Friday, 03 July 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Muhammad Anwar Bhatti
  4. Siasi Sahiri Aur Muflis Shehar (2)

Siasi Sahiri Aur Muflis Shehar (2)

سیاسی ساحری اور مفلسِ شہر (2)

بندن میاں نے چائے کے کھوکھے پر بیٹھے ہوئے اس کسان کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور پوچھا اچھا بڑے میاں سچ سچ بتانا تمہاری زندگی کی سب سے بڑی خواہش، تمہاری سب سے بڑی تمنا کیا ہے؟ کسان نے اپنی پگڑی کا کونہ درست کیا اس کی آنکھوں میں حسرت کی جھلک تھی وہ دھیمی آواز میں بولا بندن میاں مجھے کوئی محل نہیں چاہیے مجھے بس اپنی رات دن کی خون پسینے کی محنت کا پورا معاوضہ مل جائے تاکہ میں اگلے سال کے بیج کے لیے کسی ساہوکار کا محتاج نہ رہوں۔ بندن میاں نے پھر اس مزدور کی طرف رخ کیا جو اپنی سوکھی روٹی چبا چکا تھا اس سے پوچھا اور میاں مزدور تمہاری کیا خواہش ہے؟

مزدور نے اپنے کھردرے، چھالوں سے بھرے ہاتھ پھیلائے اور بولا حضور بس اتنی سی خواہش ہے کہ جب شام کو گھر لوٹوں تو بچوں کے لیے دو وقت کی عزت کی روٹی میرے ہاتھ میں ہو انہیں بھوکا نہ سونا پڑے۔ بندن میاں نے آخر میں اس خاموش کونے میں بیٹھے پنشنر بزرگ سے پوچھا باباجی آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ کی کیا تمنا ہے؟ وہ بزرگ کچھ دیر خاموش رہے ان کے ہونٹ کپکپائے اور پھر بڑی بے بسی سے بولے بیٹا بس اتنی سی التجا ہے کہ جب ڈاکٹر کی لکھی ہوئی دوائی خریدنے میڈیکل اسٹور پر جاؤں تو اپنی جیب ٹٹولتے وقت میری آنکھوں میں شرمندگی کے آنسو نہ آئیں مجھے ادھار نہ مانگنا پڑے۔ مجھے کسی کے آگے ہاتھ نا پھیلانے پڑیں۔ نظریں نا جھکانی پڑیں۔

یہ سننا تھا کہ بندن میاں کی پتھرائی ہوئی آنکھیں یکلخت نم ہوگئیں ان کا گلا رُندھ گیا انہوں نے گہری سانس لی اور وہاں بیٹھے لوگوں سے مخاطب ہو کر بولے دیکھو اوئے غافلو دیکھو ان مقتدر طبقوں کے اندھے اندھیرو یہ لوگ تم سے کوئی شیش محل نہیں مانگ رہے یہ تم سے صدارتی ہیلی کاپٹروں کی سواری نہیں مانگ رہے یہ تم سے کوئی ڈیفنس کے پلاٹ نہیں مانگ رہے یہ تو صرف انسان ہونے کے ناطے عزت سے جینے کا دو وقت کی روٹی کا اور سانس لینے کا حق مانگ رہے ہیں مگر افسوس صد افسوس اس جمہوری ملک میں اب غریب کے لیے عزت کی زندگی ہی سب سے نایاب، سب سے مہنگی اور سب سے دور کی چیز بن چکی ہے۔ بندن میاں نے چائے کا آخری، ٹھنڈا ہو چکا گھونٹ بھرا، اپنی عینک اتاری اور مسکراتے ہوئے کہا پاکستان کو اب ان جادوگروں، ان مداریوں اور ان تماش بینوں کی ضرورت نہیں ہے اس ملک کو اب صرف اور صرف انصاف کرنے والوں کی، دیانت داروں کی ضرورت ہے۔

