Monday, 20 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Mohammad Saleem
  4. Bootstrap Paradox

Bootstrap Paradox

بوٹ اسٹریپ پراڈوکس

فرض کریں آپ مستقبل میں سفر کرتے ہیں، وہاں سے ایک مشہور سائنسی کتاب اپنے ساتھ ماضی میں لے آتے ہیں اور اسے اس کے اصل مصنف کو شائع ہونے سے کئی سال پہلے دے دیتے ہیں۔ مصنف اسی کتاب کو اپنے نام سے شائع کر دیتا ہے۔ اب ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔ اس کتاب کا اصل مصنف کون تھا؟ اسے پہلی بار آخر کس نے لکھا؟ یہی تضاد بوٹ اسٹریپ پراڈوکس کہلاتا ہے۔

یہ پراڈوکس وقت کے سفر سے جڑے سب سے حیران کن سوالات میں سے ایک ہے۔ یہاں مسئلہ کسی شخص کے زندہ یا مردہ ہونے کا نہیں، بلکہ معلومات کی ابتدا کا ہے۔ ایک چیز، ایک خیال، یا ایک ایجاد وقت کے ایسے دائرے میں پھنس جاتی ہے جہاں اس کا کوئی واضح نقطہ آغاز باقی نہیں رہتا۔

اسے کازل لوپ یا علت و معلول کے بند دائرے کی مثال بھی کہا جاتا ہے۔ عام حالات میں ہر چیز کی کوئی نہ کوئی ابتدا ہوتی ہے۔ ہر ایجاد کے پیچھے ایک موجد، ہر کتاب کے پیچھے ایک مصنف اور ہر دریافت کے پیچھے ایک محقق ہوتا ہے۔ لیکن بوٹ اسٹریپ پراڈوکس میں یہ پوری زنجیر ٹوٹ جاتی ہے۔ چیز موجود تو ہے، مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ پہلی بار وجود میں کیسے آئی۔

ایک اور مثال دیکھیں۔ فرض کریں ایک شخص مستقبل سے واپس آ کر نوجوان آئن اسٹائن کو اضافیت کے تمام فارمولے دے دیتا ہے۔ آئن اسٹائن انہی فارمولوں کی بنیاد پر اپنا مشہور نظریہ پیش کرتے ہیں۔ کئی سال بعد مستقبل کا وہی شخص انہی کتابوں سے فارمولے سیکھ کر دوبارہ ماضی میں پہنچ جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ نظریۂ اضافیت اصل میں تخلیق کس نے کیا؟

یہ پراڈوکس صرف سائنس فکشن فلموں تک محدود نہیں۔ طبیعیات دان بھی اس پر سنجیدگی سے بحث کرتے ہیں، کیونکہ اگر وقت کا سفر کبھی ممکن ہوا تو ایسے سوالات سے بچنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر معلومات کا کوئی آغاز ہی نہ ہو تو کیا یہ طبیعیات کے قوانین کے مطابق ممکن ہے، یا کائنات ایسے دائروں کو خود بخود روک دیتی ہے؟

کچھ سائنس دان نوویکوف سیلف کنسسٹنسی پرنسپل کی مدد سے اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر وقت کا سفر ممکن بھی ہو تو ایسے تمام واقعات پہلے ہی تاریخ کا حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے کوئی حقیقی تضاد پیدا نہیں ہوتا، چاہے معلومات کا آغاز ہمیں نظر نہ آئے۔ دوسری طرف، ملٹی ورس کا نظریہ کہتا ہے کہ وقت میں ہر بڑی تبدیلی ایک نئی کائنات پیدا کر سکتی ہے، جہاں علت و معلول کا سلسلہ مختلف انداز میں چلتا ہے۔

بوٹ اسٹریپ پراڈوکس میں طبیعیات کے قوانین براہِ راست نہیں ٹوٹتے، بلکہ ہماری سمجھ ٹوٹتی ہے۔ ہم ہر چیز کے لیے ایک ابتدا تلاش کرنے کے عادی ہیں، لیکن یہ پراڈوکس ایک ایسی صورت حال پیش کرتا ہے جہاں کوئی شے ہمیشہ سے ایک بند دائرے میں موجود رہی ہو، بغیر کسی پہلے تخلیق کار کے۔

اگر وقت واقعی ایک ایسی جہت ہے جس میں آگے اور پیچھے دونوں سمتوں میں سفر ممکن ہو، تو شاید "آغاز" کا تصور بھی ہماری موجودہ سوچ جتنا سادہ نہ ہو۔ ممکن ہے کائنات میں کچھ واقعات سیدھی لکیر کی بجائے دائروں کی صورت میں وجود رکھتے ہوں، جہاں سوال یہ نہیں ہوتا کہ آغاز کہاں ہوا، بلکہ یہ کہ وہ دائرہ آخر وجود میں آیا کیسے۔

Check Also

Haqiqi Libas

By Saad Sharif