Saturday, 11 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Waqia Ashab e Ukhdud

Waqia Ashab e Ukhdud

واقعہ اصحابِ اُخدود

تاریخِ انسانیت میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو صرف ایک زمانے یا ایک قوم کی کہانی نہیں رہتے بلکہ حق و باطل، ایمان و جبر اور سچائی و طاقت کے درمیان ابدی کشمکش کی علامت بن جاتے ہیں۔ اصحابِ اُخدود کا واقعہ بھی انہی لازوال داستانوں میں سے ایک ہے۔ یہ محض چند افراد کی قربانی کا ذکر نہیں بلکہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ جب انسان اپنے رب کو پہچان لیتا ہے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کے دل سے ایمان کی روشنی نہیں چھین سکتی۔

قرآنِ مجید نے سورۂ بروج میں اس واقعے کا ذکر بڑے اختصار مگر انتہائی اثر انگیز انداز میں کیا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی تفصیلات بیان فرما کر اسے قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہدایت، صبر اور استقامت کا ایک عظیم سبق بنا دیا۔ اس واقعے میں ایک ظالم بادشاہ ہے جو اپنے اقتدار کو دوام دینا چاہتا ہے، ایک بوڑھا جادوگر ہے جس کا زمانہ ختم ہو رہا ہے، ایک راہب ہے جو خاموشی سے حق کا چراغ روشن کیے ہوئے ہے اور ایک نوجوان لڑکا ہے جو سچائی کی تلاش میں نکلتا ہے اور بالآخر پوری قوم کے لیے ہدایت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

قصے کا آغاز ایک ایسے بادشاہ سے ہوتا ہے جو اپنی رعایا پر مکمل اقتدار رکھتا تھا اور اس اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے جادو اور دھوکے کا سہارا لیتا تھا۔ اس کا جادوگر جب بڑھاپے کو پہنچا تو اس نے درخواست کی کہ ایک ذہین لڑکا اس کے سپرد کیا جائے تاکہ وہ اپنا علم اسے منتقل کر سکے۔ بادشاہ نے ایک سمجھدار لڑکے کا انتخاب کیا اور اسے جادو سیکھنے کے لیے مقرر کر دیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس لڑکے کے لیے ایک اور راستہ منتخب کر رکھا تھا۔ جادوگر کے پاس جاتے ہوئے اس کا گزر ایک راہب کے پاس سے ہوتا تھا۔ راہب کی گفتگو میں سچائی تھی، دل کی گہرائی تھی اور اللہ کی معرفت کا نور تھا۔ لڑکا اس کے پاس بیٹھنے لگا اور اس کی باتوں سے متاثر ہوتا گیا۔ یوں ایک طرف جادو تھا جو انسان کو فریب دیتا ہے اور دوسری طرف ایمان تھا جو انسان کو حقیقت سے آشنا کرتا ہے۔ نوجوان دل نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ راہب کی باتوں میں وہ سکون اور یقین ہے جو جادوگر کے علم میں نہیں۔ یہیں سے اس کے اندر حق کی تلاش کا سفر شروع ہوا۔

ایک دن اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کے لیے فیصلہ کن مرحلہ پیدا کر دیا۔ راستے میں ایک خوفناک جانور نے لوگوں کی آمد و رفت روک رکھی تھی۔ لوگ خوف کے مارے بے بس کھڑے تھے۔ لڑکے نے سوچا کہ آج فیصلہ ہو جائے گا کہ جادوگر کا راستہ درست ہے یا راہب کا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور دل کی گہرائی سے دعا کی: "اے اللہ! اگر راہب کا طریقہ تیرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے تو اس جانور کو ہلاک کر دے تاکہ لوگوں کی مشکل دور ہو جائے"۔ پھر اس نے پتھر پھینکا اور جانور مر گیا۔ راستہ کھل گیا اور لوگ اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہ بظاہر ایک معمولی واقعہ تھا لیکن حقیقت میں ایک نوجوان کے قلب میں یقین کی بنیاد رکھنے والا لمحہ تھا۔ جب اس نے یہ واقعہ راہب کو سنایا تو راہب نے اسے مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اب تم ایک عظیم آزمائش کے راستے پر داخل ہو چکے ہو۔ یہ جملہ دراصل ہر اُس شخص کے لیے پیغام ہے جو حق کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ایمان نعمت بھی ہے اور امتحان بھی۔ اللہ کی معرفت جتنی بڑی سعادت ہے، اس کی خاطر قربانی دینا بھی اتنی ہی بڑی ذمہ داری ہے۔

وقت گزرتا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو اپنی خاص عنایتوں سے نواز دیا۔ وہ بیماروں کے لیے شفا کا ذریعہ بننے لگا۔ مادرزاد اندھے، برص کے مریض اور دیگر بیمار اس کے پاس آتے اور وہ انہیں یہی کہتا کہ شفا میرے پاس نہیں، شفا اللہ کے پاس ہے۔ اگر تم اللہ پر ایمان لے آؤ تو میں دعا کروں گا اور وہ تمہیں صحت عطا فرما دے گا۔ یوں وہ لوگوں کو جسمانی صحت کے ساتھ روحانی نجات کی طرف بھی بلاتا تھا۔ اس کی شہرت بڑھتی گئی یہاں تک کہ بادشاہ کے ایک نابینا مصاحب نے اس کے پاس آ کر شفا حاصل کر لی۔ جب بادشاہ کو یہ معلوم ہوا کہ اس کا مصاحب دیکھنے لگا ہے تو اس نے حیرت سے پوچھا کہ تمہاری بینائی کس نے واپس کی؟ اس نے جواب دیا کہ میرے رب نے۔ بادشاہ نے کہا: کیا میرے سوا بھی کوئی رب ہے؟ اس نے کہا: میرا اور تمہارا رب اللہ ہے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب ظلم اور ایمان کا تصادم کھل کر سامنے آ گیا۔ بادشاہ نے تشدد کا راستہ اختیار کیا، لوگوں کو اذیتیں دیں اور ایمان لانے والوں کو قتل کروانا شروع کر دیا۔ لیکن تاریخ کا عجیب اصول ہے کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، حق کی آواز اتنی ہی بلند ہوتی جاتی ہے۔

