Saturday, 18 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Azhar Hussain Azmi
  4. Main Ne Jannat To Nahi Dekhi Hai Maa Dekhi Hai

Main Ne Jannat To Nahi Dekhi Hai Maa Dekhi Hai

میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

ماں جیسے عظیم و مقدس رشتے کو آپ کسی شہر، قصبے یا گاوں میں نہیں بانٹ سکتے۔ ماں تو اول و آخر ماں ہے۔ اولاد کے لیے سعی (کوشش) اس کی سرشت میں ہے۔ ماں جیسا کوئی ہے نہ ہو سکتا ہے۔ پروردگار عالم نے اپنے کتنے ہی اوصاف ماں کو عطا کر دیئے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ مخلوق سے اپنی محبت کا پیمانہ بھی ماں کو بنایا ہے۔ پروردگار عالم ستر ماوں سے زیادہ ہم سے محبت کرتے ہیں۔

انسان کے تمام اچھے اعمال کے نتیجے میں ملنے والے صلے "جنت" کو ماں کے پیروں تلے رکھ دیا گیا۔ پروردگار چاھتا تو پیروں کے اوپر رکھ دیتا۔ ہاتھ یا ماتھے پر رکھ دیتا۔ پرودگار نے اولاد کو ماں کا مقام بتا دیا۔ وہ جنت جس کے لئے تم لاکھ جتن کرتے ہو۔ وہ ماں کے پیروں کے نیچے ہے۔ جنت حاصل کرنا کتنا مشکل تھا اگر ماں نہ ہوتی۔

ماں پر بہت لکھا گیا ہے اور جتنا لکھا گیا ہے اتنا ہی کم لکھا گیا ہے۔ ماں پر بڑھاپا آجائے تو اس کا مزاج بچوں جیسا ہو جاتا ہے۔ ایک ایک بات کو بار بار دھرانا۔ کسی ایک بات ہر بتائے بغیر خفا ہوجانا۔ ہر بات میں جلدی کرنا۔ بیٹھے بیٹھے اداس یا خوش ہوجانا، اپنی کہی بات کہہ کر بھول جانا اور اس ہر یہ کہنا کہ میں بھولتی کچھ نہیں، ہزار بار کے سنائے قصے سنانا۔ خاندان اور محلے میں کسی کا انتقال یو جائے تو اس غمگین کیفیت کے ساتھ بتانا جیسے اللہ نہ کرے گھر میں کچھ ہوگیا ہو۔

بڑھاپا جسم و دماغ پر آتا مگر یہ بھی کتنی عجیب ہے اس کی محبت کا جذبہ کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتا جاتا ہے۔ کبھی کہیں نہ جانے پر اصرار اور کبھی ایسا کہ کسی کے ہاں جانا ہو تو وقت سے پہلے تیار۔ ایک دن ماں کے پاس نہ بیٹھو اور اگر دور رہتے ہو اور ان سے ملنے نہ جاو تو محبت بھرے رقت آمیز گلے شکوے۔

ماں: بیٹا تم تو ہمیں بھول ہی گئے۔ کب سے شکل نہیں دکھائی۔ میں نے عدیل (چھوٹا بیٹا) سے کہا تھا ذرا فون تو کرو۔ وہ نہیں آتے نہ آئیں مگر ہم تو پوچھ لیں۔۔ کیسے ہیں؟

آپ: امی پرسوں رات ہی تو آیا تھا۔

ماں: ہاں تم گئے ہو اور رات ایسی طبیعت خراب ہوئی ہے کہ پوچھو مت۔ وہی ٹانگوں کا درد۔ جب سے بستر پر پڑی ہوں اور اٹھی نہیں۔

آپ: دوا تو کھا رہی ہیں آپ؟

ماں: ارے یہ دوا شوا اب کسی کام کی نہیں۔ بس تم آجایا کرو۔ میں سمجھوں گی دوا کھا لی۔

آپ: وہ اصل میں کل آجاتا۔ شاہ زیب کو رات سے بہت تیز بخار ہے۔ دفتر سے آٹے ہی اسے ڈاکٹر کے لے گیا تھا۔

ماں: میرے شزو کو بخار ہے اور مجھے پتہ ہی نہیں۔ بہونے بھی فون نہ کیا۔ ذرا میری بات کراو۔

آپ کال ملا کر دیتے ہیں۔

ماں: ہللو۔۔ میں بات کر رہی ہوں۔ ہاں وہ شزو کیسا ہے؟ بخار آ گیا ہے۔ تم نے بتایا ہی نہیں۔

بہو: وہ امی۔۔ ہاں۔۔ بس گلا ٹھسا ہوا ہے۔ ہورے سینے میں جکڑن ہے اسی لیے بخار آگیا۔ ڈاکٹر کو دکھا دیا ہے۔

