Hazrat e Hur, Karbala Ke Pehle Shaheed
حضرت حرؓ، کرب و بلا کے پہلے شہید

تاریخ کبھی کبھی صدیوں تک خاموش رہتی ہے، پھر اچانک ایک لمحہ جنم لیتا ہے جو زمانوں پر حکمرانی کرنے لگتا ہے۔ وہ لمحہ نہ تلوار سے پیدا ہوتا ہے، نہ تاج و تخت سے، بلکہ ایک بیدار ضمیر سے جنم لیتا ہے۔ قبیلہ بنو تمیم کے ایک سردار جن کو سب سے پہلے ابن زیاد نے ایک ہزار فوجیوں کے دستے کے ساتھ حضرت امام پاک اور ان کے رفقاء کو گھیر کر میدان کربلا میں لانے کا حکم دیا۔ آپ حکم تو بجا لائے مگر جب آپ نے دیکھا کہ ابن زیاد سمجھوتھے پر آمادہ نہیں اور چاہتا ہے کہ یزید کی اتباع میں حضرت امام حسینؑ کو ضرر پہنچایا جائے تو اس بات نے ان کی پشیمانی میں اضافہ کر دیا شب عاشور ساری رات سوچ بچار کے بعد حضرت حر اس نتیجے پر پہنچے کہ حق تو آل رسول ﷺ کے ساتھ ہے تو کہیں میں رب اور رسول کو خفا نہ کر دوں۔
بخدا میں جنت یا دوزخ میں سے ایک کا انتخاب کررہا ہوں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی قسم میں نے اپنے لیے جنت کا انتخاب کر لیا ہے۔ اگرچہ مجھے اس کے عوض ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ یہ الفاظ حضرت حرؓ نے اپنے بھائی، بیٹے اور غلام سمیت امام زمانہ حضرت حسین پاکؑ کی طرف بڑھتے ہوئے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگاتے ہوئے اوس بن مہاجر کی بات کے جواب میں کہے تھے۔ حضرت حرؓ کی زندگی میں بھی ایسا ہی ایک لمحہ آیا جس نے ثابت کر دیا کہ انسان کی سب سے بڑی جنگ میدانِ کارزار میں نہیں، اپنے اندر برپا ہوتی ہے۔
کربلا کی تپتی ہوئی ریت صرف سورج کی آگ سے گرم نہیں تھی، وہاں ضمیر بھی دہک رہے تھے۔ فرات کے کنارے پانی قید تھا، مگر اس سے زیادہ خوفناک قید انسان کے دلوں پر مسلط تھی۔ ہزاروں تلواریں میانوں میں بے چین تھیں، مگر ایک دل ایسا بھی تھا جس کی دھڑکن ہر گزرتے لمحے کے ساتھ حق کی آواز سن رہی تھی۔ وہ دل حضرت حرؓ کا تھا۔ و ہ یزیدی لشکرکے ایک سپہ سالار تھے۔ حکم ان کے ہاتھ میں تھا، لشکر ان کے پیچھے تھا، اقتدار ان کے سامنے تھا، مگر قسمت نے ان کے سامنے ایک ایسا سوال رکھ دیا جس کا جواب نہ کسی دربار میں مل سکتا تھا، نہ کسی فوجی ضابطے میں۔ سوال صرف اتنا تھا: حق کس طرف ہے؟
انسان جب تک اپنے مفاد کا قیدی رہتا ہے، اسے ہر راستہ سیدھا دکھائی دیتا ہے۔ لیکن جس دن ضمیر آنکھ کھول دے، اسی دن معلوم ہوتا ہے کہ کچھ راستے منزل تک نہیں، تباہی تک لے جاتے ہیں۔ حضرت حرؓ نے جب امام حسینؑ کے قافلے کو دیکھا تو انہیں ایک لشکر نہیں، کردار کا ایک آفتاب دکھائی دیا۔ پیاسے بچوں کے درمیان وقار، مصیبتوں کے حصار میں سکون اور دشمنوں کے لیے بھی پانی کا انتظام یہ و ہ اخلاق تھا جو تلواروں سے زیادہ طاقت رکھتا تھا۔ اس منظر نے ان کے دل پر ایسی دستک دی جسے کوئی شور دبا نہ سکا۔
