Shab e Firaq Ka Ahwal
شب فراق کا احوال

شب فراق کا احوال یاد آ ہی گیا
پھر ایک تیر سا دل میں اتر گیا سر شام
ہم پاکستانی زبان کے شہ سوار ہیں۔ ایف ایس سی کے دن تھے اور 1981/82 کا زمانہ تھا۔ فزکس کے پریکٹیکل کے دن ختم ہو چُکے تھے اور مجھے کسی کام سے کالج کی لیب جانا پڑا۔ ایک نوجوان لیب ٹیک کام کرتا تھا اور ہم اس زمانے میں پندرہ سولہ سال میں تھے اور اس عمر میں سب کو ہی بھائی جان کہتے تھے۔ کام کا پوچھ کر چلتے ہوئے ایک روانی میں کہہ دیا کہ بھائی جان، امتحان پاس ہیں اور دُعا کریں۔
"بھائی جان" کہنے لگے
"ابے جا جا تیرے جیسوں کے نمبر آنے لگے"
ایف ایس سی کا رزلٹ آنے کے بعد بڑی خواہش ہوئی کہ جا کر بھائی جان کو اپنے نمبر بتاکر آؤں۔
رزلٹ کے بعد کچھ شُنید تھی کہ گورنمنٹ، میڈیکل کالج کی سیٹیں کم کرنے کا سوچ رہی ہے (1984) کا ذکر ہے۔ ہماری ایک عزیزہ کے شوہر ایک بہت مشہور کالج کے پرنسپل تھے۔ کسی کام سے جانا ہوا تو چُھوٹتے ہی کہنے لگیں "تمہارے داخلے کا کیا ہوا"۔
میں نے جواب میں کہا کہ سُنا ہے کہ پالیسی بدل رہی ہے۔ کہنے لگیں "جب تُم لوگوں سے نمبر نہیں آتے تو امتحان ہی کیوں دیتے ہو"۔ لہجہ بہت تلخ تھا اور الفاظ کاٹ دینے والے تھے۔
بہت سال گزر گئےاور ان باتوں نے ذہن میں کہیں تو ڈیرہ جمایا۔
2007 کے لگ بھگ میں بحثیت اٹینڈنگ فزیشن، انڈیانا کے ایک ٹیچنگ اسپتال میں کام کر رہا تھا اور ایک نوجوان پاکستانی ڈاکٹر سے ملاقات ہوئی۔ علیک سلیک کے بعد کہنے لگا کہ آپ اور آپ کی فیملی ہمارے گھر کھانا کھانے آئیے۔ اس وقت ہمارے بچے چھوٹے تھے۔ بہرحال ہم پہنچے اور اس نوجوان ڈاکٹر نے بہت خاطر مُدارات کی۔ کھانے کے بعد عمومی گفتگو شروع ہوئی تو کہنے لگا۔ سرفراز بھائی آپ نے مجھے پہچانا ہے؟
میں اس سوال کیلئے تیار نہیں تھا نہ ہی اُس کے چہرے پر شناسائی کے آثار دکھائی دئیے۔ کہنے لگا کہ میں آپ سے اوماہا، نبراسکا میں ملا تھا۔ جہاں میں نے ریزیڈنسی کی تھی۔ یاد دلاتے ہوئے کہنے لگا کہ آپ نے اس وقت میری بہت دل جوئی کی تھی اور مجھے دلاسا دیا تھا۔ مجھے آپ یاد تھے۔ اُس دن کا کھانا اس نوجوان لڑکے کی طرف سے سالوں پہلے کے تشکر کا ایک احساس تھا۔ مہربان لفظ اس کی یادوں کا حصہ بن گئے۔
ریزیڈنسی کے بالکل ابتدائی دن تھےاور میری اسسٹنٹ پروفیسر ہمیں بہت محنت سے پڑھاتی تھیں۔ خود بہت اچھی پرسنیلٹی کی مالک تھیں لیکن خود بھی کسی اعصابی بیماری کا شکار تھیں اور ابھی کم عمر ہی تھیں لیکن چل پھر نہیں سکتی تھیں اور موٹرائزڈ اسکوٹر پر راؤنڈ کرتی تھیں۔ بہت لائق، خوش اخلاق اور مہربان ڈاکٹر تھیں اور بڑی محنت سے سمجھاتی تھیں۔
برسبیل تذکرہ امریکہ کا عمومی ماحول بہت خوش گوار ہوتا ہے اور کیا پروفیسر تو کیا جونئیر ریزیڈنٹ، سب لنچ پر یا کافی بریک پر اکٹھے ہوتے ہیں اور بہت کھلے ماحول میں بات چیت ہوتی ہے۔ ہمارے ساتھ ایک خوشگوار اور خوبصورت سا میڈیکل اسٹوڈنٹ تھا اور سب پیراشوٹ سے کودنے پر گفتگو کر رہے تھے۔ میرے ابتدائی دن تھے اور میں نے بھی گفتگو کے عین بیچ میں چھلانگ لگائی اور گفتگو کا تیاپانچا کر دیا۔ وہ ڈاکٹر بھی موجود تھیں۔
یقین جانئیے، نہ تو میرا مذاق اڑایا گیا اور نہ ہی مجھے بےہودگی سے جواب دیا گیا۔ میری بات سُنی گئی اور کچھ منٹوں کے بعد موضوع تبدیل ہوگیا۔ اس واقعے کا میری زندگی پر بہت اثر رہا اور میں اس وقت بھی بہت نرم مزاج تھا لیکن عمر کے اس حصے میں مجھے بالکل غصہ نہیں آتا اور شاید اس واقعے کا اثر مجھ پر آج بھی ہے۔ اس دن جو سیکھا اس کی پرچھائیاں شاید آج بھی زندگی کا حصہ ہیں
آپ کے چند میٹھے بول، تھوڑی سی برداشت اور ذرا سی تحمل مزاجی کسی بھی معاشرے میں ایک ایسا بیج بو سکتی ہے جس سےنرم مزاجی کی کونپل پھوٹے گی اور اس کو تنا آور درخت بنتے ہوئے دیر نہیں لگے گی۔
آپ اور ہم بہت اہم ہیں۔ نوجوانی کے جوش و جذبے یا اگلی عمر کے پڑھے لکھے ہونے کی تہذیب، شائستگی اور آداب مجلس بہت سوں کی زندگی میں فرق ڈال دیں گے۔ پہلا قدم تو ہمیں آپ کو ہی اٹھانا ہے اور کیا آپ یہ قدم آج ہی اٹھا سکتے ہیں؟
دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے
لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے

