Istehsal e Atfal: Zameer Ka Muqadma
استحصالِ اطفال: ضمیر کا مقدمہ

شہر اپنی روزمرہ مصروفیات میں گم تھا۔ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ ہی دفاتر کے دروازے کھل چکے تھے، تعلیمی اداروں میں حاضریاں لگ رہی تھیں، عدالتوں میں مقدمات کی فہرستیں آویزاں ہو رہی تھیں، اسمبلیوں میں قانون سازی کے دعوے دہرائے جا رہے تھے، ٹیلی ویژن اسکرینوں پر سیاسی کشمکش، معاشی بحران اور بین الاقوامی حالات پر گرما گرم مباحث جاری تھے، جبکہ سوشل میڈیا پر نئی بحثیں پرانی خبروں کو نگل رہی تھیں۔ بظاہر زندگی پوری رفتار سے آگے بڑھ رہی تھی، لیکن اسی شور و غوغا کے درمیان ایک ایسا سکوت بھی موجود تھا جو کسی شہر کی نہیں بلکہ ایک معصوم بچے کی روح پر طاری تھا۔ وہ خوف، جبر اور بے بسی کی ایسی کیفیت میں مبتلا تھا جہاں الفاظ دم توڑ دیتے ہیں اور چیخیں بھی خاموش ہو جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہونے والا ظلم محض ایک فرد پر حملہ نہیں تھا بلکہ ایک ریاست کے قانونی نظام، ایک معاشرے کے اخلاقی شعور اور ایک تہذیب کے اجتماعی ضمیر پر ایسا سوال تھا جس کا جواب صرف تعزیتی بیانات سے نہیں دیا جا سکتا۔
کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل شناخت اس کی معاشی ترقی، جدید انفراسٹرکچر، بلند و بالا عمارتوں یا عسکری قوت سے نہیں بلکہ اس حقیقت سے متعین ہوتی ہے کہ وہ اپنے سب سے کمزور شہریوں کو کتنا محفوظ بناتا ہے۔ بچے اس اعتبار سے معاشرے کا سب سے نازک طبقہ ہیں کہ وہ اپنی جسمانی، ذہنی اور قانونی کمزوری کے باعث نہ اپنے حقوق کا مؤثر دفاع کر سکتے ہیں اور نہ ہی اکثر اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کو بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی لیے جدید ریاستی نظریات بچوں کے تحفظ کو فلاحی پالیسی کا نہیں بلکہ قومی سلامتی، انسانی ترقی اور آئینی ذمہ داری کا بنیادی ستون قرار دیتے ہیں۔ جب کوئی ریاست اپنے بچوں کو محفوظ رکھنے میں ناکام ہو جائے تو اس کی ترقی کے تمام دعوے اخلاقی اعتبار سے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔
پاکستان میں بچوں کے خلاف تشدد، جنسی استحصال، جسمانی زیادتی، جبری مشقت، گھریلو تشدد اور آن لائن استحصال جیسے جرائم وقتاً فوقتاً قومی توجہ حاصل کرتے ہیں، مگر افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ ہماری اجتماعی یادداشت ہر نئے سانحے کے بعد بہت جلد ماند پڑ جاتی ہے۔ ہر واقعے کے بعد میڈیا پر غم و غصہ، سیاسی بیانات، اعلیٰ سطحی اجلاس، خصوصی کمیٹیاں اور فوری انصاف کے وعدے کیے جاتے ہیں، لیکن چند ہفتوں بعد نظام دوبارہ اپنی سابقہ بے حسی کی طرف لوٹ جاتا ہے۔ یہی تسلسل اس بات کی علامت ہے کہ مسئلہ انفرادی نہیں بلکہ ساختیاتی (Structural) ہے، یعنی خرابی صرف چند افراد میں نہیں بلکہ ان اداروں، قوانین، نگرانی کے نظام اور سماجی رویوں میں بھی موجود ہے جو بچوں کے تحفظ کے لیے قائم کیے گئے ہیں۔