کربلا کی سب سے بڑی جنگ تلواروں سے پہلے حضرت حرؓ کے دل میں لڑی گئی۔ ایک طرف دنیا کے انعامات تھے، دوسری طرف آخرت کی رضا۔ ایک طرف اقتدار کا سایہ تھا، دوسری طرف حق کا جلتا ہوا سورج۔ ایک طرف خوف تھا، دوسری طرف ایمان۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے تھے، مگر کمزوری سے نہیں اس احساس سے کہ اگلا قدم انہیں ہمیشہ کے لیے جنت یا ہمیشہ کے لیے پشیمانی اور رب کریم کی اور نبی رحمت ﷺ کی نافرمانی کی طرف لے جائے گا۔ پھر اچانک تاریخ نے دیکھا کہ ایک گھوڑا اپنی سمت بدل رہا ہے۔ بظاہر وہ چند قدم تھے، حقیقت میں وہ انسانیت کی سب سے طویل مسافت تھی۔ وہ فاصلے میں چند گز تھے، مگر معنویت میں زمین سے آسمان تک کا سفر۔
حضرت حرؓ نے اپنے گھوڑے کی لگام موڑی تو صرف راستہ نہیں بدلا، اپنی تقدیر بدل دی۔ وہ حضرت امام حسینؑ کے سامنے پہنچے۔ ان کے الفاظ لرز رہے تھے، مگر دل پہلی بار مطمئن تھا۔ "کیا میرے لیے بھی رحمت کا دروازہ کھلا ہے؟" یہ سوال صرف حضرت حرؓ کا نہیں تھا، ہر اس انسان کا سوال تھا جو کبھی اپنی غلطیوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ جواب آیا: "حر! تم آج بھی آزاد ہو دنیا میں بھی اور ان شاء اللہ آخرت میں بھی"۔ یہ جملہ صرف ایک شخص کی معافی نہیں تھا، بلکہ قیامت تک آنے والے ہر گناہ گار کے لیے امید کا اعلان تھا۔
حضرت حرؓ نے اس کے بعد جو تلوار اٹھائی، وہ دشمنوں کے خلاف کم، اپنے ماضی کے خلاف زیادہ تھی۔ ان کی ہر ضرب گویا یہ اعلان کر رہی تھی کہ اللہ کے راستے میں دیر سے آنے والا بھی اگر اخلاص کے ساتھ آئے تو وہ پہلے پہنچنے والوں میں شمار ہو سکتا ہے۔ تاریخ میں ہزاروں سپہ سالار گزرے۔ ان کے گھوڑوں کی ٹاپیں شہروں کو روندتی رہیں، ان کے جھنڈے قلعوں پر لہراتے رہے، مگر وقت نے ان کے نام مٹا دیے۔ حضرت حرؓ نے نہ کوئی سلطنت فتح کی، نہ کوئی شہر، مگر ایک دل فتح کر لیا اپنا دل اور جو اپنے نفس کو فتح کر لے، ز مانہ اسے کبھی شکست خوردہ نہیں کہتا۔ کربلا ہمیں صرف شہادت کا سبق نہیں دیتی، بلکہ انتخاب کا شعور بھی عطا کرتی ہے۔
ہر دور کا انسان اپنے اپنے کربلا میں کھڑا ہوتا ہے۔ ہر روز اس کے سامنے حق اور مفاد، سچ اور مصلحت، ایمان اور خوف کے راستے آتے ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم اپنے گھوڑے کی لگام کس طرف موڑتے ہیں۔ حضرت حرؓ کا نام اس لیے زندہ نہیں کہ وہ پہلے کس لشکر میں تھے، بلکہ اس لیے کہ آخری لمحے میں وہ کس صف میں جا کھڑے ہوئے۔ تاریخ انسان کے آغاز سے زیادہ اس کے انجام کو یاد رکھتی ہے۔ آج بھی اگر معاشرہ ظلم کے سامنے خاموش ہے، اگر ضمیر مفادات کے بوجھ تلے دب چکے ہیں، اگر حق تنہا کھڑا ہے، تو حضرت حرؓ کا کردار ہمیں آواز دیتا ہے کہ سچ کا راستہ کبھی بند نہیں ہوتا۔ بند صرف وہ دل ہوتے ہیں جو حق کی آواز سننا چھوڑ دیتے ہیں اور شاید اسی لیے کربلا کی ریت آج بھی دنیا سے کہتی ہے: "انسان کی سب سے بڑی فتح دشمن پر نہیں، اپنے خوف پر ہوتی ہے اور سب سے عظیم ہجرت شہر بدلنے کی نہیں، ضمیر کے جاگ اٹھنے کی ہوتی ہے"۔

