Monday, 29 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mehmooda Tania Awan
  4. Pakistan Ki Taraqi Ka Manshoor Aur Budget 2026

Pakistan Ki Taraqi Ka Manshoor Aur Budget 2026

پاکستان کی ترقی کا منشور اور بجٹ 2026

کسی بھی ملک کی پائیدار ترقی کے لیے ایک ایسا بجٹ تیار کرنا ناگزیر ہے جو صرف وقتی اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہ ہو، بلکہ اس میں گہری احتیاط، بہترین مفکرین کی دانشمندی اور ایک وسیع عالمی وژن (Global Vision) شامل ہو۔ ترقی پسند قومیں اپنے بجٹ کا رخ محض بیرونی قرضوں کی شرائط یا اصرار پر نہیں موڑتیں، بلکہ اپنے ملکی تھنک ٹینکس (Think Tanks) کے مشوروں کو اولین ترجیح دیتی ہیں۔ معیشت کو اصل فروغ تب ملتا ہے جب حکمران اور سیاست دان عالمی معاشی رجحانات کا گہرا شعور رکھتے ہوں اور عوام کی بنیادی ضروریات، خصوصاً تعلیم، صحت اور ریونیو (آمدن) کی پائیدار پیداوار، کو بجٹ کا محور بنائیں۔

بدقسمتی سے، اگر پاکستان کے حالیہ بجٹ پر غور کیا جائے، تو اس میں مقامی تھنک ٹینکس کی آراء اور طویل مدتی معاشی اصلاحات کے بجائے صرف بیرونی دباؤ کے تحت ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کی روایتی لکیر ہی نظر آتی ہے۔

جب ہم دنیا کے ان ممالک پر نظر ڈالتے ہیں جن کا بجٹ اور معاشی ماڈل اس وقت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہا ہے، تو چند نام سرفہرست آتے ہیں۔

ترقی پسند قوموں کے بجٹ بنانے کی حکمتِ عملی کو اگر دیکھا جائے تو سنگاپور اور ناروے کی مثالیں سب سے نمایاں ہیں۔ سنگاپور اپنے محدود رقبے اور قدرتی وسائل کی کمی کے باوجود صرف افرادی قوت (Human Capital) اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر دنیا کا بہترین بجٹ تیار کرتا ہے، جہاں حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت (AI) کی قومی حکمتِ عملی، تعلیم اور شہریوں کی ہنر مندی (SkillsFuture) پر اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو محور بنایا گیا ہے تاکہ ان کا ہر شہری عالمی معاشی دوڑ کا مقابلہ کر سکے۔

دوسری طرف، ناروے نے اپنے تیل کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو وقتی اخراجات میں اڑانے کے بجائے دنیا کا سب سے بڑا "Sovereign Wealth Fund" (قومی سرمایہ کاری فنڈ) قائم کر دیا ہے، جس کے تحت بجٹ میں موجودہ سال کے ساتھ ساتھ مستقبل کی نسلوں کا مالیاتی تحفظ بھی یقینی بنایا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ممالک کا معاشی ماڈل کسی بیرونی ادارے یا ائی ایم ایف جیسے دباؤ سے آزاد ہو کر اپنے ملکی تھنک ٹینکس کی گہری حکمتِ عملی کے مطابق کام کرتا ہے۔

یہ سوچنا بالکل فطری ہے کہ ایک ترقی پذیر ملک ہونے کے ناطے پاکستان کے پاس جدید معاشی منصوبہ بندی کے لیے تھنک ٹینکس کی کمی ہوگی، یا پھر ان اداروں میں صرف روایتی ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور فوجی افسران ہی شامل ہوں گے۔ لیکن جب ہم گہری تحقیق کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہماری حکومت نے خود ایسے باقاعدہ اور مستند ادارے قائم کر رکھے ہیں جن کا بنیادی مقصد ہی معیشت، بجٹ اور عوامی ترقی کے لیے سائنسی بنیادوں پر پالیسیاں تیار کرنا ہے۔ ان اداروں میں بین الاقوامی سطح کے ماہرینِ معیشت، پی ایچ ڈی اسکالرز اور پالیسی ساز دن رات ریسرچ کرتے ہیں۔

پاکستان کے وہ اہم ترین معاشی تھنک ٹینکس اور تحقیقاتی ادارے درج ذیل ہیں:

پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس یہ ملک کا سب سے پرانا اور معیشت کا سب سے بڑا سرکاری تھنک ٹینک ہے۔ یہ ادارہ براہ راست وزارتِ منصوبہ بندی کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا کام ہی بجٹ، ٹیکس اصلاحات اور معاشی ترقی پر گہری ریسرچ کرنا ہے۔ اس کے پاس ملک کے بہترین ماہرینِ معیشت کی پوری ٹیم موجود ہے۔

