Saturday, 18 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Kya Aap Ka Career Aane Walay Maliyati Tufan Ke Liye Tayyar Hai?

Kya Aap Ka Career Aane Walay Maliyati Tufan Ke Liye Tayyar Hai?

کیا آپ کا کیریئر آنے والے مالیاتی طوفان کے لیے تیار ہے؟

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ چند سالوں بعد روایتی بینکنگ کا سارا نظام بدلنے والا ہے؟ پاکستان سمیت دنیا بھر میں معیشت "سود" سے نکل کر "شرعی اصولوں" کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہی ہے۔ اگر آپ بی کام، ایم کام، یا اکنامکس کے طالب علم ہیں، تو سوال یہ نہیں کہ "کیا ہمیں اسلامک بینکنگ میں تعلیم حاصل کرنی چاہیے؟" بلکہ سوال یہ ہے کہ "اگر آپ نے آج خود کو اس نظام کے لیے تیار نہ کیا، تو کل کی مارکیٹ میں آپ کی جگہ کہاں ہوگی؟"

آئیے، اس بدلتی ہوئی دنیا کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اسلامک بینکنگ اور تکافل کے بنیادی تصورات اور ان کی حقیقت پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

اسلامی بینکاری:

اسلامی بینکاری کا تصور محض ایک مالیاتی متبادل نہیں، بلکہ یہ انسانی تہذیب کی قدیم ترین اقدار اور جدید معاشی تقاضوں کا ایک حسین امتزاج ہے۔ 1963ء میں مصر کے شہر "میت غمر" سے شروع ہونے والا یہ سفر آج ایک 3 ٹریلین ڈالر کی عالمی صنعت بن چکا ہے۔ یہ نظام محض مسلم ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے 75 سے زائد ممالک میں جڑ پکڑ چکا ہے۔ سعودی عرب، ملائیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایران اس نظام کے مضبوط قلعے ہیں، جبکہ برطانیہ، ہانگ کانگ اور سنگاپور جیسے غیر مسلم مالیاتی مراکز نے بھی اس کے شفاف اور اخلاقی اصولوں کو تسلیم کر لیا ہے۔ دنیا اب غیر مستحکم سودی نظام سے نکل کر حقیقی اثاثوں پر مبنی اس منصفانہ نظام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

تکافل (اسلامی انشورنس): باہمی تعاون کا سنہری اصول

تکافل کا تصور، روایتی انشورنس کی طرح صرف منافع کمانے کا نام نہیں، بلکہ یہ "باہمی تعاون" (Mutual Assistance) کے آفاقی اصول پر قائم ہے۔ اس کی تاریخی جڑیں اسلام کے ابتدائی دور کے "عاقلہ" نظام سے ملتی ہیں۔ 1979ء میں سوڈان سے باضابطہ آغاز کرنے والا یہ نظام آج ایک اخلاقی طاقت بن چکا ہے۔ مشرق وسطیٰ سے نکل کر یہ نظام اب افریقہ اور جنوب مشرقی ایشیا کے بعد یورپ کی بڑی انشورنس مارکیٹوں میں بھی اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ اس کی کامیابی کا راز اس کے شفاف ماڈل میں ہے، جہاں شرکاء ایک دوسرے کے لیے حفاظتی ڈھال بنتے ہیں۔ یہ روایتی کمرشل انشورنس کے مقابلے میں کہیں زیادہ انسانی اور پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔

پاکستان کا بدلتا منظرنامہ: 2027 سے 2030 تک۔۔

پاکستان میں ایک بڑا معاشی انقلاب دستک دے رہا ہے۔ 2027ء تک پاکستان کا بینکنگ نظام مکمل طور پر اسلامی خطوط پر استوار ہونے کے قریب ہے۔ 2030ء تک اسلامی بینکاری پاکستان کی معیشت کا واحد "مین اسٹریم" نظام ہوگی۔

یہ صرف بینکنگ نہیں، ہر شعبے کا تقاضا ہے:

یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دیں کہ اسلامی بینکنگ کا علم صرف بینک میں کام کرنے والوں کے لیے ہے۔ آپ کسی بھی کارپوریٹ ادارے، این جی او (NGO)، یا سرکاری محکمے میں بطور فنانس مینیجر یا اکاؤنٹنٹ کام کریں، آپ کو اسلامی بینکنگ کی گہری سمجھ ہونا لازمی ہوگی۔ کیونکہ آپ کا ادارہ بینکوں کے ساتھ معاملات (Transactions) کرے گا، لون لے گا یا انویسٹمنٹ کرے گا، اگر آپ کو اسلامک بینکنگ کے اصولوں (جیسے مرابحہ، اجارہ یا مشارکہ) کا علم نہیں ہوگا، تو آپ نہ تو بینک کے ساتھ درست ڈیل کر پائیں گے اور نہ ہی اپنے ادارے کے مالیاتی نظام کو "شریعہ کمپلائنٹ" بنا کر شفاف کر سکیں گے۔ ہر فنانس پروفیشنل کے لیے اب اسلامی بینکنگ کا علم ایک "ٹیکنیکل مہارت" بن چکا ہے۔

آنے والے پانچ سال میں پاکستانی نوجوان کا مستقبل۔۔

ایک زمانہ تھا کہ جب لوگ دیوانہ وار ایم بی اے اور بی بی اے کر رہے تھے، لیکن آج ان روایتی ڈگریوں کے حامل نوجوانوں کو اچھی ملازمتیں ملنا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ زمانہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے اور نئی مہارتوں کا تقاضا کر رہا ہے۔ اب وقت ہے کہ آپ اپنی تعلیمی سمت "اسلامک بینکنگ اینڈ فائنانس" کی طرف موڑ لیں۔ جو نوجوان بی ایس، ایم ایس، ایم فل یا اسلامک بینکنگ میں سرٹیفیکیشنز حاصل کریں گے، وہ مارکیٹ کے سب سے قیمتی اثاثے بن جائیں گے۔

یاد رکھیں، 2027ء کے بعد پاکستان میں روایتی سودی نظام محدود ہو جائے گا اور ہر ادارے کو ایسے ماہرین کی ضرورت ہوگی جو اسلامی مالیات کی زبان سمجھتے ہوں۔ یہ مہارت صرف پاکستان تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ عرب ممالک، یورپ اور ملائیشیا میں بھی آپ کے لیے روزگار کے دروازے کھول دے گی۔ عالمی سطح پر اسلامی مالیات کا حجم 2030ء تک 9 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جس کا مطلب ہے کہ یہ صنعت دنیا کی سب سے بڑی ملازمتیں فراہم کرنے والی انڈسٹری بن جائے گی۔ اپنے تعلیمی کیریئر کو اسی سمت میں موڑ لیں، کیونکہ یہی اخلاقی معیشت کا مستقبل ہے اور یہی آپ کے کیریئر کی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔

Check Also

Kya Aap Ka Career Aane Walay Maliyati Tufan Ke Liye Tayyar Hai?

By Saleem Zaman