Monday, 29 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Tum He Kaho Ye Andaz e Musalmani Hai?

Tum He Kaho Ye Andaz e Musalmani Hai?

تم ہی کہو کہ یہ انداز مسلمانی ہے؟

اسد صہیب اور شہزاد ملک (بی بی سی) کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسلام آباد میں اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی، کرتے ہوئے مبینہ طور پر 500 کلوگرام انسانی پلیسینٹا برآمد کیا ہے اور انسانی اعضا کی غیرقانونی فروخت میں ملوث ہونے کے الزام میں تین چینی شہریوں سمیت پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے انھیں گرفتار کر لیا ہے۔

ایف آئی اے کی جانب سے درج ہونے والی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان مبینہ باہمی ملی بھگت کے ساتھ انسانی پلیسنٹا کو بھیڑ کا پلیسنٹا، ظاہر کرکے اسے تجارتی مقصد کے لیے بیرون ملک بھیجتے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق برآمد ہونے والے پلیسنٹا کے نمونے مزید کارروائی کے لیے پمز ہسپتال بھجوائے گئے ہیں اور گرفتار پانچوں ملزمان کا مقامی عدالت سے چار روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرکے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔

پلیسنٹا، حمل کے دوران رحمِ مادر میں تشکیل پانے والا وہ عضو ہے جو امبیلکل کارڈ (نال) کے ذریعے جنین (بچے) سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ نو مہینے تک بچے کو آکسیجن اور غذائی اجزا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ بچے کے جسم کے تمام گندے اور فاضل مادوں کو اپنے اندر جذب اور خارج کرتا ہے۔

بچے کی ولادت کے فوراً بعد خون اور لوتھڑوں سے لت پت یہ عضو جسم سے باہر آ جاتا ہے، جسے طبی اور قانونی طور پر "بائیو ویسٹ" یا غلیظ طبی فضلہ تسلیم کرکے ہسپتال کی سطح پر مخصوص سائنسی طریقے سے جلا کر تلف کرنا لازمی ہوتا ہے۔ لیکن یہی وہ غلاظت ہے جہاں سے اسمگلنگ کا یہ کریہہ دھندہ جنم لیتا ہے۔

پاکستان میں اس نیٹ ورک کو چلانے کے لیے انسانی اخلاقیات اور ہسپتال کے نچلے عملے کے لالچ کا بدترین فائدہ اٹھایا گیا:

سستے داموں غلاظت کی خریداری: ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA) کے حکام کے مطابق، یہ ملزمان اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور پشاور کے مختلف ہسپتالوں کے نچلے عملے یا مڈل مین سے رابطہ کرکے محض 800 روپے فی پلیسنٹا کے عوض اسے خریدتے تھے۔

کراہیت آمیز ذخیرہ اندوزی: گرفتار کیے گئے دو پاکستانی ملزمان بنیادی طور پر چینی باشندوں کے لیے بطور سہولت کار کام کر رہے تھے، جو مختلف ہسپتالوں سے ولادت کے بعد نکلنے والے اس کچے اور خونی مواد کو ڈبوں میں اکٹھا کرکے اسلام آباد کے پوش سیکٹرز (F-7 اور E-11) کی نجی رہائش گاہوں تک پہنچاتے تھے جہاں اسے فریزروں میں منجمد اور خشک کرکے پروسیس کیا جاتا تھا۔

عالمی منڈی کا بھیانک چہرہ: خوراک اور ادویات میں گھناؤنا استعمال۔۔

پاکستان کے ہسپتالوں کے کچرے سے کوڑیوں کے داموں اکٹھا کیا جانے والا یہ انسانی مواد بین الاقوامی بلیک مارکیٹ میں پہنچ کر فارماسیوٹیکل، روایتی ادویات اور کاسمیٹک انڈسٹری میں بھاری قیمتوں پر بکتا ہے، جو انسانی مائنڈ سیٹ کے لیے انتہائی کراہیت آمیز ہے:

