Shaheed Hone Ka Matlab Bikharna Nahi Nikharna Hai
شہید ہونے کا مطلب بکھرنا نہیں نکھرنا ہے

قومیں اپنی آبادی سے نہیں اپنے شہداء کے شعور سے زندہ رہتی ہیں۔ انسان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ موت کو زندگی کا اختتام سمجھتا ہے شاید اسی لیے وہ قبر سے ڈرتا ہے۔ خون سے خوف کھاتا ہے اور قربانی سے گریز کرتا ہے مگر تاریخ کی سب سے روشن حقیقت یہ ہے کہ کبھی کبھی ایک انسان کی موت لاکھوں انسانوں کی زندگی بن جاتی ہے۔ اس لمحے موت، موت نہیں رہتی وہ بیداری کی اذان بن جاتی ہے۔ شہادت کوئی حادثہ نہیں نہ ہی صرف جنگ کے میدان میں گر جانے کا نام ہے شہادت ایک شعوری انتخاب ہے یہ اس انسان کا فیصلہ ہے جو جانتا ہے کہ زندگی کی اصل قیمت اس کی لمبائی میں نہیں بلکہ اس کے مقصد میں ہے جو جینا جانتا ہے وہی مرنے کا سلیقہ بھی جانتا ہے اور جو صرف سانس لینے کو زندگی سمجھتا ہے وہ زندہ رہ کر بھی مردہ ہے۔
ظالم ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ انسان زندہ رہے مگر صرف جسم کے ساتھ، اس کا ضمیر مر جائے، اس کی زبان خاموش ہو جائے اور اس کی سوچ غلام بن جائے کیونکہ مردہ ضمیر رکھنے والے زندہ انسان ظالم کے لیے سب سے محفوظ رعایا ہوتے ہیں اسی لیے شہید کا سب سے بڑا جرم یہ نہیں کہ وہ مر گیا اس کا سب سے بڑا جرم یہ ہوتا ہے کہ اس نے خوف کو مار دیا۔ جب کوئی انسان حق کے لیے اپنی جان قربان کرتا ہے تو وہ دراصل یہ اعلان کرتا ہے کہ ظلم کی طاقت میری جان سے بڑی نہیں اس کا خون زمین پر نہیں گرتا بلکہ انسانوں کے ضمیر پر دستک دیتا ہے وہ چیختا نہیں لیکن اس کی خاموشی صدیاں بولتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر وقت کا یزید شہید سے ڈرتا ہے زندہ مخالف کو قید کیا جا سکتا ہے جلاوطن کیا جا سکتا ہے خریدا جا سکتا ہے مگر شہید کو نہ قید کیا جا سکتا ہے نہ خریدا جا سکتا ہے نہ اس کے خون کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔ شہید قبر میں اترنے کے بعد تاریخ کی عدالت میں کھڑا ہو جاتا ہے جہاں ظالم کی ہر دلیل ٹوٹ جاتی ہے لیکن ایک سوال ہم سب سے ہے کیا شہادت صرف میدانِ جنگ میں ہوتی ہے؟ نہیں۔
وہ استاد بھی شہادت کے راستے کا مسافر ہے جو سچ پڑھانے کی قیمت ادا کرتا ہے، وہ صحافی بھی اسی قافلے کا فرد ہے جو قلم بیچنے سے انکار کرتا ہے ظالم کی تعریف نہیں بلکہ اسکے سہاہ کرتوت کو سامنے لاتا ہے۔ وہ مزدور، وہ ماں، وہ طالب علم، وہ عالم، وہ مفکر، جو حق کی خاطر نقصان برداشت کرتا ہے وہ سب اسی راستے کے راہی ہیں جس کا آخری نام شہادت ہے۔ کربلا اسی لیے صرف ایک واقعہ نہیں بلکہ انسانی تاریخ کا مستقل سوال ہے ہر دور میں ایک نیا یزید پیدا ہوتا ہے مگر ہر دور میں ایک حسینؑ بھی جنم لیتا ہے فرق صرف یہ ہے کہ یزید کو پہچاننے کے لیے اخبار کافی ہیں۔ مگر حسین کو پہچاننے کے لیے زندہ ضمیر چاہیے۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے شہادت کو صرف ماتم میں بدل دیا ہے۔ ہم شہداء کے نام لیتے ہیں، مگر ان کے راستے سے ڈرتے ہیں ہم ان کی قربانی پر آنسو بہاتے ہیں۔ مگر اپنے مفادات قربان نہیں کرتے ہم ان کے لیے جلوس نکالتے ہیں مگر ظلم کے خلاف ایک قدم نہیں اٹھاتے اگر شہادت صرف رونے کا نام ہوتی تو تاریخ اسے کبھی زندہ نہ رکھتی۔ تاریخ صرف اسی قربانی کو یاد رکھتی ہے جو انسان کو بدل دے شہید کبھی قوم سے یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ میری قبر پر پھول رکھو۔ وہ صرف ایک سوال پوچھتا ہے کیا میرا خون تمہارے ضمیر کو جگا سکا؟ اگر جواب نفی میں ہو تو سمجھ لو کہ شہید نہیں مرا، قوم مر گئی۔
آج ہماری دنیا میں عمارتیں بلند ہیں مگر کردار پست ہیں معلومات بے شمار ہیں مگر شعور ناپید ہے زبانیں آزاد ہیں مگر ضمیر قید ہیں ایسے دور میں شہادت کا فلسفہ پہلے سے زیادہ ضروری ہے کیونکہ شہادت انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کا مقصد صرف محفوظ رہنا نہیں بلکہ باوقار رہنا ہے۔ یاد رکھو غلاموں کی سب سے بڑی خواہش لمبی زندگی ہوتی ہے جبکہ آزاد انسان کی سب سے بڑی خواہش باوقار زندگی ہوتی ہے شہادت اسی باوقار زندگی کی آخری منزل ہے۔ لہٰذا میں پھر کہتا ہوں شہید ہونے کا مطلب مرنا نہیں نکھرنا ہے۔
آج علی خامنہ ای کی شہادت نے ایک بار پھر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ شہید مرتا نہیں بلکہ اپنی قربانی سے زندہ قوموں کے ضمیر کو بیدار کرتا ہے۔ ان کی وفات کے بعد ایران میں بڑے پیمانے پر سوگ اور آخری رسومات منعقد ہوئیں جنہیں ان کے حامی شہادت کی علامت قرار دیتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس شہادت نے ایک نئی تحریک جنم لی ہے جو آنے والے دنوں میں بہت کچھ کرکے دکھائی گی۔ شہادت صرف جان قربان کرنے کا نام نہیں بلکہ حق اصول اور عزت کی خاطر اپنی ذات سے بلند ہو جانے کا نام ہے۔
شہید کا جسم مٹی کے سپرد ہو جاتا ہے مگر اس کا نظریہ اس کا حوصلہ اور اس کا پیغام زمانوں کے ضمیر میں زندہ رہتا ہے تاریخ میں تلواریں اکثر خاموش ہو جاتی ہیں لیکن شہداء کا خون آنے والی نسلوں کے لیے بیداری استقامت اور آزادی کا چراغ بن جاتا ہے۔ شہادت سعادت ہے اور یہ سعادت ہر کسی کے حصے میں نہیں آتی یہ ان خوش نصیب انسانوں کا مقام ہے جو اپنی جان سے بڑھ کر اپنے مقصد، اپنے ایمان اور اپنے اصولوں کو عزیز رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ شہداء کا ذکر وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتا بلکہ ان کی قربانی ہر نئے دور میں انسان کو یہ سوال کرنے پر مجبور کرتی ہے کہ وہ حق کے ساتھ کھڑا ہے یا باطل کے ساتھ۔
شہید کا جسم مٹی میں دفن ہوتا ہے مگر اس کی فکر زمانوں کی پیشانی پر لکھی جاتی ہے اس کا خون زمین کو سرخ نہیں کرتا بلکہ قوموں کے ضمیر کو روشن کرتا ہے جب تک دنیا میں ظلم باقی ہے شہادت کا فلسفہ زندہ رہے گا کیونکہ شہید مرتے نہیں وہ ہر دور میں انسان کو یہ یاد دلانے واپس آتے ہیں کہ حق کی خاطر دی جانے والی ایک زندگی، باطل کے ساتھ گزاری گئی ہزار زندگیوں سے زیادہ قیمتی ہے۔

