Dunya Ki Tareekh Ki Sab Se Faisla Kun Jang?
دنیا کی تاریخ کی سب سے فیصلہ کن جنگ؟

نیچے پہاڑی کے دونوں جانب پھیلے میدان میں تاحدِ نگاہ سیاہ خیمے نصب ہیں، جن کے آگے میدان میں قِطاروں میں گھڑسوار ہاتھوں میں بھالے تھامے ترتیب سے کھڑے ہیں۔ شہسواروں کی قطاروں میں سے ایک درمیانی عمر کا شخص اپنے سیاہ شامی گھوڑے کو ایڑ لگا کر لشکرکے بائیں طرف لے گیا۔ اس کا تمام بدن زنجیر دار زرہ بکتر میں ملفوف ہے اور سر پر آہنی خود ہے جس نے چہرے کے ایک حصے کو بھی ڈھانپ رکھا ہے۔ آنکھیں بے حد نمایاں اور چمکیلی ہیں جن میں عزم کی سختی جھلکتی ہے۔ یہ عبدالرحمٰن ابن عبداللہ الغافقی ہے۔
الغافقی نے آنکھیں سکیڑ کر دیکھا، ایک میل دور پہاڑی پر درختوں کے اندر بھی بے حد ہل چل کا سماں ہے۔ جہاں سے چڑھائی شروع ہوتی ہے وہاں ہاتھوں میں لکڑی کی ڈھالیں سنبھالے، شانے سے شانہ، قدم سے قدم ملائے سپاہیوں کی قطاریں ایستادہ ہیں، جو دور کسی ہزارپا کی طرح نظر آ رہی ہیں۔
الغافقی کی فوج 30 ہزار گرم و سرد چشیدہ سواروں پر مشتمل ہے اور یہ دریا سنہ 732ء میں رومیوں کی بنائی ہوئی نیم پختہ شاہ راہ پر ٹھاٹھیں مارتا ہوا فرانس کے وسط میں پوئیٹیرز شہر سے قریب اور پیرس سے کوئی تین ساڑھے تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر بڑھا چلا جا رہا تھا کہ یکایک اس کا راستا جنگل میں کھڑی فرنگی ہزار پا نے روک دیا ہے۔
الغافقی کی فوج کا بیشتر سواروں پر مشتمل ہے۔ ہر سوار سر سے پیروں تک زرہ بکتر میں غرق ہے۔ عرب کمان داروں کی زرہِ بکتر باریک زنجیروں پر مشتمل ہیں، جو تلوار کا وار اُچٹنے کے لیے بے حد کارگر ہیں۔ جری بربر سورماؤں کے ہاتھ میں لمبے نیزے ہیں۔ یہ دشمنوں کی صفیں پلٹنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
دوسری طرف فرنجی فوج کا غالب حصہ پیادہ سپاہیوں پر مشتمل ہے اور ویسے بھی یہ بات ہے سنہ 732ء کی۔ اس وقت ارض الکبیر، یعنی یورپ میں بھاری کیولری مفقود ہے، جس کی وجہ ایک بہت سادہ اور بظاہر معمولی نظر آنے والی چیز گھوڑے کی رکاب کا فقدان ہے۔ بغیر رکاب کے گھڑ سوار میدانِ جنگ میں آسانی سے پینترا بدلنے اور دشمن پر موثر حملہ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے، اس لیے یورپی گھڑسوار فوجی اکثر گھوڑے کو میدانِ جنگ تک سفر کے لیے استعمال کرتے تھےاور عین لڑائی کے وقت گھوڑے سے اتر کر میدان میں پیادہ فوج کے شانہ بہ شانہ دادِ شجاعت دیا کرتے تھے۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپ کا ذکر آتے ہی ذہن میں زرہ پوش نائٹ کا خیال آتا ہے، لیکن یہ نائٹ دراصل عربوں نے یورپ میں متعارف کروایا تھا۔
الغافقی کے لیے فرانس نیا علاقہ نہیں ہے۔ گیارہ برس پیشتر وہ طولوس کے معرکے میں السمح ابن المالک کی کمان میں لڑ چکا ہے۔ اس لڑائی میں اموی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ خود السمح میدانِ جنگ میں آنے والے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تھا، لیکن اب الغافقی اپنے سپہ سالار کا بدلہ لینے 30 ہزار سواروں پر مشتمل فوج لے کر آن پہنچا ہے۔
