Log Mojzati Tehreerain Kyun Pasand Karte Hain?
لوگ معجزاتی تحریریں کیوں پسند کرتے ہیں

چند دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک تحریر وائرل ہے۔ ایک برین سرجن کی تحریر، ایک ناممکن رسولی، ایک اکیلی ماں اور آپریشن تھیٹر میں وہ لمحہ جب سرجن کے ہاتھ خود بخود چلنے لگتے ہیں۔ یہ تحریر پڑھ کہ آنکھیں بھر آتی ہیں۔ انگوٹھا شیئر کے بٹن کی طرف خود بخود بڑھنے لگتا ہے۔ مجھے بھی یہ تحریر بھیجی گئی۔ اعتراف یہ ہے کہ پہلی بار پڑھتے ہوئے میرا بھی دل بھر آیا تھا۔ شک دوسری بار پڑھنے پر ہوا۔
پہلے ایک محتاط رائے محفوظ کرلیجیئے کیونکہ کیڑے نکالنا آسان ہے اور دیانت داری سے پیش آنا مشکل۔ میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ تحریر کس نے لکھی اور کس نیت سے لکھی مگر تحریر خود گواہی دیتی ہے کہ اُس کی جذباتی ساخت حد سے زیادہ درست ہے۔ چھبیس سالہ اکیلی ماں، ڈبل شفٹ، یتیم بچی، پرانے جوتے، ویٹنگ روم میں رنگ بھرتی کتاب۔ یہ تفصیلات معلومات نہیں دیتیں، صرف نشانہ لگاتی ہیں۔ تحریر کے طبی مناظر کلینک کے نہیں، سنیما کے ہیں۔ خون کا چھت تک اُڑنا اور دماغ کے تنے سے سات گھنٹے کی جنگ کے بعد مریضہ کا ایک ہفتے میں چل نکلنا۔ تحریر میں جس عالمی فیڈریشن کا حوالہ دیا گیا ہے اُس نام کا ادارہ ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ سب سے زیادہ کھٹکنے والا جملہ وہی ہے جو سب سے زیادہ دل کو لگتا ہے "میں جانتا تھا اُس دن لیڈ سرجن کون تھا"۔ کہانی ٹھیک وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے تصدیق شروع ہو سکتی تھی۔
خیر یہ مضمون اُس تحریر کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ اُس سوال کے بارے میں ہے جس نے مجھے ایک وقت تک جگائے رکھا کہ اگر کہانی جھوٹی ہو مگر نیت اچھی ہو تو نقصان آخر کس کا ہوتا ہے؟
پہلی بات یہ کہ ایسی تحریروں پر یقین کرنے والے بے وقوف نہیں ہوتے۔ وہ محو ہوتے ہیں۔ سن دوہزار میں Melanie Green اور Timothy Brock نے اُس کیفیت کا اثر ماپا جسے وہ narrative transportation کہتے ہیں، یعنی کہانی میں پوری طرح منتقل ہو جانا۔ ان ریسرچر کا ماننا تھا کہ قاری جتنا زیادہ کہانی میں ڈوبا ہوا تھا، اُس نے کہانی کے جھول اُتنے ہی کم پکڑے اور کہانی کو "سچی" یا "افسانہ" کہہ کر پیش کرنے سے اُس کے عقیدے پر خاص فرق نہ پڑا۔ یعنی جس لمحے آنکھ نم ہوتی ہے، اُسی لمحے دماغ کا پہرہ سو جاتا ہے۔ آپ کا پڑھا لکھا ہونا بھی تحفظ نہیں دیتا۔ لوگ درست معلومات رکھتے ہوئے بھی اُس بات کو سچ مان لیتے ہیں جو ذہن میں روانی سے اترے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پوسٹ ڈاکٹروں، اساتذہ اور پروفیسروں نے بھی آگے بھیجی اور بات پھیلتی وہی ہے جو زیادہ حیران کرے۔
دو ہزار اٹھارہ میں Vosoughi، Roy اور Aral نے Science میں گیارہ برس کے ٹوئٹر ڈیٹا کا تجزیہ شائع کیا۔ وہ کہتے ہیں۔ جھوٹی خبر سچی خبر سے زیادہ دور، زیادہ تیز اور زیادہ گہرائی تک پھیلی۔ اس میں ذمہ دار صرف الگورتھم نہیں تھا، ہم تھے۔ وجہ سادہ ہے کہ سچ کو حقیقت کا پابند رہنا پڑتا ہے جبکہ جھوٹ آزاد ہے۔ اِسی لیے جھوٹ ہمیشہ زیادہ خوبصورت کہانی بنا سکتا ہے۔
اب سب سے حساس حصے کی طرف آئیے۔ وہ لمحہ جب سرجن کو لگتا ہے کوئی عین اُس کے پیچھے کھڑا ہے اور اُس کے ہاتھ چلا رہا ہے۔ یہاں دو چیزیں الگ رکھنی ہوں گی: تجربہ اور تجربے کی تعبیر۔
