Saturday, 18 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Sabz Passport, Sabz Waqar

Sabz Passport, Sabz Waqar

سبز پاسپورٹ، سبز وقار

قومیں صرف آئینوں سے نہیں بنتیں، وہ علامتوں سے بنتی ہیں۔ کبھی ایک پرچم قوم کو جوڑ دیتا ہے، کبھی ایک ترانہ کروڑوں دلوں کو ایک دھڑکن میں پرو دیتا ہے، کبھی ایک زبان منتشر لوگوں کو ایک تہذیب میں بدل دیتی ہے اور کبھی ایک رنگ پوری تاریخ کا استعارہ بن جاتا ہے۔ پاکستان کی قسمت میں بھی ایک ایسا ہی رنگ لکھا گیا تھا۔ سبز!

یہی رنگ ہمارے پرچم کا ہے، یہی ہماری شناخت کا ہے، یہی ہماری امیدوں کا ہے اور یہی اس خواب کی تعبیر کا رنگ ہے جو برصغیر کے مسلمانوں نے لاکھوں قربانیوں کے بعد حاصل کیا تھا۔ دنیا کے نقشے پر پاکستان کی پہچان اگر کسی ایک رنگ سے ہوتی ہے تو وہ "سبز" ہے۔ اسی لیے جب بھی کوئی پاکستانی کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر قدم رکھتا ہے تو اس کی جیب میں موجود "سبز" پاسپورٹ صرف ایک سفری دستاویز نہیں ہوتا بلکہ وہ پورے پاکستان کا تعارف ہوتا ہے۔ اس چھوٹے سے کتابچے میں ایک ریاست کی خودداری، ایک قوم کی عزت اور کروڑوں انسانوں کی شناخت سمٹی ہوتی ہے۔

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسی ریاست کے کچھ شہریوں کے لیے الگ "رنگ" کیوں؟ اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ارکانِ پارلیمان کے لیے "نیلا" پاسپورٹ ہونا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں "نیلا" اور "سرخ" پاسپورٹ ہونا ہی کیوں چاہیے؟ کیا سرکاری ملازم پاکستانی نہیں؟ کیا سفارت کار پاکستانی نہیں؟ کیا ریاست کے دوسرے اداروں سے وابستہ لوگ اسی سرزمین کی اولاد نہیں؟ اگر سب پاکستانی ہیں تو ان کی قومی شناخت کا رنگ مختلف کیوں ہو؟ اگر قومی پرچم ایک ہے تو قومی پاسپورٹ بھی ایک ہونا چاہیے اور وہ صرف "سبز" ہونا چاہیے۔

ریاستیں جب اپنے شہریوں میں امتیاز پیدا کرتی ہیں تو یہ امتیاز آہستہ آہستہ صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ذہنوں میں اتر جاتا ہے۔ پھر عہدے، مناصب اور مراعات قومی برابری پر غالب آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

حالانکہ جمہوریت کی اصل روح یہ ہے کہ ریاست کے سامنے سب برابر ہیں۔ وزیرِ اعظم اور ایک مزدور، سپریم عدالت کا جج اور ایک کسان، سفیر اور ایک استاد، جرنیل اور ایک طالب علم، سب کی پہلی اور آخری شناخت پاکستانی ہے۔ ان میں فرق صرف ذمہ داری کا ہو سکتا ہے، قومی شناخت کا نہیں۔

دنیا کی جدید ریاستیں اپنے شہریوں کو برابری کا احساس دینے کے لیے علامتوں کا غیر معمولی خیال رکھتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ معاشروں میں بڑے سے بڑا عہدہ بھی قومی شناخت سے اوپر نہیں اٹھتا۔ اگر کسی سرکاری ضرورت کے تحت پاسپورٹ کی مختلف اقسام رکھنی بھی ہوں تو ان کی پہچان اندرونی کوڈ، برقی شناخت یا انتظامی اندراج سے ہو سکتی ہے۔ رنگ بدلنے کی ضرورت نہیں۔

