Saturday, 18 July 2026
  1.  Home
  2. Blog
  3. Shahid Mehmood
  4. Mushkil Ki Ghari

Mushkil Ki Ghari

مشکل کی گھڑی

ہم بچپن سے سن رہے ہیں کہ ملک پر مشکل کی گھڑی ہے اور جلد قوم اس تکلیف کے ماحول سے باہر نکل آئے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس سے پہلے تو صرف سیاسی نعرہ ہی تھا لیکن اس وقت واقعی ملک مشکل کی گھڑی سے گزر رہا ہے اور قوم کی جو حالت اس وقت ہے پہلے کبھی نہیں تھی۔ جس طرح معاملات چل رہے ہیں اس میں تمام اشرافیہ اور بڑے عہدوں پر بیٹھے لوگ شکاری بن چکے ہیں جب کہ عوام کی حالت اس خوفزدہ ہرن کی طرح ہے جسے خوراک ڈھونڈنے کے لئے بھی موت کے منہ سے گزرنا پڑتا ہے۔

کرونا کی وبا کے بعد کا دور پاکستان کی تاریخ کا بد ترین دور ہے اور شاید آزادی کے ابتدائی دنوں میں بھی ایسی مایوسی نہیں تھی جو اس وقت ملک پر چھائی ہوئی ہے۔ پچھلے پانچ چھ سال میں جس طرح مشکل حالات کی کہانی سنا کر عوام کو لوٹا گیا ہے اور اشرافیہ کو نوازا گیا ہے اس کی مثال شاید کہیں نہیں ملتی ہے۔ ان پانچ سالوں میں عوام نے جو کچھ دیکھا ہے اس کے بعد حکمرانوں اور اداروں سے اعتماد اٹھنا ایک فطری عمل ہے۔

ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں کئی سو فیصد اضافہ کیا گیا، وزراء کی تنخواہیں اور مراعات اس طرح بڑھائی گئیں جیسے ہم کسی شہنشاہوں کے ملک کے شہری ہوں اور عوام کا مطالبہ ہو کہ وزراء کو نوازا جائے۔ پھر ججوں اور عدالتوں کے ماتحت عملے کو خوش کیا گیا۔ حکومتیں سکولوں کے اساتذہ اور ڈاکٹروں کو تو نشانہ بناتی ہیں لیکن اس عدالتی عملہ کے لئے کوئی سختی نہیں ہے جن کی تنخواہ اور الاونس سکولوں کے پی ایچ ڈی اساتذہ سے بھی زیادہ ہے۔ پھر چن چن کر مختلف کمپنیاں، کارپوریشنیں اور اتھارٹیز بنائی گئیں جہاں من چاہے افراد سے من پسند فیصلے لینے کے لئے تین تین ملین تک تنخواہیں اور پھر مراعات سے نوازا گیا۔

بیوروکریسی، وزراء، ججوں اور من پسند عہدیداروں کو کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں دی گئیں۔ اسسٹنٹ کمشنروں اور اے ایس پیز کو ویگو ڈالے فراہم کئے گئے اور ان کو عوام کے لئے خوف کی علامت بنایا گیا۔ ڈپٹی کمشنروں کو فارچیونر گاڑیاں فراہم کی گئیں، سنئر پولیس افسران کو پراڈو اور لینڈ کروزر سے نوازا گیا، چیئرمین سینیٹ کو نو دس کروڑ کی گاڑی دی گئی اور ججوں کو بھی کروڑوں مالیت کی گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ ان گاڑیوں کے لئے پٹرول کی مفت فراہمی میں اضافہ کیا گیا۔ ان مراعات کے حصول میں تمام سیاسی جماعتیں اور تمام صوبوں کی حکومتیں متفق اور ایک پیج پر ہیں۔ یہی نہیں خیبر پختون خواہ کی حکومت نے تو دو قدم آگے بڑھتے ہوئے ارکان اسمبلی اور ان کے خاندانوں کو سفارتی پاسپورٹ تاحیات دینے کی منظوری بھی دے دی۔

وزیر اعلٰی پنجاب کے لئے جدید ترین جہاز خریدا گیا جس کی قیمت گیارہ ارب روپے بتائی جاتی ہے اور پھر اس کے اخراجات کا تخمینہ بھی کروڑوں روپے ماہانہ بتایا جاتا ہے۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلٰی کے لئے گاڑیوں کے کانوائے اور ہیلی کاپٹر الگ سے موجود ہیں۔ یہ ساری عیاشیاں اور مراعات پچھلے چھ سال میں مسلسل بڑھتی رہی ہیں اور ان کا تناسب سینکڑوں سے ہزاروں فیصد تک جا پہنچا۔ ایلیٹ کلاس کی ان تمام عیاشیوں میں ان کے رشتہ داروں اور دوستوں نے بھی برابر حصہ لیا۔ حکمرانوں کو جس قدر بجلی کے پاور پلانٹس کو مفت کے پیسے دینے کی فکر لاحق تھی اتنی اگر وطن کی مٹی سے محبت ہوتی تو آج ہم خوشحالی سے زندگی گزار رہے ہوتے۔

ان بجلی کے کارخانوں کو وہ پیسے بھی دئیے گئے جن پر ان کا حق نہیں تھا اور بڑی دیدہ دلیری سے معاہدوں کا پاس رکھنے کی کمٹمنٹ دکھائی جاتی رہی جبکہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی کسی کو کوئی فکر نہیں ہے۔ اتنے بڑے پیمانے پر چند فیصد لوگوں کی مراعات اور خواہشات پوری کرنے کے لئے چند سالوں میں پچاس کھرب کے ٹیکس لگادئیے۔ پٹرول کی اصل قیمت سے زیادہ ٹیکس اور لیوی کا بوجھ ڈال دیا گیا، گیس کی قیمتوں میں اتنا اضافہ کردیا کہ گھروں میں کھانا بنانا بھی عیاشی بنادیا گیا۔ اتنا ہی نہیں عوام کے لئے مہنگے توانائی کے ذرائع کو ناپید بھی کردیا گیا۔

اس وقت شہری علاقوں میں دن بھر میں سات سے آٹھ گھنٹے گیس ملتی ہے اور گیس کا پریشر بھی نہایت کم ہوتا ہے۔ توانائی کے ذرائع جیسے جیسے مہنگے ہوتے گئے ملک سے انڈسٹری ویسے ویسے ختم ہوتی گئی اور کاروبار کی لاگت اتنی بڑھ گئی کہ بہت سارے بزنس قابل عمل ہی نہیں رہے اور جو چلتے رہے ان کی قیمتیں عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتی گئیں۔ ملک سے میڈیا ہاؤسز بند ہو گئے، پرائیویٹ سکول و کالج مشکل میں آگئے اور سرکاری سکولوں کو حکمرانوں نے بند کرنا شروع کردیا یہاں تک کہ اڑھائی کروڑ بچے سکولوں کے اخراجات کی وجہ سے گھروں میں بیٹھ گئے یا پھر چائلڈ لیبر کے چنگل میں پھنس گئے۔ سرکاری اساتذہ کو نکمے اور ناکارہ کہہ کر نکالا جانے لگا۔

دوسری طرف سرکاری ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو نشان عبرت بناکر مریضوں کے علاج کو مشکل بنادیا گیا۔ ہسپتالوں میں ادویات ملتی ہیں نہ آپریشن کا سامان ملتا ہے اور جھوٹے دعووں کے ساتھ مریضوں کا فیک علاج کیا جانے لگا۔ بڑے پیمانے پر سرکاری ملازمین کی کی آسامیوں کو ختم کیا گیا کہ مہنگائی کے ساتھ بیروزگاری کا بھی سیلاب آگیا۔ حکمرانوں کا اس پر بھی دل نہ بھرا تو رسوائی اور ظلم بانٹنا شروع کردیا۔ سڑکوں سے ٹھیلوں کو اٹھا کر لاکھوں لوگوں کو مزید بیروزگار کردیا۔ پیرا فورس اور سی سی ڈی جیسے ادارے بناکر خوف کی فضا پیدا کی گئی اور پہلی بار پنجاب میں بھی لوگ غائب ہونے لگے اور معمولی جرائم کے افراد کو پولیس مقابلوں میں ہلاک کیا گیا لیکن جب جرم کوئی طاقتور کرتا تو انھیں محکموں کے ہاتھ پاوں پھول جاتے ہیں۔ مارکیٹوں میں تاجروں کے ساتھ جو رسوائی کا سلوک پیرا فورس نے کیا ہے اس کی مثال بنانا ریاستوں میں بھی نہیں ملتی۔

لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں قدیم شکل کو بحال کرنے کے نام پر جو دکانوں اور مارکیٹوں کی توڑ پھوڑ کی اس سے مزید بیروزگاری بڑھ گئی۔ ایک طرف حکمران لوگوں کو کفایت شعاری سکھاتے ہیں اور مشکل گھڑی کا کہہ کر مارکیٹوں کو سرشام بند کرتے ہیں تو ساتھ ہی شہروں کی توڑ پھوڑ پر اربوں روپے جھونک کر خوبصورتی کے ماڈل بنانے میں مصروف ہیں۔ اس وقت اندرون لاہور کی تاریخی شکل بحال کرنے کے لئے تین ہزار کے لگ بھگ دکانوں اور لاکھوں لوگوں کے روزگار چھینے جا رہے ہیں۔ ایسے بدترین معاشی حالات میں تاریخ کو بچانے کے لئے زندہ لوگوں کی زندگیوں کو درگور کرنے والے حکمرانوں کی خواہشات پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔

مجھے کچھ لوگوں نے بتایا کہ شمالی لاہور میٹرو چوک ناخدا پر انڈر پاس بنانے کی تیاریاں ہورہی ہیں اور سینکڑوں دکانیں، پلازے، تین پرائیویٹ ہسپتال اور مسجدیں اس پراجیکٹ کی زد میں آرہی ہیں جبکہ اس جگہ انڈر پاس بنانے کی خوئی ضرورت بھی نہیں ہے لیکن حکمرانوں کے ناز نخروں پر پوری قوم عذاب سے گزر رہی ہے اور یہ سب کچھ قرضے لے کر کیا جارہا ہے جس کا بوجھ بھی عوام ہی پڑے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ملک پر واقعی مشکل کی گھڑی ہے اور یہ مشکل حکمرانوں اور اشرافیہ کی پیدا کی ہوئی ہے۔

Check Also

Riyasat, Muashra Aur Etemad Ki Bahali

By Aftab Alam