الغافقی کے مدِ مقابل فرنجی فوج کی کمان چارلز مارٹل (چارلز ہتھوڑا) کے ہاتھ میں ہے، جس نے ہر صورت میں اپنی سرزمین کو عربوں سے بچانے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ لیکن جو بات الغافقی اور چارلز مارٹل دونوں کے وہم و گمان میں بھی نہیں، وہ یہ ہے کہ کچھ دیر بعد چھڑنے والی جنگ کو نہ صرف عہد ساز بلکہ تاریخ ساز قرار دیا جائے گا۔ الغافقی اور مارٹل نہیں جانتے تھے کہ اکتوبر کی اس سرد شام کے ایک ہزار برس بعد تاریخ دان ایڈورڈ گبن اس جنگ کے بارے میں لکھے گا کہ اس میں فتح عربوں کو:
پولینڈ کے میدانوں اور سکاٹ لینڈ کے پہاڑی درّوں تک لے جاتی۔ دریائے رائن نیل یا فرات سے زیادہ گہرا نہیں ہے۔ عرب بحری بیڑا بغیر لڑے ہوئے ٹیمز کے دہانے پر آ کھڑا ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ آج آکسفرڈ یونیورسٹی میں قرآن پڑھایا جا رہا ہوتا اور اس کے میناروں سے پیغمبرِ اسلام کی تعلیمات کی تقدیس بیان کی جا رہی ہوتیں۔۔
***
چھوٹی سی رینو ٹیکسی میں سیاہ فام ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ کر میں فرانس کے پوتیے شہر کے شمال مشرق کی طرف روانہ ہوگیا۔ میری منزل بیس کلومیٹر دور ایک جگہ تھی۔ راستے میں ایک بے حد دل کش نیلگوں جھیل نظر آئی لیکن میں کوشش کے باوجود اس کا نام نہیں دیکھ سکا۔
آدھے گھنٹے کے بعد ٹیکسی ایک چھوٹی سی پہاڑی پر بنی ہوئی ایک عمارت کے سامنے کھڑی تھی، جس کے بائیں طرف ایک چھوٹی ندی بہتی ہے جو کئی جگہوں پر چھوٹی چھوٹی جھیلوں میں منقلب ہو جاتی ہے، جب کہ دائیں طرف اونچی نیچی زمین پر ہرے بھرے کھیتوں کے بعد ایک چھوٹی سی بستی ہے جس کے ساتھ ساتھ ایک دریا کی جھلک بھی نظر آ رہی ہے۔
یہ وہ مقام ہے جسے فرانسیسی اپنی زبان میں موسائی لا بتائل اور عربی میں بلاط الشہدا کہتے ہیں۔
میں ٹیکسی سے اتر آیا۔ مئی کا مہینا ہے، لیکن پھر بھی ہلکی سی خنکی کا احساس ہو رہا ہے۔ آسمان کسی بچے کی آبی رنگوں سے بنائی ہوئی تصویر کے مانند بے حد نیلا ہے۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دور سڑک سے کسی گاڑی کی آواز کے باوجود فضا گمبھیر سکوت کی تہوں میں لپٹی ہوئی ہے۔ میں گہرا سانس لے کر کچھ سننے کی کوشش کرتا ہوں۔
تھوڑا آگے بڑھ کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ سیاحوں کی سہولت کے فرانسیسی حکومت نے معلوماتی بورڈ نصب کر رکھے ہیں۔ یہیں زمین پر شطرنج کی طرز کے 64 خانے بنے ہیں جن کے اندر نہ صرف اس کارزار کی باتصویر تفصیلات رقم ہیں، بلکہ اسلام اور اسلامی تاریخ کے بارے میں بھی معلومات درج کی گئی ہیں۔ بساط کے بیچوں بیچ ایک جھنڈا نصب کیا گیا ہے جس پر 732 کے ہندسے درج ہیں۔ معلوم نہیں اس جگہ کے بنانے والوں کو یہ معلوم تھا کہ نہیں کہ شطرنج ہندوستانیوں کی ایجاد سہی لیکن اسے عربوں ہی نے یورپ میں متعارف کروایا تھا۔
