Hum Khud Apni Zindagi Kyun Barbad Karte Hain?
ہم خود اپنی زندگی کیوں برباد کرتے ہیں؟

میں نے اپنی آنکھوں سے ایک ایسا واقعہ دیکھا جس نے مجھے کئی راتیں سونے نہیں دیا۔ ایک لڑکے اور لڑکی نے پسند کی شادی کی۔ لڑکے کے والدین نے دل کے ساتھ اس لڑکی کو اپنی بیٹی کی طرح قبول کیا، اسے عزت دی اور محبت دی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اختلافات بڑھنے لگے۔ میاں بیوی الگ رہنے لگے، معمولی باتیں بڑے جھگڑوں میں بدلنے لگیں اور ہر دن پہلے سے زیادہ تلخ ہوتا گیا۔ پھر ایک دن ایسا آیا کہ شوہر نے اپنی زندگی ختم کرنے کی کوشش کی۔
میں آج بھی سوچتی ہوں کہ آخر انسان کس مقام پر پہنچ کر اپنی جان لینے کا فیصلہ کرتا ہے؟ کتنی مایوسی، کتنی بے بسی، کتنا ذہنی دباؤ اور کتنی تنہائی ہوتی ہوگی کہ انسان اپنے والدین کی محبت، اپنے بچوں کی مسکراہٹ، اپنی بیوی اور اپنے رب کی عطا کی ہوئی زندگی بھی بھول جاتا ہے۔
لیکن یہاں ایک سوال ہم سب کے لیے بھی ہے۔ کیا مشکلات کا حل اپنی جان ختم کرنا ہے؟ ہرگز نہیں۔ زندگی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ امانت ہے اور امانت میں خیانت کی اجازت کسی کو نہیں۔
اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو دوبارہ زندگی عطا کر دی، مگر اگر انسان اس موقع کے بعد بھی اپنے رب کی طرف نہ لوٹے، اپنی غلطیوں پر غور نہ کرے اور اپنی زندگی نہ بدلے تو یہ بہت بڑی محرومی ہے۔
آج ان کے درمیان طلاق کی بات ہو رہی ہے۔ ایک بچہ دنیا میں موجود ہے اور دوسرا ابھی ماں کے پیٹ میں ہے۔ ذرا سوچئے، ان معصوم بچوں کا کیا قصور ہے؟ والدین کے فیصلوں کی سزا آخر وہ کیوں بھگتیں؟ کیا ایک لمحے کا غصہ، ضد اور انا پوری نسل کی خوشیوں سے زیادہ قیمتی ہے؟
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جب ہم اللہ سے دور ہو جاتے ہیں، نماز چھوڑ دیتے ہیں، دعا چھوڑ دیتے ہیں، صبر چھوڑ دیتے ہیں اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے بجائے صرف اپنی انا کی حفاظت کرتے ہیں، تو ہم آہستہ آہستہ اپنی ہی زندگی برباد کرنے لگتے ہیں۔
اس لیے آج بھی وقت ہے کہ ہم قسمت کو نہیں، اپنے اعمال اور اپنے فیصلوں کو بدلیں۔ کیونکہ جب انسان اپنے رب کی طرف لوٹ آتا ہے تو ٹوٹے ہوئے راستے بھی دوبارہ بننے لگتے ہیں۔ اللہ تعالی ہم سب کی غلطیوں کو دہوں کو معاف فرمائے اور ہمیں اس راستے پر چلنے کی توفیق عطا کرے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اس راستے سے بچنے کی توفیق عطا کرے جس سے وہ ناپسند کرتا ہے۔