بادشاہ نے اس نوجوان کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پہلے اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جا کر نیچے پھینکنے کی کوشش کی گئی لیکن اس نے اللہ سے دعا کی اور پہاڑ لرز اٹھا۔ ظالم نیچے گر کر ہلاک ہو گئے اور نوجوان محفوظ رہا۔ پھر اسے کشتی میں بٹھا کر سمندر کے بیچ لے جایا گیا تاکہ وہاں ڈبو دیا جائے۔ لیکن اللہ کی مدد پھر اس کے ساتھ تھی۔ کشتی الٹ گئی، ظالم غرق ہو گئے اور وہ بچ گیا۔ ان واقعات نے ثابت کر دیا کہ زندگی اور موت کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جب تک اللہ نہ چاہے کوئی طاقت کسی انسان کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ آخرکار نوجوان نے خود بادشاہ کو اپنی موت کا طریقہ بتایا۔ اس نے کہا کہ اگر تم واقعی مجھے قتل کرنا چاہتے ہو تو سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرو، پھر میرے رب کے نام سے تیر چلا کر مجھے مارو۔ بادشاہ نے یہی کیا۔ اس نے اعلان کیا: "لڑکے کے رب اللہ کے نام سے" اور تیر چلا دیا۔ تیر نوجوان کی کنپٹی پر لگا اور وہ شہید ہوگیا۔ بظاہر بادشاہ کامیاب ہوگیا تھا لیکن حقیقت میں وہ اپنی سب سے بڑی شکست کا آغاز کر چکا تھا۔

جس لمحے نوجوان زمین پر گرا، اسی لمحے ہزاروں دل جاگ اٹھے۔ لوگوں نے پکار کر کہا: "ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے"۔ ایک نوجوان کی شہادت پوری قوم کی بیداری کا سبب بن گئی۔ بادشاہ نے سوچا تھا کہ وہ ایک آواز خاموش کر دے گا، مگر اس کی کوشش نے بے شمار آوازوں کو جنم دے دیا۔ یہی تاریخ کا وہ سبق ہے جسے ظالم حکمران بار بار بھول جاتے ہیں۔ طاقت جسموں کو تو جلا سکتی ہے لیکن عقیدے کو نہیں جلا سکتی۔ بادشاہ غصے سے پاگل ہوگیا۔ اس نے خندقیں کھدوائیں، ان میں آگ بھڑکائی اور حکم دیا کہ جو ایمان سے پھر جائے اسے چھوڑ دو اور جو اپنے عقیدے پر قائم رہے اسے آگ میں پھینک دو۔ پھر ایک عجیب منظر تاریخ نے دیکھا۔ لوگ گروہ در گروہ آگ کی طرف بڑھتے رہے مگر ایمان سے دستبردار نہ ہوئے۔ ان کے سامنے دہکتے ہوئے شعلے تھے لیکن ان کے دلوں میں اللہ کی محبت اس آگ سے کہیں زیادہ روشن تھی۔ دنیا کی چند سانسوں کے بدلے انہوں نے ہمیشہ کی کامیابی خرید لی۔

اس واقعے کا سب سے دردناک اور ایمان افروز منظر وہ ہے جب ایک عورت اپنے شیر خوار بچے کو گود میں لیے آگ کے کنارے آتی ہے۔ ماں کے قدم رک جاتے ہیں۔ ایک لمحے کے لیے ممتا کا جذبہ اسے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ سامنے آگ ہے اور گود میں معصوم بچہ۔ لیکن اسی لمحے اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کا ایک اور نشان ظاہر فرماتا ہے۔ شیر خوار بچہ بول اٹھتا ہے: "اماں! صبر کرو، تم حق پر ہو"۔ یہ الفاظ صرف ایک ماں کے لیے نہیں تھے بلکہ پوری انسانیت کے لیے پیغام تھے۔ حق کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا۔ اس میں آزمائشیں آتی ہیں، قربانیاں دینی پڑتی ہیں اور بعض اوقات آگ کے شعلوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔ لیکن جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ اصل کامیابی دنیا کی چند روزہ زندگی نہیں بلکہ وہ ابدی زندگی ہے جو اللہ کے ہاں منتظر ہے۔

اصحابِ اُخدود کا واقعہ آج بھی ہمیں یہی سکھاتا ہے کہ ایمان کی طاقت تلوار سے بڑی، عقیدے کی قوت سلطنت سے مضبوط اور حق کی روشنی آگ کے شعلوں سے زیادہ تابناک ہوتی ہے۔ خندقوں میں جلنے والے لوگ تاریخ کی نگاہ میں مظلوم نہیں بلکہ فاتح ہیں، کیونکہ ان کے جسم تو آگ میں جل گئے مگر ان کا پیغام آج بھی دلوں کو روشن کر رہا ہے، جبکہ ظلم کے ایوان، ظالم بادشاہ اور اس کی ساری قوت زمانے کی گرد میں گم ہو چکے ہیں۔

Check Also

America Israel Ittehad Ki Maut

By Najam Wali Khan