خاموشی، بے کراں خاموشی۔ لیکن کچھ دیر کے بعد مجھے مدھم مدھم سی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ غور سے سننے کی کوشش کرتا ہوں تو آوازیں کچھ کچھ واضح ہونا شروع ہوتی ہیں، جیسے ریڈیو کی سوئی گھما کر سٹیشن کی نشریات صاف ہو جاتی ہیں۔ گھوڑوں کی ہنہناہٹیں، آپس میں ٹکراتی ہوئی تلواروں، نیزوں اور بھالوں کی کھنک، تیروں کی سنسناہٹ، یلغار کرتے ہوئے دستوں کے پرجوش نعرے، زخمیوں کی فریادیں۔ رفتہ رفتہ پہاڑی پر بنی عمارتیں تحلیل ہو جاتی ہیں، دامن میں لپٹی ہوئی سڑک غائب ہو جاتی ہے، دائیں ہاتھ پر بنا گاؤں روپوش ہو جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس جگہ گھنا جنگل اُگ آتا ہے۔
***
اور مئی کی اس چمکتی سہ پہر سے 1276ء برس پہلے اسی جگہ تقریباً اسی وقت صدیوں پرانی شاہ راہِ روم پر سیلِ بلا کی مانند بڑھتی ہوئی زبردست فوج ظفر موج کو دیکھ کر الغافقی کی چھاتی فخر سے چوڑی ہوگئی۔ اس نے دل میں سوچا، کون ہے جو اس طوفانِ بلاخیز کے سامنے میدان میں ٹھہر سکے؟
طورس کا سونے چاندی سے مالامال شہر صرف پچاس میل کے فاصلے پر تھا، پیرس بھی زیادہ دور نہیں تھا کہ الغافقی کے جاسوسوں نے اسے رومی شاہ راہ کے بائیں طرف پہاڑی پر واقع جنگل میں فرانسیسی فوج کے اجتماع کی اطلاع دی۔
عبدالرحمٰن الغافقی یمن میں پیدا ہوا تھا۔ سپہ گری گھٹی میں پڑی تھی۔ اس نے ذاتی لیاقت اور فنونِ حرب میں مہارت کی بنا پر برق رفتاری سے منزلوں پر منزلیں مارتے ہوئے اموی اربابِ اختیار کی نظروں میں اہم مقام حاصل کر لیا تھا۔ جب 712ء میں شمالی افریقہ کے گورنر موسیٰ بن نصیر نے طارق بن زیاد کے سپین پر چڑھائی کے ایک برس بعد خود ایک بڑی فوج لے کر سپین کا رخ کیا تو عبدالرحمٰن اس فوج کا حصہ تھا۔ جب 721ء میں طولوس کے باہرسپہ سالار السمح شدید زخمی ہوگیا تو اس نے عبدالرحمٰن ہی کو اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔ چوں کہ اموی خلفا کے دستور کے مطابق فوج کا سپہ سالار ہی علاقے کا امیر ہوتا تھا، اس لیے عبدالرحمٰن جب بچی کھچی فوج لے کر قرطبہ لوٹا تو وہ اندلس کا امیر بن گیا۔
تاہم اس زمانے میں اندلس شمالی افریقہ کے گورنر کے ماتحت تھا جو عبدالرحمٰن کو پسند نہیں کرتا تھا، اس لیے اس نے اس عہدے پر ابن سہیم الکلبی کو تعینات کرکے عبدالرحمٰن کو جنوب مغربی فرانس کے علاقے ناربون کا امیر مقرر کر دیا جو اس وقت اندلس کا سرحدی صوبہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ گورنر کو عبدالرحمٰن کی یہ عادت پسند نہیں تھی کہ وہ میدانِ جنگ میں دشمن کے زخمی سپاہیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا۔ عبدالرحمٰن کو ایک شرف یہ بھی حاصل تھا کہ وہ خلیفۂ دوم عمر فاروق کے صاحب زادے سے بے حد قریب تھا۔ اس کے علاوہ وہ پرہیزگاری اور ایمان داری کے ساتھ ساتھ شجاعت اور جنگی سوجھ بوجھ کی وجہ سے ہر دل عزیز تھا۔
دو برس قبل خود اموی خلیفہ ہشام ابن عبدالملک نے الغافقی کو اندلس کا امیر مقرر کیا تھا۔ اس کے ذمے وہ کام پورا کرنا تھا جو السمح نے ادھورا چھوڑ دیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ الغافقی نے اس مہم کے لیے خاص طور پر اپنے آبائی وطن یمن سے وفادار کمان دار منگوائے تھے، جن کی بہادری اور جنگی لیاقت پر اسے کامل بھروسا تھا۔
