Saturday, 11 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Tehsin Ullah Khan
  4. Hum Kahan Khare Hain?

Hum Kahan Khare Hain?

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

مجھے چینی لوگ پسند ہیں، کیونکہ وہ ہمیشہ چیزوں کو خود سے بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔ وہ آسانی سے نہیں کہتے کہ "یہ بہت مشکل ہے، ہم یہ نہیں کر سکتے"۔۔ جب کوئی دوسرا ملک کوئی نئی ٹیکنالوجی ایجاد کرتا ہے یا کوئی کامیاب تجربہ کرتا ہے تو چینی سائنس دان بڑے عزم کے ساتھ اس پر کام شروع کر دیتے ہیں، اس وجہ سے چین انجینئرنگ اور خلائی ٹیکنالوجی میں بہت تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔

آج چین نے لانگ مارچ 10B راکٹ کا کامیاب تجربہ کیا۔ راکٹ کو جنوبی چین کے علاقے ہینان سے لانچ کیا اور اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد اس کا پہلا اسٹیج بوسٹر زمین پر واپس آیا اور اسے تیرتے ہوئے سمندری پلیٹ فارم پر کیبل نیٹ سسٹم کے ذریعے پکڑ لیا گیا۔ یعنی ان کو واپس لانچ پیڈ پر بیٹھایا۔ یہ ٹیکنالوجی چائنا اکیڈمی آف لانچ وہیکل ٹیکنالوجی نے بہت سے انجینئرز اور سائنس دانوں کی مدد سے تیار کی ہے راکٹ کو واپس لانچ پیڈ پر کھڑا کرنا آسان نہیں ہے، چینی سائنسدانوں نے ناسا سائنسدانوں کا idea کو کاپی کرکے خود تجربہ کیا، ناسا سے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں لی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ چین لائن شائن جیسے انتہائی طاقتور سپر کمپیوٹر بھی تیار کر رہا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اتنا طاقتور کمپیوٹر ہوگا کہ ہر سیکنڈ میں دو کوئنٹلین سے زیادہ کیلکولیشن کرے گا۔۔ میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ صرف ایک سیکنڈ میں یہ دو کوئنٹلین سے زیادہ کیلکولیشن کرے گا، یہ کمپیوٹر سائنسدانوں کو راکٹس ڈیزائن کرنے اور ان کو آپریٹ کرنے میں مدد کرے گا اس کا فائدہ کیا ہے؟ راکٹ کو دوبارہ لانچ پیڈ پر آنے سے کیا ہوگا؟

ہم جو راکٹ استعمال کرتے ہیں وہ ون ٹائم کے ہوتے ہیں، ہر راکٹ مختلف اسٹیجز یعنی سیکشن پر مشتمل ہوتی ہیں، ہر سیکشن کا اپنا کام ہوتا ہے کچھ حصے لانچ پیڈ پر رہتے ہیں اور کچھ حلا میں رہ جاتے ہیں جیسے کہ انرجی بوسٹر صرف اورین کیپسول زمین پر واپس آتا ہے ہم راکٹ لانچ تو کرسکتے ہیں لیکن ہم انہیں دوبارہ کنٹرول نہیں کر سکتے، لیکن اب ہم راکٹ کو بھی کنٹرول کر سکتے ہیں۔۔ اس وقت دو ممالک راکٹوں کو کنٹرول کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں، یعنی امریکہ اور چین۔ چین نے آج کامیاب تجربہ کیا۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ عنقریب ہم چاند پر اور بعد میں مریخ پر لانچ پیڈ اور لینڈنگ کے اڈے بنائیں گے، اس طرح ایک خلائی جہاز وہاں اتر سکتا ہے، وہاں لانچ پیڈ پر آرام سے ایندھن بھر سکتا ہے اور پھر زمین پر واپس آنے کے لیے دوبارہ لانچ کرسکتا ہے یا پھر کسی دوسرے سیارے کا سفر کرنے کے لیے دوبارہ لانچ کر سکتا ہے۔ چائنیز سائنس دانوں کا کہنا ہے، ہر مشن کے لیے نئے بنانے کے بجائے راکٹ بوسٹرز کو دوبارہ استعمال کرنے سے اخراجات کم ہو سکتے ہیں، خلائی مشنوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہو سکتا ہے اور چاند، مریخ اور مشتری سیاروں کی مستقبل کی انسانی تلاش میں مدد مل سکتی ہے۔۔ یقین مانیں کہ یہ زمین سے باہر مستقل اڈوں کی ترقی کی جانب ایک اہم قدم ہیں دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم کہاں کھڑے ہیں؟

Check Also

Hum Kahan Khare Hain?

By Tehsin Ullah Khan