Saturday, 18 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Riyasat, Muashra Aur Etemad Ki Bahali

Riyasat, Muashra Aur Etemad Ki Bahali

ریاست، معاشرہ اور اعتماد کی بحالی

کسی بھی قوم کی زندگی میں ایسے ادوار آتے ہیں جب وہ خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ آخر ہماری منزل کیا ہے اور ہم اس سے اتنے دور کیوں ہیں؟ پاکستان بھی آج شاید ایسے ہی ایک موڑ پر کھڑا ہے۔ معاشی مشکلات، تعلیمی پسماندگی، انصاف کی سست روی، سماجی تقسیم اور اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی جیسے مسائل اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان سب کے درمیان ایک سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا یہ مسائل محض افراد کے بدلنے سے حل ہو جائیں گے، یا ہمیں اپنے اجتماعی طرزِ فکر اور اداروں کی سمت پر بھی غور کرنا ہوگا؟

ہم عموماً کسی ایک شخصیت، کسی ایک حکومت یا کسی ایک ادارے سے غیر معمولی توقعات وابستہ کر لیتے ہیں۔ جب وہ توقعات پوری نہیں ہوتیں تو مایوسی ہمارے رویوں کا حصہ بن جاتی ہے۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ مضبوط قومیں کسی ایک رہنما کے سہارے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، باشعور شہریوں اور مسلسل اصلاح کے ذریعے آگے بڑھتی ہیں۔

اطالوی مفکر انتونیو گرامشی Antonio Gramsci نے ایک نہایت اہم بات کہی تھی۔ اس کے مطابق ریاست صرف اختیار یا طاقت کے ذریعے دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتی، بلکہ اس کی اصل قوت عوام کے اعتماد اور رضامندی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جب شہری یہ محسوس کریں کہ ریاست ان کے حقوق کی محافظ ہے، انصاف سب کے لیے یکساں ہے، قانون کسی امتیاز کے بغیر نافذ ہوتا ہے اور ان کی آواز سنی جاتی ہے، تو ریاست اور معاشرہ ایک دوسرے کی طاقت بن جاتے ہیں۔ لیکن جب اعتماد کمزور پڑنے لگے تو صرف قوانین یا اختیارات اس خلا کو زیادہ دیر تک پر نہیں کر سکتے۔

یہ اصول صرف یورپ یا کسی خاص سیاسی نظام تک محدود نہیں۔ ہر معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے ادارے وقت کے ساتھ خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ اصلاح دراصل کمزوری کی علامت نہیں بلکہ زندہ معاشروں کی پہچان ہوتی ہے۔

یہاں مجھے فرانتز فینن Frantz Fanon کی ایک اہم بات یاد آتی ہے۔ انہوں نے بعد از نوآبادیاتی معاشروں Postcolinial Societies کے بارے میں لکھتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ سیاسی آزادی اپنی جگہ ایک بڑی کامیابی ہے، لیکن اگر آزادی کے بعد ریاستی ڈھانچے، طرزِ حکمرانی، تعلیمی نظام اور اجتماعی سوچ میں بنیادی تبدیلی نہ آئے تو صرف حکمران بدلنے سے قوموں کی تقدیر نہیں بدلتی۔ حقیقی آزادی وہ ہے جو اداروں، رویوں اور قومی کردار میں بھی جھلکے۔

شاید یہی نکتہ پاکستان پر بھی صادق آتا ہے۔ ہمارے مسائل کسی ایک شعبے یا ایک طبقے تک محدود نہیں۔ یہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ اگر تعلیم کمزور ہوگی تو معیشت بھی متاثر ہوگی، اگر انصاف میں تاخیر ہوگی تو سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔ اگر قانون کی بالادستی کمزور ہوگی تو معاشرتی اعتماد بھی کمزور پڑے گا۔ اس لیے ان کا حل بھی کسی ایک فیصلے یا ایک وقتی تبدیلی میں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قومی تعمیر ایک مسلسل عمل ہے۔ قومیں نعروں سے نہیں، اداروں سے بنتی ہیں اور ادارے صرف عمارتوں یا قوانین کا نام نہیں، بلکہ ان لوگوں کا مجموعہ ہوتے ہیں جو انہیں دیانت، قابلیت اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ چلاتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح نے بارہا اس بات پر زور دیا کہ قانون کی حکمرانی، دیانت، اتحاد اور نظم و ضبط ہی پاکستان کی کامیابی کی بنیاد ہیں۔ ان کے نزدیک ریاست کی اصل طاقت اس کے شہریوں کے اعتماد اور کردار میں مضمر تھی۔ بدقسمتی سے ہم نے کبھی کبھی ان اصولوں کو نعروں کی حد تک تو یاد رکھا، لیکن اجتماعی زندگی میں ان پر پوری طرح عمل نہ کر سکے۔

