Wednesday, 08 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shair Khan
  4. Ittefaq e Raye Se Iqtidar Tak Ab Imtihan Khidmat Ka Hai

Ittefaq e Raye Se Iqtidar Tak Ab Imtihan Khidmat Ka Hai

اتفاقِ رائے سے اقتدار تک اب امتحان خدمت کا ہے

اقتدار کے ایوانوں میں چہروں کی تبدیلی کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں مگر بعض اوقات حالات ایک ایسا موڑ لے لیتے ہیں جہاں شخصیت سے زیادہ کردار اور عہدے سے زیادہ ذمہ داری اہم ہو جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کے نومنتخب وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کو وزارتِ اعلیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد، لیکن اس مبارکباد کے ساتھ عوام کی بے شمار امیدیں اور تاریخ کے کئی سوال بھی ان کے سامنے کھڑے ہیں۔

اس بار ایک دلچسپ منظر دیکھنے کو ملا سیاسی اختلافات کے باوجود تقریباً تمام قوتیں ایک نام پر متفق ہوگئیں۔ یہ بھی ایک لمبی کہانی ہے اس پر علیحدہ سے کبھی کالم قارئین کی نظر کریں گے فلحال زرا ہاتھ ہولا رکھ کے کڑواہٹ کو زرا سائیڈ کرکے موجودہ حلف برداری پر سادہ سا کالم پیش خدمت ہے۔ خدا کرے موجودہ اتفاقِ رائے عوام کے لئے اچھی ثابت ہو فارمولہ عوامی خدمت کی بنیاد بنے یہی اصل کامیابی ہوگی کیونکہ تاریخ یہ نہیں دیکھتی کہ اقتدار کس نے حاصل کیا تاریخ یہ دیکھتی ہے کہ اقتدار عوام کے لیے کتنا مفید ثابت ہوا۔

گلگت بلتستان کا مسئلہ صرف حکومتیں بدلنے کا نہیں حکمرانی کا انداز بدلنے کا ہے یہاں نوجوان روزگار کے انتظار میں اپنی جوانیاں گزار رہے ہیں میرٹ سفارش کے بوجھ تلے دب جاتا ہے تعلیم اور صحت اب بھی بنیادی ضرورت ہونے کے باوجود خواب معلوم ہوتی ہیں۔ انفراسٹرکچر کی کمزوریاں ترقی کی رفتار کو روک دیتی ہیں سیاحت اور معدنی وسائل جیسے قدرتی خزانے بہتر منصوبہ بندی کے منتظر ہیں پن بجلی کی بے پناہ صلاحیت ابھی تک مکمل طور پر عوام کی زندگی نہیں بدل سکی جبکہ موسمیاتی تبدیلی اور پگھلتے گلیشیئر ہر سال ایک نئے خطرے کی دستک دیتے ہیں دوسری جانب آئینی حیثیت اور انتظامی اختیارات کا سوال آج بھی عوامی شعور میں زندہ ہے۔

ایسے میں حکومت کے لیے سب سے بڑا امتحان یہ ہوگا کہ وہ نعروں سے آگے بڑھ کر فیصلے کرے میرٹ کو طاقتور بنائے۔ شفافیت کو روایت بنائے احتساب کو بے لاگ کرے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے اور عوامی خدمت کو سیاست کا اصل مقصد ثابت کرے خاص طور پر نوجوانوں کو جدید مہارتیں باوقار روزگار، کاروباری مواقع اور سرمایہ کاری کے بہتر ماحول کی فراہمی وہ سرمایہ ہے جو آنے والے کل کی بنیاد رکھے گا گلگت بلتستان کسی ایک جماعت ایک خاندان یا چند افراد کی جاگیر نہیں بلکہ ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اس دھرتی کے پہاڑ، دریا، گلیشیئر اور وادیاں سب سے پہلے یہاں کے عوام کی امانت ہیں اس لیے سیاسی استحکام، معاشی خوشحالی اور آئینی پیش رفت کے لیے تمام سیاسی و سماجی قوتوں کو باہمی احترام، برداشت اور مشاورت کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا اگر یہ اتفاقِ رائے عوامی مسائل کے حل تک پہنچ گیا تو یہ ایک نئی سیاسی روایت کی بنیاد بن سکتا ہے ورنہ یہ بھی ماضی کے کئی سیاسی سمجھوتوں کی طرح تاریخ کے اوراق میں گم ہو جائے گا۔

وزیرِ اعلیٰ امجد حسین ایڈووکیٹ کے لیے یہی لمحۂ امتحان ہے انہیں ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض اتفاقِ رائے کے امیدوار نہیں بلکہ عوام کی امیدوں کے امین بھی ہیں اگر ان کے فیصلوں میں دیانت ہوگی، ترجیحات میں عوام ہوں گے اور نگاہ مستقبل پر ہوگی تو آنے والی نسلیں انہیں صرف ایک وزیرِ اعلیٰ کے طور پر نہیں بلکہ ایک مثبت تبدیلی کے معمار کے طور پر یاد رکھیں گی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بصیرت، دیانت، استقامت اور بہترین فیصلہ سازی کی توفیق عطا فرمائے، تاکہ گلگت بلتستان امن، خوشحالی، گڈ گورننس آئینی وقار اور عوامی اعتماد کی ایک نئی منزل کی طرف بڑھ سکے یہی وہ کامیابی ہوگی جو کسی بھی سیاسی فتح سے کہیں زیادہ بڑی ہوگی یہ موقع امجد ایڈووکیٹ کے لئے لاسٹ چانس کی حیثیت رکھتا ہے۔

اگر اس میں پرفارمنس اچھی نہیں رہی تو موصوف کا مستقبل تابناک ثابت ہوگا اسلئے ضروری ہے موصوف کی پوری توجہ علاقے کی تعمیر و ترقی پر صرف کرنی ہوگی اور بنیادی مسائل بجلی اور پانی کو اولین ترجیحات میں شامل کرکے پورا کرنا ہوگا۔ عوام پہلے ہی بجلی اور پانی کو لیکر سڑکوں میں احتجاج لئے بیٹھی ہے اب دیکھتے ہیں منتخب وزیر اعلٰی اسمیں کہاں تک کامیاب ہوتے ہیں ہماری طرف سے مبارک کے بعد بہت ساری دعائیں ہیں اللہ موصوف کو کامیاب کرے اور اپنی زمداری کو احسن طریقے سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے اور یہ اتفاق رائے سے اقتدار تک کا سفر خوش اسلوبی سے پائیہ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔

Check Also

Masnoi Zahanat Se Khudkar Tajurba Gahon Tak

By Muhammad Rizwan Arif