Aboori Suba: Kya Gilgit Baltistan Ka Intizar Ab Khatam Hoga?
عبوری صوبہ: کیا گلگت بلتستان کا انتظار اب ختم ہوگا؟

گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ کا سب سے اہم سوال آج بھی وہی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے زیر بحث ہے: کیا اس خطے کے عوام کو وہ آئینی شناخت مل سکے گی جس کے وہ طویل عرصے سے منتظر ہیں؟ یہ خطہ دفاع، سیاحت، آبی وسائل، معدنی ذخائر اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کے عوام آج بھی مکمل آئینی حقوق سے محروم ہیں۔ ایسے وقت میں جب گلگت بلتستان میں پاکستان پیپلز پارٹی حکومت میں ہے، مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں ہے اور وفاق میں دونوں جماعتیں اتحادی ہیں، عبوری صوبے کی بحث ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہے۔
عبوری صوبے کی حیثیت ملنے سے گلگت بلتستان کو کئی عملی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی، وفاقی قانون سازی میں شمولیت، این ایف سی ایوارڈ میں حصہ، وفاقی اداروں میں بہتر نمائندگی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے زیادہ وسائل ان میں نمایاں ہیں۔ آئینی حیثیت واضح ہونے سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھ سکتا ہے، جس سے سیاحت، پن بجلی، معدنیات اور دیگر شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کو یہ احساس ہوگا کہ وہ پاکستان کے سیاسی اور آئینی نظام کا مکمل حصہ ہیں۔
تاہم تصویر کا دوسرا رخ بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ سب سے بڑی رکاوٹ مسئلہ کشمیر سے متعلق پاکستان کا بین الاقوامی مؤقف ہے، جس کے باعث کسی بھی آئینی تبدیلی کو نہایت احتیاط سے دیکھنا پڑتا ہے۔ دوسری اہم رکاوٹ آئینی ترمیم ہے، جس کے لیے پارلیمنٹ میں وسیع اتفاق رائے درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ عبوری صوبے کے ساتھ صرف نام کی تبدیلی نہ ہو، بلکہ حقیقی اختیارات، مالی وسائل اور انتظامی خودمختاری بھی دی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو عوام کی توقعات پوری نہیں ہوں گی۔
یہ وقت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا نہیں بلکہ قومی ذمہ داری کا ہے۔ اگر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) وفاق میں ایک ساتھ حکومت کا حصہ ہیں تو انہیں گلگت بلتستان کے آئینی مستقبل پر بھی مشترکہ اور عملی پیش رفت کرنی چاہیے۔ اسی طرح گلگت بلتستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ کسی ایک حکومت یا جماعت کا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا ہے۔
اگر وفاقی حکومت اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گلگت بلتستان کو آئینی شناخت، مؤثر نمائندگی، مالی حقوق اور انتظامی اختیارات فراہم کرتی ہے تو یہ صرف ایک خطے کی کامیابی نہیں ہوگی بلکہ پاکستان کی وفاقی وحدت کو بھی مزید مضبوط کرے گی۔ لیکن اگر یہ موقع بھی ماضی کی طرح وعدوں اور بیانات کی نذر ہوگیا تو عوام کی مایوسی مزید گہری ہوگی۔ اب فیصلہ سیاست سے زیادہ تاریخ نے کرنا ہے کہ گلگت بلتستان کا انتظار کب ختم ہوگا۔

