Sunday, 19 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Noorul Ain Muhammad
  4. Balochistan Ki Khamosh Cheekh

Balochistan Ki Khamosh Cheekh

بلوچستان کی خاموش چیخ

بلوچستان محض پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ نہیں بلکہ قومی وحدت، جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل کے اعتبار سے ملک کی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ خطہ دہشت گردی، احساسِ محرومی، کمزور طرزِ حکمرانی، معاشی پسماندگی اور بیرونی مداخلت جیسے متعدد مسائل کی زد میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ کسی ایک زاویے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اگر ہم اسے صرف سیکیورٹی کا مسئلہ قرار دیں گے تو تصویر کا ایک حصہ ہی سامنے آئے گا اور اگر اسے صرف سیاسی یا معاشی مسئلہ سمجھیں گے تو بھی حقیقت ادھوری رہے گی۔ بلوچستان کا معاملہ ایک ہمہ جہت حکمتِ عملی کا تقاضا کرتا ہے، جہاں ریاستی رٹ بھی قائم رہے، قانون کی بالادستی بھی یقینی بنائی جائے اور عوام کا اعتماد بھی بحال کیا جائے۔

ریاست کی پہلی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہے۔ جو عناصر بندوق اٹھا کر ریاست، سیکیورٹی فورسز یا معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق بھرپور کارروائی ناگزیر ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک دہشت گردی کو برداشت نہیں کرتا، اس لیے پاکستان بھی اس معاملے میں کوئی رعایت نہیں دے سکتا۔ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے دہشت گردی کے خلاف بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کی بدولت ملک نے امن کی جانب اہم پیش رفت کی، اگرچہ دہشت گردی کے خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بندوق صرف بندوق کا جواب دے سکتی ہے، خیالات کا نہیں۔ اگر نوجوانوں کے ذہنوں میں محرومی، بیگانگی یا بداعتمادی جنم لے لے تو اس کا علاج صرف عسکری کارروائی سے ممکن نہیں۔ اس کے لیے بہتر تعلیم، روزگار، انصاف، شفاف حکمرانی اور مسلسل سیاسی مکالمہ ضروری ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں ریاست، حکومت، پارلیمان، سیاسی جماعتوں، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

بلوچستان کا نوجوان آج پہلے سے کہیں زیادہ باخبر ہے۔ سوشل میڈیا نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن اس کے ساتھ جھوٹی خبریں، پروپیگنڈا اور شدت پسند بیانیے بھی تیزی سے پھیلتے ہیں۔ ایسے ماحول میں صرف خاموشی اختیار کرنا کافی نہیں بلکہ دلیل، تحقیق اور حقائق پر مبنی قومی بیانیہ پیش کرنا بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو یہ احساس دلانا ہوگا کہ وہ صرف پاکستان کے شہری ہی نہیں بلکہ اس کے مستقبل کے معمار بھی ہیں۔

احساسِ محرومی کو صرف تقریروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے عملی اقدامات درکار ہیں۔ بلوچستان میں معیاری تعلیمی ادارے، صحت کی بہتر سہولیات، صاف پانی، روزگار، صنعتوں کا قیام، جدید مواصلاتی نظام اور مقامی آبادی کی فیصلہ سازی میں مؤثر شمولیت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ترقیاتی منصوبے اس وقت کامیاب ہوتے ہیں جب مقامی لوگ خود کو ان کا حصہ محسوس کریں، نہ کہ محض تماشائی۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بلوچستان کی تاریخ، ثقافت اور روایات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ قومی یکجہتی کا مطلب ثقافتی یکسانیت نہیں بلکہ تنوع کے احترام کے ساتھ ایک مشترکہ قومی شناخت کو فروغ دینا ہے۔ جب ہر شہری کو برابر کے حقوق، عزت اور مواقع میسر ہوں گے تو علیحدگی پسند بیانیے کی کشش خود بخود کم ہوتی جائے گی۔

پارلیمان، سیاسی جماعتوں اور دانشوروں کو بھی اس معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔ دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد صرف مذمتی بیانات کافی نہیں ہوتے بلکہ ایک ایسا قومی بیانیہ بھی تشکیل دینا ضروری ہے جو نوجوانوں کو امید، اعتماد اور مستقبل کا واضح راستہ دکھا سکے۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن تشدد، نفرت اور ریاستی اداروں پر حملوں کا جواز کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔

بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ گوادر سے لے کر چاغی اور ژوب سے لے کر تربت تک ہر شہری کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ پاکستان اس کا اپنا ملک ہے اور اس کی ترقی میں اس کا برابر کا حصہ ہے۔ اعتماد، انصاف اور شفاف حکمرانی ہی وہ ستون ہیں جن پر پائیدار امن کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ریاست پوری قوت سے کارروائی جاری رکھے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان وجوہات کو بھی ختم کرے جو نوجوانوں کو مایوسی یا انتہاپسندی کی طرف دھکیلتی ہیں۔ طاقت اور تدبر، قانون اور انصاف، ترقی اور شمولیت، یہ سب ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔

بلوچستان کا مسئلہ نہ صرف بندوق سے حل ہوگا اور نہ صرف مذاکرات سے۔ اس کے لیے ریاستی رٹ، عوامی اعتماد، سیاسی بصیرت، معاشی ترقی، معیاری تعلیم اور انصاف پر مبنی نظام، سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ یہی وہ راستہ ہے جو بلوچستان کو پائیدار امن، خوشحالی اور قومی یکجہتی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

اسی حقیقت کو ایک مختصر مگر جامع جملے میں یوں سمیٹا جا سکتا ہے کہ جہاں دہشت گردی ہو وہاں نشتر ضروری ہے اور جہاں محرومیاں ہوں وہاں مرہم لازم ہے۔ یہی متوازن حکمتِ عملی بلوچستان کے روشن مستقبل اور مضبوط پاکستان کی ضمانت بن سکتی ہے۔

Check Also

Khota Gawach Gaya

By Ashfaq Inayat Kahlon