عبدالرحمٰن الغافقی نے اپنی فوج کو فرانسیسی فوج کے بالمقابل پہاڑی کے دامن میں صف بندی کا حکم دے دیا۔ اس نے دیکھا کہ فرانسیسی پیادہ درختوں کے قریب سینے سے لے کر گھٹنوں تک آتی ہوئی بھاری چوبی ڈھالیں اٹھائے، قدیم رومی انداز میں مربع جنگی تشکیل بنا کر کلہاڑیاں اور تلواریں سونتے، صفیں باندھے، تیار کھڑے ہیں۔ اگرچہ گھنے درختوں کی وجہ سے دشمن کی صحیح تعداد کا اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا، لیکن الغافقی پھر بھی زیادہ فکر مند نہیں تھا، بھلا گھڑ سواروں اور پیادوں کا کیا مقابلہ؟ الغافقی کے نیزہ بردار برق رفتار گھڑسوار پل بھر میں پیادہ فوجیں کی صفیں الٹنے کے فن میں طاق تھے۔
فرانسیسی جرنیل چارلز مارٹل کو شاید آکسفرڈ یونیورسٹی کے میناروں کی اتنی فکر نہ ہو لیکن وہ یہ بات یقیناً جانتا تھا کہ اس مسلم فوج کا راستا روکنا بہت ضروری ہے۔ اس نے سن رکھا تھا کہ 21 برس پیشتر طارق بن زیاد کی فوج نے صرف ایک برس کے اندر اندر پونے پانچ لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط جزیرہ نما آئیبریا کو منھ زور سیلاب کی طرح روند دیا تھا۔ سوائے راڈرک کے ساتھ ایک معرکے کے بقیہ جزیرہ نما نے بغیر لڑے مسلمانوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے تھے۔ اسے جزئیات تو معلوم نہیں ہوں گی لیکن اس نے جہاں گشت پادریوں اور تاجروں کی زبانی سنا ضرور ہوگا کہ مسلمانوں نے تاریخ کے پلک جھپکتے ہی سنکیانگ کے پہاڑوں اور پنجاب کے دریاؤں سے لے کر مغرب میں بحرِ اوقیانوس کے ساحلوں تک اپنے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔
اس زمانے کا فرانس اکائی نہیں تھا بلکہ فقیر کی گدڑی کی طرح چھوٹی چھوٹی اکثر باہم متحارب ریاستوں میں بٹا ہوا تھا جن کا سلسلہ ہسپانیہ کی سرحد سے لے کر انگلش چینل تک چلا گیا تھا۔ ان ریاستوں کے سردار پل بھر میں وفاداریاں، ہمدردیاں اور دشمنیاں تبدیل کرتے رہتے تھے۔
مارٹل اور اس کی فوج مسلسل بیس سال سے فرانس اور شمالی سپین کی راج واڑوں کے ساتھ حالتِ جنگ میں تھے۔ باراں دیدہ جرنیل کو اچھی طرح سے علم تھا کہ کھلے میدان میں عرب فوج کا مقابلہ کرنا خودکشی کے مترادف ہے، اسی لیے اس نے رومی شاہ راہ سے گریز کرتے ہوئے اپنی فوجیں اس پہاڑی پر پھیلے جنگل پر مرکوز کر لی تھیں۔ یہاں اس کی فوج اونچائی پر تھی، چناں چہ مسلمان گھڑ سوار یلغار نہیں کر سکتے تھے۔ مزید یہ کہ اس نے اپنے دستے جنگل کے اندر پھیلا رکھے تھے، جس سے ایک تو اس کی فوج کی تعداد کا درست اندازہ لگانا مشکل تھا، دوسرے درختوں کے اندر گھوڑے اتنے ہی مؤثر تھے جتنی مچھلی خشکی پر ہوتی ہے۔
ادھر الغافقی نے بھی ہتھوڑے کی حکمتِ عملی بھانپ لی تھی، اس لیے اس نے جنگ کے پہلے چار دن تک معمولی جھڑپوں ہی پر اکتفا کی۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ سردیوں کا موسم تیزی سے بڑھا چلا آ رہا تھا، ادھر خوراک کے ذخیرے بھی توے پر رکھے مکھن کے پیڑے کی طرح تیزی سے تحلیل ہو رہے تھے، ساتھ ہی ساتھ رمضان کی آمد آمد تھی۔ الغافقی اپنے دارالحکومت قرطبہ سے ایک ہزار میل دور تھا، اس لیے اس جنگ کو لامتناہی طول دینا اس کے لیے ممکن نہیں تھا۔