"رنگ" قوم کی مشترک شناخت ہوتا ہے، انتظامی درجہ بندی کا ذریعہ نہیں۔ پاکستان کو بھی اب اس نفسیات سے نکلنا ہوگا کہ "رنگ" بدلنے سے مرتبہ بلند ہو جاتا ہے۔ مرتبہ "کردار" سے بلند ہوتا ہے، "رنگ" سے نہیں۔

اس بحث کا ایک اور پہلو بھی ہے جس پر شاید ہم نے کبھی سنجیدگی سے غور نہیں کیا۔ ہم نے بیرونِ ملک جانے کو ایک غیر معمولی کامیابی بنا دیا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے قومی عزت کا پیمانہ یہ ہو کہ کون کتنے ممالک میں داخل ہو سکتا ہے۔

حالانکہ باوقار قومیں اس کے برعکس سوچتی ہیں۔ ان کے نزدیک اصل اہمیت اس بات کی ہوتی ہے کہ ان کے پاسپورٹ کی عزت کتنی ہے، نہ کہ اس پر کتنے مہریں لگی ہیں۔

ہمیں بھی اپنی قومی نفسیات بدلنی ہوگی۔ جہاں پاکستان کے سبز پاسپورٹ کی عزت ہو، جہاں پاکستانی شہری کو احترام ملے، جہاں ہمارے پرچم کی توقیر محفوظ ہو، وہاں ضرور جانا چاہیے۔ لیکن جہاں معمولی سا بھی احتمال ہو کہ ہمارے پاسپورٹ کی بے توقیری ہوگی، ہمارے شہری کو محض اس کی شہریت کی وجہ سے ذلت اٹھانی پڑے گی یا پاکستان کی عزت مجروح ہوگی، وہاں جانے کی خواہش بھی نہیں ہونی چاہیے۔

عزت صرف حاصل نہیں کی جاتی، بعض اوقات اس کے لیے کچھ دروازے خود بند بھی کرنے پڑتے ہیں۔ دنیا کے کئی چھوٹے چھوٹے ممالک اپنے شہریوں کو یہی سبق دیتے ہیں کہ تم جہاں بھی جاؤ، اپنے ملک کی عزت ساتھ لے کر جانا اور اگر کسی جگہ تمہارے وطن کی توہین ہوتی ہو تو اس سرزمین کی کشش تمہارے قدم نہ روک سکے۔

ہمیں بھی اپنے نوجوانوں، مزدوروں، طلبہ اور پیشہ ور افراد کو بیرونِ ملک روانگی سے پہلے باقاعدہ تربیت دینی چاہیے۔ انہیں بتایا جائے کہ وہ صرف روزگار یا تعلیم کے لیے نہیں جا رہے بلکہ پاکستان کے غیر سرکاری سفیر بن کر جا رہے ہیں۔ ان کا لباس، ان کی گفتگو، ان کی دیانت، ان کی قانون پسندی اور ان کا کردار پاکستان کا تعارف ہوگا۔

اگر اس اصول کو قبول کر لیا جائے تو پھر اس کا اطلاق سب سے پہلے ریاست کے اپنے نمائندوں پر ہونا چاہیے۔ سرکاری ملازمین، سفارت کار، وزراء اور ارکانِ پارلیمان کو عام پاکستانی سے ممتاز دکھانے کے بجائے عام پاکستانی کی نمائندگی کرنی چاہیے۔

وہ جب بیرونِ ملک جائیں تو ان کے ہاتھ میں بھی وہی سبز پاسپورٹ ہو جو ایک عام پاکستانی کی جیب میں ہوتا ہے۔ اس سے بڑا جمہوری پیغام اور کیا ہو سکتا ہے کہ ریاست کا سب سے طاقتور شخص بھی اپنی قومی شناخت میں عام شہری کے برابر کھڑا ہو۔

بلکہ میری رائے میں معاملہ صرف پاسپورٹ تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ہر شخص کے لیے سبز رنگ کو باعثِ افتخار بنایا جانا چاہیے۔ قومی تقریبات ہوں، بین الاقوامی کانفرنسیں ہوں یا سفارتی استقبالیے، پاکستان کی نمائندگی کرنے والوں کو "سبز کوٹ" پہننے کی روایت کو دوبارہ زندہ کرنا چاہیے۔