ماں: اچھا ذرا میری اس سے بات تو کراو۔

ماں: ہللو۔۔ میرے شزو کو بخار آگیا۔

پوتا: دددا۔۔ امی مجھے ناں۔ کھانا نہیں دے رہی ہیں۔ آپ آجائیں۔

ماں: بخار میں کھانا نہیں کھاتے۔ جب بخار اترے گا تو جو کہے گا کھا لینا۔ میں تجھے خود بنا کر دوں گی۔

پوتا: نہیں ناں۔ مجھے ابھی کھانا ہے۔۔ زنگر برگر

ماں: یہ نگوڑ مارا زنگر ٹنگر نہ نکلے تیرے دماغ سے

پوتا: دددا آپ آجائیں ناں۔

ماں: بس سمجھ میں ابھی آئی پر زنگر ٹنگر نہ دینے کی

موبائل بیٹے کو دیتے ہی دوسری بہو کو آواز دی جاتی ہے: ارے شہناز ذرا میری چادر تو لے آئے۔

آپ: (حیرت سے) چادر کیوں؟

ماں: تیرے ساتھ تیرے گھر جو چل رہی ہوں۔

آپ: کیا ہوگیا ہے؟ چلا آپ سے جا نہیں رہا۔ دوسری منزل تک سیڑھیاں کیسے چڑھیں گی۔

شہناز چادر لے آتی ہے۔ بیٹھے بیٹھے چادر اوڑھتی ہیں۔ شہناز بھی حیران ہے اور جیٹھ سے پوچھتی ہے: بھائی امی کہاں جارہی ہیں۔ ان سے تو واش روم جانا دوبھر ہے۔

آپ: ارے میں نے کب کہا۔ بس انہوں نے شاہ زیب سے بات کی ہے۔ ہلکا سا بخار ہے۔ گھر جانے کا کہہ رہی ہیں۔

ماں کا رعب سامنے آ گیا: ارے تیرے کہنے سے کیا ہوتا ہے۔ اب تو مجھے بتائے گا کہ مجھے شزو کے پاس جانا ہے کہ نہیں۔

آپ: امی۔۔ وہ۔۔ آپ۔۔ سمجھ نہیں رہی ہیں۔

ماں: سب سمجھ رہی ہوں۔ چڑھ جاوں گی تیری سیڑھیاں۔ کیس پہلے نہیں چڑھی۔۔ چل!

اور کسی ایک نہ چلی۔ ماں چل دی۔

ماں یونہی تو ماں نہیں ہوتی۔ وہ اس عمر میں پوتے کی ایک آواز پر جا رہی ہے اور ہم ہیں کہ کوئی معمولی سا کام پڑ جائے تو سوچتے ہیں ماں سے کل مل لیں گے۔ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ وہ آپ کے آنے کے وقت سے بہت پہلے آپ کا انتظار شروع کر دیتی ہے۔ آپ نہیں آتے تو اس پر کیا گزرتی ہے۔ ماں کو اول رکھیں کیونکہ اس کے بغیر آپ نہ مکمل ہیں۔

چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

(منور رانا)

اور جب ماں دنیا میں نہیں ہوتی ہے تو آپ سب کے ہوتے ہوئے بھی اکیلے ہوتے ہیں۔ ایک ایسا اکیلا پن جس کو رات کی تنہا سسکیاں اور آنکھوں میں نوحہ کناں نمی محسوس کرتی ہے۔ صبح گھر سے نکلتے ہوئے نظروں سے صدقے اتارتی اور زیر لب دعائیں کرتی ماں کا حصار نہ جانے دن بھر آپ کو کتنی مصیبتوں اور پریشانیوں سے بچاتا ہے۔ حضرت موسیؑ کلیم اللہ تھے۔ کوہ طور پر خدائے بزرگ و برتر سے ہم کلام یوتے تھے۔ جب آپ والدہ کی رحلت کے بعد کوہ طور گئے تو غیب سے آواز آئی: اے موسی (علیہ السلام) ذرا سنبھل کر اب تمھارے لیے دعا کرنے والے لب خاموش ہوچکے ہیں۔

"ماں سے ملیں کیونکہ ماں دوبارہ نہیں ملے گی"

About Azhar Hussain Azmi

Azhar Azmi is associated with advertising by profession. Azhar Azmi, who has a vast experience, has produced several popular TV campaigns. In the 90s, he used to write in newspapers on politics and other topics. Dramas for TV channels have also been written by him. For the last 7 years, he is very popular among readers for his humorous articles on social media. In this regard, Azhar Azmi's first book is being published soon.

Check Also

Mushkil Ki Ghari

By Shahid Mehmood