چناں چہ جنگ کے چوتھے روز 25 اکتوبر کو الغافقی نے بھرپور حملہ کرنے کی ٹھان لی۔ صبح پو پھٹتے ہی اس نے صفوں کو ترتیب دینے کا حکم صادر کر دیا۔ میمنہ نے دائیں طرف سے پیش قدمی شروع کی اور میسرہ نے بائیں جانب سے۔ قلب طرفین سے تھوڑا پیچھے رہا۔ یہ عربوں کی مشہور و معروف ہلالی تشکیل تھی، جس کے ذریعے انھوں نے ماضی میں غنیم کے بھاری لشکروں کو درمیان میں گھیر کر درانتی کی طرح کاٹ ڈالا تھا۔
ان ہراول دستوں کے پیچھے پیادہ فوج بھی حرکت میں آ گئی۔ یہ سپرانداز دستے مقدمہ کہلاتے تھے۔ ان کے عقب میں مقاتلہ تھا۔ لوہے کے بھاری خود پہنے اور زنجیر دار زرہوں میں ملبوس ان دستوں کا کام یہ تھا کہ جب گھڑسوار دشمن کی صفیں توڑ دیں تو یہ جا کر بچی کھچی پیادہ سپاہ کو درہم برہم کر دیں۔
تھوڑی ہی دیر میں ایسا تاریخ ساز معرکہ بپا ہونے والا تھا جس پر دنیا بھر کے مستقبل کا انحصار تھا۔
پوئیٹیرز کے اس تاریخی میدانِ کارزار سے چند میل دور حکومتِ فرانس نے امریکہ کے ڈزنی ورلڈ کی طرز پر فیوچروسکوپ یا مستقبل نما بنایا ہے۔ اس کے اندر کسی قسم کی جدتیں رکھی گئی ہیں۔ ان میں تھری ڈی سینما سب سے زیادہ مقبول ہے۔ ایک قسم کی تھری ڈی فلم میں زمین پر لاکھوں برس بعد رونما ہونے والی حیاتیاتی اور جغرافیائی تبدیلیوں کی بے حد دل چسپ انداز میں عکاسی کی گئی ہے۔ دیکھنے والے کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ اس فرضی ماحول کے اندر پہنچ گیا ہے۔
اسی مستقبل نما کے اندر میں نے سوچا کہ اگر یہاں کوئی ماضی نما بھی ہوتا تو کتنا اچھا ہوتا کہ انسان کم از کم اس علاقے میں پیش آنے والے اہم واقعات ہی کو دیکھ لیتا۔ تاہم کتابیں اسی قسم کے ماضی بین آلے کا کام سرانجام دیتی ہیں جن کی مدد سے ہم تیرہ صدیوں کی گرد کی موٹی تہہ صاف کرکے کچھ دھندلی دھندلی تصویریں اخذ کرکے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 25 اکتوبر 732ء کو یکم رمضان کے دن وہاں کیا معرکہ پیش آیا ہوگا۔
مسلمان فوج نے بھرپور حملہ شروع کر دیا، لیکن مارٹل کے دو دھاری کلہاڑی بردار فوجی اپنی مربع رومی ترتیب میں ڈھال سے ڈھال ملائے میدان میں ڈٹے رہے۔ جوں ہی گھڑ سوار یلغار کرکے صفیں توڑنے کی کوشش کرتے، فرانسیسی دوبارہ اپنی ترتیب برقرار کر لیتے۔ 754ء میں قرطبہ میں لکھی جانے والی ایک کتاب کے مطابق فرانسیسی سپاہ برف کی سلوں کی مانند ایستادہ رہیں جو کسی طرح پگھلنے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔
732ء میں پیغمبرِ اسلام کے وصال کے ٹھیک ایک سو برس کے اندر اندر مسلمان دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور بن چکے تھے۔ اموی خلافت دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی متصل سلطنت بن چکی تھی۔ ہسپانیہ میں بھی قدم جمائے انھیں 21 برس گزر چکے تھے۔ اس تمام عرصے میں کی جانے والی فتوحات میں مسلمان فوج کی تعداد حیرت انگیز طور پر کم ہوا کرتی تھی۔ فوج کا بیشتر حصہ شہ سواروں پر مبنی ہوتا، جو برق رفتاری سے منزلوں مار کر غنیم کو ششدر کر دیا کرتا تھا۔