تجربہ سچ مچ ہوتا ہے اور اُس کا ایک نام ہے: feeling of a presence. دوہزار چھ میں Nature میں Shahar Arzy اور Olaf Blanke کی ٹیم نے مرگی کی ایک مریضہ کے دماغ کے بائیں temporoparietal junction پر ہلکی برقی تحریک دی۔ ہر بار مریضہ نے بتایا کہ کوئی شخص عین اُس کے پیچھے کھڑا ہے، اُس کے جسم کی حرکتوں کی نقل کرتا ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی وہاں نہیں تھا۔ اِس بات سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کو اُس کیفیت کا محسوس ہونا بذاتِ خود کسی معجزے کا ثبوت نہیں، کیونکہ دماغ ایسا احساس خود بھی پیدا کر سکتا ہے۔ سرجن کا احساس سچا ہو سکتا ہے۔ اُس احساس سے نکالا گیا نتیجہ اُس کا اپنا اضافہ ہے۔ یہی بات اس مضمون کا اصل پیغام ہے۔
دین ہمیں تصدیق سے منع نہیں کرتا، تصدیق کا حکم دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے "یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمۡ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا": اے ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو اور صحیح مسلم کے مقدمے میں وہ جملہ موجود ہے جو ہر فارورڈ سے پہلے یاد آنا چاہیے۔ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔ تصدیق کوئی نئی چیز یا سیکولر عادت نہیں۔ وہ ہمارے ہاں پہلے سے موجود تھی۔
اب اُس سوال کی طرف جو میں نے شروع میں چھوڑا تھا۔ نقصان کس کا ہوتا ہے؟
بائیس اپریل دوہزار انیس کا دن ہے۔ پشاور کا نواحی گاؤں ماشوخیل۔ ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک شخص بچوں کو ہدایت دے رہا تھا کہ ہسپتال کے بستر پر لیٹ کر بے ہوشی کی اداکاری کریں اور پھر وہی شخص کیمرے کے سامنے روتا ہے کہ پولیو کے قطروں نے بچوں کو مار ڈالا ہے۔ چوبیس گھنٹوں کے اندر پشاور کے تین بڑے ہسپتالوں میں تقریباً پچیس ہزار بچے لائے گئے۔ ہجوم نے ایک بنیادی مرکزِ صحت کو آگ لگا دی۔ مہم روک دی گئی۔ تحقیقات ہوئی تو ویڈیو کا ڈرامہ سامنے آیا۔ سب جھوٹ تھا۔ مگر خوف سچا تھا، آگ سچی تھی اور جو بچے اُن دنوں قطروں سے محروم رہ گئے، اُن کا خطرہ آج بھی سچ ہے۔ کلینک میں یہی قیمت زیادہ خاموشی سے وصول ہوتی ہے۔ جب سامنے دو راستے ہوں، ایک لمبا اور مشکل علاج اور ایک وہ کہانی جس میں ہاتھ خود بخود چلنے لگتے ہیں تو دل ہمیشہ دوسرے کی طرف جھکتا ہے۔ معجزے کا انتظار سہانا لگتا ہے مگر معجزے آج کے دور میں وقت پر ادا ہوتے ہیں اور کئی بیماریوں میں وقت ہی سب سے مہنگی چیز ہے۔
تو آخر کیا کریں؟ حل بہت سادہ ہے۔ Gordon Pennycook اور ان کے ساتھیوں نے Nature میں دکھایا کہ لوگ جھوٹ اکثر اِس لیے شیئر نہیں کرتے کہ وہ اُسے سچ سمجھتے ہیں، بلکہ اِس لیے کہ شیئر کرتے وقت اُن کا دھیان سچائی پر ہوتا ہی نہیں۔ دھیان اُس داد پر ہوتا ہے جو ملے گی۔ مگر جب لوگوں سے صرف اتنا پوچھ لیا گیا کہ کیا یہ خبر درست ہے، اُن کے بعد کے شیئر کیے ہوئے مواد کا معیار بہتر ہوگیا۔ ایک سادہ سے سوال نے سب کچھ بدل دیا۔
پس آج کے بعد احتیاط کریں۔ پوچھیں کیا اِس ڈاکٹر یا ادارے کا نام کہیں اور بھی ملتا ہے؟ کیا اس بات یا تحریر کا کوئی اصل ماخذ ہے، یا صرف ایک اسکرین شاٹ؟ اور کیا یہ تحریر مجھ سے کچھ مانگ رہی ہے، یا صرف مجھے اچھا محسوس کرا رہی ہے؟ سچی خبر اکثر کچھ مانگتی ہے۔ گھڑی ہوئی کہانی صرف تالی مانگتی ہے اور معجزوں کا نقصان؟ نقصان اُس ماں کا ہوتا ہے جو اصل علاج ملتوی کرکے معجزے کی قطار میں لگ جاتی ہے۔ اُس ڈاکٹر کا، جس کی سچی، بے آواز محنت اِن رنگین کہانیوں کے سامنے پھیکی لگنے لگتی ہے اور سب سے بڑھ کر خود اُس یقین کا، جسے ہم نے ایک ایسی کشتی میں بٹھا دیا جو ڈوبنے کے لیے بنی تھی۔ جو ایمان جھوٹی کہانی سے تازہ ہوتا ہے، وہ سچ کھلنے کے دن اُسی کہانی کے ساتھ ڈوبتا بھی ہے۔ سچائی کو ہماری داد نہیں، ہماری تصدیق چاہیے۔

