Monday, 29 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Rauf Klasra
  3. Kharian Motorway Se Mianwali-Muzaffargarh Sarak Tak

Kharian Motorway Se Mianwali-Muzaffargarh Sarak Tak

‏کھاریاں موٹر وے سے میانوالی-مظفرگڑھ سڑک تک

یقیناََ کھاریاں اسلام آباد موٹر وے سینٹرل پنجاب کے لیے اہم منصوبہ ہے اور اسے مکمل ہونا چاہئے۔ ہم سب کو اس کا فائدہ ہوگا۔ لیکن بیس برس سے زائد گزر گئے اور ہزاروں نہیں تو سینکڑوں خاندان میانوالی مظفر گڑھ (MM) طویل روڈ پر حادثات میں جان دھو بیٹھے۔ اس روڈ پر کراچی سے پشاور کابل تک ٹرک اور نیٹو کے کینٹرز چلتے رہے جنہوں نے سڑک کو تباہ کیا لیکن اس اہم سڑک کو کبھی موٹر وے چھوڑیں اس کی مرمت تک کا نہ سوچا گیا۔

میں برسوں سے لکھتا اور بولتا آیا کہ یہ سڑک جنوبی پنجاب/سرائیکی علاقوں کے لیے لائف لائن ہے۔ میانوالی، بھکر، لیہ، مظفرگڑھ، ڈیرہ غازی خان، راجن پور، ملتان تک شمالی پنجاب/خیبرپختونخوا کو ملانے کی واحد اہم اور طویل سڑک ہے۔ یہاں روز حادثوں میں لوگ مرتے ہیں لیکن کبھی موٹر وے چھوڑیں مناسب سڑک کا بجٹ بھی نہ تھا۔

عمران خان وزیراعظم بنے تو پہلی ملاقات میں اس سڑک کا ایشو اٹھایا کہ وہ ان اضلاع سے جیتے تھے۔ وہ چالیس پچاس صحافیوں /اینکرز کی موجودگی میں مجھ سے ناراض ہوئے کہ ان کا کام سڑکیں بنانا نہیں تو میں نے جواباََ کہا تھا آپ کا کام ان علاقوں سے ووٹ سمیٹ کر وزیراعظم بننا ہے وہاں کے دکھ تکلیفوں سے آپ کو کوئی غرض نہیں؟

جواباََ مجھ پر بین لگا کہ اسے آئندہ وزیراعظم کی بریفنگ میں نہیں بلانا۔ ساتھ ہی مجھ پر پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا چھوڑ دیا گیا اور گالی گلوچ بھگتی کہ ہمارے ہر دل عزیز وزیراعظم خان کو سوال کرنے کی جرات کیوں کی۔

خیر اللہ بھلا کرے وزیرمواصلات مراد سیعد کا جنہوں نے کچھ عرصے کے بعد مجھے کال کی اور کہا وہ اسٹڈی کراتے ہیں کہ پرائئوٹ پبلک پارٹنر شپ پر سڑک بن جائے۔ وہ نہ بن سکی۔

میں نے مراد کو کہا یار موٹر وے بنوا دیں، انہوں نے کوشش کی تو انہیں کہا گیا ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں۔

خیر مراد سعید کی مہربانی اس نے پھر بھی 18 ارب مرمت کے لیے ریلیز کرائے لیکن چار پانچ سو طویل سڑک کی مرمت کے لیے 18 ارب اونٹ کے منہ میں زیرہ ثابت ہوا۔

مریم نواز صاحبہ وزیراعلی بنیں تو پھر رولا ڈالا اور اپنا رونا رویا تو انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ وہ یہاں ایم ایم روڈ کو ون وے بنائیں گی، دو سال گزر گئے ہیں لیکن کبھی دوبارہ نہ سنا کہ ایم ایم اے روڈ بھی ون وے یا موٹر وے بن رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف صاحب کو خیر ہمارے سرائیکی علاقوں کی ترقی سے کبھی ایسی خاص دلچسپی نہ رہی کہ وہ تین دفعہ وزیراعلی رہے لیکن ایم ایم اے روڈ پر کبھی نظر نہ پڑی اور لوگ مرتے رہے اور پانچ سالوں میں ڈان کی خبر مطابق ایک ہزار بندہ اس سڑک پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

اب وہ چار سال سے شہباز شریف صاحب وزیراعظم ہیں۔ ہمارے علاقے سے یار دوست وزیر بنا دیے، لیکن سڑک کا فنڈ نہیں ہے۔

اس طویل سڑک کے اردگرد چھ سات اضلاع کی بہت بڑی آباد رہتی ہے اور جو کراچی ڈیرہ اسماعیل خان سے پشاور کابل تک جاتی ہے۔

ہمارے جنوب کے پچاس ایم این ایز، ایک سو ایم پی ایز یا ڈیرہ اسماعیل خان کے مولانا فضل الرحمن، فیصل کنڈی یا علی امین گنڈاپور کو بھی خدا نے توفیق نہ دی کہ وہ اس طویل سڑک کو موٹر وے بنانے پر توجہ دیتے یا دلواتے کیونکہ وہ بھی پہلے ملتان/اسلام آباد سفر کے لیے اس طویل ایم ایم روڈ کو ہی استعمال کرتے تھے۔ اب خیر سی پیک موٹر وے ان کو میسر ہے لیکن یہ بدقسمت ایم ایم روڈ جسے خونی روڈ کہا جاتا ہے آج بھی نہ بن سکا کہ ہمارے پاس فنڈز نہیں ہیں۔

کھاریاں اسلام آباد کے لیے موٹر وے کے لیے شہباز شریف/پلاننگ ڈویزن کے پاس فنڈز آ جاتے ہیں لیکن ہمارے سرائیکی علاقوں /ایم ایم روڈ کی بات ہو تو پوری حکومت، حکمران اور افسران دلوالیہ ہو جاتے ہیں۔

عمران خان ایم ایم روڈ کے نام پر ناراض ہو گئے تھے، مریم نواز ایم ایم روڈ کو موٹر وے بنانے کا وعدہ کرکے بھول گئیں، شہباز شریف کی ویسے ہمارے علاقے کبھی ترجیح نہیں رہے۔ رہے نام اللہ کا۔

About Rauf Klasra

Rauf Klasra is a Pakistani journalist and Urdu language columnist. He files stories for both the paper and television whereas his column appears in Urdu weekly Akhbr-e-Jahaan and Dunya newspaper. Rauf was earlier working with The News, International where he filed many investigative stories which made headlines.

Check Also

Roshani, Yaadasht Aur Lahore Ki Basri Tareekh

By Dr. Anila Zulfiqar