Tuesday, 30 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Ali Abbas Kazmi
  4. Bache Hamare Ehad Ke

Bache Hamare Ehad Ke

بچے ہمارے عہد کے

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے گھروں کی دیواروں، تعلیمی اداروں کی راہداریوں اور معاشرے کی گلیوں میں ایک ان دیکھی جنگ برپا ہے، جو انسان کے اندر کے سکون کو شکست دے رہی ہے۔ اس جنگ میں نہ توپیں چلتی ہیں، نہ بارود جلتا ہے، نہ کوئی لشکر سرحدوں پر صف آرا ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود اس کے زخم گہرے اور اثرات دیرپا ہوتے ہیں۔ ایک طرف وہ نسل کھڑی ہے جس نے زندگی کو صبر، روایت اور تجربے کی آنکھ سے دیکھا اور دوسری طرف وہ نسل ہے جس نے دنیا کو موبائل اسکرین سے پہچانا۔ ایک نسل کے ہاتھ میں ماضی کا چراغ ہے اور دوسری نسل کے ہاتھ میں مستقبل کی ٹارچ۔ مسئلہ یہ نہیں کہ دونوں میں سے کون درست ہے۔۔ مسئلہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی روشنی کو اپنی آنکھوں کے لیے خطرہ سمجھنے لگے ہیں۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ ہر نسل اپنے وقت کا عکس ہوتی ہے۔ انسان اپنے دور سے الگ ہو کر نہیں سوچ سکتا۔ جس طرح صحراؤں میں رہنے والے لوگوں کے خواب اور ہوتے ہیں اور سمندروں کے کنارے بسنے والوں کے خواب اور، اسی طرح ہر زمانے کی نسل اپنے ماحول، ذرائع اور تجربات کے مطابق تشکیل پاتی ہے۔ جین زی بھی اسی اصول کا تسلسل ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس نے آنکھ کھولتے ہی انٹرنیٹ کو سانس لیتے دیکھا، معلومات کو انگلیوں پر ناچتے دیکھا اور دنیا کو سکڑ کر ایک اسکرین میں سمٹتے دیکھا۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ معلومات کے اس سمندر میں تیرنے والی نسل شاید اپنی تاریخ کی سب سے زیادہ پیاسی نسل بھی ہے۔ ان کے پاس جواب بہت ہیں مگر سکون کم ہے۔ معلومات بہت ہیں مگر حکمت کم ہے۔ رابطے بہت ہیں مگر تعلقات کمزور ہیں۔ وہ ہر وقت لوگوں کے درمیان موجود ہیں، مگر اپنے اندر ایک ویرانی لیے پھرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ معلومات اور شعور ایک چیز نہیں ہوتے۔ گوگل انسان کو معلومات دے سکتا ہے، دانائی نہیں۔ یوٹیوب راستے دکھا سکتا ہے، منزل نہیں۔ مصنوعی ذہانت سوالوں کے جواب دے سکتی ہے، مگر زندگی کے المیوں کا بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں اٹھا سکتی۔ یہی وہ خلا ہے جہاں جین زی اکثر الجھن کا شکار نظر آتی ہے۔ انہیں ہر موضوع پر رائے تو مل جاتی ہے مگر یہ سمجھ نہیں آتا کہ ان میں سے سچ کون سا ہے۔

