Muhabbat, Takht Aur Talwar
محبت، تخت اور تلوار

تاریخ کے عجائب گھر میں اگر آپ کو صرف ایک دروازہ کھولنے کی اجازت ملے اور کہا جائے کہ اس کے پیچھے ایک ایسا بادشاہ بیٹھا ہے جس نے ایک عورت کی محبت میں اپنا مذہبی پیشوا بدل دیا، اپنے ملک کا مذہبی نظام تبدیل کر دیا، اپنی پارلیمنٹ سے نیا قانون منظور کروا لیا، لیکن چند برس بعد اسی عورت کو موت کے گھاٹ بھی اتار دیا، تو شاید آپ اسے کسی ناول کا کردار سمجھیں گے۔ مگر یہ کوئی ناول نہیں، تاریخ کا ایک ایسا باب ہے جس کے ہر صفحے پر خون، محبت، اقتدار اور سازش کی روشنائی سے لکھا گیا ہے۔
یہ شخص انگلستان کا بادشاہ ہنری ہشتم تھا۔ ہنری ہشتم 1491ء میں پیدا ہوا اور 1509ء میں صرف اٹھارہ برس کی عمر میں انگلستان کے تخت پر بیٹھا۔ یورپ کے اکثر سفیر اس کی شخصیت سے متاثر ہوتے تھے۔ لیکن شاید ہی کسی نے سوچا ہو کہ یہی شخص آنے والے برسوں میں انگلستان کی مذہبی اور سیاسی تاریخ کا سب سے متنازع حکمران بن جائے گا۔
ہنری کی پہلی شادی اسپین کے شاہی خاندان کی شہزادی کیتھرین آف آراگون سے ہوئی۔ یہ شادی صرف دو افراد کا رشتہ نہیں بلکہ اسپین اور انگلستان کے درمیان سیاسی اتحاد بھی تھی۔ شروع کے چند برس خوشگوار گزرے، مگر پھر ایک کے بعد ایک سانحہ پیش آنے لگا۔ کیتھرین کئی بار حاملہ ہوئیں، لیکن اکثر بچے یا تو مردہ پیدا ہوئے یا چند ہی دن زندہ رہ سکے۔ صرف ایک بیٹی، مریم، زندہ بچ سکیں۔
سولہویں صدی کے یورپ میں بادشاہ کے لیے مرد وارث صرف خاندانی خواہش نہیں بلکہ سلطنت کے استحکام کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ ہنری کو خوف تھا کہ اگر اس کے بعد کوئی شہزادہ نہ ہوا تو انگلستان خانہ جنگیوں میں ڈوب جائے گا۔
انہی دنوں شاہی محل میں ایک نوجوان خاتون داخل ہوئی جس کا نام این بولین تھا۔ این فرانس کے شاہی دربار میں رہ چکی تھیں۔ وہ تعلیم یافتہ، ذہین، خوش گفتار اور غیر معمولی خوداعتماد خاتون تھی۔ اس میں وہ نفاست تھی جو اس زمانے کی بہت کم خواتین میں دیکھی جاتی تھی۔
ہنری جلد ہی این کی طرف مائل ہوگیا۔ اس نے حسبِ معمول کوشش کی کہ این اس کی محبوبہ بن جائے، لیکن این بولین نے انکار کر دیا۔ اس نے صاف کہا کہ وہ صرف قانونی بیوی بن سکتی ہے، خفیہ تعلق یا شاہی محبوبہ نہیں۔
شاید یہی انکار ہنری کی محبت کو جنون میں بدل گیا۔ 1527ء سے ہنری نے اپنی پہلی شادی ختم کرانے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کا مؤقف تھا کہ چونکہ کیتھرین پہلے اس کے بڑے بھائی آرتھر کی بیوی رہ چکی تھیں، اس لیے یہ شادی ابتدا ہی سے مذہبی اعتبار سے درست نہیں تھی۔ اس نے پوپ کلیمنٹ ہفتم سے درخواست کی کہ اس نکاح کو کالعدم قرار دیا جائے۔
