Amjad Advocate, Qudrati Wasail Aap Ke Muntazir Hain
امجد ایڈووکیٹ، قدرتی وسائل آپ کے منتظر ہیں

گلگت بلتستان قدرت کا وہ شاہکار ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ دنیا کے بلند ترین پہاڑ، وسیع گلیشیئرز، بے کراں آبی ذخائر، قیمتی معدنیات، زرخیز وادیاں، خوش ذائقہ پھل اور سیاحت کے ایسے مواقع جو کسی بھی خطے کی معیشت کا رخ بدل سکتے ہیں۔ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ انہی وسائل کی سرزمین پر رہنے والے لوگ آج بھی بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، بے روزگاری، صحت و تعلیم کی ناکافی سہولیات، ٹوٹی ہوئی سڑکوں اور بنیادی ضروریات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ محرومی وسائل کی کمی نہیں بلکہ منصوبہ بندی اور عمل درآمد کی کمزوری کی عکاس ہے۔
وزیراعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ ایک ایسے وقت میں حکومت کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں جب عوام تبدیلی کے منتظر ہیں۔ یہ وہ موقع ہے جہاں تاریخ ایک نئے باب کی منتظر ہے۔ حکومت اگر اپنی تمام تر توجہ قدرتی وسائل کے مؤثر استعمال پر مرکوز کر دے تو گلگت بلتستان چند برسوں میں اپنی تقدیر بدل سکتا ہے۔ ہزاروں میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے دریا آج بھی مکمل طور پر استعمال نہیں ہو سکے، جبکہ بجلی کی قلت صنعت، تجارت، تعلیم اور گھریلو زندگی کو متاثر کر رہی ہے۔ اگر توانائی کے منصوبوں کو اولین ترجیح بنا کر مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تو یہ صرف اندھیروں کا خاتمہ نہیں ہوگا بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے نئے دروازے بھی کھلیں گے۔
اسی طرح گلگت بلتستان کے پہاڑ قیمتی معدنیات سے مالا مال ہیں، مگر ان سے حاصل ہونے والا فائدہ مقامی عوام تک بہت کم پہنچتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معدنی وسائل کی تلاش، نکاسی اور مارکیٹنگ کے لیے شفاف پالیسی بنائی جائے تاکہ سرمایہ کاری بڑھے، مقامی نوجوانوں کو روزگار ملے اور خطے کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ سیاحت کے شعبے میں بھی بے شمار امکانات موجود ہیں، مگر بہتر سڑکیں، جدید ہوٹل، صاف ماحول، تربیت یافتہ گائیڈز اور مؤثر تشہیر کے بغیر ان مواقع سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا۔ اگر حکومت سیاحت کو باقاعدہ صنعت کا درجہ دے تو ہزاروں خاندانوں کی معاشی حالت بدل سکتی ہے۔
زرعی شعبہ بھی گلگت بلتستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتا ہے۔ یہاں پیدا ہونے والے خوبانی، سیب، چیری، اخروٹ اور دیگر پھل عالمی منڈیوں میں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں، بشرطیکہ کولڈ اسٹوریج، فوڈ پروسیسنگ یونٹس، پیکجنگ اور برآمدی نظام کو جدید بنایا جائے۔ اسی طرح نوجوانوں کو فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور چھوٹے کاروبار کے لیے آسان قرضوں کی فراہمی انہیں روزگار کے متلاشی نہیں بلکہ روزگار پیدا کرنے والا بنا سکتی ہے۔
امجد حسین ایڈووکیٹ کے لیے یہ صرف ایک آئینی مدت نہیں بلکہ تاریخ میں اپنا نام سنوارنے کا موقع ہے۔ عوام حکومت سے معجزات کی توقع نہیں رکھتے، لیکن وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ دستیاب وسائل کو دیانت داری، شفافیت اور دوراندیشی کے ساتھ عوامی خوشحالی میں تبدیل کیا جائے۔ حکومتیں اپنے وعدوں سے نہیں بلکہ اپنے نتائج سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر موجودہ حکومت گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کو عوامی ترقی کا ذریعہ بنانے میں کامیاب ہوگئی تو آنے والی نسلیں اسے ایک ایسی قیادت کے طور پر یاد رکھیں گی جس نے نعروں کے بجائے عملی اقدامات سے اس خطے کی تقدیر بدلنے کی بنیاد رکھی۔

