Sunday, 19 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Pakistan Ka Switzerland

Pakistan Ka Switzerland

پاکستان کا سوئٹزرلینڈ

میں نے دنیا کے کئی خوبصورت علاقوں کی تصاویر دیکھی ہیں سوئٹزرلینڈ کی برف پوش چوٹیاں آسٹریا کی سرسبز وادیاں، نیوزی لینڈ کی نیلگوں جھیلیں اور کینیڈا کے خاموش جنگلات یہ سب اپنی جگہ بے مثال ہیں مگر سچ یہ ہے کہ اگر قدرت کے شاہکاروں کی فہرست بنائی جائے تو گلگت بلتستان، خصوصاً استور اس فہرست میں کسی سے کم نہیں فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اپنی نعمتوں کو معیشت بنا لیا اور ہم نے اپنی نعمتوں کو محرومی کی داستان بنا دیا۔

قدرت نے گلگت بلتستان، استور کو کسی خزانے کی طرح تراشا ہے یہاں صبح سورج کی پہلی کرن جب برف پوش چوٹیوں پر پڑتی ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پہاڑوں پر سونا بکھر گیا ہو شام ڈھلے نیلگوں جھیلیں آسمان کا عکس اپنے سینے میں سمو لیتی ہیں دیودار کے جنگلات، سبزہ زار، گلیشیئر، جھرنے اور خاموش وادیاں انسان کو یہ احساس دلاتی ہیں کہ شاید زمین پر جنت کا کوئی منظر اگر موجود ہے تو وہ یہی ہے بالخصوص اس وقت دیوسائی کا خوبصورت منظر اس خوبصورتی خا چاند چار لگا دیتا ہے شیو سر لیک کا نیلا پانی چاروں اطراف کھلکھلاتے اور لہلہاتے پھول دیکھنے والے محو حیرت سے دوچار ہوتے ہیں۔

لیکن پھر ایک سوال دل میں اٹھتا ہے اگر استور اتنا خوبصورت ہے تو دنیا اسے کیوں نہیں جانتی؟ جواب تلخ ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ قدرت کی عطا کردہ نعمتوں سے زیادہ اہم انسان کی نیت اور قیادت ہوتی ہے جہاں قیادت دیانت دار ہو وہاں بنجر زمینیں بھی سرسبز نظر آتی ہے اور جہاں مفادات حکمرانی کریں وہاں جنت بھی ویران دکھائی دینے لگتی ہے ہم نے استور کو صرف نعروں میں یاد رکھا ہر انتخاب میں وعدے ہوئے، ہر حکومت نے ترقی کے دعوے کیے ہر دور میں منصوبوں کا اعلان ہوا مگر اعلان اور انجام کے درمیان ہمیشہ سیاست آ کھڑی ہوئی سڑکیں ادھوری رہ گئیں سیاحتی منصوبے فائلوں میں دفن ہو گئے بنیادی سہولیات خواب بن کر رہ گئیں اور دنیا کے نقشے پر نمایاں ہونے کے بجائے استور آج بھی اپنی باری کا منتظر ہے۔

یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں شمالی علاقوں اور گلگت بلتستان کی سیاحت کو قومی ترجیح بنانے کی کوشش کی گئی پاکستان کو عالمی سیاحتی نقشے پر متعارف کرانے کے لیے اقدامات ہوئے انفراسٹرکچر بہتر بنانے کی بات ہوئی اور دنیا کی توجہ شمالی پاکستان کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی گئی اگر یہی سمت مسلسل برقرار رہتی تو ممکن تھا کہ آج استور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں غیر ملکی سیاحوں کی منزل بن چکا ہوتا لیکن ہماری سیاست میں تسلسل کم اور تبدیلی زیادہ ہے اس لیے اکثر منصوبے بھی حکومتوں کے ساتھ بدل جاتے ہیں جیسے شغر تھنگ روڑ استور ویلی روڈ وغیرہ۔

