Dasht e Imkaan Aur Kandyali Thor: Urdu Aur Punjabi Shayari Mein Maqamiat Aur Fitrat Nigari
دشتِ امکاں اور کنڈیالی تھور: اردو اور پنجابی شاعری میں مقامیت اور فطرت نگاری

کیا وجہ ہے کہ ایک شاعر جب اردو میں لکھنے کی سوچتا ہے قلم اٹھاتے ہی کائنات، زمان و مکان، خدا، تقدیر، ازل و ابد اور فنا و بقا کے آفاقی، رتھ پر سوار ہو جاتا ہے اور ایسی تجریدی، فرضی اور مصنوعی دنیا تخلیق کرنے لگتا ہے جو صرف تصوروں، خوابوں اور خیالوں میں موجود ہے اور حقیقت سے اس کا اتنا ہی تعلق ہے جتنا پاؤں کے چھالے سے لامکاں کا۔
مگر کیسی عجیب بات ہے جب وہی شاعر اپنی مادری پنجابی زبان میں لکھتا ہے تو کاغذ پر کپاس کے ڈوڈے بکھرتے ہیں، سرسوں کے ساگ کا ذائقہ زبان پر گھلتا ہے، گدّے کی للک، ڈھول کی تھاپ سنائی دیتی ہے، چرخے کی گھوں گھوں کانوں میں پڑتی ہے، مقامی ثقافت کی میٹھی مہک مشام میں آتی ہے اور اچانک ایک ہنستی رستی بستی بس جاتی ہے۔
ایسے شاعروں کی مثالیں بعد میں، پہلے ہم اس سوال کا جائزہ لیتے ہیں کہ اردو شاعری مقامی ثقافت سے بڑی حد تک کٹی ہوئی کیوں ہے، اس میں مٹی کی خوشبو کیوں نہیں ہے اور کیوں اس میں ہمیں ٹھوس دنیا نظر نہیں آتی جسے چھوا جا سکے، محسوس کیا جا سکے؟
اردو شاعری کی تاریخ پر ایک نظر
آفرینش یعنی امیر خسرو کو ایک طرف رکھیں تو اردو شاعری کا آغاز دکن سے ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ دکن میں لکھی جانے والی وجہی اور نصرتی کی مثنویوں اور قلی قطب شاہ کی نظموں میں دیسی، مصالحہ موجود تھا، مگر اردو تاریخ کی کتابوں کے مطابق 1700 کے قریب صوفی بزرگ شاہ گلشن نے ولی دکنی کو مشورہ دیا کہ فارسی مضامین، تراکیب اور اسالیب بیکار پڑے ہیں، انہیں کیوں استعمال نہیں کرتے؟ ولی نے اپنے مرشد کی نصیحت کا استرا ہاتھ میں پکڑ، اپنی غزل کو دکنی یعنی دیسی عناصر کی حجامت کر ڈالی۔
انہی ولی کا دیوان 1722 میں دلی پہنچا، پہنچتے ہی بقول میر شیطان کی طرح وائرل ہوگیا اور ہر کوئی ان کے انداز میں شاعری کرنے لگا۔ لیکن دلی والوں کو دارالحکومت کے باسی ہونے کے ناطے جو تفاخر تھا، اس کی وجہ سے وہ کسی صورت تسلیم نہیں کر سکتے تھے کہ وہ دکنی روایت کی پیروی کر رہے ہیں، اس کا لازی نتیجہ ایک ایسی شعوری کوشش کی صورت میں نکلا جس میں انہوں نے اردو کو دیسی دکنیت، سے پاک کرنے کی کوشش کی اور مقامی عناصر (ہولی، دیوالی، ساون بھادوں)، مقامی الفاظ (پیا، سجن، گوری، پریتم وغیرہ) کے ساتھ لچر، کی دم باندھ دی اور ولی سمیت دیگر دکنی شاعروں کو کان سے پکڑ کر کینن سے باہر کر دیا گیا۔
اس بحث میں ہم غزل کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں کہ غزل تو ہے ہی رسومیاتی اور روایتی صنف جو حقیقی دنیا کے متبادل اور مقابل اپنی الگ دنیا تخلیق کرتی ہے جس کا اصل دنیا سے تعلق محض رسمی ہوتا ہے، ظاہر ہے اس میں مٹی اور مٹی کی خوشبو کہاں سے آئے۔ ویسے بھی جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا، یہ صنف اردو نے فارس سے جڑوں سمیت اکھاڑ کر اپنے آنگن میں نصب کر دی اور صدیوں سے اس پر انہی مفرس خیالات، درآمدہ تصورات، مضامین، معانی اور انسلاکات کا پانی دیتے چلے آ رہے ہیں۔
آپ کہیں گے قصیدے میں بڑا بڑا منظر ملتا ہے، خاص طور پر تشبیب میں بہار کا احوال، شکار، پہاڑ، صحرا، گل و گلشن۔ لیکن اس امر کو کیا کیجیے کہ قصیدہ غزل سے زیادہ روایتی اور رسومیاتی صنف ہے۔ اس میں کوئی حقیقی منظر نہیں ہیں جو شاعر نے اپنی آنکھوں سے دیکھے، سنے، سونگھے اور رقم کیے ہوں۔ یہ خالص آئیڈیالائزڈ آرائشی کنونشن ہے، کاغذی پھولوں کا باغ ہے، جس پر شاعر لفاظی کا کتنا بھی عطر چھڑکے، اس سے اصل باغ کی خوشبو نہیں آتی اور باغ تو ویسے بھی مصنوعی ہوتا ہے، اصل فطرت اس میں کہاں ملتی ہے۔
اردو کے سب سے بڑے قصیدہ نگار سودا کو دیکھیے تو پتہ چلے گا کہ صرف زبان اردو ہے، ورنہ باقی سب کا سب فارسی سے قسطوں پر ادھار لیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ سودا نے اپنے اکثر قصیدوں کی زمینیں بھی فارسی کے بڑے شعرا انوری، خاقانی، عرفی اور صائب وغیرہ سے اٹھائی ہیں۔
آب جو گردِ چمن لمعۂ خورشید سے ہے
خطِ گلزار کے صفحہ پہ طلائی جدول
سایۂ برگ ہے اس لطف سے ہر اک گل پر
ساغرِ لعل میں جوں کیجے زمرد کو حل
فیضِ تاثیرِ ہوا یہ کہ اب حنطل سے
شہد ٹپکے جو لگے نشترِ زنبورِ عسل
یہ خالص ایرانی چمن ہے، اس کا ہندوستان سے کیا لینا دینا۔
اب آ جاتے ہیں مثنوی پر۔ عام تصور ہے کہ مثنوی میں کیا پائے کی فطرت نگاری ہوتی ہے، کیا باغ و راغ، کیا پھول بوٹے، کیا کوہ و دمن، کیا دشت، کیا بیابان۔ مگر غور سے دیکھیں تو مثنوی میں بھی وہی کچھ ہے۔ مثالی دنیا، افسانوی، خیالی، سوچی ہوئی دنیا، دیکھی اور محسوس کی ہوئی نہیں۔
میری باتوں پر نہ جائیے، میر حسن کی مثنوی سحرالبیان کا یہ ٹکڑا دیکھ لیجیے:
کھڑے سرو کی طرح چمبے کے جھاڑ
کہے تو کہ خوشبوئیوں کے پہاڑ
کہیں زرد نسریں، کہیں نسترن
عجب رنگ پر زعفرانی چمن
پڑی آبجو ہر طرف کو بہے
کریں قمریاں سرو پر چہچہے
گلوں کا لبِ نہر پر جھومنا
اسی اپنے عالم میں منھ چومنا
آپ کہیں گے مرثیہ بھول گئے، جس میں صحرا و دریا، جنگ و جدل، گھوڑے، تلوار، دوپہر کی تپش، اس قدر تفصیلی حسی جزئیات کہ اسے اردو بیانیہ شاعری کا جھومر کہا جاتا ہے۔
یہ نکتہ سر آنکھوں پر، مگر مجھے کہنے دیجیے کہ مرثیے کی فضا بھی مثنوی کی طرح مکمل رسومیاتی ہے۔ منظر نگاری کی حد تک مرثیے میں بڑی حد تک دو ہی مظاہر کا بیان ملتا ہے، صبح کے وقت صحرا میں گل و گلشن کی بہار کے زمزمے اور دوپہر کے وقت جہنمی گرمی کی چیرہ دستیاں۔ یہاں جو باغ و بہار دکھائی گئی ہے یہ دیکھی اور محسوس کردہ بہار نہیں ہے، یہ گل بوٹے شاعر کے دیکھے گل بوٹے نہیں ہیں کیوں کہ قصیدے کی طرح یہاں بھی محور مبالغہ ہے اور مبالغہ بھی چھت پھاڑ۔ انیس کے ہاں سے مثال دیکھیے:
ٹھنڈی ٹھنڈی وہ ہوائیں وہ بیاباں و سحر
دم بدم جھومتے تھے وجد کے عالم میں شجر
اوس نے فرش زمرد پہ بچھائے تھے گہر
لوٹی جاتی تھی لہکتے ہوئے سبزے پہ نظر
دشت سے جھوم کے جب باد صبا آتی تھی
صاف غنچوں کے چٹکنے کی صدا آتی تھی
شاعری کمال کی ہے، مگر جو ماحول دکھایا گیا ہے وہ روایتی شاعرانہ ماحول ہے۔ ہم جس دیسی پن اور مقامیت کی بات کر رہے ہیں وہ اس میں نہیں ہے اور ہوتی بھی کیسے، یہ ہندوستان کا بیان ہی نہیں۔
نظیر اکبر آبادی
اب وہ مقام آ گیا ہے جہاں ہمیں اس شاعر سے آنکھیں چار کرنا ہوں گی جس سے بچ کے نہیں نکلا جا سکتا اور وہ ہیں نظیر اکبر آبادی۔
قلی قطب شاہ، وجہی اور نصرتی جیسے دکنی شاعروں کو چھوڑ کر نظیر اکبر آبادی وہ پہلے اردو شاعر ہیں جن کے ہاں ٹھیٹ دیسی رنگ جھلکتا ہے، بلکہ جھلکتا کیا، چھلکتا ہے۔
سر سید اور حالی کی مقصدی شاعری اور بیسویں صدی کی ترقی پسندی سے کہیں پہلے نظیر عام پیشوں، مزدروں، میلوں ٹھیلوں، موسموں، پھلوں، سبزیوں، ترکاریوں، خوراکوں، حتیٰ کہ ہولی، دیوالی، راکھی، جنم کنہیا، بلدیو جی کے میلے جیسے کھرے ہندوستانی تہواروں سمیت عوامی زندگی کے رنگارنگ پہلوؤں کو موضوع بناتے ہیں۔ ان کے ہاں رسمی اور روایتی بیانات نہیں ہیں، بلکہ آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی زندگی ملتی ہے۔
روایتی اردو شاعروں کے تقریباً تمام کلام کا صفائی سے فارسی میں یوں ترجمہ کیا جا سکتا ہے کہ ایرانیوں کو اسے سمجھنے میں کسی تہذیبی دیوار کا سامنا نہ کرنا پڑے، کیوں کہ انہیں یہاں بھی وہی مانوس فضا، وہی ہوا ملے گی۔ مگر نظیر کا آسانی سے فارسی سے ترجمہ نہیں ہو سکتا، کیوں کہ انہیں سمجھنے کے لیے ہندوستانی رہن سہن کو بھی سمجھنا ہوگا۔
لیکن اس سے اگر کوئی سمجھے کہ میرا مقدمہ کمزور پڑتا ہے کہ اردو شاعری نے جان بوجھ کر مقامی پن سے آنکھیں پھیرے رکھیں تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے۔ اس سے تو یہ مقدمہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو نظیر کو صدیوں تک روایت سے باہر کیوں رکھا جاتا؟ اردو تذکرے کیوں ان کا ذکر کرنے سے یوں شرماتے جیسے کوئی افسر اپنے بوڑھے دیہاتی باپ کو مہمانوں سے ملوانے سے کتراتا ہے؟ چونکہ نظیر کے ہاں عوامی زندگی تھی، مٹی سے جڑت تھی، دیسی پن، زمین سے سوانحی تعلق تھا، اسی لیے انہیں حاشیے سے بھی دھکیل دیا گیا اور فیلن نامی ایک لغت ساز انگریز نے آ کر پہلی بار اسے دریافت کیا کہ بھائی لوگو، تمہارے خاکستر میں ایک ایسی چنگاری بھی ہے۔
ہمارے روایتی شاعر ہندوستانیت سے کچھ یوں کتراتے تھے کہ انہوں نے میرے مطالعے کی حد تک کبھی تاج محل تک کا اپنی شاعری میں ذکر کرنا گوارا نہیں کیا، حالانکہ ہمارے دو سب سے بڑے شاعر میر و غالب آگرہ ہی کے رہنے والے تھے اور ان کا بارہا تاج سے سامنا رہا ہوگا۔ یہ اعزاز بھی میرے حساب سے نظیر کو حاصل ہوا کہ انہوں نے پہلی بار تاج محل پر اردو میں نظم لکھی:
یارو جو تاج گنج یہاں آشکار ہے
مشہور اس کے نام یہ شہر و دیار ہے
خوبی میں سب طرح کا اسے اعتبار ہے
روضہ جو اس مکان میں دریا کنار ہے
لیکن افسوس کہ جس خالص فطرت کی میں بات کر رہا ہوں، وہ نظیر کے ہاں بھی نہیں ہے۔ ان کے ہاں شہر کی زندگی کی ہماہمی، انسانی تعلقات کی رنگارنگی اور عام انسان کی گزاری ہوئی زندگی کی کروٹیں اور موجیں تو مل جاتی ہیں، مگر انسانی بستیوں سے دور ٹھاٹھیں مارتی قدرتی لینڈسکیپ کی امیجری ان کے ہاں بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خالص فطرت گاؤں دیہات میں ملتی ہے، نظیر رہے شہر کے باسی، وہ اس طرح سے فطرت سے جڑ نہیں سکے جو دنیا کی دوسری زبانوں کے شاعر کا خاصہ رہا ہے۔
یہ الگ بات کہ نظیر بہت اکہرے شاعر ہیں اور وہ منظر کا صرف سطحی بیان سامنے رکھتے ہیں، اس سے کوئی بڑے تہذیبی نہ سہی، شاعرانہ یا فنکارانہ معنی بھی برآمد نہیں کر پاتے، مگر اس خامی کے باوجود نظیر کا دم غنیمت ہے اور اگر وہ نہ ہوتے تو اردو شاعری کے کتاب خانے کا ایک شیلف بالکل خالی خولی رہ جاتا۔
بیسویں صدی کی اردو شاعری میں فطرت
یہاں ہمارا سامنا جس ہمالہ سے ہوتا ہے اس کا نام ہے اقبال۔ ان کے ہاں کسی حد تک فطرت موجود ہے، مثلاً ان کی نظم ہمالہ، مگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ پتھر، مٹی برف کا پہاڑ نہیں بلکہ اسے علامت کے طور پر برتا گیا ہے اور ویسے بھی اقبال کا پراجیکٹ صرف ایک ملک سے کہیں بڑھ کر تھا، وہ تو نیل کے ساحل سے لے کر تابخاکِ کاشغر کی بات کرتے تھے، اس لیے اس میں ٹھیٹ دیسی پن کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔
میرا خیال ہے کہ فطرت اور دیہاتی فطرت جس اردو شاعر کے ہاں پہلی بار دکھائی دی ہے وہ مجید امجد ہیں۔ ان کی نظمیں لینڈ سکیپ کا بیان کرتے کرتے ہوئے ان کے اپنے جذبات کی عکاسی کرتی دکھائی دیتی ہیں اور منظر اپنی ٹھوس اور حسی جزئیات سمیت وسیع تر شعری تجربے کا حصہ بن جاتا ہے۔
مجید امجد کے ہاں درخت محض استعارہ نہیں، جھنگ اور ساہیوال کے مقامی ماحول میں کھڑی ٹھوس، جیتی جاگتی ہستیاں ہیں۔ شہروں کھلا کرنے کی خاطر آروں میں زد میں آ کر زرد دھوپ کے کفن میں لپٹی درختوں کی لاشیں (توسیعِ شہر)، گوبر کے چھینٹوں سے لتھڑی ہوئے قبائیں پہنے کپاس کے ڈوڈے چنتی جٹیاں (ریل کا سفر)، رنگین بدلیوں سے چھن کر آتی مسافتوں پر پھیلے تانبے کے ورق کو ٹھنٹھناتی بوندیں (بہار) اور کئی دوسری نظمیں مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔
مگر کیا یہ محض اتفاق ہے کہ مجید امجد بھی عمر بھر نظیر اکبر آبادی کی طرح روایت کے حاشیے پر رہے؟ زندگی میں انہوں نے صرف ایک ہی شعری مجموعہ (شبِ رفتہ: 1958) چھپوایا مگر اس پر آنے والے ردِ عمل سے مایوس ہو کر انہوں نے زندگی بھر اپنی کوئی اور کتاب شائع کروانے کی کوشش نہیں کی، حالانکہ شاعری وہ مرتے دم تک کرتے رہے۔
بیسویں صدی میں اردو شاعری کی شمع پنجاب نے اٹھا لی تھی اور کیسا کیسا شاعر یہاں پیدا ہوا، اقبال، فیض، راشد، میرا جی۔ لیکن حیرت انگیز طور پر ان کے ہاں سے دیسی پن اور مقامیت بڑی حد تک غائب ہے۔
آپ پوچھیں گے کہ بھئی یہ دیسی پن اور مقامیت ہوتی کیا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے میں آپ کا تعارف مجید امجد کے ہم عصر پنجابی کے شاعر شیو کمار بٹالوی سے کروانا چاہتا ہوں۔
شیو کمار بٹالوی اور دوسرے پنجابی شاعر
بٹالوی 1936 میں پیدا ہوئے اور میرا جی کی طرح صرف 37 برس زندگی پا کر رخصت ہو گئے۔ بٹالوی کی شاعری کسک دیتے رومان، نارسائی اور ہجر کی شاعری ہے، لیکن وہ اپنے درد کے اظہار کے لیے مٹی سے جڑے مناظر اور مظاہر کو استعمال کرتے ہیں، جس سے ان کا غم حسی، ٹھوس اور حقیقی بن جاتا ہے۔
ایک آدھ مثال دیکھ لیجیے تاکہ بات واضح ہو جائے۔
بٹالوی کی ایک مشہور پنجابی نظم ہے، میں کنڈیالی تھور۔ اس پر ایک نظر دوڑا کر دیکھ لیتے ہیں۔
اے سجن، میں وہ خاردار تھوہر ہوں
جو ویرانوں میں اگی ہو
یا اڑتی ہوئی وہ بدلی ہوں
جو پہاڑوں میں برس گئی ہو
یا وہ دیا جو جلتا ہے
پیروں کی دہلیز پر
یا کوئی ایسی کوئل جس کے گلے کی
رگیں سوج گئی ہوں
یا چنبیلی کی کوئی ڈالی
جو جلنے کے لیے ایندھن بن جائے
یا مروے کا وہ بسنتی پھول
جسے مینائیں چونچ مار کر کھا جائیں
غور کیجیے کہ ہر امیج کہاں سے آیا ہے؟ یہاں نہ گل ہے، نہ بلبل، نہ شمع ہے نہ پروانہ، نہ میکدہ ہے نہ پیرِ مغاں۔ یہ سارے حوالے دیہی پنجاب کی دیکھی بھالی، محسوس کی گئی زندگی سے اٹھائے گئے ہیں۔ پھر، نظم کی تکنیک دیکھیے کہ بٹالوی مناظرِ فطرت کا بیان برائے بیان نہیں کر رہے، وہ اپنا دکھڑا فطرت کی زبانی رو رہے ہیں جس میں لوکیل ان کا ساتھ دے رہا ہے۔ لیکن اسی نظم میں ایک اور چیز ایسی ہے جو اسے اردو روایت سے یکسر مختلف کر دیتی ہے اور وہ ہے متکلم، جو مرد نہیں، بلکہ ہندوستانی روایت کے مطابق عورت ہے۔ دکنی میں بھی کہیں کہیں متکلم عورت ہے، لیکن دلی والوں نے اسے بھی کھرچ کر الگ کر دیا تھا۔
بٹالوی ہی کی ایک اور نظم پر بھی نظر دوڑا لیتے ہیں۔ اس کا ترجمہ میرے بس کی بات نہیں، اس لیے پنجابی پر ہی اکتفا کرنا پڑے گا۔
شکرا
مائے! نی مائے!