جدید علمِ جرمیات اس بحران کو محض اخلاقی انحطاط کا نتیجہ قرار نہیں دیتا بلکہ اسے ریاستی کارکردگی سے بھی جوڑتا ہے۔ Routine Activity Theory کے مطابق جرم اس وقت آسان ہو جاتا ہے جب مجرم کو مناسب موقع میسر آئے، متاثرہ فرد کمزور ہو اور مؤثر نگرانی موجود نہ ہو۔ Social Control Theory اس امر پر زور دیتی ہے کہ خاندان، تعلیمی ادارے، مذہبی مراکز اور سماجی رشتے اگر کمزور پڑ جائیں تو جرائم کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جبکہ Deterrence Theory واضح کرتی ہے کہ سزا کی شدت سے زیادہ اس کا یقینی اور فوری ہونا جرم کی روک تھام میں مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ اگر مجرم کو یقین ہو کہ گرفتاری کا امکان کم ہے، مقدمہ برسوں چلتا رہے گا، گواہوں پر دباؤ ڈالا جا سکے گا اور متاثرہ خاندان معاشرتی بدنامی کے خوف سے خاموش ہو جائے گا تو قانون کی موجودگی بھی اس کے لیے حقیقی رکاوٹ نہیں رہتی۔
یہاں سوال صرف مجرم کی درندگی کا نہیں بلکہ ریاستی استعداد کا بھی ہے۔ قانون سازی اپنی جگہ اہم ہے، مگر قانون کا نفاذ اس سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان میں متعدد قوانین بچوں کے تحفظ کے لیے موجود ہیں، لیکن ان پر یکساں، مؤثر اور غیر جانبدارانہ عمل درآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ قانون اگر کاغذ تک محدود رہے اور انصاف برسوں کی تاخیر کا شکار ہو تو اس کی بازدار قوت (Deterrent Effect) تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔
عدالتی نظام کی سست روی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔ بچوں سے متعلق مقدمات میں تاخیر صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ نفسیاتی اور سماجی نقصان کا باعث بھی بنتی ہے۔ متاثرہ بچے کو بار بار بیانات دینا، مختلف مراحل سے گزرنا، عدالتوں کے چکر لگانا اور مسلسل خوف کی کیفیت میں رہنا دوبارہ اذیت (Secondary Victimization) کا سبب بنتا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں بچوں سے متعلق مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں، تربیت یافتہ ججز، بچوں کے لیے موزوں ماحول اور محدود سماعتی مدت جیسے اقدامات اسی لیے اختیار کیے گئے تاکہ انصاف صرف فراہم نہ ہو بلکہ متاثرہ بچے کی عزتِ نفس بھی محفوظ رہے۔
پولیس کا نظام بھی بنیادی اصلاحات کا متقاضی ہے۔ بہت سے مقامات پر ابتدائی تفتیش میں تکنیکی خامیاں، فرانزک شواہد کے تحفظ میں غفلت، متاثرہ بچوں سے غیر پیشہ ورانہ انداز میں پوچھ گچھ اور نفسیاتی معاونت کی عدم دستیابی مقدمات کو کمزور کر دیتی ہے۔ ایک مضبوط عدالتی فیصلہ ہمیشہ مضبوط تفتیش پر کھڑا ہوتا ہے اور اگر تفتیش ہی ناقص ہو تو انصاف کا پورا ڈھانچہ کمزور پڑ جاتا ہے۔
یہ بحران صرف قانونی نہیں بلکہ سماجی بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بچوں سے متعلق حساس موضوعات پر گفتگو کو اکثر معیوب سمجھا جاتا ہے۔ والدین بچوں کو تعلیمی کامیابی کے لیے تو تیار کرتے ہیں مگر انہیں ذاتی تحفظ، غیر مناسب رویوں کی پہچان، اعتماد کے ساتھ "نہیں" کہنے، مدد طلب کرنے اور قابلِ اعتماد بالغ افراد سے رابطہ کرنے کی تربیت کم ہی دی جاتی ہے۔ خاموشی، شرم اور خوف کا یہی ماحول استحصالی ذہنیت رکھنے والے افراد کے لیے سازگار ثابت ہوتا ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج استحصال صرف گلیوں، محلوں یا بند کمروں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے موبائل فون، سوشل میڈیا، آن لائن گیمنگ پلیٹ فارمز اور مصنوعی شناختوں کے ذریعے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں۔ آن لائن گرومنگ، سائبر بلیک میلنگ، جعلی پروفائلز، بچوں کی تصاویر کا غیر قانونی استعمال اور ڈیجیٹل استحصال ایسے خطرات ہیں جن کے لیے روایتی پولیسنگ کافی نہیں۔ ریاست کو سائبر فرانزک، ڈیجیٹل انویسٹی گیشن، بین الاقوامی تعاون اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ جرائم کی بدلتی ہوئی نوعیت کا مؤثر جواب دیا جا سکے۔
تعلیمی اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری ازسرنو متعین کرنا ہوگی۔ ہر اسکول، کالج، مدرسے، یتیم خانے، کھیلوں کے مرکز اور رہائشی ادارے میں واضح چائلڈ پروٹیکشن پالیسی، ملازمین کی مکمل جانچ، شکایات درج کرنے کا محفوظ نظام، نفسیاتی معاونت، لازمی رپورٹنگ، حفاظتی تربیت اور والدین کی شمولیت کو ادارہ جاتی شکل دی جائے۔ بچوں کا تحفظ صرف نصابی سرگرمی نہیں بلکہ ادارہ جاتی ثقافت کا حصہ ہونا چاہیے۔
اس مسئلے کا ایک اہم پہلو معاشی اور سماجی عدم مساوات بھی ہے۔ غربت، بے روزگاری، کمزور خاندانی ڈھانچے، بچوں سے مشقت لینا، تعلیم سے محرومی اور سماجی پسماندگی بچوں کو استحصال کے زیادہ خطرات سے دوچار کرتے ہیں۔ چنانچہ بچوں کے تحفظ کی پالیسی کو صرف فوجداری قانون تک محدود رکھنا کافی نہیں بلکہ اسے سماجی بہبود، معیاری تعلیم، صحت، نفسیاتی خدمات اور معاشی تحفظ کے وسیع تر پروگراموں سے جوڑنا بھی ضروری ہے۔
سب سے بڑھ کر ضرورت سیاسی عزم اور ادارہ جاتی تسلسل کی ہے۔ جب تک بچوں کے تحفظ کو محض ایک وقتی ردِعمل کے بجائے قومی ترجیح نہیں بنایا جائے گا، ہر نیا سانحہ ہماری اجتماعی ناکامی کا آئینہ بنتا رہے گا۔ پالیسیوں کی تبدیلی سے زیادہ اہم ان کا مستقل نفاذ، شفاف نگرانی، آزاد احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی ہے۔ ریاست کی اصل طاقت اس کے سخت بیانات میں نہیں بلکہ اس صلاحیت میں ہوتی ہے کہ وہ جرم ہونے سے پہلے خطرات کو کم کرے اور جرم ہونے کی صورت میں فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کو یقینی بنائے۔
سوال یہ نہیں کہ بچوں کے خلاف جرائم کیوں بڑھ رہے ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری ریاستی ترجیحات، سماجی رویے اور ادارہ جاتی ڈھانچے اس خطرے کی سنگینی کو واقعی سمجھ رہے ہیں؟ اگر ہر سانحے کے بعد بھی ہمارا نظام ویسا ہی رہتا ہے، ہماری ترجیحات تبدیل نہیں ہوتیں اور ہماری اجتماعی حساسیت چند دنوں میں معدوم ہو جاتی ہے تو پھر قصور صرف مجرم کا نہیں رہتا بلکہ اس خاموشی کا بھی ہوتا ہے جو جرم کو دوبارہ جنم دیتی ہے۔
تاریخ ہمیشہ اُن قوموں کو مہذب قرار دیتی ہے جو اپنے بچوں کو محفوظ مستقبل دیتی ہیں۔ جس دن پاکستان کا ہر بچہ یہ یقین کر لے گا کہ اس کی جان، عزت، معصومیت اور مستقبل ریاست کی اولین ذمہ داری ہیں، اس دن ہمارے آئین کے وعدے، قانون کی بالادستی اور انسانی وقار کے تمام دعوے حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔ اس سے پہلے ہر نیا سانحہ صرف ایک مجرم کی درندگی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر، ریاستی نظام اور قومی ترجیحات کے خلاف ایک فردِ جرم رہے گا، جس کا فیصلہ تاریخ ضرور کرے گی۔

