اس سے زیادہ بھلے وقتوں کی بات ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو جنرل ایوب کے پلو کے ساتھ لگے لگے وزارت خارجہ سے وزرات اعظمی کی کرسی پر براجمان ہو گے۔۔

تھوڑے کم بھلے وقتوں کی بات ہے۔۔ زمان پارک سے ایک شعلہ جوالہ اٹھ کر بنی گالہ میں آبیٹھا۔۔ وہاں سے پنڈی بوائز نے اس کی شاپنگ کرکے پارسل سیدھا نئے پاکستان کے سرکس میں پہنچایا اور وہاں سے خلیفہ یعنی وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دیا۔۔ مگر ان سبھی میں ایک خاص طرح کا پیٹرن نظر آتا ہے۔۔ پہلے سریا ڈالنے والے کرسی سے جبری اتر کر سعودیہ پہنچ گئے اور وہاں سے اپنے کنگ میکرز کے خلاف بیان داغنے لگے۔

بنی گالہ والے خلیفہ کے ہاتھ جب زبردستی ڈائری پکڑائی گی تو وہ بھی واپس زمان پارک پہنچ کر اپنے اساتذہ سے ملک کو حقیقی آزادی دلوانے کے لیے سیاسی مشقیں کرنے لگے۔۔

لاڑکانہ والوں کے حالات تو آپ کے سامنے ہی ہیں۔۔ نہ تو اکبر کی طرح کوئی سیٹ چھوڑی اور نہ بھٹو خاندان کا کوئی فرد۔۔

آج کل یہ فریضہ مولانا فضل الرحمان صاحب سر انجام دے رہے ہیں۔۔ ان کو یکدم لگنے لگا ہے مسائل کی جڑ اسلام آباد میں نہیں پنڈی میں ہے۔۔

اتنی دفعہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا سرکس یہاں پر چل چکا ہے کہ اب کوئی اینٹی اسٹیبلشمنٹ کا اڑتا تیر جس "پوزیشن" میں بھی لے ہم اسے دل پھینک دوشیزہ کی رضامندی ہی سمجھیں گے۔۔

وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی نظام ہو اس کا متوازن برقرار رکھنے کے لیے صرف اس کے حامیوں کی نہیں مخالفین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔۔ ٹھنڈی کے ساتھ جب تک گرم تار نہ ہو اسٹبلشمنٹ کے مفادات کا سرکٹ پورا نہیں ہوتا۔۔

جب کسی گروہ یا ہجوم میں انتشار بھیلنے لگتا ہے اس ہجوم کو متحد رکھنے کا سب سے کارگر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ایک دشمن گھڑ کر اس کا خوف ہجوم کے سر پر بٹھا کر اسے قابو کیا جائے۔۔ اب چونکہ دشمن گھڑنے والا نسخہ پرانا ہو چکا ہے۔۔ عوام کی فرسٹریشن بھی اوج ثریا کو چھو رہی ہے۔۔ ایسے میں ایک ایسے ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانئے کی ضرورت خود مالکان ریاست بھی محسوس کرتے ہیں۔۔ جس میں آکر عوام اپنی بھڑاس نکال سکیں۔۔ اس میں اپنا نجات دہندہ ڈھونڈ سکیں۔۔

ہر پانچ سے چھ سال کے بعد گرم تار کو پنڈی والے بدلتے رہتے ہیں تاکہ سرکٹ صیحح طرح کام کرتا رہا۔۔ خان صاحب کا بیانیہ ایکسپائر ہو چکا ہے۔۔ اب نئے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانئے کی ضرورت ہے۔۔ مگر یہاں سب کچھ کنٹرولڈ ہے۔۔ کوئی بھی بیانیہ آرگینک نہیں ہوتا۔۔ اب فضل الرحمان صاحب کو سوجھی کہ وہ بھی اڑتا تیر لیں۔۔

یہ سب کچھ لاشعوری طریقے سے ملک کی سیاست میں کئی دھائیوں سے چلتا رہا ہے اور آگے بھی چلتا رہے گا۔۔ جب تک ڈاکٹر اسرار (جنھیں خراسان سے خاصی محبت تھی۔۔ ہر چوتھے پانچویں بیان کی۔ وہاں سے کوئی نہ کوئی لشکر برآمد کرنے کی پشین گوئی کرتے رہتے۔۔) کی پشین گوئی کے مطابق خراسان سے کسی لشکر کا ظہور نہ ہو جائے۔

Check Also

Silent Spring, Fitrat Ki Khamosh Cheekh

By Asif Masood