Monday, 29 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Asif Masood
  4. Iqtedar Ka Nasha Aur Azmat Ka Rasta

Iqtedar Ka Nasha Aur Azmat Ka Rasta

اقتدار کا نشہ اور عظمت کا راستہ

سیاست کی دنیا بظاہر بہت دل کش دکھائی دیتی ہے۔ اقتدار کے ایوان، پروٹوکول کی چمک، فیصلوں کی قوت، ذرائع ابلاغ کی توجہ اور عوامی شہرت ایک ایسی فضا پیدا کرتے ہیں جس میں داخل ہونے والا شخص اکثر خود کو غیرمعمولی سمجھنے لگتا ہے۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اقتدار اور عظمت ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ اقتدار کسی کے پاس بھی آ سکتا ہے، وراثت سے بھی، حادثات سے بھی، حالات کے جبر سے بھی اور عوامی مقبولیت کے ذریعے بھی، مگر عظمت صرف ان لوگوں کو ملتی ہے جو اپنی ذات کی حدود سے نکل کر دوسروں کے لیے جیتے ہیں۔ اقتدار انسان کو طاقت دیتا ہے لیکن عظمت انسان کو وقار عطا کرتی ہے۔ اقتدار خوف پیدا کر سکتا ہے مگر عظمت احترام پیدا کرتی ہے۔ اقتدار وقتی ہوتا ہے جبکہ عظمت نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ کے صفحات پر بعض حکمرانوں کے نام دھندلا جاتے ہیں جبکہ کچھ لوگ، جن کے پاس کبھی کوئی سرکاری منصب بھی نہیں تھا، صدیوں بعد بھی انسانوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔

مصنف جب پاکستانی سیاست کی شخصیات کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کی نگاہ صرف سیاسی کامیابیوں یا ناکامیوں تک محدود نہیں رہتی بلکہ وہ شخصیت کے اندرونی جہان کو بھی پرکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ چوہدری نثار علی میں بے پناہ صلاحیت موجود تھی لیکن روحانی جہت معمولی تھی۔ یہ ایک مختصر سا جملہ ہے مگر اس کے اندر انسانی کامیابی کے ایک بڑے راز کی طرف اشارہ موجود ہے۔ دنیا میں بے شمار لوگ ذہانت، قابلیت، انتظامی مہارت اور سیاسی بصیرت رکھتے ہیں لیکن ان کی زندگی میں وہ گہرائی پیدا نہیں ہو پاتی جو انسان کو محض کامیاب نہیں بلکہ عظیم بناتی ہے۔ ذہانت انسان کو آگے لے جا سکتی ہے لیکن بصیرت اسے بلندی عطا کرتی ہے۔ صلاحیت راستے کھول سکتی ہے لیکن روحانی وسعت منزلوں کا تعین کرتی ہے۔ انسان کی اصل آزمائش یہ نہیں کہ وہ کتنا باصلاحیت ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی صلاحیت کو کس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اگر مقصد صرف ذاتی کامیابی، اقتدار اور برتری ہو تو صلاحیت ایک محدود دائرے میں قید ہو جاتی ہے، لیکن اگر مقصد انسانیت کی خدمت اور اجتماعی بھلائی ہو تو وہی صلاحیت عظمت کا زینہ بن جاتی ہے۔

مصنف کا یہ جملہ بھی غور طلب ہے کہ اللہ کی رحمت کا دروازہ ایک لمحے میں کھل سکتا ہے لیکن عظمت مانگے بغیر نہیں ملتی۔ یہ دراصل اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ زندگی کی بڑی نعمتیں صرف خواہش سے حاصل نہیں ہوتیں، ان کے لیے قربانی دینی پڑتی ہے۔ عظمت کا تعلق دولت، خاندان، عہدے یا شہرت سے نہیں بلکہ دکھ جھیلنے، ایثار کرنے اور دوسروں کے لیے اپنی خواہشات قربان کرنے سے ہے۔ تاریخ میں جن لوگوں کو واقعی عظیم کہا گیا، ان کی زندگیاں آسان نہ تھیں۔ انہوں نے تکلیفیں برداشت کیں، تنہائی دیکھی، مخالفتیں سہیں اور ذاتی مفادات کو اجتماعی مفاد پر قربان کیا۔ یہی وجہ ہے کہ عظمت ہمیشہ ان لوگوں کے حصے میں آئی جو اپنے آپ سے بڑی کسی چیز کے لیے جئے۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنی تمام توانائیاں اقتدار، دولت یا ذاتی آسائشوں کے حصول میں صرف کرتے ہیں، وہ کامیاب تو ہو سکتے ہیں مگر عظیم نہیں بن سکتے۔ کامیابی اور عظمت کے درمیان یہی بنیادی فرق ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔

اسی تناظر میں مصنف چوہدری نثار علی، شریف برادران اور عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے ایک تلخ مگر اہم نکتہ اٹھاتے ہیں۔ ان کے نزدیک ہماری سیاسی قیادت کا المیہ یہ ہے کہ اس کے مقاصد زیادہ تر محدود ہیں۔ اقتدار کا حصول، اقتدار کا تحفظ اور اقتدار کے ذریعے عزت و وقار کا احساس۔ یہ انسانی کمزوری نئی نہیں۔ صدیوں سے اقتدار انسان کے لیے ایک غیرمعمولی کشش رکھتا آیا ہے۔ اقتدار انسان کو یہ احساس دیتا ہے کہ وہ دوسروں سے مختلف اور برتر ہے۔ یہی احساس رفتہ رفتہ ایک ایسے نشے میں تبدیل ہو جاتا ہے جو دنیا کے خطرناک ترین نشوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ شراب کا نشہ چند گھنٹوں میں اتر جاتا ہے، دولت کا نشہ بعض اوقات ایک بحران سے ختم ہو جاتا ہے، لیکن اقتدار کا نشہ اکثر انسان کے دل و دماغ میں اس طرح سرایت کر جاتا ہے کہ وہ خود کو اس سے الگ تصور ہی نہیں کر پاتا۔ اقتدار چھن جائے تو اسے اپنی شناخت خطرے میں محسوس ہوتی ہے۔ اسی لیے دنیا بھر میں بہت سے حکمران اقتدار سے چمٹے رہنے کے لیے ہر حد تک چلے جاتے ہیں۔ انہیں ملک سے زیادہ اپنی کرسی عزیز لگنے لگتی ہے۔

یہ صورت حال صرف سیاست تک محدود نہیں۔ اقتدار کی خواہش مختلف شکلوں میں ہر شعبۂ زندگی میں موجود ہوتی ہے۔ کوئی دفتر میں اختیار چاہتا ہے، کوئی خاندان میں بالادستی، کوئی معاشرے میں شہرت اور کوئی دولت کے ذریعے اثر و رسوخ۔ مسئلہ اقتدار نہیں بلکہ اس کے ساتھ وابستہ وہ نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی اہمیت کا مرکز خود کو سمجھنے لگتا ہے۔ عزتِ نفس ایک مثبت چیز ہے لیکن جب وہ شان و شوکت کے سطحی تصور میں تبدیل ہو جائے تو انسان حقیقت سے دور ہونے لگتا ہے۔ پھر وہ دوسروں کی خدمت کے بجائے دوسروں سے ستائش چاہتا ہے۔ وہ اصولوں کے بجائے اپنی ذات کا محافظ بن جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں قیادت کمزور پڑ جاتی ہے اور شخصیت کا باطن سکڑنے لگتا ہے۔ انسان بظاہر جتنا بڑا دکھائی دیتا ہے، اندر سے اتنا ہی چھوٹا ہو جاتا ہے۔ تاریخ کے اکثر المیے اسی تضاد سے پیدا ہوئے ہیں۔

مصنف جب یہ لکھتے ہیں کہ عمران خان سمیت سبھی کا حال پتلا ہے تو دراصل وہ کسی ایک شخصیت پر تنقید نہیں کر رہے بلکہ ایک اجتماعی انسانی کمزوری کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اقتدار کی کشش، شہرت کی طلب، اپنی رائے کو حرفِ آخر سمجھنے کا رجحان اور خود احتسابی سے گریز صرف سیاست دانوں کے مسائل نہیں بلکہ ہم سب کے مسائل ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ عام آدمی کی کمزوریاں محدود دائرے میں اثر انداز ہوتی ہیں جبکہ سیاسی رہنماؤں کی کمزوریاں پوری قوم کی تقدیر پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ اسی لیے قیادت کے منصب پر فائز افراد کے لیے روحانی گہرائی، اخلاقی استحکام اور خود احتسابی کی ضرورت عام لوگوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ ایک قوم اس وقت آگے بڑھتی ہے جب اس کے رہنما اقتدار کو مقصد نہیں بلکہ خدمت کا ذریعہ سمجھیں، جب انہیں اپنی ذات سے زیادہ عوام کی فکر ہو اور جب وہ تاریخ میں نام چھوڑنے کے بجائے لوگوں کی زندگیوں میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش کریں۔

آخرکار عظمت کا راستہ اقتدار کے ایوانوں سے نہیں بلکہ انسان کے باطن سے ہو کر گزرتا ہے۔ جو شخص اپنے نفس پر قابو پا لے، دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھے، ایثار کو زندگی کا اصول بنا لے اور خدمت کو اپنی کامیابی کا معیار سمجھ لے، وہ خواہ کسی منصب پر نہ بھی ہو، عظیم کہلانے کا حق دار ہے۔ اقتدار کا نشہ وقتی ہے، عظمت کی خوشبو دائمی۔ اقتدار انسان کو تخت پر بٹھا سکتا ہے لیکن عظمت اسے دلوں میں جگہ دیتی ہے اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ دلوں کے حق میں ہوتا ہے، تختوں کے حق میں نہیں۔

Check Also

Roshani, Yaadasht Aur Lahore Ki Basri Tareekh

By Dr. Anila Zulfiqar