سسٹین ایبل ڈیولپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ یہ پاکستان کا ایک انتہائی فعال اور معتبر نیم سرکاری تھنک ٹینک ہے جو پائیدار ترقی، معاشی انصاف اور بجٹ سازی پر کام کرتا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس کی ریسرچ کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ یہ عوامی نقطہ نظر سے معاشی ماڈل تیار کرتا ہے۔

بزنس ریکارڈر ریسرچ اور انسٹی ٹیوٹ

مختلف نجی اور نیم سرکاری شعبوں کے اشتراک سے کام کرنے والے ایسے ادارے ملک کی تاجر برادری، صنعت کاروں اور حکومت کے درمیان ایک پل کا کام کرتے ہیں اور بجٹ کے لیے ایسے ماڈل تجویز کرتے ہیں جس سے ملکی ریونیو میں حقیقی اضافہ ہو۔

سوشل پالیسی اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر یہ ادارہ خاص طور پر سماجی شعبے کی معیشت پر کام کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ بجٹ کا عام آدمی، غریب طبقے اور تعلیم و صحت پر کیا اثر پڑے گا۔ یہ ادارہ ہر سال بجٹ سے پہلے حکومت کو ٹیکسوں کے متبادل اور غریب دوست نظام کی تجاویز پیش کرتا ہے۔

سینٹر فار ایرو اسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز اور انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اگرچہ یہ ادارے سٹریٹجک اور قومی سلامتی کے امور کو دیکھتے ہیں، لیکن جدید دنیا میں معاشی سلامتی ہی سب سے بڑی سلامتی ہے۔ ان اداروں میں موجود ماہرین عالمی معاشی رجحانات اور جیو اکنامکس پر گہری نظر رکھتے ہیں کہ دنیا کس طرف جا رہی ہے اور پاکستان کو اپنا بجٹ کس عالمی وژن کے تحت سیٹ کرنا چاہیے۔

حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ ان تمام اداروں کی موجودگی، ان کی سالہا سال کی ریسرچ اور بجٹ کے لیے دی جانے والی بہترین دستاویزی تجاویز کے باوجود، ہمارے سیاست دان بجٹ بناتے وقت ان کے پاس بیٹھنے کے بجائے صرف آئی ایم ایف کے متبادل کو ہی حتمی سچ مان لیتے ہیں۔

اب یہاں میں حال ہی میں آنے والے بجٹ کا تجزیہ جو سید مزمل نے پیش کیا اسکے چند اہم نکات لکھ رہی ہوں۔

سب سے پہلے دیکھتے ہیں ٹیکسیشن کا نظام اور اشرافیہ کا تسلط۔

پاکستان کا موجودہ ٹیکسیشن نظام دستاویزی معیشت کے بجائے غریب اور متوسط طبقے کو نچوڑنے پر استوار ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ملک کا تنخواہ دار طبقہ دکان داروں اور ریٹیلرز کے مقابلے میں 13 گنا زیادہ ٹیکس دے رہا ہے۔ اگرچہ اس بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو براہِ راست ٹیکس میں بظاہر کچھ ریلیف دیا گیا ہے، لیکن بالواسطہ ٹیکسوں (Indirect Taxes) کی بھرمار کے باعث یہ ریلیف دکان یا پٹرول پمپ پر پہنچتے ہی ختم ہو جائے گا۔ دوسری طرف، زراعت کا شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کا 24 فیصد ہونے کے باوجود بڑے جاگیرداروں اور وڈیروں کے سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ ملک کی 40 فیصد معیشت غیر دستاویزی (Informal) ہے جہاں سارا کاروبار نقدی (Cash) میں ہوتا ہے اور حکومت اسے نیٹ میں لانے میں ناکام رہی ہے۔

اسمگلنگ کا ہولناک نقصان: پاکستان صرف اسمگلنگ کی وجہ سے سالانہ 4 کھرب روپے کا نقصان اٹھاتا ہے، جو کہ ملک کے کل دفاعی بجٹ (3 کھرب) سے بھی زیادہ ہے، مگر اسے روکنے کے لیے بجٹ میں کوئی واضح لائحہ عمل موجود نہیں۔

ڈیجیٹل معیشت پر ضرب: نوجوانوں کے اپنے بل بوتے پر ابھرتے ہوئے شعبے کو نشانہ بناتے ہوئے ڈیجیٹل کریٹرز اور سوشل میڈیا انفلونسرز پر 5 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔

اشرافیہ نوازی اور ماحولیاتی دشمنی: رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو نوازنے کے لیے ودہولڈنگ ٹیکس آدھا کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسری طرف ماحول دوست ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر کسٹمز اور جی ایس ٹی کی رعایتیں واپس لے لی گئی ہیں، جو ملک کے ڈی کاربنائزیشن کے ہدف اور ماحولیاتی پالیسی کو شدید نقصان پہنچائے گا۔