لیکن مسئلہ صرف مذہبی نہیں تھا، سیاست بھی اس میں شامل تھی۔ کیتھرین، مقدس رومی سلطنت کے طاقتور حکمران چارلس پنجم کی خالہ تھی اور پوپ اس وقت سیاسی دباؤ میں تھا۔ اس لیے اس نے ہنری کی درخواست مسترد کر دی۔
یہ وہ لمحہ تھا جب ایک عاشق نے بادشاہ بن کر سوچنا شروع کیا۔ ہنری نے محسوس کیا کہ اگر پوپ اس کی خواہش پوری نہیں کرتا تو اسے اپنا راستہ خود بنانا ہوگا۔ اسی دوران این بولین حاملہ ہوگئی۔ ہنری جانتا تھا کہ اگر بچہ پیدا ہونے سے پہلے شادی نہ ہوئی تو اس کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھیں گے۔ چنانچہ 25 جنوری 1533ء کو ہنری اور این بولین نے خفیہ طور پر شادی کر لی۔ یہ شادی اس لیے خفیہ رکھی گئی کیونکہ اس وقت تک ہنری کی پہلی شادی قانونی طور پر ختم نہیں ہوئی تھی۔
چند ماہ بعد، 23 مئی 1533ء کو کینٹربری کے آرچ بشپ تھامس کرینمر نے ہنری کی پہلی شادی کو کالعدم قرار دے دیا۔ اب این بولین قانونی طور پر انگلستان کی ملکہ بن گئی۔
یکم جون 1533ء کو لندن میں این بولین کی شاندار تاج پوشی ہوئی۔ پورا شہر سجا ہوا تھا، گھنٹیاں بج رہی تھیں، جلوس نکل رہے تھے اور لوگوں کو یقین تھا کہ اب ایک شہزادہ پیدا ہوگا جو سلطنت کا وارث بنے گا۔ لیکن قسمت نے ایک اور فیصلہ کر رکھا تھا۔
7 ستمبر 1533ء کو این بولین نے ایک بیٹی کو جنم دیا، جس کا نام الزبتھ رکھا گیا۔ یہی بچی آگے چل کر ملکہ الزبتھ اول بنی اور انگلستان کی تاریخ کی عظیم ترین حکمرانوں میں شمار ہوئی۔ مگر اس وقت ہنری کو بیٹی کی پیدائش پر وہ خوشی نہ ہوئی جس کی این کو امید تھی، کیونکہ اس کی خواہش اب بھی ایک مرد وارث تھی۔
اس دوران ہنری اور روم کے تعلقات تیزی سے خراب ہوتے گئے۔ آخرکار 1534ء میں انگلستان کی پارلیمنٹ نے "ایکٹ آف سپریمیسی" منظور کیا، جس کے تحت ہنری ہشتم کو چرچ آف انگلینڈ کا سپریم ہیڈ قرار دیا گیا۔ اس قانون کے بعد پوپ کا اختیار انگلستان میں عملاً ختم ہوگیا۔
ایک عورت سے شادی کی خواہش نے پورے ملک کا مذہبی نظام بدل دیا تھا۔ 1534ء اور 1535ء کے دوران این دو مرتبہ حاملہ ہوئیں، مگر دونوں بار حمل ضائع ہوگیا۔ بادشاہ کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ دربار میں این کے مخالفین بھی سرگرم تھے، خصوصاً طاقتور وزیر تھامس کرامویل، جس کے ساتھ این کے سیاسی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے تھے۔
ادھر محل میں ایک خاموش، نرم مزاج اور باوقار خاتون بھی موجود تھیں، جین سیمور۔ ہنری کی نظریں اب آہستہ آہستہ این سے ہٹ کر جین سیمور کی طرف اٹھنے لگی تھیں۔ یہیں سے محبت کی کہانی اقتدار کی سازش میں تبدیل ہونا شروع ہوئی۔۔
1536ء کا موسمِ بہار انگلستان کے شاہی محل پر ایک عجیب خاموشی طاری کیے ہوئے تھا۔ چند برس پہلے یہی محل این بولین کی آمد پر خوشیوں سے گونج رہا تھا۔ وہ عورت جس کے لیے ایک بادشاہ نے پوپ سے ٹکر لی، یورپ کے طاقتور حکمرانوں کی ناراضی مول لی، اپنے ملک کا مذہبی ڈھانچہ بدل ڈالا اور پارلیمنٹ سے نیا قانون منظور کروا لیا، آج اسی محل میں خود کو تنہا محسوس کر رہی تھی۔
تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ اقتدار میں مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتے، صرف مفادات ہوتے ہیں۔ ہنری ہشتم کی خواہش اب بھی ایک مرد وارث تھی۔ این بولین اسے شہزادہ نہ دے سکیں۔ اسی دوران دربار میں طاقتور وزیر تھامس کرامویل اور این بولین کے درمیان اختلافات انتہا کو پہنچ چکے تھے۔ کرامویل ایک غیر معمولی ذہین سیاست دان تھا اور اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ بادشاہ کی دلچسپی اب جین سیمور کی طرف بڑھ رہی ہے۔
چنانچہ ایک ایسا کھیل شروع ہوا جس کا اختتام پہلے سے لکھا جا چکا تھا۔ 2 مئی 1536ء کو این بولین کو اچانک گرفتار کرکے ٹاور آف لندن پہنچا دیا گیا۔ این پر پانچ درباریوں اور اپنے بھائی جارج بولین کے ساتھ ناجائز تعلقات اور بادشاہ کو قتل کرنے کی سازش جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے۔
عدالت لگی، گواہ پیش ہوئے اور چند ہی دنوں میں فیصلہ بھی آ گیا۔ لیکن پانچ سو برس بعد بھی یہ سوال زندہ ہے کہ کیا این بولین واقعی مجرم تھیں؟
اکثر جدید مؤرخین، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ این کے خلاف پیش کیے گئے کئی الزامات میں تاریخی تضادات موجود تھے۔ بعض تاریخیں آپس میں نہیں ملتیں، بعض گواہوں کے بیانات کمزور تھے اور کچھ الزامات ایسے تھے جن پر سنجیدہ تحقیق کرنے والے مؤرخین آج بھی شکوک کا اظہار کرتے ہیں۔ اس لیے غالب تاریخی رائے یہ ہے کہ این بولین کے خلاف مقدمہ بڑی حد تک سیاسی نوعیت کا تھا، اگرچہ تمام مؤرخین اس پر مکمل اتفاق نہیں کرتے۔
19 مئی 1536ء کی صبح این بولین کو ٹاور آف لندن کے صحن میں لایا گیا۔ اس کا سر ایک فرانسیسی تلوار باز نے قلم کیا، جو کہ ہنری نے اس مقصد کے لیے خاص طور پر فرانس سے بلوایا تھا۔ تاکہ این کو کلہاڑی کی بجائے تلوار سے موت کی تکلیف کم ہو۔
تاریخ کا ایک حیران کن منظر دیکھیے۔ صرف گیارہ دن بعد، 30 مئی 1536ء کو ہنری ہشتم نے جین سیمور سے شادی کر لی۔
جین سیمور نے 1537ء میں ایک بیٹے کو جنم دیا جس کا نام ایڈورڈ رکھا گیا۔ ہنری کی برسوں پرانی خواہش پوری ہوگئی۔ لیکن خوشی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ ولادت کے چند دن بعد جین سیمور کا انتقال ہوگیا۔ ہنری نے اپنی تمام بیویوں میں شاید سب سے زیادہ احترام جین سیمور ہی کو دیا اور بعد میں اپنی وصیت کے مطابق اسی کے پہلو میں دفن ہونا پسند کیا۔
