Bas Ik Chup Si Lagi Hai
بس ایک چپ سی لگی ہے
الفاظ انسان کی سب سے بڑی امانت ہیں۔ یہی دل کی کیفیت کو زبان دیتے ہیں، یہی معاشروں کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور یہی آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ کا سرمایہ بنتے ہیں۔ جب الفاظ آزاد ہوں تو خیالات میں تازگی پیدا ہوتی ہے، اختلافِ رائے سے نئے راستے نکلتے ہیں اور معاشرہ اپنے عیوب کو پہچان کر ان کی اصلاح کی طرف بڑھتا ہے۔ لیکن جب انسان اپنے ہی لفظوں سے ڈرنے لگے، یا ہر جملے سے پہلے کئی مرتبہ سوچنے پر مجبور ہو، تو دل میں ایک ایسی اداسی جنم لیتی ہے جسے بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔
خاموشی ہمیشہ سکون کی علامت نہیں ہوتی۔ بعض اوقات خاموشی ایک عجیب سا بوجھ بن جاتی ہے جو انسان کے کندھوں پر آہستہ آہستہ رکھ دیا جاتا ہے۔ کوئی اعلان نہیں ہوتا، کوئی دروازہ بند ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا، مگر پھر بھی محسوس ہونے لگتا ہے کہ گفتگو کی وسعت پہلے جیسی نہیں رہی۔ الفاظ اپنی جگہ موجود ہوتے ہیں، لیکن ان کی پرواز میں پہلے جیسی بے فکری باقی نہیں رہتی۔ انسان اپنے خیالات کو تولنے لگتا ہے، اپنے سوالوں کو ملتوی کرنے لگتا ہے اور اپنے احساسات کو دل کے کسی کونے میں محفوظ کر دیتا ہے۔
یہ کیفیت صرف کسی ایک فرد کی نہیں ہوتی بلکہ پورے معاشرے کے مزاج پر اثر انداز ہونے لگتی ہے۔ جب خاموشی معمول بن جائے تو مکالمہ کمزور پڑنے لگتا ہے۔ اختلاف رائے کو دشمنی نہیں سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ صحت مند معاشرے سوال پوچھنے اور مختلف رآ ئے اور خیالات سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اختلاف دراصل اصلاح کا دروازہ کھولتا ہے، جبکہ مسلسل خاموشی جمود کو جنم دیتی ہے۔
پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ملک بے شمار قربانیوں، امیدوں اور بلند خوابوں کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔ اس سرزمین کے لوگوں نے ہمیشہ بہتر مستقبل، انصاف اور وقار کی آرزو کو اپنے دلوں میں جگہ دی ہے۔ ہمارے ادیبوں، شاعروں، اساتذہ اور دانش وروں نے بھی اپنے اپنے انداز میں معاشرتی شعور کو بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کی تحریروں میں محبت بھی ہے، تنقید بھی، اصلاح کی خواہش بھی اور وطن سے بے پناہ وابستگی بھی۔
آج بھی پاکستان کا ہر باشعور شہری اپنے وطن کو مضبوط، پرامن اور ترقی یافتہ دیکھنا چاہتا ہے۔ یہی محبت بعض اوقات انسان کو خاموش بھی کر دیتی ہے، کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کے الفاظ تقسیم یا نفرت کا سبب بنیں۔ لیکن دل کے کسی گوشے میں یہ احساس بھی باقی رہتا ہے کہ معاشروں کی مضبوطی اس وقت بڑھتی ہے جب سوالوں کو برداشت کیا جائے، اختلاف کو سننے کا حوصلہ پیدا کیا جائے اور نیک نیتی سے کی جانے والی گفتگو کو معاشرے کی بہتری کا حصہ سمجھا جائے۔
ادب ہمیشہ سے انسان کے باطن کی آواز رہا ہے۔ شاعر اور ادیب الزام لگانے کے بجائے احساسات کی زبان بولتے ہیں۔ وہ چیخنے کے بجائے سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ کبھی ایک مصرع، کبھی ایک استعارہ، ایک تشبیہ اور کبھی ایک مختصر سا سوال پورے زمانے کی کیفیت بیان کر دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب کی طاقت شور میں نہیں بلکہ شعور میں پوشیدہ ہوتی ہے۔
بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل پابندی لفظوں پر نہیں بلکہ انسان کے اعتماد پر لگ جاتی ہے۔ انسان یہ سوچنے لگتا ہے کہ کون سا جملہ غلط سمجھ لیا جائے گا، کون سا سوال غیر ضروری تصور کیا جائے گا اور کون سی رائے خاموشی میں ہی بہتر ہے۔ یہی سوچ آہستہ آہستہ ذہنوں کو تھکا دیتی ہے۔ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا ہے، مگر اندر کہیں ایک انجانی اداسی بسیرا کر لیتی ہے۔
اس اداسی کا علاج شور نہیں بلکہ اعتماد ہے۔ ایسا اعتماد جو معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان مکالمے کو فروغ دے، جو اختلاف کو برداشت کرنا سکھائے اور جو اس یقین کو مضبوط کرے کہ خیرخواہی کے جذبے سے کہی گئی بات، چاہے وہ تلخ ہی کیوں نہ ہو، معاشرے کی تعمیر میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ وطن سے محبت کا تقاضا صرف تعریف کرنا نہیں بلکہ اس کی بہتری کی خواہش بھی ہے اور بہتری کی خواہش کا پہلا قدم مخلصانہ گفتگو ہے۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کی اصل طاقت اس کے لوگ ہیں۔ نوجوانوں کی امنگیں، بزرگوں کا تجربہ، خواتین کی جدوجہد، مزدور کی محنت، کسان کی امید، استاد کی رہنمائی اور طالب علم کے سوالات، یہ سب مل کر اس ملک کا مستقبل تشکیل دیتے ہیں۔ اگر ان تمام آوازوں کو احترام کے ساتھ سنا جائے تو قومی وحدت مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔ خاموشی سے وقتی سکون تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن پائیدار ترقی ہمیشہ مکالمے، برداشت اور باہمی اعتماد سے جنم لیتی ہے۔
آخرکار، کسی بھی معاشرے کی خوبصورتی اس بات میں نہیں کہ وہاں سب ایک ہی بات کہیں، بلکہ اس میں ہے کہ مختلف آوازیں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے ساتھ چل سکیں۔ اختلاف اگر تہذیب، شائستگی اور خیرخواہی کے دائرے میں ہو تو وہ کمزوری نہیں بلکہ طاقت بن جاتا ہے۔ شاید اسی احساس کو زندہ رکھنے کی ضرورت ہے کہ الفاظ دیواریں کھڑی کرنے کے لیے نہیں بلکہ پل بنانے کے لیے ہوتے ہیں۔ جب دلوں میں امید باقی رہے، جب مکالمہ زندہ رہے اور جب سچائی کو وقار کے ساتھ بیان کرنے کا حوصلہ قائم رہے، تبھی ایک قوم اپنے خوابوں کی تعبیر کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

