Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Saleem Zaman
  4. Hamare Ird Gird Kya Ho Raha Hai?

Hamare Ird Gird Kya Ho Raha Hai?

ہمارے اردگرد کیا ہو رہا ہے؟

معصوم بچوں اور بچیوں کے ساتھ زیادتیوں کے بڑھتے ہوئے ہولناک واقعات، ریپ کی دلدل اور انٹرنیٹ کے تاریک ترین گوشوں یعنی "ڈارک ویب" پر معصومیت کی پامالی کے گھناؤنے کاروبار نے آج ہمارے معاشرے کو ایک زندہ قبرستان بنا دیا ہے۔ مرد ہو یا عورت، ہر شخص ایک عجیب سی ذہنی اور جنسی وحشت کا شکار نظر آتا ہے۔ انسانی رشتوں کا تقدس، احترام اور محبت کا وجود جیسے ختم ہو چکا ہے اور ان کی جگہ محض ایک حیوانی جبلت نے لے لی ہے جہاں ہر رشتے کو صرف ہوس کا ذریعہ سمجھا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا کی بے لگام آزادی نے سوچوں کو اس حد تک مسخ کر دیا ہے کہ اب ہر سیدھی بات میں سے کوئی نہ کوئی کانسپریسی تھیوری (سازشی نظریہ) نکال لینا، هر بیان کو جھوٹا قرار دینا اور ہر حقیقت کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ہمارا قومی مزاج بن چکا ہے۔ الحاد (خدا سے انکاری)، مذہب سے بیزاری اور اخلاقیات کا تمسخر اب ایک فیشن بن چکا ہے۔ لیکن کیا یہ سب کچھ اچانک اور خود بخود ہو رہا ہے؟ جی نہیں! یہ دراصل مابعد جدیدیت (Postmodernism) کا وہ گہرا فکری جال ہے، جو کبھی مغرب کے بند کمروں میں بنا گیا تھا اور آج ہمارے اسمارٹ فونز کے ذریعے ہماری روحوں میں اتارا جا رہا ہے۔

اس پورے کھیل کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس فلسفے کی جڑوں تک جانا ہوگا۔ اٹھارویں صدی میں یورپ نے "جدیدیت" (Modernity) کی بنیاد رکھی جس کا دعویٰ تھا کہ عقل اور سائنس انسان کو ہر اندھیرے سے نکال لیں گے۔ لیکن جب بیسویں صدی کے وسط تک دنیا نے دو عظیم عالمی جنگیں اور ہیروشیما کا ایٹم بم دیکھا، تو مغرب کا اپنی ہی عقل سے اعتبار اٹھ گیا۔ اسی مایوسی سے مابعد جدیدیت نے جنم لیا، جس کا بنیادی اعلان یہ تھا کہ دنیا میں کوئی ایک سچ، کوئی آفاقی اخلاقی اصول یا کوئی حتمی حقیقت موجود ہی نہیں ہے۔ اس فلسفے نے انسانی ذہن میں "تشکیک" (Skepticism یعنی ہر مسلمہ حقیقت، اخلاقی قانون یا الہامی ہدایت پر شک کرنا) کا زہر گھول دیا اور کسی بھی چیز کو حتمی ماننے سے انکار کر دیا۔ آج سوشل میڈیا پر جو سازشی نظریات کا طوفان ہمیں نظر آتا ہے، وہ اسی تشکیک کی بدترین عوامی شکل ہے جہاں عوام کا ہر سچ سے اعتبار اٹھا دیا گیا ہے۔

اس مقصد کے لیے بیسویں صدی کے دو نامور فرانسیسی مفکرین نے بڑے کاٹ دار فکری ہتھیار تیار کیے۔ پہلے جیک ڈیریدا (Jacques Derrida) تھے، جو ایک بااثر فلسفی اور ماہرِ لسانیات تھے۔ انہوں نے "ردِ تشکیل" (Deconstruction) کا طریقہ پیش کیا، جس کا آسان مطلب یہ ہے کہ زبان یا تحریر کا کوئی ایک حتمی معنی نہیں ہوتا اور ہر قائم شدہ نظریے کو توڑ کر اس کے اندر چھپے تضادات کو ابھارا جا سکتا ہے۔ دوسرے مشیل فوکو (Michel Foucault) تھے، جو ایک نامور مورخ اور سماجی نظریہ دان تھے جنہوں نے انسانی جنسیت اور قید خانوں کی تاریخ پر گہرا کام کیا۔ فوکو نے ثابت کیا کہ دنیا میں جسے ہم "علم" یا "سچ" کہتے ہیں، وہ دراصل طاقتور کا ہتھیار ہوتا ہے۔ طاقتور طبقے اپنا اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ایک مخصوص بیانیہ (Narrative) تیار کرتے ہیں اور اسے سچ بنا کر دنیا پر تھوپ دیتے ہیں۔

