Saturday, 11 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Social Media Par Har Shakhs Mufti Ban Baitha Hai

Social Media Par Har Shakhs Mufti Ban Baitha Hai

سوشل میڈیا پر ہر شخص مفتی بن بیٹھا ہے

یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ دنیا کے ہر شعبے میں تو مہارت اور تخصص کا اعتراف کیا جاتا ہے، مگر جیسے ہی معاملہ دین کا آتا ہے تو ہر شخص خود کو مفتی، محدث، مفسر اور مجتہد سمجھنے لگتا ہے۔ اگر آپ بیمار ہوں تو ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں، وہ نسخہ لکھ دے تو کوئی عام آدمی یہ کہنے کی جرات نہیں کرتا کہ "ڈاکٹر صاحب! یہ دوا غلط ہے، اس کے بجائے فلاں دوا لکھیں"۔ اگر کوئی انجینئر پل تعمیر کر رہا ہو تو راہ چلتا شخص اسے نقشہ سمجھانے نہیں لگ جاتا۔ کوئی پائلٹ کے کاک پٹ میں جا کر یہ نہیں کہتا کہ "ذرا ہٹیں، میں بتاتا ہوں جہاز کیسے اڑایا جاتا ہے"۔ کوئی وکیل کو قانون نہیں پڑھاتا، نہ ہی سرجن کو آپریشن کا طریقہ سکھاتا ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ہر فن کی اپنی مہارت، اپنی تعلیم اور اپنا ایک طویل تجربہ ہوتا ہے۔ ان کے اپنے شعبے کے ماہرین ہی ان سے اختلاف کر سکتے ہیں یا ان کے کام پر تنقید کا حق رکھتے ہیں کیونکہ وہ خود بھی اس شعبے کے اہل ہوتے ہیں۔ ​

علماء کرام بھی دوسرے شعبوں کے معاملات میں بلاوجہ مداخلت نہیں کرتے۔ وہ نہ تو ڈاکٹر کو طب سکھاتے ہیں، نہ انجینئر کو انجینئرنگ پڑھاتے ہیں اور نہ ہی پائلٹ کو پرواز کے اصول سمجھاتے ہیں۔ وہ صرف دین کے بارے میں وہی بات کرتے ہیں جس کی تعلیم انہوں نے برسوں کی محنت، تحقیق اور اساتذہ کی زیرِ نگرانی حاصل کی ہوتی ہے، لیکن جب کوئی مستند عالم دین یا مفتی قرآن و سنت، فقہ اور اصولِ افتاء کی روشنی میں کوئی شرعی فتویٰ دیتا ہے تو اچانک سوشل میڈیا پر ایک ہجوم امڈ آتا ہے۔ ایسے لوگ جنہوں نے شاید اپنی پوری زندگی میں دین کی کوئی ایک مستند کتاب بھی نہ پڑھی ہو، جنہیں عربی زبان، اصولِ فقہ، حدیث اور تفسیر کا بنیادی علم بھی نہ ہو، وہ بڑے اعتماد سے یہ اعلان کر رہے ہوتے ہیں کہ "فتویٰ غلط ہے۔ مفتی صاحب نے فلاں بات مدنظر نہیں رکھی، مفتی صاحب نے فلاں چیز نظر انداز کردی"۔

​محض چند سوشل میڈیا پوسٹیں پڑھ لینے والے لوگ ان علماء پر انگلی اٹھاتے ہیں جنہوں نے اپنی زندگیاں دین سیکھنے، سکھانے اور امت کی رہنمائی میں گزار دی ہوں۔ جنہیں دنیا بھر کے علمی حلقے عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہوں، ان کے بارے میں سطحی معلومات رکھنے والے لوگ یہ فیصلہ صادر کر دیتے ہیں کہ "انہیں تو کچھ معلوم ہی نہیں"۔ یہاں تک کہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب جیسے جید علماء بھی فتویٰ دینے کی وجہ سے ناواقف لوگوں کی تنقید کا نشانہ بن جاتے ہیں۔

​اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن اختلاف علم کی بنیاد پر ہوتا ہے، جہالت، جذبات اور سوشل میڈیا کے شور کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔ اگر کسی فتویٰ سے علمی اختلاف ہو تو اس کا جواب بھی علم، دلیل اور تحقیق سے دیا جاتا ہے، تمسخر، طنز اور کردار کشی سے نہیں۔ جس معاشرے میں ماہرین کی جگہ نااہل لوگ فیصلے کرنے لگیں، جہاں تخصص کی قدر ختم ہو جائے اور ہر شخص ہر موضوع پر خود کو آخری اتھارٹی سمجھنے لگے، وہاں صرف دین ہی نہیں بلکہ معاشرے کا ہر شعبہ زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

Check Also

Shaheed Hone Ka Matlab Bikharna Nahi Nikharna Hai

By Shair Khan