ہمیں ایسی سیاست چاہیے جس میں جادو کی چھڑی نہیں بلکہ قانون کا قلم چلے اور وہ قلم پہلے غریب عوام کے حقوق کے لیے چلے ان کی تقدیر بدلنے کے لیے چلے اور بعد میں حکمرانوں کی اپنی ذات کے لیے اٹھے۔ ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو آئی ایم ایف کا خوفناک نام صرف غریب کو ڈرانے کے لیے استعمال نہ کرے بلکہ جب ملک پر مشکل وقت آئے تو اپنی شاہی مراعات اپنے پروٹوکولز اور اپنے بنگلوں پر بھی وہی کٹوتی کا اصول لاگو کرکے دکھائے۔ کیونکہ جب تک اس ملک میں مزدور کا پسینہ سستا اور اقتدار کی آسائشیں مہنگی رہیں گی جب تک غریب کا خون نچوڑ کر امیروں کے محلات میں چراغاں ہوتا رہے گا تب تک اس قوم کے ناسور بن چکے زخموں پر کوئی مرہم نہیں لگ سکتا کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔

بندن میاں چائے کے بنچ سے اٹھے اپنی پرانی گھیس کندھوں پر ڈالی چپل کو زمین پر جھاڑا اپنی لاٹھی کو مضبوطی سے تھاما آسمانِ کبود کی طرف اپنی نمناک آنکھیں اٹھائیں اور بڑے سوزِ دل سے دعا مانگی اے کائنات کے مالک اے ارضِ پاک کے حقیقی محافظ اس مظلوم وطن پر کبھی ایسا وقت بھی لاکبھی ایسی صبحِ نو بھی دکھا جب سیاست کا سب سے بڑا معجزہ سب سے بڑا جادو اس عوام کی حقیقی خوشحالی ہو جب مزدور کے چہرے پر لکھی مسکراہٹ ہی ملک کی اصل ترقی ہو جب کسان کی سرسبز لہلہاتی فصل ہی ملک کا اصل اثاثہ ہو اور جب اس ملک کے بوڑھے پنشنرز کی دل سے نکلنے والی دعائیں حکومت کا اصل بجٹ ہوں کیونکہ جس بدنصیب قوم کے بزرگ جس ملک کے معمار راتوں کو اٹھ کر دعائیں دینے کے بجائے آہیں بھرنے لگیں، سسکیاں لینے لگیں، وہاں ترقی کے تمام دعوے، جی ڈی پی کے تمام اعداد و شمار اور وزراء کی تمام پریس کانفرنسیں صرف کاغذ کے ٹکڑے اور تقریروں کی حد تک ہی اچھی لگتی ہیں حقیقت کی دنیا میں ان کی اوقات ایک مٹی کے ڈھیر سے زیادہ نہیں ہوتی۔

بندن میاں نے جیب سے اپنی پرانی عینک دوبارہ نکالی قمیض کے دامن سے اس کے دھندلے شیشے صاف کیے ناک پر ٹکائی اور اخبار کا وہ منحوس صفحہ دوبارہ پڑھنے لگے جس پر مراعات کی تفصیلات درج تھیں پھر طنزیہ انداز میں مسکرا کر بولے لگتا ہے پچھلے ستر سالوں میں اس ملک میں اگر کسی صنعت نے، کسی فیکٹری نے سب سے زیادہ دن دگنی رات چوگنی ترقی کی ہےتو وہ صرف اور صرف "وعدوں کی صنعت" ہے یہاں سیاست دانوں کے وعدے بھی ایک ایسی جادوئی فصل ہیں جو ہر الیکشن سے عین پہلے غریب کے خون سے سیراب ہو کر یکلخت لہلہانے لگتی ہے چاروں طرف ہریالی نظر آتی ہے اور جیسے ہی ووٹ بیلٹ بکس میں گرتے ہیں اور نتائج کا اعلان ہوتا ہے وہی ہری بھری فصل اچانک سوکھ کر مویشیوں کے کھانے والی خشک گھاس بن جاتی ہے جس پر غریب کا گدھا بھی منہ مارنا پسند نہیں کرتا۔

