Tuesday, 30 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Balkasar Se Muzaffargarh Sarak Insaf Mangti Hain

Balkasar Se Muzaffargarh Sarak Insaf Mangti Hain

بلکسر سے مظفر گڑھ سڑک انصاف مانگتی ہیں

ہمارے ہاں ترقی کے پیمانے اکثر بڑے شہروں، طاقتور حلقوں اور بااثر علاقوں کے گرد گھومتے ہیں۔ جہاں سیاسی وزن اور طاقت زیادہ ہو، وہاں منصوبے بھی جلد پہنچ جاتے ہیں، موٹرویز بھی بن جاتی ہیں، دو رویہ سڑکیں بھی تیار ہو جاتی ہیں اور اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے بھی منظور ہو جاتے ہیں۔ لیکن پاکستان کے وہ علاقے جو سیاسی طور پر کمزور، آبادی کے اعتبار سے منتشر اور معاشی لحاظ سے پسماندہ ہیں، ان کے حصے میں اکثر وعدے، اعلانات اور انتظار آتا ہے۔ یہی صورتحال بلکسر، تلہ گنگ، میانوالی، لیہ اور مظفرگڑھ کو ملانے والی اس طویل شاہراہ کی بھی ہے جو کئی دہائیوں سے اپنے مسافروں کی لاشیں اٹھا رہی ہے۔

سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے ایک مرتبہ پھر میانوالی سے مظفرگڑھ تک اس سڑک کی زبوں حالی اور اس پر ہونے والے حادثات کا ذکر کیا ہے۔ ان کا درد بجا ہے اور اس سڑک پر سفر کرنے والا ہر شخص اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا یہ سڑک واقعی میانوالی سے مظفرگڑھ تک محدود ہے؟ کیا اس کی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے جہاں علاقائی وابستگی شروع ہوتی ہے؟ یہی وہ نکتہ ہے جس پر بات ہونی چاہیے۔ اس سڑک کا المیہ صرف سرائیکی وسیب کا المیہ نہیں، بلکہ اس کا دکھ بلکسر سے شروع ہو کر چکوال، تلہ گنگ، میانوالی، بھکر، لیہ اور مظفرگڑھ تک پھیلا ہوا ہے۔ اگر ہم انصاف کی بات کریں تو انصاف پورے راستے کے لیے ہونا چاہیے، کسی ایک حصے کے لیے نہیں۔

حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ جن قلم کاروں نے ماضی میں اس شاہراہ کو بلکسر سے مظفرگڑھ تک ایک قومی شاہراہ قرار دے کر اس کی تعمیر اور مرمت کا مطالبہ کیا، آج وہی اسے صرف میانوالی سے مظفرگڑھ تک محدود کرکے پیش کر رہے ہیں۔ اگر دوسروں پر علاقائی تعصب کا الزام لگایا جائے تو پھر اپنے رویوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اپنے اپنے علاقوں کے مفادات کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ کوئی صرف اپنے ضلع کی بات کرتا ہے، کوئی اپنے ڈویژن کی، کوئی اپنے صوبے کی اور کوئی اپنے وسیب کی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ قومی سوچ پیچھے رہ جاتی ہے اور محروم علاقے ایک دوسرے کے مقابل کھڑے کر دیے جاتے ہیں۔ حالانکہ محرومی کا مقابلہ نہیں ہونا چاہیے، اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔

بلکسر سے تلہ گنگ اور پھر تلہ گنگ سے میانوالی تک کا حصہ بھی کسی طور بہتر نہیں۔ گڑھے، ٹوٹ پھوٹ، خطرناک موڑ، ناقص مرمت اور بڑھتی ہوئی ٹریفک اس شاہراہ کو مسلسل خطرناک بنا رہی ہے۔ روزانہ سینکڑوں گاڑیاں اور ہزاروں مسافر اس راستے سے گزرتے ہیں۔ کسان، مزدور، طلبہ، سرکاری ملازمین، مریض اور کاروباری افراد سب اسی سڑک کے رحم و کرم پر ہیں۔ لیکن افسوس کہ جب اس شاہراہ کا ذکر ہوتا ہے تو اکثر صرف وہ حصہ زیر بحث آتا ہے جو کسی خاص علاقے سے تعلق رکھتا ہو۔ باقی حصوں کی محرومی گویا محرومی ہی نہیں سمجھی جاتی۔ یہ رویہ نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ ترقی کے قومی تصور کے بھی خلاف ہے۔

ہمیں کھاریاں تا اسلام آباد موٹروے کی تعمیر پر خوشی ہے۔ ہر ترقیاتی منصوبہ پاکستان کی ترقی ہے اور اس پر خوش ہونا چاہیے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا صرف وہی علاقے ترقی کے مستحق ہیں جہاں آواز بلند کرنے والے زیادہ طاقتور ہیں؟ کیا چکوال، اٹک، تلہ گنگ، میانوالی، لیہ اور مظفرگڑھ کے عوام پاکستانی نہیں؟ کیا ان کے بچوں کی جانیں کم قیمتی ہیں؟ کیا ان کے سفر کم اہم ہیں؟ ریاست کی ذمہ داری صرف ترقی کرنا نہیں بلکہ انصاف کے ساتھ ترقی کرنا ہے۔ اگر ایک طرف جدید موٹرویز تعمیر ہو رہی ہیں اور دوسری طرف بنیادی شاہراہیں بھی قابلِ سفر نہیں رہیں تو یہ ترقی کے ساتھ انصاف نہیں بلکہ عدم توازن کی علامت ہے۔

میری اربابِ اختیار، منتخب نمائندوں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور ان تمام بااثر شخصیات سے گزارش ہے کہ اس پورے خطے کی طرف توجہ دیں۔ بلکسر سے مظفرگڑھ تک اس شاہراہ کو قومی اہمیت کے منصوبے کے طور پر دیکھا جائے۔ اسے مرحلہ وار دو رویہ بنایا جائے، اس کی مرمت اور توسیع کی جائے اور اسے محفوظ بنایا جائے تاکہ قیمتی انسانی جانیں بچ سکیں۔ یاد رکھیے، اقتدار اور اختیار ہمیشہ نہیں رہتے، لیکن عوام کی دعائیں اور بددعائیں ضرور رہ جاتی ہیں۔ ایک دن سب نے اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دینا ہے۔ اس لیے انصاف کیجیے، حق نہ ماریے، کسی علاقے کو اس کے جائز حق سے محروم نہ رکھیے اور میں اپنے ان بھائیوں سے بھی اپیل کرتا ہوں جو طاقتور حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں کہ جس طرح وہ اپنے علاقوں کے لیے آواز اٹھاتے ہیں، اسی طرح چکوال، اٹک، تلہ گنگ، میانوالی، لیہ اور مظفرگڑھ کے عوام کی آواز بھی بنیں۔ ترقی کا حق سب کا ہے اور پاکستان اسی وقت مضبوط ہوگا جب اس کے تمام علاقے یکساں احترام اور توجہ حاصل کریں گے۔

Check Also

Dasht e Imkaan Aur Kandyali Thor: Urdu Aur Punjabi Shayari Mein Maqamiat Aur Fitrat Nigari

By Zafar Syed