Tuesday, 30 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Kiran Arzoo Nadeem
  4. 5 Hazar Ke Note Par Nawaz Sharif Ki Tasveer

5 Hazar Ke Note Par Nawaz Sharif Ki Tasveer

پانچ ہزار کے نوٹ پر نواز شریف کی تصویر

لیگی راہنما ارشد ملک نے پانچ ہزار کے نوٹ پر قائداعظم کے ساتھ نواز شریف کی بھی تصویر لگانے کا مطالبہ کر دیا ان کا کہنا تھا کہ ایٹمی دھماکہ کرنا ایسا کارنامہ ہے کہ ان کو یہ اعزاز ملنا چاہیے۔

اگر ان کو نواز شریف بے حد پسند ہیں تو ان کی پسند اور نا پسند ان کی ذات تک محدود رہنی چاہیے۔ پسند یا نا پسند کو اس حد آگے لے جانا کہ اس کو بلندیوں پر پہنچا دیا جائے، یہ شخصیت پرستی ہے۔ حضرت عمر نے خالد بن ولید کو معزول کیا تھا اس کی وجہ ان کی کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ فتح کا لفظ حضرت خالد بن ولید کے ساتھ مشروط ہوگیا تھا، حضرت عمر کا کہنا تھا کہ کامیابی اور ناکامی کا تعلق، اللہ پر یقین اور سخت محنت کا نتیجہ ہوتی ہے، اس کو شخصیتوں سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

ارشد ملک کا مطالبہ اگر خوشامد پر مبنی ہے جس کے امکانات زیادہ ہیں، کیونکہ اب یہ ہمارے معاشرے کا عمومی رواج یہ ہوگیا ہے کہ معاشرے میں آگے جانے کے لئے، تعلقات بڑھانے کے لئے ہم خوشامد کا سہارا لیتے ہیں اور اپنی ذات کو تباہ کرتے چلے جاتے ہیں۔

قائد اعظم جیسی شخصیت ہزاروں سال بعد پیدا ہوتی ہے، وہ شخصیت جس کے بارے میں ان کے مخالف بھی ان کی سچائی، ایمانداری، خلوص، ایمان کی گواہی دئیے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ جناح کا مقابلہ ایک طرف ہندو کے ساتھ، دوسری طرف انگریز اور ہمارے اپنے نیشلسٹ علماء، مجلس احرار، سرخپوش، انصار، جماعت اسلامی سب ہی شامل تھے۔

قائد اعظم اصولوں کے اتنے پکے تھے کہ اصفہانی ایک واقعہ اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ قیام پاکستان سے پہلے الیکشن میں ایک سیٹ پر اصفہانی بلا مقابلہ منتحب ہو رہے تھے کیونکہ مقابلہ میں کوئی امیدوار نہ تھا۔ الیکشن سے صرف دو دن پہلے ایک امیدوار کھڑا ہوگیا۔ بہت پریشانی ہوئی پھر اس امیدوار سے بات ہوگئی۔ اصفہانی اور ایک دو ساتھی آپس میں آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے، قائد اعظم بھی وہاں موجود تھے تو کہنے لگے کہ میرے سامنے بات کرو تو اس پر اصفہانی نے ساری صورت حال بتائی۔ اصفہانی لکھتے ہیں کہ قائداعظم کا رنگ سرخ ہوگیا اور کہنے لگے کہ کسی کا زر ضمانت دے کر اس کو بیٹھنے پر آمادہ کرنا بلا واسطہ رشوت نہیں تو اور کیا ہے؟ ہم رشوت دے کر نہیں جیتیں گئے، ہار جائیں گئے، مقابلہ کریں گئے۔ اس وقت ایک سیٹ نہیں ایک ایک ووٹ بھی قیمتی تھا۔ اس وقت ہم نہیں سمجھ سکتے کیونکہ اب ہمارے مقابلے میں کوئی ہندو نہیں کھڑا ہوتا۔

یہ واقعات نوجوان نسل کو بتائے جانے چاہیں۔ قائداعظم کی وفات پر لندن ٹائمز نے لکھا تھا (جو بہر حال قائداعظم کے دوستوں کا نہیں، دشمنوں کا اخبار تھا)

قائداعظم نے اپنی ذات کو ایک بہترین نمونہ کے طور پر پیش کرکے اپنے اس دعوی کو ثابت کر دیا کہ مسلمان علحیدہ قوم ہیں۔ ان میں وہ زہینی لچک نہیں تھی جو انگریز کے نزدیک ہندوستان کا خاصہ ہے۔ ان کے تمام خیالات ہیرے کی طرح قیمتی مگر سخت، واضح اور شفاف ہوتے تھے۔ ان کے دلائل میں ہندوں جیسی حیلہ سازی نہیں تھی"۔

مومن ہوتا ہی ایسا ہے۔

مجھے بے نظیر بھٹو پر بھی اعتراض تھا جب وہ قائداعظم کے ساتھ بھٹو کی تصویر لگاتیں تھیں، نواز شریف یا کسی بھی اور سیاسی لیڈر نے اچھے کام کئے ہو نگے، لیکن جب بات مرد مومن محمد علی جناح کی آئی ہے تو اس جیسا انسان صدیوں بعد پیدا ہوتا ہے۔

Check Also

5 Hazar Ke Note Par Nawaz Sharif Ki Tasveer

By Kiran Arzoo Nadeem