گلگت بلتستان میں خالد خورشید کے دور کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے مختصر مدت میں سیاحت سڑکوں اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے کئی منصوبوں پر کام شروع ہوا اور استور سمیت مختلف علاقوں کے لیے ایک واضح وژن پیش کیا گیا مگر سیاسی تبدیلیوں نے اس سفر کو مکمل ہونے سے پہلے ہی روک دیا ترقی کے لیے صرف منصوبہ کافی نہیں ہوتا اس کے لیے استحکام اور تسلسل بھی ضروری ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر استور تک محفوظ، کشادہ اور معیاری شاہراہیں ہوں اگر عالمی معیار کے ہوٹل ٹریکنگ روٹس کیمپنگ سائٹس اور ریسکیو سسٹم موجود ہوں اگر اس کے حسن کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا جائے تو کیا یہ علاقہ پاکستان کی معیشت کا اہم ستون نہیں بن سکتا؟ یقیناً بن سکتا ہے سیاحت صرف تصویریں نہیں لاتی، یہ سرمایہ لاتی ہے روزگار پیدا کرتی ہے، مقامی کاروبار کو زندگی دیتی ہے اور نوجوانوں کو اپنے ہی علاقے میں مستقبل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں ترجیحات کی خرابی ہے قدرت نے اپنا کام مکمل کر دیا ہے اب باری انسان کی ہے اگر حکمران اپنی سیاست سے اوپر اٹھ کر ریاست کے مستقبل کا سوچیں اگر منصوبے ذاتی تشہیر کے بجائے قومی مفاد کے لیے بنیں اگر احتساب بلاامتیاز ہو اور عوامی وسائل واقعی عوام پر خرچ ہوں تو استور صرف پاکستان کا سوئٹزرلینڈ نہیں رہے گا بلکہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی منزل بنے گا جس کا خواب ہر سیاح دیکھے گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ قومیں قدرت کی نعمتوں سے نہیں اپنے فیصلوں سے عظیم بنتی ہیں استور کے پہاڑ آج بھی وہیں کھڑے ہیں جھیلیں آج بھی اتنی ہی شفاف ہیں ہوائیں آج بھی اتنی ہی خوشبو لیے ہوئے ہیں بدلا ہے تو صرف انسان کا رویہ جس دن یہ رویہ بدل گیا اسی دن استور کی قسمت بھی بدل جائے گی اور شاید اس دن دنیا پاکستان کو صرف ایک ایٹمی طاقت کے طور پر نہیں بلکہ قدرت کے سب سے خوبصورت تحفے کے امین کے طور پر بھی پہچانے گی۔

گلگت بلتستان محض ایک خطہ نہیں بلکہ قدرت کا ایک ایسا شاہکار ہے جہاں زمین آسمان سے ہمکلام دکھائی دیتی ہے برف پوش پہاڑ سورج کی پہلی کرن کے ساتھ سونے کی طرح چمکتے ہیں، نیلگوں جھیلیں آئینے کی مانند آسمان کو اپنے اندر سمو لیتی ہیں اور سرسبز وادیاں یوں لگتی ہیں جیسے کسی مصور نے اپنے دل کی ساری خوبصورتی یہاں انڈیل دی ہو استور سے منی مرگ تک پھیلی وادیاں خاموش جھرنوں کی سرگوشیاں اور ہوا میں گھلی فطرت کی مہک یہ سب کچھ مل کر ایک ایسا منظر تخلیق کرتے ہیں جو دیکھنے والے کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے مگر افسوس کہ یہ جنت نظیر حسن آج بھی مناسب توجہ اور سہولیات کے بغیر دنیا کی نظروں سے اوجھل ہے اور یہی وہ لمحہ ہے جہاں احساس ذمہ داری جاگنے کی ضرورت ہے۔

خالد خورشید اس منظرنامے میں ایک مختلف مثال تھے قلیل مدت میں انہوں نے وہ سوچ اور وژن دیا جو گزشتہ 78 برسوں میں دکھائی نہ دے سکا سڑکوں کی بہتری سیاحتی امکانات کی نشاندہی، انتظامی اصلاحات اور استور کو ایک فعال ضلع بنانے کے منصوبے یہ سب کاغذوں تک محدود نہیں تھے بلکہ عملی سمت رکھتے تھے مگر بدقسمتی سے یہی منصوبے موجودہ کرپٹ حکومت اور اس کے سہولت کاروں کے لیے خطرہ بن گئے کیونکہ ترقی مفاد پرستوں کے کاروبار کے خلاف تھی۔

منصوبوں کو جان بوجھ کر تعطل کا شکار کیا گیا فنڈز روکے گئے ترجیحات بدلی گئیں اور یوں استور کا وقت بھی مارا گیا اور مستقبل بھی۔

آج المیہ یہ ہے کہ استور کی خوبصورتی موجود ہے مگر دیکھنے والے نہیں اور جو آنا چاہیں انہیں راستے ہی روک لیتے ہیں یہ صرف انتظامی ناکامی نہیں بلکہ ایک دانستہ مجرمانہ غفلت ہے جس کی قیمت استور کا عام آدمی ادا کر رہا ہے جب تک استور کو مفاد پرست سیاستدانوں کے چنگل سے نکال کر عوام دوست قیادت شفاف منصوبہ بندی اور بنیادی سہولیات نہیں دی جاتیں تب تک یہ حسین وادی صرف یادوں تصویروں اور حسرتوں میں زندہ رہے گی۔

Check Also

Muhabbat, Takht Aur Talwar

By Muhammad Umar Shahzad