میں اک شکرا یار بنایا
اوہدے سر تے کلغی
تے اوہدے پیریں جھانجھر
تے اوہ چوگ چگیندا آیا
اک اوہدے روپ دی
دھپ تکھیری
دوجا مہکاں دا ترہایا
تیجا اوہدا رنگ گلابی
کسے گوری ماں دا جایا
نی میں واری جاں!
نینیں اوہدے
چیت دی آتھن
اتے زلفیں ساون چھایا
ہو ٹھاں دے وچ کتیں دا
کوئی دیہوں چڑھنے آیا
ساہواں دے وچ
پھل سویاں دے
کسے باغ چنن دا لایا
اگر کنڈیالی تھور، دیہی اور ماورائی دنیاؤں کے امتزاج کی مثال ہے، تو میں اک شکرا یار بنایا، معاملے کا دوسرا رخ دکھاتی ہے کہ کیسے لوک عناصر سے ایک جذباتی واقعے کی بافت ہو سکتی ہے۔ یہاں بھی متکلم عورت ہے اور محبوب ظالم سہی مگر اردو/فارسی والا محبوب نہیں، اس کے سراپے کی ساری تصویرں سراسر مقامی ہیں: روپ کی تیکھی دھوپ، مہکوں کی تشنگی، گلابی رنگ، چیت کی شام جیسی آنکھیں، ساون کے بادل جیسی زلفیں اور سانسوں میں اگتا چندن کا باغ۔ یہ دیسی موسموں، پھولوں، خوشبوؤں اور دیہی منظرنامے کی دیسی لفظیات ہیں جن کے پیچھے صدیوں پرانے لوک گیتوں اور مقامی دانش کی گونج ہے۔
ایسا نہیں کہ اردو شاعر کے پاس یہ احساس نہیں، اردو میں درد و غم کا اظہار کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، فرق اتنا ہے کہ اردو شاعر اپنے غم کو رسمی دنیا کے اندر رہ کر بیان کرتا ہے، بٹالوی ذاتی کرب کو مقامی دنیا کے ذریعے سے نظم کا روپ دے رہا ہے۔ یہ اردو شاعری کی کمی نہیں، بس پنجابی شاعری سے فرق ہے، جسے واضح کرنا ضروری ہے۔
ایسا نہیں کہ تان صرف بٹالوی پر ٹوٹ جاتی ہو۔ اکثر پنجابی شاعروں کے پاس یہی مقامی لحن، یہی فطری رنگ روپ ہے۔ شریف کنجاہی کے دو مصرعے دیکھیے:
تیرا پنڈا پوری تُوت دی، تیری لگراں ورگی بانہہ
تیرے بُلھ نیں پھل کریر دے، تیرا جوبن ون دی چھاں
احمد راہی کی کتاب ترنجن، تو ہمارے زیرِ بحث لوک اسلوب کی بحث کو پوری طرح سے سمیٹتی دکھائی دیتی ہے۔ ترنجن وہ دیہی محفل ہے جہاں گاؤں کی عورتیں مل کر چرخہ کاتتی اور گاتی ہیں۔ اس نظم میں بیک وقت دیہی ادارہ بھی ہے، لوک گیت کی فضا بھی اور گاؤں کی عورت کی اجتماعی دنیا بھی۔ راہی اسی کنونشن کو استعمال کرتے ہوئے اس دنیا میں سنہ سینتالیس کی ہولناکی اور اغوا، قتل اور پامال ہونے والی پنجابی عورت کا نوحہ انڈیل دیتے ہیں۔ مگر غور کیجیے کہ یہ نوحہ کس اسلوب میں کہا گیا ہے: چرخے کی گھوں گھوں، پونیاں اور تنبے ہوئے دھاگے، چوڑے کی چھنکار، سونی پڑی ترنجن کی پھوہڑی، بِن مہندی ہاتھ، وہ ڈولی جو کبھی نہ آئی اور بابل کا گھر۔ یعنی واقعہ تو تقسیمِ ہند کا اجتماعی سانحہ ہے، مگر اس کا ہر دھاگہ گاؤں کی عورت کی ٹھوس، گھریلو دنیا سے کاتا گیا ہے۔
کِیویں کتّاں کِیویں تُماں درداں والیے مائے
اج ترنجنی پھوڑیاں وِچھیاں
چُوڑے دے چھنکارے
لُٹ لے گئے ونجارے
ہاواں دے لَنبُو نی مائے
اج کوارے ہاسے
جاواں کیہڑے پاسے
اَگّے پِچّھے سَجے کَھبّے
یاں کیدو، یاں کھیڑے
جنہاں نیں لکّھاں ہیراں لُٹیاں
لکّھاں رانجھے ساڑے
کنّوں سناواں ہاڑے
تقسیم اور فسادات کے موضوع پر اردو شاعروں نے بھی بےبہا نظمیں لکھی ہیں، مگر ان کے ہاں یہ مقامیت کم از کم مجھے نظر نہیں آئی۔
پنجابی اردو کا ذو لسان شاعر
