Saturday, 18 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Amer Abbas
  4. Zindagi Naslon Ke Tasalsul Ka Naam Hai

Zindagi Naslon Ke Tasalsul Ka Naam Hai

زندگی نسلوں کے تسلسل کا نام ہے

آج ایک خاتون علینہ شیخ کا انٹرویو سننے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا کہ ان کی شادی کو آٹھ سال ہو چکے ہیں مگر فی الحال ان کا کوئی بچہ پیدا کرنے کا ارادہ نہیں۔ ان کے بقول وہ زندگی میں بہت کچھ حاصل کرنا چاہتی ہیں، بہت سے خواب پورے کرنا چاہتی ہیں اس لیے ابھی وہ بچے کی ذمہ داری نہیں اٹھا سکتیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ اس خاتون کی اپنی ذاتی زندگی کے متعلق اپنی رائے ہے میں اسکی رائے کا احترام کرتا ہوں مگر میرے کچھ اعتراضات بھی ہے جن کا یہاں بیان کیا جانا ضروری ہے کیونکہ اس خاتون کے انٹرویو نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اس پر بات کرنا اب لازم ہوگیا ہے۔ خاتون کے یہ چند جملے سن کر دل میں کئی سوالات نے سر اٹھایا جن کو ڈسکس کیا جانا ضروری ہے۔

زمانہ بدل گیا ہے۔ ترجیحات بدل گئی ہیں۔ کامیابی کے معنی بدل گئے ہیں۔ کبھی انسان اپنی اولاد میں اپنا مستقبل دیکھتا تھا، آج وہ اپنے مستقبل میں اولاد کے لیے جگہ نکالنے سے ہچکچاتا ہے۔ کبھی گھر کی رونق بچوں کی ہنسی سے ہوا کرتی تھی، آج کامیابی کی تعریف بینک بیلنس، شہرت، سوشل میڈیا فالوورز اور پیشہ ورانہ کامیابیوں سے کی جاتی ہے۔

بلاشبہ ہر انسان کو اپنے فیصلوں کا حق حاصل ہے۔ اسلام بھی انسان کو عقل، تدبر اور اختیار عطا کرتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ زندگی کی بعض نعمتیں ایسی ہیں جن کی قیمت کا اندازہ اس وقت نہیں ہوتا جب وہ ہمارے پاس موجود ہوں بلکہ اس وقت ہوتا ہے جب وقت ہمارے ہاتھوں سے پھسل چکا ہوتا ہے۔

یہ دنیا بڑی عجیب ہے۔ جوانی میں انسان وقت کے پیچھے بھاگتا ہے اور بڑھاپے میں وقت کو واپس بلاتا ہے۔ جوانی میں انسان آزادی چاہتا ہے اور عمر ڈھلنے پر اپنائیت کی تلاش میں رہتا ہے۔ جوانی میں شور سے بھاگتا ہے اور بڑھاپے میں گھر کی خاموشی اسے کاٹنے لگتی ہے۔

پاکستانی معاشرے کی ایک خوبصورتی یہ بھی رہی ہے کہ یہاں خاندان صرف چند افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ نسلوں کا تسلسل سمجھا جاتا ہے۔ یہاں دادا کی مسکراہٹ پوتے سے جڑی ہوتی ہے، نانی کی دعائیں نواسی کے نام سے وابستہ ہوتی ہیں اور ماں کی گود میں پلنے والا بچہ پورے خاندان کی امید بن جاتا ہے۔ ہماری روایات میں اولاد صرف ایک ذمہ داری نہیں بلکہ محبت، دعا، تسلسل اور بقا کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

اسلام کی تعلیمات پر نظر ڈالیں تو اولاد کو محض ایک سماجی ضرورت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں اولاد کو "زینت" کہا گیا ہے۔ انبیاء کرامؑ نے اولاد کے لیے دعائیں کیں۔ حضرت زکریاؑ نے بڑھاپے میں بھی اولاد کی تمنا کی اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولاد محض ایک حیاتیاتی حقیقت نہیں بلکہ ایک روحانی نعمت بھی ہے۔

یقیناً ہر انسان کے حالات مختلف ہوتے ہیں اور کسی کے ذاتی فیصلے پر فتویٰ لگانا یا اس کی نیت کا فیصلہ کرنا درست نہیں لیکن ایک اجتماعی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم کامیابی کے تعاقب میں زندگی کے اصل حسن کو کہیں پیچھے تو نہیں چھوڑ رہے؟ کیا ہم اس دوڑ میں اتنے مصروف ہو چکے ہیں کہ ان رشتوں کی اہمیت بھولتے جا رہے ہیں جو انسان کو انسان بناتے ہیں؟

دنیا کی ہر کامیابی کی ایک عمر ہوتی ہے۔ شہرت کا سورج بھی ایک دن ڈھل جاتا ہے۔ عہدے ختم ہو جاتے ہیں۔ کاروبار دوسروں کے ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں مگر بعض اوقات ایک بچے کا "امی" یا "ابو" کہہ کر پکارنا ایسی دولت ثابت ہوتا ہے جو زندگی کے آخری لمحے تک انسان کے دل کو گرمائے رکھتی ہے۔

وقت کا پہیہ بہت بے رحم ہے۔ یہ کسی کے خوابوں، منصوبوں اور خواہشوں کا انتظار نہیں کرتا۔ اسی لیے زندگی کے فیصلے کرتے وقت صرف آج کو نہیں، آنے والے کل کو بھی سامنے رکھنا چاہیے کیونکہ بعض اوقات انسان جو چیز آج اپنی مرضی سے مؤخر کرتا ہے، کل وہی چیز اس کی سب سے بڑی حسرت بن جاتی ہے۔

زندگی صرف حاصل کرنے کا نام نہیں، آگے منتقل کرنے کا نام بھی ہے۔ صرف اپنے لیے جینے کا نام نہیں، اپنے بعد آنے والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑ جانے کا نام ہے اور شاید اسی کا نام نسلوں کا تسلسل، خاندان کا استحکام اور انسانیت کی بقا ہے۔

Check Also

Kya Aap Ka Career Aane Walay Maliyati Tufan Ke Liye Tayyar Hai?

By Saleem Zaman