انسانی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک نوجوان چند سیکنڈ میں مذہب، فلسفے، سیاست، سائنس اور ثقافت پر متضاد آراء پڑھ سکتا ہے۔ وہ ایک ہی موضوع پر ہزاروں دلائل دیکھتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یقین کی جگہ شک نے لے لی ہے۔ اب سوال کرنا ان کی عادت نہیں، ان کی فطرت بن چکا ہے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اب بھی سوال کو گستاخی سمجھتا ہے۔ ہم نے بچوں کو بچپن سے ادب سکھایا، مگر مکالمہ نہیں سکھایا۔ ہم نے انہیں فرمانبرداری سکھائی، مگر دلیل نہیں سکھائی۔ ہم نے انہیں یہ بتایا کہ بڑے غلط نہیں ہوتے، مگر یہ نہیں بتایا کہ انسان ہونے کے ناطے کوئی بھی غلطی کر سکتا ہے۔ چنانچہ جب جین زی سوال کرتی ہے تو کئی گھروں میں اسے بغاوت سمجھ لیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہر سوال بغاوت نہیں ہوتا۔ بعض سوال صرف سمجھنے کی خواہش ہوتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں اکثر گفتگو کی جگہ فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ نوجوان اپنی الجھن بیان کرے تو اسے نادان کہا جاتا ہے۔ اختلاف کرے تو اسے بدتمیز قرار دیا جاتا ہے۔ اپنی رائے دے تو اسے مغرب زدہ کہہ دیا جاتا ہے۔ یوں ایک پوری نسل آہستہ آہستہ خاموش ہوتی جاتی ہے۔ ظاہری طور پر وہ سوشل میڈیا پر بہت بولتی دکھائی دیتی ہے، مگر حقیقت میں اسے سننے والے بہت کم ہیں۔ تعلیمی ادارے بھی اس بحران سے محفوظ نہیں۔ یونیورسٹیاں جنہیں فکر کی نرسریاں ہونا چاہیے تھا، کئی جگہوں پر محض ڈگری فیکٹریاں بن چکی ہیں۔ وہاں سوال کرنے والے ذہنوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے اکثر انہیں نظم و ضبط کے نام پر محدود کر دیا جاتا ہے۔ بعض اساتذہ کے لیے ذہین اور خوداعتماد طالب علم ایک نعمت کے بجائے ایک چیلنج بن جاتا ہے۔

انسان اکثر اس چیز سے خوفزدہ ہو جاتا ہے جو اس کی برتری کو چیلنج کرے۔ جب ایک نوجوان عالمی موضوعات پر رائے دیتا ہے، نئی زبانوں میں اظہار کرتا ہے یا روایتی سانچوں سے ہٹ کر سوچتا ہے تو بعض اوقات مسئلہ اس کی سوچ نہیں ہوتی، مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اس کی موجودگی کسی اور کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو جگا دیتی ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمر ہمیشہ علم کی ضمانت ہوتی ہے؟ اور کیا جوانی ہمیشہ ناپختگی کا نام ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو تاریخ میں انقلابات کبھی جنم نہ لیتے۔ سقراط سے لے کر علامہ اقبالؒ تک اور اقبالؒ سے لے کر دنیا کے جدید مفکرین تک، ہر بڑی فکری تبدیلی کبھی نہ کبھی نوجوان ذہنوں سے ہی ابھری ہے۔

دوسری طرف جین زی بھی معصوم فرشتوں کی جماعت نہیں۔ ان کے اپنے تضادات ہیں۔ وہ آزادی چاہتے ہیں مگر اکثر ذمہ داری سے گھبراتے ہیں۔ وہ اظہار کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں مگر بعض اوقات مخالف رائے سننے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ وہ تحقیق کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اکثر چند مختصر ویڈیوز دیکھ کر حتمی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ یہ وہ دور ہے جہاں ایک منٹ کی ویڈیو کبھی کبھی سو سال پرانی کتاب سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ یہاں ایک خطرناک تبدیلی جنم لے رہی ہے۔ مطالعہ آہستہ آہستہ مشاہدے سے ہار رہا ہے اور مشاہدہ تفکر سے۔ لوگ جاننے سے زیادہ دکھانے میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔ سچ کی جگہ وائرل ہونے نے لے لی ہے۔ دلیل کی جگہ جذباتی ردعمل نے لے لی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں لوگ رائے رکھتے ہیں مگر بنیاد نہیں رکھتے۔

جین زی کا ایک اور المیہ یہ ہے کہ یہ نسل مسلسل موازنوں کے عذاب میں زندہ ہے۔ سوشل میڈیا نے ہر انسان کو دوسروں کی زندگیوں کا تماشائی بنا دیا ہے۔ کوئی اپنی کامیابی دکھا رہا ہے، کوئی اپنی خوشی، کوئی اپنی محبت اور کوئی اپنی دولت۔ اس مصنوعی نمائش کے بازار میں نوجوان یہ بھول جاتا ہے کہ وہ دوسروں کی زندگی کے صرف روشن حصے دیکھ رہا ہے، اندھیرے نہیں۔ اسی لیے آج ذہنی دباؤ، بے چینی، تنہائی اور احساسِ محرومی پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ انسان جتنا ڈیجیٹل طور پر جڑ رہا ہے، اتنا ہی جذباتی طور پر تنہا ہو رہا ہے۔ شاید اس لیے کہ اسکرینیں رابطہ تو پیدا کر سکتی ہیں، رفاقت نہیں۔

