Saneha e Kahna
سانحہ کاہنہ

تاریخ میں بعض حادثے صرف جانیں نہیں لیتے، وہ قوموں کے ضمیر کو بھی آئینہ دکھا دیتے ہیں۔ ایسے سانحات کے بعد عمارتیں دوبارہ تعمیر ہو جاتی ہیں، بازار پھر آباد ہو جاتے ہیں، لیکن کچھ دروازوں پر خاموشی برسوں دستک دیتی رہتی ہے۔ کچھ مائیں عمر بھر دروازہ کھلنے کی آواز سن کر چونک جاتی ہیں، جیسے ان کا بچہ ابھی ٹیوشن سے واپس آئے گا، مگر اگلے ہی لمحے انہیں یاد آ جاتا ہے کہ ان کا بچہ اب صرف تصویروں میں مسکراتا ہے۔
لاہور کا علاقہ کاہنہ نو میرے لیے صرف نقشے پر موجود ایک بستی نہیں، یہ میرا اپنا علاقہ ہے۔ میں ان گلیوں، بازاروں اور لوگوں کو جانتا ہوں۔ اسی لیے جب خبر ملی کہ ایک گھر کی چھت گرنے سے ٹیوشن پڑھنے والے معصوم بچے ملبے تلے دب گئے ہیں تو یہ میرے لیے خبر نہیں بلکہ اپنے گھر کے صحن میں برپا ہونے والی قیامت تھی۔
چند لمحوں میں چودہ ننھی زندگیاں ختم ہوگئیں۔ وہ بچے جو بستے اٹھا کر مستقبل بنانے نکلے تھے، شام کو سفید کفنوں میں اپنے گھروں کو لوٹے۔ کسی ماں کی گود اجڑ گئی، کسی باپ کی امید ٹوٹ گئی اور کسی بہن کا کھیل کا ساتھی ہمیشہ کے لیے بچھڑ گیا۔
اس سانحے میں صرف بچے ہی متاثر نہیں ہوئے۔ وہ ٹیچر بھی زخمی حالت میں ہسپتال میں زندگی کی جنگ لڑ رہی ہے جس نے شاید کبھی تصور بھی نہ کیا ہو کہ تعلیم دینے کی جگہ ماتم کدہ بن جائے گی۔ اس کا شوہر فروٹ کی ریڑھی لگا کر گھر کا خرچ چلاتا ہے۔ یہ بھی ایک محنت کش خاندان ہے جس کی پوری زندگی ایک لمحے میں بدل گئی۔ ان کے لیے بھی ہمدردی ضروری ہے، کیونکہ ہر حادثے میں صرف مرنے والے نہیں، زندہ بچ جانے والے بھی عمر بھر سزا بھگتتے ہیں۔
پنجاب حکومت نے جاں بحق بچوں کے ورثا کے لیے بیس، بیس لاکھ روپے اور زخمی بچوں کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا۔ یہ قدم اپنی جگہ قابلِ تعریف ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہر سانحے کا علاج صرف امدادی چیک ہوتا ہے؟ کیا ریاست کی ذمہ داری صرف مالی امداد تک محدود ہے؟ ریاست صرف خزانے کا نام نہیں، ریاست ایک احساس کا نام بھی ہوتی ہے۔
کاہنہ نو پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کا انتخابی حلقہ ہے۔ وہ 2018ء سے اسی حلقے سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے آ رہے ہیں اور آج بھی اسی حلقے کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کے لوگوں کی توقعات بھی زیادہ ہیں۔ لیکن علاقے کے لوگوں کی شکایت ہے کہ وزیراعظم کی موجودگی صرف انتخابی مہم کے دوران محسوس ہوتی ہے۔ وہ الیکشن میں ایک دن مین فیروز پور روڈ پر آتے ہیں، گاڑی سے ہاتھ ہلاتے ہیں، مختصر خطاب کرتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں۔ انتخابات ختم ہوتے ہی عوام اور نمائندے کے درمیان فاصلہ پھر ویسا ہی ہو جاتا ہے۔
یہ تاثر درست ہے یا غلط، اس کا فیصلہ عوام کریں گے، مگر یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ اپنے ہی حلقے میں اتنے بڑے سانحے کے بعد لوگ اپنے منتخب نمائندے کی آمد کے منتظر تھے۔ تین دن گزر گئے۔ چودہ بچوں کی تدفین ہوگئی۔ گھروں میں قرآن خوانیاں شروع ہوگئیں۔ زخمی ہسپتال میں زیر علاج رہے، مگر وزیراعظم اس علاقے میں نہ آئے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی آمد کا بھی انتظار رہا، مگر متاثرہ خاندانوں کے لیے انتظار ہی مقدر بنا رہا۔
البتہ اس دوران ایک اور منظر ضرور دیکھنے میں آیا۔ مین فیروز پور روڈ پر غیر معمولی صفائی شروع ہوگئی جس محلے میں یہ سانحہ ہوا وہاں سڑک بنانی شروع کر دی گئی ہے گلی محلوں میں صفائیاں شروع ہوگئی ہیں، گرین بیلٹس دھلنے لگیں، پانی کا چھڑکاؤ ہونے لگا، پیرا فورس مسلسل گشت کرتی رہی تاکہ سڑک پر کوئی ریڑھی نظر نہ آئے، گلیوں میں نئی سٹریٹ لائٹس لگنے لگیں اور میں فیروز پور کے گرین بیلٹس میں لگی وہ پرانی لائٹس بھی روشن کر دی گئیں ہیں جو برسوں سے کبھی نہیں جلیں۔ سڑک کے دونوں اطراف گرین بیلٹ اور فٹ پاتھ کی سائیڈوں پر کالا اور پہلا رنگ کرنا شروع کر دیا گیا ہے۔
