Qura Andazi Ya Ghareeb Ka Istehsal?
قرعہ اندازی یا غریب کا استحصال؟

آج کل ہمارے پورے صوبے میں برقی نظام، جدید طریقوں اور سرکاری کھاتوں کا بڑا شور مچایا جا رہا ہے۔ حکومتِ پنجاب کی جانب سے بے زمین کسانوں اور پسماندہ غریبوں کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے "اپنا کھیت روزگار اسکیم" جیسے پروگراموں کا آغاز کیا گیا ہے، جو بظاہر ایک بہت ہی خوبصورت اور انقلابی فیصلہ نظر آتا ہے۔ لیکن ایک عام اور غریب کسان کا دل تب خون کے آنسو روتا ہے جب تمام کڑی شرطیں پوری کرنے کے بعد، حق دار کو اس کا اصل حق دینے کا وقت آتا ہے۔ عین اس اہم موڑ پر اس پورے جدید برقی نظام کو ایک طرف اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے اور غریب کسانوں کا پورا معاملہ دوبارہ قرعہ اندازی کے اسی پرانے، فرسودہ اور لاٹری والے طریقے پر ڈال دیا جاتا ہے۔ عقل حیران ہے کہ اگر غریب کی قسمت کا حتمی فیصلہ صرف پرچیوں، لکیروں اور نصیب کے کھیل پر ہی چھوڑنا تھا، تو پھر غریب کسانوں کو مہینوں تک اس برقی نظام کے چکروں اور سرکاری کھاتوں میں نام درج کروانے کی مصیبت میں کیوں ڈالا گیا؟ کیا پنجاب کو جدید بنانے کا خواب صرف فائلیں جمع کرنے تک محدود تھا؟
ایک عام غریب کسان جس کے پاس نہ تو سفارش ہوتی ہے اور نہ ہی رشوت کے پیسے، وہ پٹوار خانوں کے سو سو چکر کاٹتا ہے، تپتی دھوپ میں لائنوں میں لگتا ہے اور اپنی جائز اراضی کے کاغذات کی تمام کڑی شرطوں کو پورا کرکے بڑی امید کے ساتھ سرکاری نظام پر خود کو درج کرواتا ہے۔ جب حکومت کا برقی نظام دن رات کی ساری جانچ پڑتال کے بعد اس غریب کی درخواست پر سبز رنگ میں "اہل" لکھ دیتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ حکومت کے اعلیٰ ترین اداروں کے پاس اب اس غریب کا سو فیصد سچا، مستند اور تصدیق شدہ ریکارڈ آ چکا ہے۔ اس سرکاری ریکارڈ سے صاف پتہ چل جاتا ہے کہ یہ بندہ واقعی بے زمین ہے، اس کے پاس کمانے کا کوئی دوسرا وسیلہ نہیں ہے اور یہ اپنی مٹی سے محبت کرنے والا ایک سچا کاشتکار ہے جو محنت کرکے رزقِ حلال کمانا چاہتا ہے۔ لیکن سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ حکومت اپنے ہی تصدیق شدہ ریکارڈ کو سامنے رکھ کر ڈائریکٹ غریب کو اس کا حق دینے کے بجائے، ان غریبوں کو دوبارہ قرعہ اندازی کی اندھی لاٹری میں پھنسا دیتی ہے۔ کیا ہمارے ہاں میرٹ کا مطلب اب صرف خوش قسمتی کی ایک پرچی نکالنا رہ گیا ہے؟ اگر سرکاری نظام نے اہلیت کی مہر لگا دی، تو پھر پرچی کا تماشا کیوں؟
اس سارے معاملے میں نچلے عملے اور پٹواریوں کا جو اکھڑ اور عجیب رویہ ہے، وہ غریبوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔ جب کوئی غریب کسان پٹواری کو فون کرتا ہے یا اس کے دفتر جاتا ہے، تو آگے سے ایسا سرد اور اکھڑ لہجہ دیکھنے کو ملتا ہے جیسے وہ کوئی خیرات مانگنے آیا ہو۔ پٹواریوں اور نچلے کلرکوں کو یہ بات ہضم ہی نہیں ہوتی کہ ایک غریب کسان میرٹ پر اوپر پہنچ جائے۔ جب سرکاری کھاتے میں کیس "اہل" ہو جاتا ہے، تو یہ نچلا عملہ جان بوجھ کر فون پر اکھڑے انداز میں بات کرتا ہے اور ایسی پیچیدگیاں پیدا کرتا ہے تاکہ غریب کسان گھبرا جائے، مایوس ہو جائے اور اپنے حق سے خود ہی پیچھے ہٹ جائے۔ یہی پسماندہ رویے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے غریب کسان نسل در نسل مقامی وڈیروں اور جاگیرداروں کی غلامی میں جینے پر مجبور ہیں۔ ان کا استحصال اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس اپنی زمین نہیں ہوتی۔ جب انہیں حکومت کی طرف سے میرٹ اور تصدیق شدہ سرکاری ریکارڈ پر اپنی زمین ملے گی تو وہ اس معاشی غلامی کے طوق کو ہمیشہ کے لیے گلے سے اتار پھینکیں گے۔
جنوبی اور وسطی پنجاب کے دیہاتوں میں بسنے والے ان کسانوں کی زندگی کا دارومدار صرف مٹی سے جڑا ہے۔ جب ان غریبوں کے گھر کا چولہا کسی مقامی وڈیرے کے ٹکڑوں پر نہیں بلکہ اپنی زمین کی محنت اور پسینے سے چلے گا، تو ان کے دلوں سے محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کے لیے وہ سچی اور بے ساختہ دعائیں نکلیں گی جو سیدھی عرشِ الٰہی پر جاتی ہیں۔ غریب کا دل جب راضی ہوتا ہے اور جب وہ ایمانداری سے اپنے پاؤں پر کھڑا ہوتا ہے، تو وہ سچی وفاداری نبھاتا ہے اور اس کا سب سے بڑا اور مثبت اثر حکومت کے سیاسی ووٹ بینک پر پڑے گا۔ وفاداری کبھی پرچیوں اور لاٹریوں سے نہیں خریدی جا سکتی، یہ غریب کے مطمئن دل اور اس کے چولہے سے جنم لیتی ہے۔ اگر حکومت واقعی چاہتی ہے کہ عوام کا اعتماد بحال ہو، تو اسے قرعہ اندازی کے بجائے تصدیق شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر محروم ترین خاندانوں کو ترجیح دینی ہوگی۔ ایک شفاف میرٹ لسٹ بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے جہاں غریب، بیوہ اور بے زمین کسان کو ترجیحی نمبر دے کر براہِ راست زمین منتقل کی جا سکے۔
لاٹری کا یہ پرانا نظام ہمیشہ سفارش اور اقربا پروری کا راستہ کھولتا ہے، کیونکہ پرچی کس کی نکلے گی اور کس کی غائب کی جائے گی، اس کا کنٹرول اکثر نچلے عملے کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ غریب کسان مہینوں دکانوں کے چکر کاٹ کر، فیسیں بھر کر اور پٹواریوں کی جھڑکیاں سن کر درخواست دیتا ہے، لیکن آخر میں اسے کہہ دیا جاتا ہے کہ "میاں! تمہاری پرچی نہیں نکلی، اگلی بار قسمت آزمائی کرنا"۔ کیا ایک فلاحی ریاست میں غریب کا حق قسمت کی لکیروں سے مشروط ہونا چاہیے؟ یہ غریب کا استحصال نہیں تو اور کیا ہے؟ جب ریاست کے پاس قومی شناختی کارڈ کا ادارہ اور اراضی ریکارڈ کا بہترین نظام موجود ہے، تو اس جدید ریکارڈ کا فائدہ غریب کو کیوں نہیں مل رہا؟
حکامِ بالا اور پالیسی سازوں کو اب اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا کہ جب تک نچلے عملے کے ان اکھڑ رویوں اور قرعہ اندازی کی اس لاٹری پالیسی کو جڑ سے بدلا نہیں جائے گا، تب تک غریب کے حالات کبھی نہیں بدل سکتے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ قرعہ اندازی کا یہ تماشا اب بند کیا جائے اور سرکاری ریکارڈ پر موجود تمام "اہل درخواست گزاروں" کی سچی معلومات کو سامنے رکھ کر، سب سے زیادہ مستحق اور بے زمین کسانوں کو براہِ راست ان کا جائز شرعی اور قانونی حق دیا جائے، تاکہ مریم نواز شریف صاحبہ کا یہ خیرات کے بجائے غریب کو محنتی اور خوددار بنانے کا مشن سچے معنوں میں کامیاب ہو سکے اور ملک میں ایک حقیقی معاشی انقلاب آ سکے۔ شفاف میرٹ ہی اس نظام کی کامیابی کی ضمانت ہے، ورنہ غریب کسان یہی کہتا رہے گا کہ اگر ریکارڈ موجود تھا تو میرا حق قرعہ اندازی کی نذر کیوں ہوا؟