آج کے دور کا سوشل میڈیا، ففتھ جنریشن وارفیئر اور پورنوگرافی کا طوفان ڈیریدا اور فوکو کے انہی افکار کا "عملی مینوئل" بن چکے ہیں۔ جب مابعد جدیدیت نے اخلاقیات کے ہر آفاقی معیار کو مسترد کر دیا، تو اس نے اباحیت پسندی (Permissiveness یعنی اخلاقی و جنسی حدود سے بالکل آزاد ہو جانا) اور ڈیجیٹل ہوس کے لیے راستے کھول دیے۔ آج سوشل میڈیا پر معروضی حقائق (سچے ڈیٹا) کی کوئی اہمیت نہیں رہی، اہمیت صرف اس بات کی ہے کہ کس کا بیانیہ کتنا طاقتور ہے۔ اس کی سب سے مستند مثال 2003 کی عراق جنگ میں ملتی ہے، جب امریکی محکمہ دفاع (Pentagon) کے سٹریٹجک ماہر برائن وائٹ مین نے "میڈیا ایمبیڈنگ" (Media Embedding) کی پالیسی بنائی۔ اس پالیسی کے تحت سینکڑوں صحافیوں کو امریکی فوج کی نگرانی میں وہیں دکھایا گیا جو فوج چاہتی تھی۔ زمین پر لاکھوں بے گناہ انسان مر رہے تھے اور وہاں کوئی "تباہی کے ہتھیار" (WMDs) بھی نہیں ملے، لیکن فوکو کے فلسفے کے عین مطابق میڈیا کے طاقتور بیانیے نے دنیا بھر کے اسکرینز پر اس صریح جھوٹ کو ایک "مقدس جنگ" بنا کر سچ کے طور پر پیش کر دیکھا دیا۔

اس فکری حملے کا سب سے بڑا نشانہ اب تیسری دنیا کے روایتی معاشرے ہیں۔ مابعد جدیدیت کے اس زلزلے نے جب انسان کی اخلاقی بنیادوں کو ہلا دیا اور آفاقی سچائیوں (Universal Truths) کے ڈھانچے کو برباد کر دیا، تو انسانی ذہن بالکل خالی ہوگیا اور فلسفے کا اصول ہے کہ خالی ذہن کبھی خالی نہیں رہتا، وہ ایک ایسی گاڑی بن جاتا ہے جسے اب کوئی بھی بیانیہ (Narrative) آسانی سے ڈرائیو کر سکتا ہے۔ جب بنیادیں ہی اکھڑ گئیں، تو اب یہ خالی ذہن ہر اس طرف چل پڑے گا جہاں اس کا نفس مائل ہوگا یا جس قسم کے الگورتھم اور ماحول میں اس کی ڈیجیٹل ٹریننگ کی گئی ہوگی۔ اب چاہے وہ پورنوگرافی کی دلدل ہو، مذہب سے بلاوجہ کی نفرت ہو، ہر مقدس چیز پر اعتراض کا شوق ہو یا فرقہ واریت کی آگ، یہ فکری طور پر مفلوج ذہن ہر اس گھناؤنے بیانیے کا لقمہ بننے کے لیے تیار ہو جاتا ہے جو اس کے سامنے پیش کیا جائے۔

اگر آج آپ فیس بک، ٹویٹر یا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے کمنٹس سیکشن پر نظر ڈالیں، تو یہ فکری زوال واضح نظر آتا ہے۔ لوگوں کے جواب دینے میں غلاظت، بدتمیزی، گالی گلوچ اور شائستگی کا مکمل خاتمہ اس بات کی کھلی علامت ہے کہ ہماری نئی نسل ذہنی طور پر "زومبی" (مردہ شعور) بن چکی ہے۔ ان کا مقصد گفتگو یا سیکھنا نہیں، بلکہ صرف اپنے سامنے والے کو کسی بھی طریقے سے ذلیل کرنا اور نیچا دکھانا ہے۔ انہوں نے اپنی بند عقل کے خول میں جو ایک بار بیانیہ بنا لیا ہے، وہ اسی پر ضد کے ساتھ قائم رہیں گے۔ وہ نہ کچھ سیکھنا چاہتے ہیں، نہ کچھ سمجھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کی سچی بات کو ماننے کے لیے تیار ہیں۔

یہ ایک ایسی نئی سرد جنگ ہے، جس میں اب بم سرحدوں پر نہیں گرتے، بلکہ سوشل میڈیا کے ذریعے براہِ راست انسان کے شعور اور عقیدے پر گرائے جاتے ہیں۔ اگر ہم نے مابعد جدیدیت کے اس فکری جال کو نہ سمجھا اور اپنے نوجوانوں کے ذہنوں کو اخلاقی اور الہامی بنیادوں سے دوبارہ نہ جوڑا، تو ہم بغیر کسی مادی جنگ کے، ذہنی اور اخلاقی طور پر ہمیشہ کے لیے مٹ جائیں گے۔

Check Also

Hazrat Imam Hussain Ka Maqsad e Shahadat

By Khalid Mahmood Faisal