Sunday, 19 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Syed Jawad Hussain Rizvi
  4. Ali Larijani Doctrine

Ali Larijani Doctrine

علی لاریجانی ڈاکٹرائن

کچھ عرصہ قبل ایران اور امریکا کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں منعقد ہونے والے مفاہمت نامے نے عالمی منظر نامہ کو تبدیل کر دیا تھا۔ اس مفاہمت نامے کے تمام کے تمام چودہ نکات ایران کے حق میں تھے اور دنیا بھر کے مبصرین اس کو ایران کی فتح سے تعبیر کر رہے تھے۔

یہ شہید علی لاریجانی کا ڈاکٹرائن تھا کہ جنگ کا ایک حصہ میدان میں لڑا جاتا ہے اور دوسرا حصہ مذاکرات کی ٹیبل پر۔ اسی ڈاکٹرائن پر ایرانی حکومت نے بہترین طریقے سے عمل کیا اور دشمن سے بھی وہ نکات منوا لئے جس کو ماننے سے وہ برسوں سے انکاری تھا۔ لیکن مذاکرات کی یہ فتح ان افراد کو پسند نہیں آئی جو مستقل جنگ کی حالت میں رہنا چاہتے ہیں۔

ایران بطور میچور اور ذمہ دار ریاست شہید رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے دور میں رہا ہے، اب وہ بات نظر نہیں آتی۔ ملک میں سپر انقلابیوں کی خواہش کے برعکس جو جوہری ہتھیار کا حصول چاہتے تھے، رہبر معظم نے اس کی کبھی منظوری نہیں دی تھی۔ دوسری طرف بین البر اعظمی میزائیلوں کی بھی آپ نے کبھی منظوری نہیں دی جن کی رینج دس ہزار کلومیٹر تک تھی۔ متعدد دفعہ دشمن کی جارحیت کے باوجود بھی انہوں نے امن کو ترجیح دی۔ آج رہبر معظم کی یہی پالیسی تھی جس کی وجہ سے ایران سرخرو ہے، کوئی ریاست ایران پر انگشت نمائی نہیں کر سکتا کہ ایران خطرناک ہتھیاروں کے حصول کے لئے کوشاں رہا ہے یا ایران امن پر جنگ کو ترجیح دیتا ہے۔ شہید رہبر معظم نے جنگ کی تیاری تو بھرپور رکھی لیکن خود سے کبھی ابتدا نہیں کی اور نہ بلا ضرورت صیہونیت و استعماریت کے ساتھ پنگے بازی کی ہے۔

اس وقت ایران کی جو صورتحال ہے معلوم ہوتا ہے کہ بعض حلقے ایران کے روایتی حکمت عملی کے باعث مسلسل جنگ میں رہنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان قوتوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے جنہوں نے مذاکرات کی ٹیبل پر ایران کا مقدمہ لڑا اور سرخرو ہوئے۔ حالانکہ یہ پہلی دفعہ نہیں ہے اس سے قبل شہید علی لاریجانی کے خلاف بھی اسی قسم کا غلیظ پروپیگنڈا کیا گیا۔ اگر ان لوگوں کی فرمائش پر چلا جاتا تو حالات ایران کے حق میں کبھی نہ ہوتے۔ فرض کریں کہ ایران نے اس سے قبل امریکہ اور دیگر طاقتوں کے ساتھ معاہدہ نہ کیا ہوتا تو کیا دنیا آج یہ کہہ سکتی تھی کہ ایران نے ہمیشہ صلح کو پہلا موقع دیا؟ کیا دشمن کا یہ پروپیگنڈا کامیاب نہ ہوتا کہ ایران ایک غیر ذمہ دار ریاست ہے؟

بہترین انداز میں مفاہمت نامے پر دستخط کے بعد بعض عناصر نے بہت کامیابی کے ساتھ صیہونی پروپیگنڈے میں جان ڈالی ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ بعض عناصر کو مذاکرات اتنے ہی برے لگتے ہیں تو صدر پزشکیان، عراقچی اور قالیباف جیسے معتدل رہنماؤں کو استعفی دے دینا چاہیے اور ملک مکمل انہی کے حوالے کر دیں کہ بس پوری دنیا سے لڑتے رہیں اور کوئی ان کا مقدمہ دنیا کے سامنے لڑنے کے لئے تیار نہ ہو۔ اس کے علاوہ کوئی اور چارہ مجھے نظر نہیں آتا۔

Check Also

Madaris Ka Fawaid

By Saad Sharif