حضرت علیؓ کا ایک قول ہے کہ "عدل سے ہی حکومت قائم رہتی ہے"۔ اس مختصر جملے میں ریاستی حکمت کا ایک مکمل فلسفہ پوشیدہ ہے۔ انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں ہوتا بلکہ مواقع کی برابری، قانون کی یکساں عملداری، دیانت دارانہ انتظام اور عوام کے ساتھ انصاف پر مبنی رویے کا نام بھی ہے۔ جہاں انصاف مضبوط ہوتا ہے وہاں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور جہاں اعتماد پیدا ہوتا ہے وہاں ریاست مستحکم ہوتی ہے۔

لیکن یہ ذمہ داری صرف حکمرانوں یا اداروں پر عائد نہیں ہوتی۔ ایک باشعور معاشرہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی نہیں کر سکتا۔ قانون کی پابندی، ٹیکس کی ادائیگی، دیانت داری، اختلافِ رائے میں شائستگی، محنت، تحقیق اور تعلیم کو اہمیت دینا وہ اوصاف ہیں جو کسی بھی قوم کی اجتماعی قوت کو بڑھاتے ہیں۔ حقوق اور فرائض ایک دوسرے سے جدا نہیں کیے جا سکتے۔

یہاں علامہ اقبال کی یہ حقیقت افروز صدا ہمارے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتی ہے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

علامہ ہمیں یاد دلار ہے ہیں کہ قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی بلکہ گھروں، درس گاہوں، عدالتوں، بازاروں، کھیتوں، کارخانوں اور ہر اس جگہ تشکیل پاتی ہے جہاں ہر فرد اپنی ذمہ داری دیانت داری سے ادا کرتا ہے۔

پاکستان کو آج شاید کسی نئے نعرے سے زیادہ ایک نئے اجتماعی عہد کی ضرورت ہے۔ ایسا عہد جس میں ہم اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں، تنقید کو اصلاح کا ذریعہ سمجھیں، اداروں کو مضبوط کریں، تعلیم اور تحقیق کو قومی ترجیح بنائیں اور ہر سطح پر انصاف اور جواب دہی کو فروغ دیں۔ یہ سفر سست ہو سکتا ہے، لیکن یہی وہ راستہ ہے جو دیرپا استحکام کی طرف لے جاتا ہے۔

مجھے ہمیشہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ امید کی کمی نہیں، اعتماد کی کمی ہے اور اعتماد کسی فرمان یا قانون سے پیدا نہیں ہوتا۔ یہ عدل، خدمت، دیانت، صلاحیت اور مسلسل اصلاح سے جنم لیتا ہے۔ اگر ریاست اور معاشرہ ایک دوسرے کو حریف نہیں بلکہ شریکِ سفر سمجھیں، اگر ہم اپنے حصے کی ذمہ داری کو اپنے حق سے کم اہم نہ سمجھیں اور اگر ہم تدریجی اصلاح کو کمزوری کے بجائے قومی دانش کا مظہر سمجھیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اپنے بانیان کے خوابوں کے مطابق ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال ریاست نہ بن سکے۔

قومیں وسائل سے ضرور ترقی کرتی ہیں، مگر ان کی اصل طاقت ان کے کردار، ان کے اداروں اور ان کے باہمی اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ یہی اعتماد ہماری سب سے بڑی قومی ضرورت بھی ہے اور ہماری سب سے بڑی امید بھی۔

Check Also

Mushkil Ki Ghari

By Shahid Mehmood