انسانی عضو کو بطور خوراک کھانا (Placentophagy): عالمی سطح پر اس کچے، خونی مواد کو صاف اور خشک کرکے باقاعدہ کپسول اور پاؤڈر کی شکل دی جاتی ہے، یا اسموتھیز اور کھانوں میں پکا کر کھایا جاتا ہے۔ چین کی روایتی طب (Traditional Chinese Medicine) میں اسے "زی ہے چے" کہہ کر طاقت کی بحالی کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کچھ مغربی ممالک میں بھی خواتین زچگی کے بعد کی ڈپریشن کم کرنے کے لیے اسے کھاتی ہیں۔

طبی اور سائنسی ردِعمل: امریکی ادارے CDC اور دنیا بھر کے طبی ماہرین نے اس عمل کو شدید ترین کراہیت آمیز اور خطرناک قرار دیا ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق انسانوں میں پلیسنٹا کھانے سے کسی بھی قسم کے طبی فائدے کے شواہد نہیں ملے، بلکہ یہ ایک ایسا عضو ہے جو نو ماہ تک بچے کو بیکٹیریا اور زہریلے فضلے سے بچانے کے لیے خود تمام گندگی فلٹر کرتا ہے۔ اسے کھانا گویا خود غلاظت اور جراثیم کو جسم میں اتارنے کے مترادف ہے۔

سب سے ہولناک رخ: بائیولوجیکل ٹائم بم اور پوشیدہ وبائی امراض۔۔

اس کریہہ کاروبار کا سب سے لرزہ خیز اور تشویش ناک پہلو وہ بائیولوجیکل خطرہ (Biological Hazard) ہے جو پبلک ہیلتھ کے لیے ایک پوشیدہ ٹائم بم بن چکا ہے:

اسکریننگ کے بغیر خون کے مہلک وائرسز: ہسپتالوں کے وارڈز سے چوری چھپے خریدا جانے والا یہ مواد کسی طبی اسکریننگ کے بغیر حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر یہ پلیسنٹا کسی ایسی خاتون کے جسم سے نکالا گیا ہو جو ایچ آئی وی (HIV/AIDS)، ہیپاٹائٹس بی یا سی (Hepatitis B & C) جیسے خون کے ذریعے پھیلنے والے ہولناک اور جان لیوا امراض میں مبتلا تھی، تو وہ وائرس اس منجمد مواد کے اندر شدید ترین حد تک سرگرم اور محفوظ رہتے ہیں۔

جراثیموں کی منتقلی اور لوکل ہینڈلنگ: اسلام آباد کے جن نجی گھروں کے کچن اور کمروں میں اس کچے، آلودہ گوشت کو ننگے ہاتھوں سے صاف، منجمد یا کیمیکل لگا کر خشک کیا جا رہا تھا، وہاں کام کرنے والے مقامی ملازمین خود ان مہلک بیماریوں اور شدید ترین بیکٹیریل انفیکشنز (جیسے گروپ بی اسٹریپٹوکوکس) کا شکار ہو رہے تھے۔ یہی نہیں، یہ مواد کسٹمز کو دھوکہ دے کر جس بھی ملک میں اسمگل ہو کر جا رہا تھا، وہاں کی لیبارٹریز اور مصنوعات کے استعمال کنندگان کے لیے بھی بائیو-انفیکشن پھیلانے کا باعث بن رہا تھا۔

پاکستان کے "ہیومن آرگن اینڈ ٹشو ٹرانسپلانٹ ایکٹ 2010" (HOTA) کے تحت انسانی جسم کے کسی بھی حصے کی تجارتی بنیادوں پر خرید و فروخت سنگین اور ناقابلِ ضمانت جرم ہے。 یہ اسکینڈل اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ محض چند پیسوں کے لالچ میں انسانی فضلے کو بین الاقوامی سطح پر خوراک اور بیوٹی پراڈکٹس کی شکل میں کھپایا جا رہا ہے، جو کہ جدید تہذیب اور پبلک ہیلتھ کے منہ پر ایک طمانچہ ہے اور ہسپتالوں کے ویسٹ مینجمنٹ پر سخت ترین گرفت کا تقاضا کرتا ہے۔

Check Also

Aaiye Kuch Ilm e Nafsiyat Parhen

By Sarfraz Saeed Khan