آخر دنیا نے پاکستان کو سب سے زیادہ کس لباس میں پہچانا؟ کیا ہمارے عظیم ہاکی کے جادوگروں نے سبز کوٹ نہیں پہنا؟ کیا ہمارے اسکواش کے عالمی فاتحین، ہمارے کرکٹ کے ہیرو، ہمارے ٹینس کے نمائندے، ہمارے کبڈی کے شہسوار، ہمارے نیزہ باز اور ہمارے مکے باز اسی سبز رنگ میں دنیا کے سامنے پاکستان کا "سبز" پرچم بلند نہیں کرتے رہے؟ ان سب نے ہمیشہ "سبز" کوٹ پہن کر، اس کے سینے پر پاکستان لکھوا کر اور کالر پر پاکستان کا "سبز" ہلالی پرجم لگا کر اپنے وطن کے کومل تصور کی صورت گری کی۔ اس پر فخر کیا اور اپنے ہم وطنوں کے لیے فخر کا باعث بنے۔

انہی لوگوں نے پاکستان کو عزت چار چاند لگائے۔ انہی لوگوں نے دنیا کو بتایا کہ پاکستان صرف خبروں کا ملک نہیں بلکہ صلاحیتوں کا وطن بھی ہے۔ انہوں نے کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ ان کے لیے قومی شناخت کا کوئی الگ رنگ مخصوص کیا جائے۔ وہ سبز کوٹ اپنے سینے پر سجاتے رہے اور اسی میں اپنی عظمت تلاش کرتے رہے۔

اس کے برعکس آج ایک عجیب صورت حال پیدا ہوگئی ہے۔ وہ لوگ جنہیں دنیا ان کے ذاتی نام سے نہیں جانتی، جن کا کوئی کارنامہ نہیں ہے۔ جن کی کوئی پہچان نہیں ہے اور اگر کوئی واحد پہچان ہے تو صرف پاکستان ہے، وہی لوگ "سبز" پاسپورٹ سے فاصلہ پیدا کرنے پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔

حالانکہ پاسپورٹ کوئی ایسا زیور نہیں جسے ہر وقت ہاتھ میں اٹھائے رکھا جاتا ہو۔ یہ تو جیب میں رکھا جانے والی ایک خاموش دستاویز ہے جسے چند لمحوں کے لیے نکالا جاتا ہے۔ اگر اس پر بھی کسی کو احساسِ تفاخر یا احساسِ کمتری لاحق ہو جائے تو پھر مسئلہ پاسپورٹ کے رنگ کا نہیں بلکہ ذہن کے رنگ کا ہے۔ ہمیں اپنے ذہنوں کو سبز کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی "سبز" شناخت پر فخر کرنا سیکھنا ہوگا۔ ہمیں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ پاکستان کی عزت ہی ہماری عزت ہے، پاکستان کی بے توقیری ہی ہماری بے توقیری ہے اور پاکستان کی شناخت ہی ہماری اصل شناخت ہے۔

جس دن ریاست کے ہر نمائندے کی جیب میں وہی "سبز" پاسپورٹ ہوگا جو ایک مزدور، ایک استاد، ایک سپاہی اور ایک طالب علم کی جیب میں ہوگا اور جس دن ہر پاکستانی بلا امتیاز اسی "سبز" رنگ کو اپنی شان سمجھے گا، اس دن شاید ہم پہلی مرتبہ دنیا کو یہ پیغام دے سکیں گے کہ پاکستان میں عہدے مختلف ہو سکتے ہیں، ذمہ داریاں مختلف ہو سکتی ہیں، اختیارات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر شناخت ایک ہے، وقار ایک ہے، پرچم ایک ہے، رنگ ایک ہے اور وہ رنگ ہمیشہ "سبز" رہے گا۔

مسئلہ پاسپورٹ کا رنگ نہیں، پاکستانی ذہن کا رنگ ہے۔ اگر ذہن سبز ہو جائے تو سبز پاسپورٹ بھی باعثِ فخر ہوگا، سبز پرچم بھی، سبز کوٹ بھی اور سبز ہلالی پرچم کے نیچے کھڑا ہونا بھی۔

Check Also

Mushkil Ki Ghari

By Shahid Mehmood