Monday, 29 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Sarfraz Saeed Khan
  4. Aaiye Kuch Ilm e Nafsiyat Parhen

Aaiye Kuch Ilm e Nafsiyat Parhen

آئیے آج کچھ علم نفسیات پڑھیں

کوئی چار پانچ سال پہلے کا ذکر ہے۔ امریکہ میں میڈیکل اسکول میں جانے کے لئیے MCAT دیا جاتا ہے۔ ایک بچے نے دیا اور میڈیکل اسکول جا پہنچا۔ دوسرے بچے نے دیا اور ویٹنگ لسٹ (فہرستِ مُنتظرین) پر جا پہنچا۔ نمبر میرٹ سے زیادہ تھے اور GPA بھی بہت عمدہ تھا لیکن بہرکیف ایسا ہی ہوا۔ امریکہ میں مسلمانوں اور خصوصا دیسی حضرات کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے اس لئیے عموماََ ایک شہر میں رہنے والے ایک دوسرے کو خوب جانتے ہیں۔ جمعہ پڑھ کر میں نکل ہی رہا تھا کہ ایک پاکستانی صاحب جن سے اچھی بھلی صاحب سلامت ہے، میرے پاس آ کر کھڑے ہو گئے اور دوسرے بچے کے داخلے کا پُوچھا۔

حیران کُن طور پر کہنے لگے کہ آپ فلوریڈا کے ایک میڈیکل اسکول میں بھیج دیں کیونکہ وہ تو امتحان کے بغیر ہی لے لیتے ہیں۔ طنز عیاں تھا۔ کسی بھی شریف انسان کو جواب میں خاموشی اختیار کر لینی چاہئیے اور میں بھی خاموش ہی رہا۔ کچھ ھفتے گزرے صاحبزادے کے داخلے کی خبر آ گئی۔ اُن صاحب کو اپنے تکلیف دہ مشورے کو دہرانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ساری زندگی کی عزت دو سطری گفتگو کے بعد گنوا بیٹھے۔ کچھ عرصہ پہلے اُن کی بیگم صاحب کہیں کہتے سُنتے پائی گئیں کہ میرے شوہر کا کوئی دوست نہیں۔ دل میں سوچ آئی کہ دوست تو شاید نہ ہو لیکن ناپسند کرنے والے یا دشمن بہت سے ہوں گے۔

چند دن پہلے ملک سے باہر جانا ہوا اور پاؤں میں کچھ تکلیف کی وجہ سے کئی مرتبہ وہیل چئیر کی ضرورت پڑی۔ عموماََ ہوٹل کے دروازے پر پہنچ کر درخواست کرتے اور کوئی نہ کوئی مدد کر دیتا۔ ایک دن معاملہ کچھ مختلف دکھائی دیا۔ کاؤنٹر پر موجود صاحب بے ڈھب اور بد معاملہ تھے۔ درخواست کی اور جواب میں صاف انکار۔ دوبارہ درخواست کی لیکن اب کے ایسی بے مروتی کہ حیرانی ہوئی۔ تیسری اور چوتھی مرتبہ کہنے پر کسی کو کہا تو سہی لیکن اپنی بات پر قائم تھے البتہ حیران کُن طور پر آنے والا انسان ایک انتہائی معاملہ فہم اور نرم زبان تھا۔ اس کے رویے کی تو معذرت کی لیکن مجھے بھی درگزر کرنے کو کہا۔ کمرے میں پہنچ کر کچھ آرام کیا اور دوبارہ واپسی کا راستہ لیا۔ دو سادہ سے تحفے ہاتھ میں لئیے اور واپس کاؤنٹر پر جا کر دونوں کے ہاتھ میں تھما دئیے۔ یہ اس نوجوان کیلئے تحفہ نہیں تھا لیکن میرے اپنے لئیے ایک تحفہ تھا۔ میں نے اپنے پر اختیار control پا لیا۔ ان دونوں نوجوانوں کو ایک رول ماڈل کا تحفہ دیا۔ ہم تینوں نے مل کر معاشرے کو ایک مقابلتا" کامیاب نمونہ پیش کیا۔ جیت کسی کی بھی نہیں ہوئی لیکن معاشرتی ہمواری دکھائی دی۔

میں بنیادی طور پر چار یونیورسٹیوں سے وابستہ ہوں۔ دو سے بطور پروفیسر اور دو سے بطور انسٹرکٹر وابستگی ہے۔ سینکڑوں اور بھانت بھانت کے طلباء سے بات چیت ہوتی ہے۔ ہر طرح کے طالب علم پڑھنے آتے ہیں۔ نرم مزاج، ذہین، دنیا بدل ڈالنے والے، کم گو، نستعلیق اور ہاں کبھی کبھار بد تمیز اور بد تہذیب۔ سالوں پہلے ایک نوجوان لڑکے کو کہیں پڑھانا ہوا۔ ذہین لیکن عمومی طور پر بد تہذیب اور زبان کا تیز۔ کچھ سال گزرے اور اس کی خبر آئی کہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ناکام رہا۔ مسئلہ زبان کا ہی تھا۔ وہ زبان جو زبان درازی سے معاملوں کو الجھانے کی عادی تھی، اصل زندگی میں بُری طرح مشکلات کا سامنا کر بیٹھی اور اپنے بوجھ سے اس نوجوان کو بھی لے ڈبویا۔ ایک ذہین نوجوان اپنی بے ساختگی سے زندگی میں ناکامی کی داستان لکھ بیٹھا