بندن میاں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کل ہی کی بات ہے میں نے گلی میں کھیلتے ہوئے ایک معصوم ننگ دھڑنگ بچے کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا بیٹا تم بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ ڈاکٹر بنو گے یا ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والے فوجی؟ اس معصوم نے بغیر کسی جھجک کےبڑی ہوشیاری سے جواب دیا بندن دادا میں بڑا ہو کر سیاست دان بنوں گا میں نے حیرت سے پوچھا وہ کیوں؟ تو بولا کیونکہ وہاں پڑھائی کا امتحان کم ہے، محنت بالکل نہیں ہے اور مراعات، گاڑیاں اور نوکر چاکر سب سے زیادہ ہیں یہ سن کر میں نے اپنا سر پیٹ لیا اور کہا ہائے میرے بچےیہ زہر آلود خواب مت دیکھ ورنہ اس دنیا میں محنت کی عظمت، ایمانداری اور حلال کی کمائی پر لکھی ہوئی جلال الدین رومی اور شیخ سعدی کی ساری کتابیں شرم سے پانی پانی ہو جائیں گی۔

ایک زمانہ وہ تھا جب اس ملک کے بچے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، استاد یا غازی بننے کا خواب دیکھتے تھے اور ایک آج کا دور ہے کہ انہیں یہ محسوس ہونے لگا ہے کہ اس ملک میں سب سے آسان، سب سے پرکشش اور سب سے منافع بخش راستہ صرف اقتدار کی چوری ہے اور سب سے مشکل، عذاب دہ اور پامال راستہ محنت و مشقت کا ہے۔ یہ صرف ایک معصوم بچے کی سوچ کا بگاڑ نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے پورے معاشرے، پورے نظام اور پوری ریاست کے آئینے میں پڑنے والی وہ گہری دراڑ ہے جو چیخ چیخ کر ہماری بربادی کا پتا دے رہی ہے۔

بندن میاں نے چائے والے رستم خان کی طرف دوبارہ دیکھا جو پتیلی چمکا رہا تھا اس سے پوچھا رستم خان تم روز صبح سے رات تک اس تپتے ہوئے چولہے کے سامنے کھڑے رہتے ہو کتنی کمائی ہو جاتی ہے؟ رستم خان نے ایک پھیکی زہرخند ہنسی ہنس کر کہا بندن میاں بس اتنی ہی کمائی ہوتی ہے کہ جب شام کو دکان بند کرکے گھر جاتا ہوں، تو اس کمائی کو گیس کے بل، بجلی کے الیکٹرک جھٹکے، آٹے کے تھیلے، چینی کی مٹھاس اور بچوں کے اسکول کی فیس میں تقسیم کرتے کرتے میری یہ پھٹی ہوئی جیب خود مجھ سے رو کر پوچھتی ہے کہ اے میرے غریب مالک تو نے سب کا پیٹ بھر دیاسب کے بل ادا کر دیے کبھی میرے لیے بھی کوئی ایک نوٹ بچایا ہے یا مجھے ہمیشہ ایسے ہی خالی رکھنا ہے؟

بندن میاں نے اس کی بات کا تانا بانا جوڑتے ہوئے کہا واہ ری قدرت واہ رے نظامِ سیاست ادھر شاہی ایوانوں میں قومی خزانے کے آہنی دروازے صرف ایک حاکمانہ حکم سے ایک دستخط سے چشمِ زدن میں عیاشیوں کے لیے کھل جاتے ہیں اور ادھر غریب کی جیب ہر شام مفلسی، ٹیکسوں اور گرانی کے بھاری تالے سے مقفل ہو جاتی ہے یہ بھی کمال کا جادو ہے یہ بھی ملوکیت کی ایک بدترین شکل ہے۔ پھر بندن میاں نے اس ریلوے کے ریٹائرڈ ملازم کو دیکھا جو اب تک دوائیوں کی وہ پرانی پرچی ہاتھ میں لیے دکان کے ایک اندھیرے کونے میں بالکل ساکت و جامد کسی مزار کے مجاور کی طرح خاموش بیٹھا تھا اس بزرگ نے بندن میاں کی طرف دیکھا اس کی بوڑھی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپکا اور وہ نحیف آواز میں بولا بندن میاں میں نے اپنی پوری جوانی اپنی عمر کے بہترین پینتیس سال ریلوے کی ان لوہے کی تپتی ہوئی پٹریوں پر گزار دیے۔ میں نے وہ سردیوں کی یخ بستہ راتیں بھی دیکھیں جب ہاتھ پاؤں جم جاتے تھےمیں نے مئی اور جون کی وہ جھلسا دینے والی دوپہریں بھی برداشت کیں جب پٹریوں سے آگ نکلتی تھی یہاں تک کہ ہمارے بچوں کی عیدیں بھی ہم نے ریلوے اسٹیشن کی ڈیوٹی پر ہی گزار دیں کبھی چھٹی نہ ملی مگر افسوس آج زندگی کے اس آخری موڑ پر جب میرا جسم جواب دے چکا ہے مجھے اپنی دمہ اور شوگر کی ادنیٰ سی دوائی خریدنے سے پہلے سو بار سوچنا پڑتا ہے اپنی اس پرچی کو دیکھ کر دل دھڑکتا ہے کہ اس مہینے دوا لوں یا بچوں کے لیے گھر کا راشن پورا کروں؟

یہ سن کر بندن میاں کی اپنی آنکھیں بھی لبالب بھر آئیں ان کا دل خون کے آنسو رونے لگا مگر ان کا طنزیہ اور باغیانہ شعور ابھی زندہ تھا وہ تڑپ کر بولے باباجی مجھے تو لگتا ہے کہ ہمارے اس بدبخت ملک میں پنشنر اس مٹی کے چراغ کی مانند ہے جس سے اقتدار کے ایوانوں والے جب تک اس میں تیل رہتا ہے پوری عمر روشنی لیتے ہیں اس کی جوانی کا خون نچوڑتے ہیں اور جب آخر میں اس کا تیل ختم ہونے لگتا ہے جب وہ بجھنے کے قریب ہوتا ہے تو اسے بے رحمی سے اندھیرے میں سڑک کے کنارے تڑپنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔

بندن میاں نے تلملا کر کہا اگر اس ملک کی حکومت کو ان وزیروں کو اور ان پالیسی سازوں کو واقعی کبھی اس عوام کا اس غریب طبقے کا حقیقی درد محسوس کرنا ہو اگر وہ واقعی مخلص ہیں تو چلو میری ایک شرط مان لیں وہ صرف ایک مہینے کے لیے اپنے کسی وفاقی وزیر کوکسی پروٹوکول والے صاحب کو صرف ایک عام دہاڑی دار مزدور کی تنخواہ پر گزارا کرنے کا تجربہ کروا کے دیکھ لیں وہ صرف ایک مہینے کے لیے اپنے کسی گریڈ بائیس کے بڑے افسر کوجو شاہی بنگلے میں رہتا ہے صرف ایک معمولی ریٹائرڈ پنشنر کی کل آمدنی دے کر کہیں کہ اب گھر چلاؤ اور صرف ایک مہینہ کسی ایئر کنڈیشنڈ کمرے میں بیٹھ کر معاشی پالیسی بنانے والے مشیر کو جون کی تپتی ہوئی دھوپ کے نیچے کسان کے ساتھ کھیت میں ہل چلانے کے لیے کھڑا کر دیں خدا کی قسم اگر انہوں نے ایک مہینہ یہ عذاب جھیل لیا تو پھر مجھے یقین ہے کہ اگلی بار جب بجٹ کی کتاب لکھی جائے گی تو اس میں غریبوں کی فلاح کے کچھ نئے، سنہری اور انقلابی باب لکھے جائیں گے ورنہ یہ سب زبانی جمع خرچ ہے۔

