Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Khursheed Begum
  4. Karbala Ki Shahzadi

Karbala Ki Shahzadi

کربلا کی شہزادی

سیدہ زینب کبریؑ نے زمین کے مبارک ترین گھرانے میں پرورش پائی۔ نانا رحمت اللعلمین ﷺ، نانی حضرت خدیجہ الکبریؑ، والد علی حیدر کرارؑ، والده سيدة النساءؑ تھیں۔ اُن کے بھائی جوانانِ جنت کے سردار حضرت امام حسنؑ اور امام حسینؑ تھے۔ حیدرِ کرارؑ شعلہ بیان خطیب تھے۔ حضرت زینبؑ کو یہی فصاحت و بلاغت ورثے میں ملی تھی۔ وہ عالمہ، عاقلہ اور محدثہ تھیں۔ انھوں نے دولتِ دنیا کو ٹھکرا کر معرکۂ کربلا میں اپنے بھائی حضرت امام حسینؑ کی رفاقت اختیار کی۔ بھائی، بھتیجوں، بھانجوں، بیٹوں کے علاوہ بھائی کے انصار و اصحاب کی شہادت کے بعد وطن سے دور کربلائے معلیٰ کے تپتے ریگ زار میں حضرت زینبؑ نے قافلۂ اسلام کی باگ ڈور سنبھالی۔ انھوں نے جس کڑے امتحان کا سامنا کیا اور اسلام کی ڈولتی ہوئی کشتی کو سہارا دیا، دنیا اس بات کی گواہی دے گی کہ امام حسینؑ کے ساتھ جنابِ زینبؑ نے اسلام کو بچایا۔۔

یزیدی لشکر فتح کے نشے میں چور لٹے پٹے اسلامی قافلہ کر لے کر شام کی جانب روانہ ہوا تاکہ یزید سے انعام و اکرام لے سکے۔ حضرت زینبؑ ہر ہر منزل پر خطبات ارشاد فرماتی رہیں اور حقیقت معلوم ہونے پر لوگ یزید کے خلاف ہونے لگے۔ یکم صفر 16 ہجری کو یہ قافلہ دربارِ یزید میں پہنچا۔ یزید پوری شان و شوکت سے دربار میں بیٹھا تھا۔ حضرت زینب نے اس دربار میں جو خطاب کیا تو یزیدی سیاست کا بھرم بھرے دربار میں کھول کر رکھ دیا۔ آپ نے یزید کو مخاطب کرکے فرمایا "کیا تو اس بات سے خوش ہو رہا ہے کہ ہم کو اس حالت میں، جبکہ ہمارے دلیر بھائی اور عزیز ہمارے ساتھ نہیں ہیں اور کوئی ہماری حفاظت کرنے والا نہیں ہے، تو نے ہمیں اس حال کو پہنچا دیا ہے۔ ہاں! تجھ سے اس کے سوا کیا توقع کی جاسکتی ہے؟ کیا تو اُس عورت کا بیٹا نہیں ہے جس نے کمال شقاوت سے جنگِ احد میں شہدا کے درمیان جا کر جنابِ امیر حمزہ کے جسم سے پوشاک اتار کر ان کا کلیجہ اپنے منحوس دانتوں سے چبا ڈالا۔ اے بنی اُمیہ! تم جو ہمیشہ علی و آلِ علی سے بغض و کینہ اپنے دلوں میں رکھتے ہوئے زمانہ جاہلیت کا انتقام لینے کی فکر کرتے رہتے ہو، تم سے اس قسم کی بد اعمالیوں کے سوا اور کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ آپ کی آواز میں چنگھاڑ تھی اور یزید مارے شرم کے مرجھائے بیٹھا تھا۔ اُسے اس بات کا اندازہ ہی نہ تھا کہ اس گھرانے کی بیبیاں بھی اس طرح خطاب کر سکتی ہیں۔ جنابِ زینبؑ نے مزید فرمایا اے یزید! اس وقت طاقت و وقت تیرے ہاتھ میں ہے تو جو کچھ کر سکتا ہے کرلے تو محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ کی دشمنی میں جو اقدام بھی کر سکتا ہے، انجام دے اور لوگوں کو غافل رکھنے کے لئے کسی قسم کے مکر و فریب سے کوتاہی نہ کر۔ خدا کی قسم تو اس پر قادر نہیں ہے کہ ہمارے پر فضیلت ناموں کو مٹا سکے اور ہماری یاد کو لوگوں کے دلوں سے نکال سکے۔ تو ہمارے شہیدوں کے فضائل کو نہیں مٹا سکتا جنھوں نے صادقانہ جذبات کے ساتھ انسان کو نادانی و جہالت اور گمراہی سے بچانے کی سعی کی ہے"۔

حضرت زینبؑ شام کے دربار میں خطاب کر رہی تھیں کہ لوگوں میں کھسر پھسر شروع ہوگئی کیونکہ اہل دربار کو یہ علم نہیں تھا کہ یہ نبی کریم کے پاک گھرانے کے لوگ ہیں۔ تقریر سن کر دربار کا نقشہ بدلنے لگا۔ حضرت زینبؑ کے مسلسل زبانی حملوں سے یزید کی ہمت پست ہوگئی، اس کی فتح کا غرور خاک میں مل گیا۔ جب اس کا کوئی بس نہ چل سکا تو خاموشی سے دربار سے اُٹھ کر محل کے اندر چلا گیا۔ اب یزید خوفزدہ ہوا کہ خاندانِ رسالت کی حمایت میں لوگ اُس کے خلاف لڑنے کے لئے تیار نہ ہو جائیں۔ چنانچہ اس نے حضرت نعمان بن بشیر کی حفاظت میں اس قافلہ کو مدینہ منورہ روانہ کرنے میں ہی عافیت جانی۔

غرض کہ حضرت زینبؑ ایک ایسی پاکیزہ ہستی تھیں جن سے اُمت کی بیٹیاں جرآت و شجاعت کا پرچم بلند رکھنا سیکھتی رہیں گی۔ وہ صبر و استقامت کا کوہِ گراں تھیں جو انقلابِ کربلا کا علم اٹھائے ہمیشہ حق و باطل کے معرکہ میں حق کا ساتھ دینے کا سبق سکھاتی رہیں گی۔ ان کی مبارک زندگی ہمارے لئے نمونۂ عمل ہے کہ ہم اس سے روشنی کشید کرکے اپنے خوابیدہ شعور کو آگہی سے منور کر سکیں اور امت کی بیٹیوں کو یہ بھولے ہوئے سبق یاد کروا کر منزل کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دلا سکیں۔

آیاتِ حق کی چھاؤں میں عِصمت کا پھول تھیں
زینبؑ کہیں علیؑ تھیں کہیں پر بتولؑ تھیں

Check Also

Kasb e Kamal Kun: Baba Ahmund

By Asif Masood