سوار کے مقابلے پر پیادہ سپاہی کی کچھ زیادہ حیثیت نہیں ہوتی۔ ایک تو سوار زمین سے دو ڈھائی گز بلندی سے حملہ آور ہوتا ہے، پھر اس کے نیزے یا تلوار کی کاٹ میں گھوڑے کی رفتار کا مومینٹم بھی شامل ہوتا ہے اور اگر وار خالی بھی جائے تو وہ گھوڑے کو ایڑ لگا کر پیادے کی زد سے دور جا کر دوبارہ دھاوا بول سکتا ہے۔
لیکن مارٹل یہ ساری باتیں اچھی طرح سے جانتا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ منتشر پیادہ فوج گھڑسواروں کے مقابلے پر گاجر مولی کی طرح کٹ جائے گی۔ لیکن اگر یہی پیادہ فوجی نظم و ضبط کے ساتھ اکائی کی طرح میدان میں ڈٹ جائیں، تو بڑے سے بڑے شہ سوار لشکر کو بھی جوکھم میں ڈال سکتے ہیں۔ مارٹل کی فوج لگاتار دو عشروں سے حالتِ جنگ میں تھی۔ اس کے تجربہ کار فوجیوں نے رومیوں کی ایجاد کردہ ایک ہزار سال پرانی جنگی تشکیلات کو نئی زندگی دی تھی۔ ہر سپاہی کے پاس بھاری لکڑی کی مضبوط ڈھال تھی، جس پر تلوار، تیر یا نیزہ بے اثر تھے۔ سر پر مخروطی خود تھا جس کی ایک آہنی دھار اوپری ہونٹ تک آتی تھی، مقصد یہ تھا کہ ناک تلوار کے وار سے بچی رہے۔ لیکن اس فوج کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا زبردست نظم و ضبط تھا۔
مارٹل کی فوج رن میں یوں ڈٹی رہی کہ عرب شہ سواروں کو اس کے اندر گھسنے کے لیے کوئی رخنہ، کوئی درز نہیں مل رہی تھی۔ مسلم گھڑ سوار بار بار یلغار کرتے، لیکن ہر بار فرنجی سپاہی انھیں یوں پسپا ہونے پر مجبور کر دیتے جیسے سمندر کی پرشور لہریں سنگلاخ ساحل سے سر پٹک کر رہ جاتی ہیں۔
ایک دو دفعہ مسلم دستے برف کی سل کو کاٹ کر مربع کے اندر بھی پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن مارٹل کے سپاہیوں نے ہر بار دائیں بائیں سے بڑھ کر دراڑ کو پر کر دیا اور صورتِ حال جوں کی توں رہی۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ فرنجیوں کا مثالی نظم و نسق مسلم شہ سواروں کے بے پایاں جوش و خروش کا کہاں تک مقابلہ کرتا، لیکن اس موقعے پر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے جنگ کا نقشہ پلٹ کر رکھ دیا۔ گھمسان کے رن کے دوران موقع بھانپ کر چارلز کے حلیف ڈیوک آف یوڈز نے گھڑسواروں کے مختصر رسالے کے ساتھ مسلمان فوج کے عقب پر دھاوا بول دیا۔ پوئیٹیرز کے آس پاس کا علاقہ یوڈز کی عمل داری میں آتا تھا اس لیے اسے مقامی جغرافیے کا بہتر علم تھا، اسی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے ایسے رخ سے حملہ کیا جہاں سے مسلم فوج کی اس کی توقع نہیں تھی۔
مسلمانوں نے فرانس کے وسط تک پہنچتے پہنچتے کئی شہر فتح کیے تھے اور ان فتوحات کا مالِ غنیمت لشکرکے عقب میں جمع تھا۔ یہیں خیموں میں فوجیوں کی بیویاں اور بچے بھی تھے۔ جب برسرِ پیکار مسلم سپاہیوں میں یہ افواہ پھیلی کہ دشمن نے عقب پر حملہ کر دیا ہے تو ان میں سراسیمگی پھیل گئی۔ کئی دستے اپنی ترتیب توڑ کو عقب کی طرف بھاگے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ مالِ غنیمت بڑی حد تک سلامت ہے لیکن اسی افراتفری کا فائدہ اٹھا کر چارلز اور اس کے اتحادیوں نے اپنی دفاعی تشکیل چھوڑ کر پوری شدت سے دھاوا بول دیا۔
الغافقی نے دستوں کے انتشار سے پریشان ہو کر جو پلٹنے کی کوشش کی تو فرانسیسی سپاہیوں کے نرغے میں آ گیا۔ الغافقی تجربہ کار جرنیل تھا اور زرہ بکتر میں لپٹا ہوا تھا، لیکن بدقسمتی سے دشمن کے نیزے کے وار سے اس کا گھوڑا گر گیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے مسلم فوج کا سپہ سالار دلیری سے لڑتے ہوئے میدان میں کام آ گیا۔ اس کی ہلاکت کی خبر نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور مسلمان فوجیوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ لیکن اسی اثنا میں رات کا اندھیرا پھیل گیا اور جنگ دوسرے دن کے لیے موقوف کر دی گئی۔
صبح سویرے چارلز مارٹل نے اٹھ کر مسلم خیموں کی طرف دیکھا تو اس کا دل ڈوبنے لگا، افق پر جہاں تک نظر جاتی تھی، مسلم سپاہیوں کے سیاہ خیمے نصب تھے۔ چارلز خوب سمجھتا تھا کہ کل کی فتح عارضی تھی اور مسلمان آج زخمی شیر کی طرح لڑیں گے۔
سورج افق سے بالشت بھر اوپر آ گیا، لیکن مسلم خیام سے کوئی حرکت تو کجا، کسی قسم کی آواز تک نہیں آ رہی تھی۔ نہ گھوڑوں یا باربرداری کے جانوروں کی ہنہناہٹ، نہ صدائے اذاں، نہ عربی، بربر، فارسی یا قشتالی زبان میں کسی سپاہی کے بولنے کی آواز، کچھ بھی نہیں۔ چارلز مارٹل کا ماتھا ٹھنکا۔ یقیناً یہ کوئی چال ہے۔ جوں ہی اس کی فوج ڈھلوان اور جنگل کی پناہ چھوڑے گی، عرب فوج اس پر ٹوٹ پڑے گی۔ اس نے چند مخبر بھجوا کر جائزہ لینا چاہا۔ کیا خبر مسلم فوج دریا کے دوسرے کنارے پر درختوں کی آڑ میں گھات لگائے بیٹھی ہو۔ مخبروں نے دور دور کا علاقہ چھان مارا، اونچے درختوں اور ٹیلوں پر چڑھ کر دیکھ لیا۔
مسلم فوج رات کی تاریکی میں اپنا مالِ غنیمت اٹھا کر پسپائی اختیار کر چکی تھی۔ برف کی سلوں نے عرب کشور کشائی کے شعلوں کو بجھا دیا تھا۔
چارلز کا خدشہ درست تھا، یہ واقعی شاطرانہ چال تھی، جو بے حد کارگر ثابت ہوئی۔ چال یہ تھی کہ کھڑے خیمے دیکھ کر عیسائی فوج انتظار کرے گی اور اموی فوج کو آسانی سے دور نکلنے کا موقع مل جائے گا۔
تاریخ دان پیغمبرِ معکوس ہوتا ہے اور مستقبل کے بجائے ماضی کے بارے میں پیش گوئیاں کرتاہے۔ ایسے ہی چند تاریخ دانوں نے الغافقی کی کئی مہلک غلطیوں کی نشان دہی کی ہے۔ ایک تو یہ کہ اس نے اپنے دشمن کی طاقت کا اندازہ لگانے یا اس کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کی زحمت نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ چارلز مارٹل اپنی مرضی کا میدانِ جنگ منتخب کرنے میں کامیاب ہوگیا اور تو اور، الغافقی کو اپنے مدِ مقابل عیسائی سپاہ سالار کا نام تک معلوم نہیں تھا۔
ایک اور بڑی غلطی اس نے یہ کی کہ اپنی فوجی برتری کے زعم میں اس نے آزمودہ روایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس نے اپنا نائب مقرر نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے قتل کی رات جب مسلم سرداروں کا اجلاس ہوا تو اس میں عربوں، شامیوں، بربروں اور اندلسیوں میں نئے سپہ سالار کے انتخاب کے مسئلے پر اس قدر اختلافات کھل کر سامنے آ گئے کہ خود مسلم فوج کے مختلف دھڑوں میں تلوار سونتنے کی نوبت آتے آتے بچی۔ چناں چہ ایسے حالات میں انھوں نے یہی مناسب سمجھا کہ اب تک جو مالِ غنیمت مل چکا ہے، اسی اکتفا کرتے ہوئے واپسی کا راستا اختیار کر لیا جائے۔