وقت گزرتا گیا۔ بادشاہ کی عمر بڑھتی گئی۔ نوجوانی کا وجیہہ، ایتھلیٹک ہنری اب موٹاپے، ٹانگ کے ناسور، ذیابیطس جیسی علامات اور مسلسل درد کا شکار تھا۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ جسمانی بیماریوں اور ذہنی دباؤ نے اس کے مزاج کو مزید سخت اور شکی بنا دیا تھا۔
1540ء میں اس نے اپنی پانچویں شادی کیتھرین ہاورڈ سے کی۔ کیتھرین عمر میں اس سے تقریباً تیس برس چھوٹی تھیں۔ ہنری اس پر بے حد فریفتہ تھا اور اسے "کانٹوں کے بغیر گلاب" کہا کرتا تھا۔ لیکن یہ خوشی بھی عارضی ثابت ہوئی۔
چند ہی ماہ بعد یہ اطلاعات سامنے آئیں کہ کیتھرین کے شادی سے پہلے کچھ رومانوی تعلقات رہے تھے، جنہیں اس نے بادشاہ سے مخفی رکھا تھا۔ بعد ازاں اس پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ شادی کے بعد اس کے درباری تھامس کلپیپر سے تعلقات قائم ہوئے۔
مورخین اس معاملے پر بھی مکمل طور پر متفق نہیں ہیں۔ شادی سے پہلے کے تعلقات کے شواہد نسبتاً مضبوط سمجھے جاتے ہیں، لیکن شادی کے بعد بے وفائی کے الزام پر آج بھی بحث جاری ہے۔ اس کے باوجود اُس دور کے قانون میں بادشاہ کی ملکہ پر اس نوعیت کا الزام غداری کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔
13 فروری 1542ء کو کیتھرین ہاورڈ کا بھی سر قلم کر دیا گیا۔ یوں ہنری ہشتم کی دو بیویاں، جن سے اس نے کبھی محبت کے دعوے کیے تھے، شاہی جلاد کی تلوار کا شکار بن گئیں۔
ہنری نے مجموعی طور پر چھ شادیاں کیں۔ ایک سے نکاح منسوخ کرایا، ایک سے طلاق نما علیحدگی اختیار کی، دو کو سزائے موت دلوائی، ایک ولادت کے بعد انتقال کر گئیں اور آخری بیوی کیتھرین پار اس کی وفات تک اس کے ساتھ رہیں۔
28 جنوری 1547ء کو ہنری ہشتم پچپن برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔
تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے۔ ہنری نے جس بیٹے کے لیے اپنی شادیاں اور رشتے داؤ پر لگا دیے، وہ ایڈورڈ ششم صرف پندرہ برس کی عمر میں وفات پا گیا۔ اس کے بعد پہلے مریم اول اور پھر وہی الزبتھ اول تخت پر بیٹھیں، جن کی پیدائش پر ہنری مایوس ہوا تھا۔ الزبتھ اول نے تقریباً پینتالیس برس حکومت کی اور انگلستان کو یورپ کی بڑی طاقتوں میں شامل کر دیا۔ آج تاریخ انہیں انگلستان کی عظیم ترین حکمرانوں میں شمار کرتی ہے۔
ہنری ہشتم کی کہانی ہمیں صرف ایک بادشاہ کی ازدواجی زندگی نہیں سناتی، بلکہ یہ اقتدار کی نفسیات بھی سمجھاتی ہے۔ جب اختیار بے لگام ہو جائے تو محبت بھی مصلحت بن جاتی ہے، قانون بھی طاقتور کی خواہش کے تابع ہو جاتا ہے اور انصاف اکثر دربار کی دیواروں میں دفن ہو جاتا ہے۔
این بولین اور کیتھرین ہاورڈ شاید تاریخ کے نزدیک صرف ملکہ نہیں، بلکہ اس حقیقت کی علامت ہیں کہ اقتدار کی چوٹی پر کھڑا انسان اگر اپنی خواہشات کو قانون اور اخلاق سے بلند سمجھنے لگے تو وہ ان ہاتھوں کو بھی کاٹ دیتا ہے جنہیں کبھی محبت سے تھاما تھا۔

