Ehsas e Kamtari Ke Shikar Numainday
احساس کمتری کے شکار نمائیندے

انگریز برصغیر پر حکومت کرکے چلے گئے ان کا پرچم اتر گیا ان کی فوج واپس چلی گئی لیکن ایک چیز آج بھی ہمارے سروں پر سوار ہے اور وہ ہے ذہنی غلامی۔ گلگت بلتستان اسمبلی میں جب عوامی نمائندے اپنی ہی عوام کے سامنے انگریزی میں تقریر کرتے ہیں تو مجھے افسوس ان کی انگریزی پر نہیں انکی نالائقی پر نہیں انکے تلفظ پر نہیں ان کی سوچ پر ہوتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ انگریزی جانتے ہیں یا نہیں سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی زبان کو اتنا حقیر سمجھتے ہیں کہ اس میں بات کرنا اپنی شان کے خلاف محسوس ہوتا ہے؟
اسمبلی کسی یونیورسٹی کا سیمینار نہیں نہ ہی آئیلٹس (IELTS) کا امتحانی ہال ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ایک چرواہے ایک مزدور ایک کسان ایک استاد اور ایک بے روزگار نوجوان کی آواز گونجنی چاہیے۔ اگر نمائندہ بولے اور عوام کو سمجھ ہی نہ آئے کہ اس نے کہا کیا ہے تو پھر یہ تقریر عوام کے لیے نہیں کیمروں کے لیے ہوتی ہے۔ اپنی پہچان کے لئے ہوتی ہے شہرت کے لئے ہوتی ہے۔ دنیا کی باوقار قوموں کو دیکھیے۔ چین کا صدر چینی زبان بولتا ہے ایران کا رہنما فارسی میں خطاب کرتا ہے، ترکی کا صدر ترکی زبان میں گفتگو کرتا ہے، روس کا صدر روسی میں اور عرب دنیا کے رہنما عربی میں انہیں معلوم ہے کہ اپنی زبان عزت ہوتی ہے احساسِ کمتری نہیں۔
مترجم دنیا کے لیے ہوتے ہیں اپنی قوم کے لیے نہیں ہم نے انگریزی کو علم کی زبان سے زیادہ اہمیت دی ہے بلکہ پڑھے لکھے کی علامت بنا دیا ہے یہی چیز کم عقلی کی کم علمی کی دلیل ہے۔ ہمارے ہاں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جتنی مشکل انگریزی ہوگی اتنی ہی بڑی قابلیت سمجھی جائے گی حالانکہ اصل قابلیت مشکل زبان بولنا نہیں بلکہ مشکل مسائل آسان زبان میں حل کرنا ہے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے اپنے نمائندوں کو اس لیے ووٹ نہیں دیا کہ وہ اسمبلی میں انگریزی لہجے کی مشق کریں انہیں اس لیے منتخب کیا کہ وہ عوام کے دکھ درد کو عوام کی زبان میں بیان کریں۔ نمائندہ وہ نہیں جو ڈکشنری کے الفاظ سنائے نمائندہ وہ ہے جو عوام کے دل کی آواز بن جائے مختصر وقت میں بہتر انداز میں آسان لفظوں میں بیان کرے اور آخر میں صرف ایک سوال۔۔
اگر اپنی ہی سرزمین پر اپنی ہی اسمبلی میں اپنی ہی قوم کے سامنے اپنی ہی زبان بولنے میں شرم محسوس ہوتی ہے تو پھر آزادی کا جشن کس بات کا منایا جا رہا ہے؟ انگریز تو 1947ء میں چلے گئے تھے مگر اگر آج بھی ہماری سوچ ان کے دروازے پر دستک دے رہی ہے تو مان لیجیے کہ زنجیریں جسم سے نہیں ذہن سے لپٹی ہوئی ہیں۔ قومیں اس وقت عظیم بنتی ہیں جب وہ اپنی زبان پر فخر کرتی ہیں اور جو قوم اپنی زبان سے شرمندہ ہو جائے وہ دوسروں کی تاریخ تو پڑھ سکتی ہے مگر اپنی تاریخ کبھی نہیں لکھ سکتی۔
اسمبلی عوامی نمائندگی کا ایوان ہوتا ہے انگریزی زبان کی نمائش کا مقابلہ نہیں یاسین کی جنیفر ہوں یا پونیال کے جلال یا سکردو کے توقیر مہدی اگر تقریر کا مقصد عوام تک اپنا مؤقف پہنچانا ہے تو ایسی زبان اختیار کی جانی چاہیے جو عوام کی اکثریت سمجھ سکے محض مشکل انگریزی بول لینے سے نہ مسائل حل ہوتے ہیں اور نہ ہی نمائندگی کا حق ادا ہوتا ہے اور اگر اسمبلی میں زبانوں کی نمائش ہی معیار بن جائے تو پھر کیوں نہ اگلے اجلاس میں کوئی عربی میں تقریر کرے، کوئی فارسی میں اور کوئی چینی میں؟
آخر عوام کس کی بات سمجھیں گے۔ نمائندے کا کمال یہ نہیں کہ وہ ایسی زبان بولے جس کے لیے ڈکشنری کھولنی پڑے، بلکہ اصل کمال یہ ہے کہ وہ عام آدمی کے دکھ درد کو عام آدمی کی زبان میں بیان کرے اگر کسی کو اپنی علمی صلاحیت پر اتنا ہی ناز ہے تو وہ مقابلے کے امتحانات تحقیق، انتظامی خدمات یا دیگر قومی میدانوں میں اپنی قابلیت ثابت کرے۔ اسمبلی میں اصل امتحان لہجے کا نہیں کارکردگی کا ہوتا ہے عوام کو متاثر کرنے کے لیے بھاری بھرکم الفاظ نہیں بلکہ سچے کردار، مؤثر قانون سازی اور عملی خدمت درکار ہوتی ہے۔
پاکستان کی سیاست میں ایک عجیب روایت جنم لے چکی ہے یہاں عوام کے مسائل پر گفتگو کم اور اپنی قابلیت کا مظاہرہ زیادہ کیا جاتا ہے اسمبلی، جو عوام کی آواز بننے کے لیے قائم کی گئی تھی بعض اوقات ایسی محفل محسوس ہوتی ہے جہاں مقصد عوام کو سمجھانا نہیں بلکہ انہیں متاثر کرنا ہوتا ہے۔ حال ہی میں گلگت بلتستان اسمبلی میں انگریزی تقاریر پر جو بحث چھڑی اس نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کیا عوامی نمائندے کی کامیابی اس بات میں ہے کہ وہ ایسی انگریزی بولے جس کے لیے لغت کھولنی پڑے یا اس میں کہ وہ اپنے ووٹر کی زبان میں اس کے دکھ درد بیان کرے عوام نے اپنے نمائندوں کو انگریزی ادب کا لیکچر سننے کے لیے منتخب نہیں کیا اور نہ ہی اسکی ضرورت ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ اسمبلی میں بجلی پانی بے روزگاری تعلیم صحت اور سڑکوں کی بات ہو۔
اگر تقریر کے بعد عوام یہ پوچھتے رہ جائیں کہ آخر کہا کیا گیا تو پھر ایسی فصاحت کا فائدہ کس کو پہنچا ہم اپنی زبان میں تقریر سے کیوں ہچکچاتے ہیں کیوں انگریزی کو ترجیع دیتے ہیں اپنی مادری زبان پر پوری دسترس ہونے کے باوجود ایک ایسی زبان جس کو 80 فیصد اسمبلی کے نمائیندے بھی نہ سمجھتے ہوں تو عوام اس تقریر کا کیا آچار ڈالے گی۔ لگتا ہے ہمارے نمائیندے بھی احساس کمتری کا شکار ہیں گائے کے آگے بین نہ بجائیں مقصد کو لیکر آگے بڑھیں ہمیں ایسے خود ساختہ نمائیندوں کی انگریزی سے کوئی غرض نہیں ہم ایسے لوگوں سے اظہار برات کرتے ہیں اور وزیر اعلی سے التجا کرتے ہیں کہ نمائیندوں کو کہیں اپنی زبان میں بریفنگ دیں۔