معاشرے کی ایک اور دلچسپ منافقت بھی قابلِ غور ہے۔ ہم نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ بڑے خواب دیکھو، دنیا فتح کرو، آگے بڑھو، مگر جب وہ واقعی آگے بڑھنے لگتے ہیں تو ہم ان کے راستے میں اپنی روایات، تعصبات اور خوف کھڑے کر دیتے ہیں۔ ہم انہیں پرواز کا سبق دیتے ہیں مگر پنجرے کا دروازہ پوری طرح نہیں کھولتے۔ یہ تصادم دراصل روایت اور رفتار کا تصادم ہے۔ روایت چاہتی ہے کہ تبدیلی آہستہ آئے، جبکہ رفتار ہر چیز کو فوری بدل دینا چاہتی ہے۔ روایت کہتی ہے کہ تجربہ ضروری ہے، رفتار کہتی ہے کہ وقت نہیں ہے۔ روایت احتیاط سکھاتی ہے، رفتار جرات۔ حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کو دونوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف روایت معاشرے کو جامد بنا دیتی ہے اور صرف رفتار اسے بے سمت۔

شاید ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ نسلوں کے درمیان اختلاف کوئی حادثہ نہیں، ایک فطری عمل ہے۔ ہر نسل اپنے سے پچھلی نسل کے سوالات کا جواب اور اپنے بعد آنے والی نسل کے لیے ایک سوال ہوتی ہے۔ مسئلہ اختلاف نہیں، مسئلہ اختلاف کو دشمنی بنا دینا ہے۔ اگر آج کا نوجوان سوال کر رہا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اپنی جڑوں سے نفرت کرتا ہو۔ ممکن ہے وہ صرف یہ جاننا چاہتا ہو کہ ان جڑوں کی معنویت کیا ہے۔ اگر وہ روایت کو چیلنج کر رہا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ اسے تباہ کرنا چاہتا ہو۔ شاید وہ اسے سمجھنا چاہتا ہے اور اگر وہ بعض پرانے تصورات سے اختلاف کرتا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ گمراہ ہوگیا ہے۔۔ ممکن ہے وہ اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق نئے جواب تلاش کر رہا ہو۔

اصل خطرہ جین زی نہیں۔ اصل خطرہ وہ معاشرہ ہے جو سوال سے ڈرتا ہے، مکالمے سے بھاگتا ہے اور تنقید کو دشمنی سمجھتا ہے۔ کیونکہ جو معاشرہ سوالوں کو دفن کر دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنے مستقبل کو بھی دفن کر دیتا ہے۔ شاید ہمیں خود سے ایک سوال پوچھنا چاہیےکہ کیا ہم واقعی اپنی نئی نسل سے ناراض ہیں یا ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ ان کے سوال ہمارے یقین کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیں گے؟ کیا مسئلہ ان کی بے باکی ہے یا ہماری عدم برداشت؟ کیا مسئلہ ان کی رفتار ہے یا ہماری جمود زدگی؟

ہر نسل اپنے زمانے کے ماحول میں پروان چڑھتی ہے، جین زی بھی اس ڈیجیٹل عہد کی وہ نسل ہے جسے وقت نے اپنے مخصوص رنگ میں ڈھالا ہے۔ انہیں ماضی کے ترازو میں مکمل طور پر نہیں تولا جا سکتا۔ وہ نہ مکمل طور پر غلط ہیں اور نہ ہم مکمل طور پر درست۔ اصل سوال صرف اتنا ہے کہ کیا ہم ایک دوسرے کو سننے کے لیے تیار ہیں؟ کیونکہ تاریخ کا سب سے خطرناک فاصلہ دو شہروں کے درمیان نہیں ہوتا، دو نسلوں کے درمیان ہوتا ہے اور جب نسلوں کے درمیان مکالمہ مر جائے تو پھر گھر باقی رہ جاتے ہیں، خاندان نہیں۔۔ ادارے باقی رہ جاتے ہیں، تربیت نہیں اور لوگ باقی رہ جاتے ہیں، مگر پھر انسان تو باقی رہ جاتے ہیں، انسانیت نہیں۔

Check Also

Zameen Se Khurche Gaye Tareekh Mein Mehfooz Qasbay

By Wusat Ullah Khan