اگر یہ تمام کام عوام کی سہولت کے لیے ہیں تو یقیناً خوش آئند ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سہولتیں صرف اس وقت یاد آتی ہیں جب کسی اہم شخصیت کی آمد متوقع ہو؟ کیا شہریوں کا حق صرف پروٹوکول کے دنوں میں جاگتا ہے؟
تاریخ گواہ ہے کہ حکمرانوں کی عظمت محلات، پروٹوکول اور قافلوں سے نہیں ناپی جاتی بلکہ اس بات سے ناپی جاتی ہے کہ وہ اپنے لوگوں کے دکھ میں کتنے شریک ہوتے ہیں۔
حضرت عمر بن خطاب کا واقعہ اس کی بہترین مثال ہے۔ رات کے وقت گشت کے دوران انہوں نے ایک خیمے سے بچوں کے رونے کی آواز سنی۔ معلوم ہوا کہ ایک ماں خالی ہانڈی میں پانی ابال رہی ہے تاکہ بچے یہ سمجھ کر سو جائیں کہ کھانا پک رہا ہے۔ حضرت عمرؓ خود بیت المال گئے، آٹے کی بوری اپنے کندھے پر اٹھائی، گھر پہنچے، چولہا جلایا اور بچوں کو کھانا کھلایا۔ کسی نے عرض کیا کہ بوری مجھے دے دیں تو فرمایا: "کیا قیامت کے دن بھی تم میرا بوجھ اٹھاؤ گے؟"
یہ صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ حکمرانی کا معیار ہے۔
کاہنہ نو کا سانحہ بھی ریاست کے احساسِ ذمہ داری کا امتحان تھا۔ کسی ماں کے سر پر ہاتھ رکھ دینا، کسی باپ کے آنسو سن لینا، زخمی ٹیچر کی عیادت کر لینا شاید کسی مالی امداد سے زیادہ قیمتی ہوتا۔
اس حادثے نے ایک اور سوال بھی کھڑا کر دیا ہے۔ آخر یہ سانحہ کیوں پیش آیا؟ کیا کبھی حکومت نے عمارتوں کی جانب پڑتال کی؟ کیا رہائشی گھروں میں چلنے والے ٹیوشن سینٹرز کے لیے کوئی حفاظتی نظام موجود ہے؟ اگر نہیں تو یہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد ایف آئی آر درج ہوتی ہے، گرفتاریاں ہوتی ہیں، کمیٹیاں بنتی ہیں، امداد کا اعلان ہوتا ہے اور چند دن بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے، یہاں تک کہ اگلا سانحہ ہمیں دوبارہ اسی مقام پر لا کھڑا کرتا ہے۔
کاش! اس حادثے کے بعد پنجاب بھر میں رہائشی گھروں میں چلنے والے تمام ٹیوشن سینٹرز اور نجی تعلیمی مراکز کی عمارتوں کا حفاظتی معائنہ کیا جائے، کمزور عمارتوں کو بند کیا جائے اور ایسے قوانین بنائے جائیں جن سے آئندہ کسی ماں کی گود اجڑنے سے بچ سکے۔
کاہنہ نو کے قبرستان میں دفن ہونے والے یہ چودہ بچے اب کبھی واپس نہیں آئیں گے۔ ان کے بستے، کتابیں، کاپیاں اور خواب سب وہیں ملبے تلے رہ گئے۔
اور وہ زخمی ٹیچر۔۔ شاید وہ زندگی بھر خود کو معاف نہ کر سکے، حالانکہ ممکن ہے اس کا قصور صرف اتنا ہو کہ وہ غریب بچوں کو تعلیم دے کر اپنے گھر کا چولہا جلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کا ریڑھی بان شوہر شاید آج بھی یہی سوچتا ہوگا کہ محنت کی کمائی کی سزا اتنی بڑی کیوں بن گئی۔
آخر میں صرف ایک گزارش ہے۔
وزیراعظم ہوں، وزیراعلیٰ ہوں یا کوئی بھی عوامی نمائندہ، اقتدار ہمیشہ نہیں رہتا۔ بڑے محلات، لمبے قافلے اور سرکاری پروٹوکول ایک دن تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں، مگر عوام کے آنسو پونچھنے والے حکمران ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔
کاہنہ نو کے لوگوں کو یہ احساس چاہیے کہ ان کا دکھ ریاست کا بھی دکھ ہے۔ کیونکہ جس ریاست میں حکمران کے آنے سے پہلے سڑکیں دھل جائیں، گرین بیلٹ چمکنے لگے، سٹریٹ لائٹس روشن ہو جائیں، ریڑھیاں ہٹا دی جائیں، لیکن انہی سڑکوں پر رہنے والے غریبوں کے گھروں تک حکمران خود نہ پہنچ سکیں، وہاں مسئلہ صرف ایک سانحہ نہیں ہوتا بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہوتا ہے۔
اور یاد رکھیے، چھتیں گرنے سے صرف عمارتیں نہیں ٹوٹتیں، اعتماد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ اینٹیں اور سریا دوبارہ کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر عوام کے دلوں میں گرنے والی چھت کو دوبارہ تعمیر کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔

