Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Mushtaq Ur Rahman Zahid
  4. Wazir e Azam Aur Molana Ka Dil Chasp Makalma

Wazir e Azam Aur Molana Ka Dil Chasp Makalma

وزیراعظم اور مولانا کا دلچسپ مکالمہ

پاکستان کی پارلیمانی تاریخ جہاں شدید تلخیوں اور الزامات سے بھری پڑی ہے، وہاں کبھی کبھار ایسے مناظر بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو ایوان کے بوجھل ماحول کو یکسر بدل دیتے ہیں۔ آٹھ محرم الحرام بدھ کو قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ایک ایسی ہی تاریخی اور دلچسپ محفل کا منظر پیش کرنے لگا جہاں ایک طرف حکومتی پالیسیوں پر "دھواں دار" وار ہو رہے تھے، تو دوسری طرف اچانک پیدا ہونے والی جملہ بازی نے پورے ایوان کو قہقہوں سے گونجنے پر مجبور کر دیا۔

​جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن، جو ہمیشہ کی طرح اپنے روایتی اور کڑک انداز میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور "ابا شریف" کی حکمتِ عملی کا کچا چٹھا کھول رہے تھے، اچانک اپنی تقریر روکنے پر مجبور ہو گئے۔ وجہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہال میں انٹری بنی۔

​سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن پارلیمانی روایات اور ذاتی احترام کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹا۔ وزیراعظم خود چل کر مولانا کی نشست تک گئے، گرمجوشی سے مصافحہ ہوا اور علیک سلیک کا ایک خوشگوار لمحہ پیدا ہوا۔ لیکن اصل جادو اس وقت شروع ہوا جب وزیراعظم نے مائیک سنبھالا۔ فرمانے لگے ​"مولانا صاحب سے میرا بہت احترام کا رشتہ ہے اور میں ہمیشہ ان کی قدم بوسی کے لیے جاتا رہتا ہوں۔ ان کے حوالے سے میرے پاس جو ماضی کی نجی اور تخیلاتی گفتگو کے راز ہیں، وہ میں اپنے ساتھ قبر تک لے کر جاؤں گا"۔ ​سیاست کے پرانے کھلاڑی مولانا فضل الرحمن نے بھی اس گیند پر فوراً فرنٹ فٹ پر آ کر شاٹ کھیلا۔ وہ مسکراتے ہوئے کھڑے ہوئے اور کہا "میں آپ کو ویلکم کہتا ہوں، آپ بلا شک اس حوالے سے ایوان کو سب کچھ بتا دیں، میں آپ کو کھلے عام اجازت دیتا ہوں"!

​بات یہیں ختم ہو سکتی تھی، لیکن میاں شہباز شریف نے معاملے کو مزید دلچسپ بناتے ہوئے جوابی وار کیا:

"مولانا صاحب! وہ ایسی باتیں ہیں کہ اگر میں نے زبان کھول دی تو بات بہت دور دور تک چلی جائے گی اور پھر وہاں سے واپسی ناممکن ہو جائے گی"۔ ​اس نوک جھونک پر پورا ایوان، خواہ وہ اپوزیشن ہو یا حکومت، قہقہوں سے گونج اٹھا اور ایک لمحے کے لیے سیاسی میدانِ جنگ، دوستانہ بیٹھک میں بدل گیا۔

​اس خوبصورت مکالمے کے پیچھے ایک تلخ حقیقت بھی چھپی ہوئی تھی، جس کا ذکر مولانا کی تقریر کے آغاز اور میڈیا بلیک آؤٹ سے ہوتا ہے۔ جیسے ہی مولانا حکومت کے خلاف سچائی کا علم بلند کرتے ہیں، روایتی میڈیا پر اکثر ان کی آواز بند کر دی جاتی ہے یا لائیو کوریج روک دی جاتی ہے۔

​لیکن مولانا نے اس کا توڑ روایتی سیاست دانوں کے برعکس بہت جدید انداز میں نکالا ہے۔ اب وہ اپنے مائیک اور سوشل میڈیا ٹیم کے ساتھ ایوان میں آتے ہیں۔ سنسرشپ کے اس دور میں ان کا اپنا مائیک اب عوام تک سچ پہنچانے کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اب آوازوں کو دبانا ممکن نہیں رہا۔ ​

​اس پورے واقعے کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے مولانا فضل الرحمن کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے، جو پاکستان کی سیاست میں "کنگ میکر" (کھیل بنانے یا بگاڑنے والے) کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ تحریکِ بحالیِ جمہوریت (MRD) کے بانی اور نامور عالمِ دین مفتی محمود کے فرزند ہیں۔ انہوں نے 1980ء کی دہائی میں ضیاء الحق کے دورِ آمریت کے خلاف جدوجہد سے اپنے سیاسی سفر کا باقاعدہ آغاز کیا بین الاقوامی سطح پر ایک منجھے ہوئے سفارت کار مانے جاتے ہیں وہ طویل عرصے تک قومی اسمبلی کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اور بے نظیر بھٹو کے دور میں خارجہ امور کمیٹی کے چئیرمین کی حیثیت سے خارجہ امور کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ وہ دائیں اور بائیں بازو کی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے ماہر ہیں۔

2002ء میں "ایم ایم اے" اور 2020ء میں عمران خان کی حکومت کے خلاف "پی ڈی ایم" کا قیام ان کی سیاسی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ موجودہ سیٹ آپ میں وہ حکومت کے شدید ترین نقاد بن کر ابھرے ہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ حکومتی اتحاد دونوں کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں، جس کی وجہ سے وہ موجودہ دور کی سب سے طاقتور اپوزیشن آواز بن چکے ہیں۔ شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ہونے والا یہ تبادلہ مذاق نہیں تھا، بلکہ یہ اس حقیقت کا اعتراف تھا کہ پاکستان کی سیاست کے اصل فیصلے بند کمروں کی ان نجی گفتگوؤں میں ہوتے ہیں جنہیں لیڈران "قبر تک لے جانے" کی باتیں کرتے ہیں۔

مولانا نے وزیراعظم کو چیلنج دے کر یہ واضح کر دیا کہ وہ کسی بھی سچائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں، جبکہ شہباز شریف کا پیچھے ہٹنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اقتدار کی اس بساط پر کئی مصلحتیں ابھی باقی ہیں۔ ​پارلیمان میں لگنے والے یہ قہقہے عارضی سہی، لیکن یہ یاد دلاتے ہیں کہ سیاست کے پردے کے پیچھے کتنا کچھ ایسا ہے جو عوام کی نظروں سے اوجھل ہے اور مولانا کا اپنا مائیک اسی اوجھل سچ کو سامنے لانے کی ایک نڈر کوشش ہے۔

Check Also

Kaghazi Taleem

By Arham Shafiq