آئیے اس مختصر سی تحریر میں عادت اور بے ساختگی میں فرق دیکھیں۔

عادت یعنی معمول اور رواج ایک ایسا عمل ہے جو انسان بار بار دہرانے کی وجہ سے بغیر زیادہ سوچے سمجھے، لاشعوری طور پر کرنے لگتا ہے۔ ہماری زیادہ تر زندگی عادتوں پر گزرتی ہے۔ سونے جاگنے کے اوقات، کھانے پینے اور معاشرتی آداب کی عادات اور یہ عموماََ آپ کی کامیابی کی یا مکمل ناکامی کی داستان لکھتی ہیں۔ کیا ہم خاموش طبع ہیں، نرم گو اور تہذیب یافتہ ہیں یا پھر غصہ نوک زبان پر دھرا رہتا ہے۔ سوچ سمجھ کر جواب دیتے ہیں یا بے ساختگی سے لٹھ مار چلاتے ہیں

ہر خاندان اور معاشرہ اپنی کامیاب عادات کی وجہ سے ہی جانا جاتا ہے۔ سارا امریکہ صبح سویرے اٹھ بیٹھتا ہے اور شام کو دکانیں بند ہونے لگتی ہیں۔ بڑے بڑے سُپر سٹور بھی آٹھ سے نو کے درمیان بند ہو جاتے ہیں اور بہت تڑکے لوگ ورزش کرتے لوگ دکھائی دیتے ہیں لیکن عشاء جو گرمیوں میں رات گیارہ بجے ہوتی ہے، وہاں سے واپسی پر سڑکیں بالکل خالی ہوتی ہیں۔ اگلے وقتوں میں کم از کم کوئٹہ اور لاہور کے لوگ صبح دم اُٹھ بیٹھتے تھے۔ پارک اور سڑکوں پر بہت سے لوگ ہوتے لیکن اب کبھی صبح پارک جانا ہو تو لوگ خال خال ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سیل فون اور سوشل میڈیا نے کچھ عادتیں بدل ڈالیں

بے ساختگی یعنی جذباتی پن" (Impulsivity) وقتی، غیر منصوبہ بند اور اکثر فوری ردعمل پر مبنی ہوتا ہے۔ عادت کا ہم آپ اندازہ لگا سکتے ہیں لیکن بے ساختگی، نوک زبان یا انسانی رد عمل کی نتائج کے بغیر سوچنے اور عمل کا معمول ہے۔ وقتی اشتعال انگیزی دن بدن کے جھگڑوں سے خاندانی مسائل اور پھر لڑنے مرنے تک پہنچنے کا نام ہے۔ معاملے خاندانی جھگڑوں سے انسانی جان لینے تک جا پہنچتے ہیں۔ علم نفسیات میں اس کی شدت بھی ایک بیماری کا نام ہے Impulse control Disorder یعنی بے ساختگی کو روکنے میں ناکامی یا intermittent Explosive Disorder یعنی معمولی بات پر بھڑک اٹھنا۔ رائی کا پہاڑ اور بات کا بتنگڑ بنانا اور کسی بھی فہمیدہ معاشرے میں یہ دونوں ہی نفسیاتی بیماریاں ہیں جن کے علاج کی ادویات ہیں

علم نفسیات آپ کو یہ بتاتا ہے کہ کسی بدمعاملہ اور بے ڈھب انسان سے ایک معاشرتی طور پر خوشگوار اور نستعلیق انسان کا سفر صرف بچپن کے چار یا پانچ سات سال کا ہی ہے۔ جہاں پہلے چار یا پانچ سال والدین بچے میں اخلاقیات کا بیج ڈالتے ہیں اور بچے باضمیر نکلتے ہیں وہاں اگلے کم و بیش سات سے بارہ سال تک کی زندگی یعنی بچپن سے لڑکپن کو جاتے ہوئے سال ہی ہیں جن میں والدین، اسکول کی مدد سے بچوں کو بہتری کی طرف گامزن کرتے ہیں۔ یہاں انسان اپنا کامیاب رشتہ آنے والے معاشرے سے مضبوط بناتے ہیں۔

بچے مہارت اور خود اعتمادی کے بیش بہا انعام، اسکول اور والدین سے لیتے ہیں اور وقت آنے پر زندہ معاشرے کو لوٹا دیتے ہیں۔

یہاں آپ کا بچہ خودی، پُر اعتمادی اور ایک متین وقار کو اپنی نئی شخصیت کا حصہ بناتا ہے اور معاشرے کا ایسا حصہ بنتا ہے جو آنے والے ساٹھ یا ستر سالوں میں جستہ جستہ لوٹا دیتا ہے۔ یہاں ایک قائد اعظم، علامہ اقبال، نوبل انعام جیتنے والے ڈاکٹر عبدالسلام اور جسٹس دراب پٹیل جیسی شخصیات پیدا ہوتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہ سال بھی تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔ یہی وہ چند سال ہیں جو بچوں کو عام سے خاص بناتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو کامیاب ترین لوگوں کی سر گزشت پڑھ ڈالئیے۔ انہی سنہرے سالوں میں اُن کی اٹھان نظر آئے گی اور یہی وہ سال ہیں جن کو شاعری کی آفاقی زبان میں لکھا جائے گا۔۔

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں

Check Also

Sargodha Mein Zulm Hua

By Shahid Mehmood