بندن میاں نے طنز کی دھار کو تیز کرتے ہوئے ہنس کر کہا ہمارے ہاں تو اب مہنگائی بھی بڑی خاندانی، بڑی شریف اور وضع دار ہو چکی ہے وہ اتنی بااخلاق ہے کہ وہ کبھی کسی بڑے سیاستدان، کسی جرنیل یا کسی جج کے عالی شان بنگلے کا دروازہ نہیں کھٹکھٹاتی، وہ ڈیفنس اور بحریہ ٹاؤن کے راستوں سے واقف ہی نہیں ہے اسے تو ہمیشہ صرف غریب کی ٹوٹی ہوئی جھونپڑی، مزدور کے کچے مکان اور پنشنر کے خستہ حال کوارٹر کا ہی پتہ معلوم ہوتا ہےآٹے کی قیمت بڑھے تو مزدور کا چولہا ٹھنڈا ہو جاتا ہے بجلی مہنگی ہو تو کسان کی راتوں کی نیند اڑ جاتی ہے دوائی مہنگی ہو تو پنشنر کی سانسیں اکھڑنے لگتی ہیں مگر افسوس جنہوں نے یہ تمام ظالمانہ فیصلے کرنے ہوتے ہیں جو بند کمروں میں بیٹھ کر غریب کی تقدیر کے فیصلے صادر کرتے ہیں ان کے کمروں کے امپورٹڈ اے سی کبھی بند نہیں ہوتے ان کی زندگی کا سکون کبھی غارت نہیں ہوتا۔

بندن میاں نے چائے خانے کی چھت سے اوپر کھلے آسمان کی طرف دیکھا اور بڑے جلال میں آ کر بولے یا اللہ یہ تیرے بندوں کا کیسا عجیب و غریب حساب کتاب ہے؟ یہ کیسا متوازی نظام ہے کہ جس مظلوم انسان نے اپنی پوری زندگی، اپنی پوری جوانی اس قوم کی مخلصانہ خدمت میں صرف کر دی وہ آج بڑھاپے میں آٹے اور یوٹیلٹی اسٹور کی لائن میں ذلیل و خوار ہو رہا ہے اور جس نے صرف چند برس جھوٹے وعدے کرکے اقتدار کی کرسی کا مزہ چکھا وہ اپنی آنے والی سات نسلوں کے لیے عیش و آرام، آسودگی اور بادشاہت کا سامان کر لیتا ہے؟ پھر بندن میاں نے اپنا وہی روایتی چبھتا ہوا قہقہہ لگایا اور بولے سیاست کے کالج کا پہلا اور آخری سبق شاید یہی ہے کہ غریب عوام کو ہمیشہ امید کا لالی پاپ دیتے رہو انہیں دلاسوں کی افیون چٹاتے رہواور اپنے لیے اندر ہی اندر تمام تر مراعات، سہولتیں اور جائیدادیں سمیٹتے رہوکیونکہ امید پر تو یہ بیوقوف دنیا قائم رہتی ہےمگر مراعات اور پیسوں پر ان کا اقتدار قائم رہتا ہے۔ اب چائے خانے میں بیٹھے ہوئے تمام لوگ، وہ مزدور، وہ کسان، وہ پنشنر، وہ حکیم صاحب سب کے سب بیک وقت ہنس بھی رہے تھے اور اندر سے بالکل خاموش سہمے ہوئے بھی تھےکیونکہ بندن میاں کے ہر ایک طنز ہر ایک چبھتے ہوئے لفظ اور ہر ایک فقرے کے پیچھے ان کی اپنی اپنی مظلوم زندگی کا کوئی نہ کوئی گہرا زخم، کوئی نہ کوئی ادھورا خواب اور کوئی نہ کوئی تلخ حقیقت چھپی ہوئی تھی جو اب ناسور بن چکی تھی۔