میں نے اس تحریر کے شروع میں عرض کیا تھا کہ پنجابی کی مقامیت اور اردو کی عجمی خارجیت، بعض اوقات ایک ہی شاعر کے ہاں دکھائی دیتی ہے۔ مجھے نہ تو اتنی پنجابی آتی ہے اور نہ ہی پنجابی ادب پر پوری نظر ہے، اس لیے میں صرف ایک ہی ذو لسان شاعر کا ذکر کرنا چاہوں گا اور وہ ہے علی اکبر ناطق۔
علی اکبر ناطق کی سب سے مشہور اردو نظم سفیرِ لیلیٰ، ہے، جس کے نام ہی سے پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس آب و ہوا، کس زمین، روایت کی پروردہ ہے۔ چند ابتدائی سطریں:
نظر اٹھاؤ سفیر لیلیٰ برے تماشوں کا شہر دیکھو
یہ میرا قریہ یہ وحشتوں کا امین قریہ
تمہیں دکھاؤں
یہ صحن مسجد تھا یاں پہ آیت فروش بیٹھے دعائیں خلقت کو بیچتے تھے
یہاں عدالت تھی اور قاضی امان دیتے تھے رہزنوں کو
اور اس جگہ پر وہ خانقاہیں تھیں آب و آتش کی منڈیاں تھیں
جہاں پہ امرد پرست بیٹھے صفائے دل کی نمازیں پڑھ کر
خیال دنیا سے جاں ہٹاتے
لیکن یہی علی اکبر ناطق جب پنجابی میں قلم اٹھاتا ہے تو اس کی یکسر کایا کلپ ہو جاتی ہے اور لگتا ہی نہیں کہ یہ وہی شاعر ہے:
من دے ترکلے
من دے ترکلے توں یاداں دیاں اَٹیاں لاہ لاہ ٹیر دی پئی
عمراں دے چرخے دی ماہلھ کِتے ٹٹے ناں، ہولے ہولے پھیر دی پئی
کت کت رکھی جاں مَیں سینے دے صندوق وچ تاہنگاں دے جہیز نی
دِہی دے پلنگ اُتے ساہواں دیاں چادراں دی وچھی رہی سیج نی
پُونیاں دے چھکواں چ پئیاں اجے پونیاں شام نہ سویر دی پئی
۔۔
بیریاں دے باغاں وچ کِرناں نہ پاؤندیاں چاننے دا بھار وے
گالڑاں نے گَلاں والے ٹُک ٹُک بیر گالے، لوَے کیہڑا سار وے
رُتاں دیاں بدلاں نے گَڑیاں دا زور پایا جھڑ گئے نے بار وے
بُھلا تُو جے راکھیاں، گُتاں دیاں لگراں نوں بنھ بنھ گھیر دی پئی
۔۔
مہنیاں دے واچھڑاں نے سِراں دے بنیریاں دے لیپ کھور تے
طعنیاں دے جھانبڑا ں نے اَکھاں اُتے چھجیاں دے کُنڈ بھور تے
جوٹھے مُوٹھے آسرے دی کِری جاندی مٹی وے کندھ جاوے ڈِ گدی
سدھراں دے پوچیاں نوں دل دیاں چھتاں اُتے کدوں توں مَیں پھیر دی پئی
۔۔
اس نظم میں انتظار، آرزو، بڑھتی عمر، طعنے اور بکھرتی ذات کا سارا باطنی کرب ترکلے، چرخے، پونی، جہیز کے صندوق، بیری کے باغ اور بھربھری مٹی کی دیوار کے ذریعے کاتا گیا ہے، یعنی نارسائی کی مابعدالطبیعیات بھی دیہی پنجاب کی ٹھوس لفظیات اور مقامی اسلوب میں ڈھل کر آتی ہے۔ یہاں بھی متکلم عورت ہے، کاتتی ہوئی، اپنی تمناؤں کا جہیز سینت سینت کر رکھتی ہوئی، اپنی اَن بچھی سیج کا نوحہ کہتی ہوئی ایک لوک نسائی آواز جو پنجابی روایت کی اپنی ہے اور مرد عاشق کے مدار میں گھومنے والی اردو شاعری کے لیے سرے سے اجنبی۔
ایسا لگتا ہے جیسے ایک بٹن دبانے سے چینل بدل گیا، پالیسیاں بدل گئیں، انداز بدل گیا، بلکہ پوری کائنات بدل گئی۔ ایسا کیوں ہوا؟
دو زبانیں، دو روایتیں، دو رجسٹر
میرے خیال میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب شاعر اردو میں لکھتا ہے تو اردو روایت کا تابع ہوتا ہے۔ وہ شاعر (اگر وہ اچھا شاعر ہے تو اور ظاہر ہے ہم برے اور نیم پڑھے شاعروں کی بات کر ہی نہیں رہے) میر و مرزا، لکھنؤ کے شعرا، غالب و مومن، سر سید کی تحریک، حالی کی تنقید، اکبر و اقبال، جوش و فراق سے واقف ہوتا ہے۔ اسے ترقی پسند شاعری کا علم ہوگا، جدید نظم کے میرا جی، راشد، فیض، مجید امجد اور اختر الایمان جیسے پنج تن سے واقف ہوگا۔ بعد میں لسانی تشکیلات وغیرہ سے آگاہ ہوگا اور ناصر، منیر، شکیب، ظفر جیسے جدید غزل گوؤں سے بھی روشناس ہوگا۔ اس لیے اردو شاعر شعوری اور لاشعوری دونوں طریقوں سے اس روایت کے ماتحت ہو کر لکھتا ہے، اس سے باہر نہیں نکل سکتا۔
دوسری طرف جب پنجابی شاعر لکھتا ہے تو وہ کس روایت کے تحت لکھتا ہے؟
وہ بابا فرید کی روایت میں لکھتا ہے۔ وہ بلھے شاہ کی روایت میں لکھتا ہے جس کے ہاں آفاقی مضامین ہیں، لیکن ان مضامین کا لباس کھیت اور چرخہ ہیں۔ اس کے پیچھے وارث شاہ کھڑا ہے جو دیہی پنجاب کا انسائیکلوپیڈیا ہے۔ پنجاب کے موسم، جانور، پودے، ذاتیں، کھانے، پیشے، کیا ہے جو وارث شاہ کے ہاں نہیں ہے۔
اور یہی اصل بات ہے کہ پنجابی شاعر قلم اٹھاتے وقت میر و غالب اور اقبال و فیض والی روایت کا پرنالہ بند کر لیتا ہے اور پنجابی شاعروں والا چشمے سے سیراب ہونے لگتا ہے۔ اردو والوں کے کردار روایت کے مطابق لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، وامق و عذرا وغیرہ ہیں، پنجابی کے کردار ہیر رانجھا، سوہنی مہینوال، سسی پنوں وغیرہ ہیں۔
ایک اور وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پنجابی شاعری کی روایت یہ رہی ہے کہ اس میں خطاب عام دیہاتی فرد سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کلاسیکی پنجابی کے عظیم شعرا کے کلام کے بڑے حصے پنجاب بھر کے کم پڑھے لکھے، یا بالکل ان پڑھ لوگوں کو بھی حفظ ہوتے ہیں اور وہ انہیں روزمرہ معاملات میں حوالے کے طور پیش کر سکتے ہیں۔ اس لیے شاعر بھی شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی اصل آڈیئنس سے قریب رہنے کی کوشش کرتے رہے۔
اس کے برعکس اردو شاعر کے پیشِ نظر پڑھے لکھے لوگ تھے، جو حافظ و سعدی سے واقف ہوں، فلسفے سے روشناس ہوں اور لیلیٰ مجنوں، شریں فرہاد وغیرہ جیسے کرداروں کو جانتے ہوں۔
شہری زبان، دیہاتی زبان
یہاں ایک اور اہم بات کا ذکر ضروری ہے۔ اردو بنیادی طور پر شہری اور درباری زبان ہے۔ پہلے دکن کے درباروں میں اس کا پنر جنم ہوا، پھر دہلی میں پھلی پھولی۔ وہاں لکھنو میں جا بسی اور آخر آخر لاہور میں ڈیرے ڈال لیے۔ اس زبان کا کبھی گاؤں دیہات، کسان، کھیت، کھلیان سے واسطہ ہی نہیں پڑا۔ پورے برصغیر میں کوئی ایسا گاؤں نہیں جس کی زبان اردو ہو۔ بلکہ اردو کو چھوڑیں، کوئی ایسا گاؤں بھی نہیں جس کی زبان ہندی ہو۔ ہندوستان میں جن علاقوں میں اردو بولی جاتی ہے وہ وہاں کے شہروں تک محدود ہے، دیہات کے لوگ اودھی، برج، بھوجپوری اور دوسری مقامی زبانیں بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجابی، پشتو، سندھی، بلوچی، مراٹھی، بنگالی وغیرہ کے برعکس امیر خسرو سے منسوب چند کہہ مکرنیوں کے علاوہ اردو کا تقریباً کوئی لوک ادب ہی نہیں ہے، کیوں کہ لوک ادب دیہات میں پروان چڑھتا ہے، شہروں میں نہیں۔
یہ بات اس لحاظ سے بھی بہت اہم ہے کہ دیہات میں لوگوں کا ذخیرۂ الفاظ بھی شہر والوں سے مختلف ہوتا ہے۔ دیہاتی فطرت سے بھی شہری کے مقابلے پر کہیں قریب ہوتے ہیں۔ دیہاتی کو اپنے گاؤں اور اس کے آس پاس کے علاقے میں اگنے والے بیسیوں درختوں، پودوں، پرندوں، کیڑے مکوڑوں، سانپوں اور دیگر جانوروں کے نام ازبر ہوتے ہیں۔ اردو والے کے لیے گھاس فقط ایک گھاس ہے، کسان کو گھاس کی دس قسمیں معلوم ہیں کیوں کہ اس کی معاش کا انحصار اسی پر ہے۔