جدید و قدیم تاریخ دانوں کی اکثریت اس پسپائی کو تاریخ کا عظیم فیصلہ کن لمحہ سمجھتی ہے۔ مسلمان مورخ اسے معرکہٴ بلاط الشہدا کہتے ہیں۔ بلاط کا مطلب ہے پختہ فرش اور اس سے مراد وہ رومی شاہراہ ہے جس پر یہ جنگ لڑی گئی۔ اس شاہراہ پر کتنے مسلمان فوجیوں کا خون بہا، اس کے بارے میں وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ تاہم جدید مؤرخین کا خیال ہے کہ اس جنگ میں ان کی ایک تہائی تعداد میدان میں کھیت رہی۔
مغربی مفکروں میں گبن کا اقتباس آپ اوپر پڑھ چکے ہیں۔ بیلجیئم کے مورخ گوڈرفروئڈ کرتھ کا خیال ہے کہ اس جنگ کو لازماً تاریخ ساز واقعات میں سے ایک قرار دینا ہوگا، یہ وہ جنگ تھی جس پر اس بات کا انحصار تھا کہ آیا یورپ عیسائی رہے یا اسلام تمام براعظم میں سرایت کر جائے۔ جرمن فوجی مورخ ہانز ڈیلبروک کہتے ہیں کہ تمام دنیا کی تاریخ میں اس سے زیادہ اہم جنگ نہیں لڑی گئی اور تو اور ہٹلر تک نے خیال آرائی کی ہے کہ اگر مارٹل کو شکست ہو جاتی تو یورپ کا مذہب اسلام ہوتا۔
اس جنگ کے بعد چارلز مارٹل کو موقع مل گیا کہ وہ ایک طاقتور فرانسیسی سلطنت کی بنیاد رکھ سکے۔ یہی سلطنت مارٹل کے پوتے شارلمین کو ورثے ملی جسے اس نے جِلا بخش کر یورپ کی شان دار ترین سلطنتوں میں سے ایک بنا ڈالا۔
تاہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ تمام مغربی دانش ور اس جنگ کے مدح سرا ہیں۔ مذہب اور قومیت کی جذباتی حدیں پھلانگ کر ان محققین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اگر اس دن عبدالرحمٰن الغافقی کی فوجیں مارٹل کی شاطرانہ چالوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جاتیں تو تمام کا تمام مغرب صحیح معنوں میں عالم گیر ثقافت کا حصہ بن جاتا۔ ایسا مغرب جو کم از کم پانچ صدیوں بعد تک گھٹا ٹوپ اندھیرے میں غرق رہا، وہ بہت پہلے علم و دانش کی کرنوں سے منور ہو جاتا۔
موجود دور کے مشہور تاریخ دان ڈیوڈ لیورنگ لیوس اپنی کتاب گاڈز کرُوسیبل، (خداوندی کٹھالی) میں بڑے تاسف سے لکھا ہے فرانس میں مسلمانوں کی شکست معاشی طور پر پسماندہ، ایک دوسرے سے گتھم گتھا اور برادر کش یورپ کی تخلیق کا باعث بنی۔۔ ایسا یورپ جس کی نمایاں خصوصیات موروثی جاگیرداری، مذہبی عدم رواداری، تفرقہ پرستی اور مسلسل جنگ تھیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں سلطنتِ رومہ کے زوال کے بعد یہ انسانی تاریخ کا عظیم ترین زیاں ہے۔۔
فرانسیسی محققین ژاں دیووس اور ژاں ہنری روئے نے مسلم فتح سے یورپ کو پہنچنے والے ممکنہ ثمرات کا تخمینہ پیش کیا ہے: فلکیات، ٹرگنومیٹری، عربی ہندسے، یونانی فلسفہ۔ ان دونوں ماہرین نے حساب لگایا ہے کہ اگر اس دن عرب بالادست رہتے تو آج یورپ 267 برس زیادہ ترقی یافتہ ہوتا۔
ظاہر ہے کہ یورپ میں یہ ساری چیزیں پہنچیں ضرور لیکن تھوڑی تاخیر سے۔