بندن میاں نے اپنی لاٹھی کو دونوں ہاتھوں سے تھاما، کھڑے ہوئے اور جلی حروف میں آخری کلمات ادا کرتے ہوئے کہا اوئے اقتدار کے نشے میں دھت مداریو میری یہ بات گرہ میں باندھ لو کہ قومیں کبھی کھوکھلے نعروں، جھوٹے وعدوں اور سبز باغ دکھانے سے نہیں بنتیں بلکہ وہ صرف اور صرف عدل و انصاف سے بنتی ہیں خزانے کبھی طویل، لایعنی اور منافقانہ تقریروں سے نہیں بھرتے بلکہ وہ حکمرانوں کی دیانت، امانت اور سچائی سے بھرتے ہیں اور ریاستیں اس وقت مضبوط، مستحکم اور ناقابلِ تسخیر ہوتی ہیں جب اس ملک کے مزدور کا پسینہ اس کی عزت بنے، جب کسان کی رات دن کی محنت اس کا جائز منافع بنے اور جب اس بوڑھے پنشنر کی سفید محترم داڑھی کسی سرکاری دفتر کے ادنیٰ کلرک کی فائل کی محتاج نہ رہے۔ اگر اس ملک کے حکمران اگر یہاں کے سیاست دان واقعی تاریخ کے صفحات میں اپنا اچھا، معتبر اور سنہرا نام چھوڑنا چاہتے ہیں تو اپنے لیے کروڑوں روپے کی مراعات کا بل منظور کرنے سے پہلے خدا کے لیے ایک بار اس مزدور کے ان کھردرے ہاتھوں کو دیکھ لیں جن پر مزدوری کے چھالے پڑے ہوئے ہیں ایک بار اس کسان کی ان پتھرائی ہوئی آنکھوں میں جھانک کر دیکھ لیں جن میں اگلی فصل اور بارش کی حسرت ناک دعا چھپی ہے اور ایک بار اس بوڑھے پنشنر کی ان لرزتی، کانپتی ہوئی انگلیوں کو دیکھ لیں جو ہر مہینے کے آغاز میں یہ دردناک حساب لگاتی ہیں کہ اس مہینے زندہ رہنے کی قیمت زیادہ ہے یا اس کی بیماری کی دوائی کی کیونکہ بندن میاں ہمیشہ یہ سچی بات کہتے ہیں کہ کسی بھی قوم کو بیرونی دشمن اتنا تباہ نہیں کرتے جتنا اس ملک کی اپنی ناانصاف پالیسیاں، اپاہج نظام اور ظالمانہ قوانین برباد کرتے ہیں اور جس دن اس پاک سرزمیں پر، اس ملک کا قلم پہلے کسی غریب، بے بس اور لاچار انسان کے حق میں چلے گا اور بعد میں کسی صاحبِ اختیار کی سہولت اور عیاشی کے لیے اٹھے گا بس اسی دن پاکستان کی سیاست سے یہ جھوٹی جادوگری، یہ سحر کاری اور یہ شعبدہ بازی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی اور عوام کی حقیقی خدمت کا اصل، سچا اور پاکیزہ باب شروع ہوگااس تاریخی دن نہ تو آئی ایم ایف کا وہ ظالمانہ ڈنڈا صرف غریب کی پیٹھ پر برسے گا نہ کوئی بوڑھا پنشنر اپنے جائز حق کے لیے در بدر کی ٹھوکریں کھائے گا نہ کوئی مزدور رات کو اپنے بچوں کے سامنے اپنی حلال کی محنت پر شرمندہ ہوگا اور نہ ہی کوئی مظلوم کسان اپنی فصل کو سڑک پر جلا کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوگا بلکہ اس دن ہر ایک پاکستانی، ہر ایک غریب شہری فخر سے اپنا سینہ تان کر کہے گا کہ یہ ملک صرف چند چنیدہ حکمرانوں، وزیروں اور امیروں کا نہیں ہے بلکہ یہ ملک ان کھردرے اور چھالوں سے بھرے ہاتھوں کا بھی ہے جن کے پاکیزہ خون اور پسینے سے اس وطن کی بنیادیں آج تک مضبوطی سے کھڑی ہیں اور بندن میاں نے اپنی پرانی لاٹھی سنبھالی رستم خان چائے والے کو الوداع کہا ایک بار پھر مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا اور بولےانشاء اللہ وہ دن دور نہیں، جب اس ملک کی تقدیر بدلے گی اور لوگ کہیں گے کہ آخرکار ہمیشہ کی طرح جھوٹا جادو ہار گیا اور سچا انصاف جیت گیا۔

Check Also

Hum Khud Apni Zindagi Kyun Barbad Karte Hain?

By Ayesha Batool