جو لوگ جنگلاتی علاقوں میں رہتے ہیں، ان کی زبانوں میں درختوں اور لکڑیوں کے بیسیوں نام ہوتے ہیں۔ ساحلوں والوں کو کشتی رانی، مچھلی اور مچھلی کے شکار سے متعلق الفاظ کی کثرت ہوتی ہے۔ یہی حال صحرائی علاقوں، پہاڑی علاقوں اور برفانی علاقوں کا ہے۔ ظاہر ہے کہ مقامی لفظ کسی زبان کی شاعری کی برتے جائیں گے تو خود بخود مقامیت آ ہی جائے گی۔
اس کے مقابلے پر اردو میں ان الفاظ کی بجائے شہری زندگی سے متعلق الفاظ کی کثرت ہے۔ یہاں آپ کو اشرافیہ اور ان کے سروکاروں سے متعلق بےشمار الفاظ ایسے مل جائیں گے جو مقامی زبانوں میں نہیں پائے جاتے۔
حالی کا مقدمہ
یہاں اگر آپ کے ذہن میں حالی کا نام آئے تو اس میں حیرت نہیں ہونی چاہیے۔ حالی سوا سو سال پہلے کہہ گئے تھے کہ اردو شاعری بناوٹی ہے، حقیقی زندگی سے کٹی ہوئی ہے، اسے نیچرل، ہونا چاہیے، وغیرہ۔
آپ سوچ سکتے ہیں کہ کہیں میں بھی وہی حالی والا راگ تو نہیں الاپ رہا؟ اس کا جواب ہے، نہیں۔ میرے اور حالی کے نقطۂ نظر میں بنیادی فرق ہے۔ حالی ایک مصلحِ قوم تھے جو سر سید کی مقصدیت کی تحریک کا علم لے کر اٹھے تھے اور اسی تحریک کے تحت انہوں نے محمد حسین آزاد کے ساتھ مل کر الزام لگایا تھا کہ ہماری شاعری ناقص ہے، قصائد سنڈاس سے بدتر ہیں، غزل مبالغہ آرائی کا مرقع ہے، اسے ٹھیک کرو، نیچرل شاعری کرو، شعروں میں اصلیت اور جوش، پیدا کرو۔
یہ نقطۂ نظر درست نہیں تھا۔ حالی اینڈ کو کا بنیادی مفروضہ ہی غلط تھا کہ شاعری حقیقی دنیا کی عکاسی کرتی ہے یا اسے کرنا چاہیے اور جو شاعر ایسا نہیں کرتا وہ بناوٹی کام کر رہا ہے۔ یہ مفروضہ حالی کا اپنا نہیں تھا بلکہ مغربی لالٹینوں، سے چھن کر ان تک پہنچا تھا۔ حالی سے کوئی نوے برے قبل ورڈزورتھ نے اپنی کتاب کے مقدمے میں وہ ساری باتیں لکھ دی تھیں جن پر حالی کا مقدمہ کھڑا ہے۔
حالی کی دوسری اور زیادہ بنیادی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے غزل پر ایک ایسے جرم کا الزام لگایا جو سرے سے جرم تھا ہی نہیں۔ بقول فرانسس پرچٹ کے، شاعری چونکہ لفظوں سے بنی ہوتی ہے اس لیے وہ لازمی طور پر بیرونی دنیا سے کٹی ہوئی ہوتی ہے۔ غزل نے دنیا کی نقالی کرنے کا کبھی دعویٰ کیا بھی نہیں اور اس کا سفر فطرت سے فن کی طرف نہیں، بلکہ فن سے فن کی طرف ہے، جب کہ حالی نے اسے فطرت کی ناکام نقل سمجھ کر دفعہ لگا دی۔
پھر ایک اور فرق یہ بھی ہے کہ حالی نری فطری شاعری کی بات کر رہے ہیں، میرا بنیادی نکتہ مقامیت ہے۔ حالی نے مقامیت کو سرے سے موضوع ہی نہیں بنایا۔ اس لیے میرا حالی سے مقدمہ الگ ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ اردو شاعری میں کوئی کمی ہے جسے دور کیا جانا چاہیے۔ میں صرف سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اردو اور پنجابی شاعری میں بنیادی فرق کیا ہے اور کیوں ہے۔ حالی اردو کو درست، کرنا چاہتے تھے، میں اسے محض پنجابی کے مقابل رکھ کر فرق کی نشان دہی کر رہا ہوں، میرا دونوں زبانوں کی درجہ بندی یا تعینِ قدر کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
اس تمام طول کلام کا ماحصل یہ ہے کہ بٹالوی کی کنڈیالی تھور اور غالب کا دشتِ امکاں دو مختلف سلطنتیں ہیں، دو مختلف دنیائیں ہیں، جن سے الگ الگ لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔

