Monday, 29 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Abid Mehmood Azaam
  4. Qanoon Ki Baladasti: Aik Usool, Dohre Mayar Kyun?

Qanoon Ki Baladasti: Aik Usool, Dohre Mayar Kyun?

قانون کی بالادستی: ایک اصول، دوہرے معیار کیوں؟

​یہ سوال ایک عرصے سے میرے ذہن میں گردش کر رہا ہے، آج اسے لکھ رہا ہوں۔ ہمارے معاشرے میں جب بھی توہینِ مذہب، توہینِ رسالت ﷺ یا توہینِ قرآن کا کوئی افسوسناک واقعہ پیش آتا ہے اور اس کے ردعمل میں کوئی فرد اس لیے قانون اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے کہ "قانون حرکت میں نہیں آتا اور اگر آئے بھی تو فیصلے میں برسوں لگ جاتے ہیں یا ملزمان تکنیکی بنیادوں پر بچ نکلتے ہیں"۔

​اس موقع پر ریاست، حکمران، علماء اور دانشور طبقہ متفقہ طور پر یہی مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ توہین مذہب ایک سنگین جرم ہے، مگر کسی بھی فرد کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور قانون کو اپنا کام کرنے دینا چاہیے۔ یہ اصول برسوں سے دہرایا جا رہا ہے کہ قانون سے بالاتر ہو کر کسی کی جان لینا قابلِ مذمت ہے اور نظامِ عدل پر اعتماد ہی معاشرتی بقا کی ضمانت ہے۔

​تاہم، اسی ریاست میں ایک دوسرا پہلو بھی ہے جو اس اصول کی دھجیاں اڑاتا نظر آتا ہے۔ پنجاب میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کا موجودہ طریقہ کار ایک مختلف اور متضاد صورتِ حال پیش کر رہا ہے۔ سی سی ڈی پر اکثر یہ سنگین الزامات لگتے ہیں کہ وہ قانونی عدالتی عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرتی ہے جن میں ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے "مقابلوں" میں ہلاک کر دیا جاتا ہے اور حیرت انگیز طور پر اسے فخر کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ ان کارروائیوں میں چکوال جیسے افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے، جہاں معصوم جانیں ضائع ہوئیں اور مختلف واقعات میں ادارے کے کارکنوں پر بھتہ خوری اور ہراساں کرنے جیسے الزامات بھی لگتے رہے۔

​یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ جو لوگ توہینِ مذہب کے واقعات میں قانون ہاتھ میں لینے کے خلاف ایک مضبوط اخلاقی اور قانونی موقف رکھتے ہیں، وہ سی سی ڈی کی کارروائیوں پر خاموش کیوں ہیں؟ وہ کیوں نہیں کہتے کہ اگر کوئی شخص مجرم ہے تو اسے گرفتار کرکے عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ قانون اپنا راستہ خود طے کرے؟ ​حقیقت یہ ہے کہ اس عمل کے حق میں بھی وہی دلائل دیے جاتے ہیں جو ایک عام مشتعل ہجوم دیتا ہے: "عدالتی عمل سست ہے، سزا کا امکان کم ہے اور مجرم بچ نکلیں گے۔ "جب ریاست اور اس کے ادارے خود وہی استدلال اپنا لیں جو ایک عام آدمی قانون ہاتھ میں لینے کے لیے استعمال کرتا ہے تو یہ درحقیقت قانون کی بالادستی کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوتا ہے۔ ایسی کارروائیاں ان عناصر کو اخلاقی جواز فراہم کرتی ہیں جو مذہبی یا دیگر معاملات میں قانون اپنے ہاتھ میں لینے کے لیے پر تول رہے ہوتے ہیں۔

​اگر قانون کی بالادستی واقعی ایک اصول ہے تو اس کا اطلاق ہر معاملے میں یکساں ہونا چاہیے۔ قانون کی حکمرانی کو محض مخصوص واقعات تک محدود نہیں رکھا جا سکتا۔ ریاست کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ وہ شفاف تحقیقات اور منصفانہ عدالتی کارروائی کو یقینی بنائے۔ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے، بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ جب تک انصاف کے ترازو میں ایک ہی جیسا معیار نہیں ہوگا، معاشرے میں قانون کی حکمرانی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔

Check Also

Jangen Hoti Rahen Gi

By Rashid Ahraz