اسکے بعد پینشن کا بڑھتا ہوا بحران۔

پاکستان میں پینشن کا موجودہ نظام ایک ایسا معاشی عذاب بن چکا ہے جو ملک کو دیوالیہ پن کی طرف دھکیل رہا ہے۔ سال 2027 تک حکومت ترقیاتی کاموں سے زیادہ رقم صرف پینشن دینے پر خرچ کرے گی۔ اس کی بدترین مثال پاکستان ریلوے ہے، جو اپنی کل آمدنی کا 70 فیصد حصہ صرف ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کی مد میں ادا کر دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس نظام میں فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو 2050 تک ملک کا آدھا بجٹ صرف پینشنز کی نذر ہو جائے گا اور ریاست کے پاس چلنے کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

پھر آجاتا ہے آبادی کا بے قابو بحران

پاکستان میں آبادی کی شرحِ نمو (2.5%) اس وقت پورے خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کا بھیانک نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہر سال لیبر مارکیٹ میں 40 لاکھ نئے نوجوان شامل ہو رہے ہیں، لیکن سکڑتی ہوئی معیشت اور ترقیاتی بجٹ میں کمی کے باعث ان کے لیے نوکریاں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ یہ بیروزگار نوجوان نسل ایک معاشی اثاثہ بننے کے بجائے تلاطم خیز بحران بنتی جا رہی ہے۔

بجٹ کے مثبت اقدامات

ان تمام تر معاشی چیلنجز اور مایوس کن حقائق کے باوجود، اس بجٹ کا ایک انتہائی خوش آئند اور مثبت پہلو ہائیر ایجوکیشن (HEC) کے لیے فنڈز کی فراہمی ہے۔ تعلیمی اور سائنسی ریسرچ کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے بجٹ میں 32 فیصد کا نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے تحت اس رقم کو 34 ارب روپے سے بڑھا کر 46 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ رقم ملک کے حجم کے حساب سے کم ہے، لیکن تھنک ٹینکس اور ریسرچ کلچر کے فروغ کے لیے یہ ایک درست سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے۔

اب آجاتے ہیں ان تجاویز کی جانب جنکی مدد سے حالات کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔

ٹیکس کے دائرہ کار کو وسیع کرنا سب سے اول تجویز

ملک کو چلانے کے لیے صرف تنخواہ دار طبقے پر بوجھ ڈالنے کے بجائے ان بااثر اور بڑے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ناگزیر ہے جو اب تک اس سے بچے ہوئے ہیں۔ ان میں بڑے تاجر (Retailers & Wholesalers)، تمباکو اور چینی کے مافیاز اور بڑے زمیندار و جاگیردار شامل ہیں۔ جب تک ان طاقتور طبقوں سے زبردستی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا، معاشی استحکام ممکن نہیں۔

سرکاری پُرتعیش اخراجات پر کٹ آؤٹ

عوامی پیسوں پر پلنے والی بیوروکریسی اور وزراء کی طویل القامت فوج کے شاہانہ پروٹوکول اور غیر ضروری اخراجات کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔ ایک ایسے وقت میں جب پچھلے تین سالوں میں ان کے اخراجات میں 65 فیصد تک کا ہوشربا اضافہ ہوا ہو، حکومت کو سب سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر سادگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

پینشن کے نظام میں تبدیلی

موجودہ پینشن کا نظام قومی خزانے پر ایک مستقل اور بھاری بوجھ بن چکا ہے۔ اس کے حل کے لیے نئے آنے والے سرکاری ملازمین کے لیے ایک ایسا ماڈل (Contribution-based Model) لانا ہوگا جہاں ملازم اور حکومت دونوں مل کر پینشن فنڈ میں حصہ ڈالیں، تاکہ مستقبل میں ریاست دیوالیہ ہونے سے بچ سکے۔

تعلیم، صحت اور عوامی ترقی میں سرمایہ کاری

سب سے اہم اور دور رس فیصلہ یہ ہے کہ اشرافیہ سے بچایا گیا پیسہ ملکی افرادی قوت (Human Resources) پر لگایا جائے۔ اگر غریب عوام کو معیاری تعلیم، بنیادی صحت اور جدید ہنر (Skills) نہ دیے گئے، تو یہ بڑھتی ہوئی محروم اور ناخواندہ آبادی آگے چل کر ایک ایسے سماجی دھماکے یا سیلاب کی شکل اختیار کر لے گی جو ملک کے پورے ڈھانچے کو ہی تباہ کر دے گا۔

About Mehmooda Tania Awan

Mehmooda Tania Awan is an Educationist, doing her PhD in Education and working as a Lecturer in a prestigious institution in Lahore. She has been writing different plays and articles on Allama Iqbal's philosophy. Recently, she has been researching and writing on the literary work of Atiya Syed, famous Urdu fiction writer.

Check Also

Istehsal e Atfal: Zameer Ka Muqadma

By Dr. Saif Wallahray