حضرت امام حسینؑ کا مقصد شہادت

محرم میں ہر سال کروڑوں مسلمان حضرت امام حسینؑ کی شہادت پر اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں مگر ان غم گساروں میں بہت ہی کم لوگ اس مقصد کی طرف توجہ کرتے ہیں، جس کے لئے امام نے نہ صرف اپنی جان عزیز قربان کی بلکہ اپنے کنبے کے بچے تک کی شہادتوں کو اس راہ میں قبول کیا۔ سید ابو اعلیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں کہ کوئی بھی شخص جو امام حسینؑ کے گھرانے کی بلند اخلاق سیرت کو جانتا ہے، یہ بد گمانی نہیں کر سکتا کہ وہ اپنی ذات اور اقتدار کے لئے مسلمانوں میں خون ریزی کر سکتے، حضرت ابو بکرؓ سے امیر معاویہؓ تک پچاس برس کی تاریخ گواہ ہے کہ حکومت حاصل کرنے کے لئے لڑنا اور کشت و خون کرنا ان کا مسلک نہیں تھا۔
امام عالی مقام کی بشرف نگاہ بڑے تغیر کے آثار مسلم معاشرہ، اسلامی ریاست کی روح اور اس کے نظام میں دیکھ رہی تھی، جس کو روکنا اسکے خلاف جدوجہد کرنا نہ صرف ضروری تھا بلکہ لڑنے کی نوبت آنے کو بھی وہ جائز ہی نہیں فرض سمجھتے تھے۔ یزید کے ولی عہد بننے سے جس انسانی بادشاہت کا آغاز ہوا، اس میں اللہ تعالی کی حاکمیت صرف زبان تک محدود رہ گئی، اس نے وہی رویہ اختیار کر لیاجو ہمیشہ سے ہر انسانی بادشاہ کا رہا ہے، ملک بادشاہ اور شاہی خاندان کا ہے، وہ رعیت کی جان مال آبروہر چیز کا مالک ہے، ان شاہی حکومتوں میں اللہ کا قانون نافذ ہوا توبھی صرف عوام پر شاہی خاندان، امراءاس سے مستثنیٰ رہے۔ مطالعہ تاریخ سے واضع ہے کہ یزید کا ولی عہد بننا اور پھر اس کی تخت نشینی سے دراصل جس خرابی کی ابتداءہو رہی تھی وہ اسلامی ریاست کے دستور اوراس کے مقصد میں بنیادی تبدیلی تھی۔
اسلامی دستور کے بنیادی اصولوں میں آزادانہ انتخاب پہلا اصول تھا، خلفائے راشدین میں سے ہر ایک اسی قاعدہ کے مطابق بر سر اقتدار آیا لیکن امیر معاویہؓ کے معاملہ میں پوزیشن مشتبہ ہوگئی، پھر یزید کی ولی عہدی وہ انقلابی ثابت ہوئی، جس نے اس قاعدہ کو الٹ دیا، بیعت اقتدار سے حاصل کی جانے لگی، اس سے خاندانوں کی موروثی باشاہت کا وہ سلسلہ چل نکلا، کہ آج تک مسلمانوں کو انتخابی خلافت کی طرف پلٹنا نصیب نہ ہو سکا۔
اسلامی دستور کا دوسرا اصول شورائی نظام تھا، مقصد مشورے سے حکومت کرنا، ان لوگوں سے مشاورت کرنا جن کے علم، تقوی اور اصابت رائے پر لوگوں کا اعتماد ہو، جب شاہی نظام رائج ہواشوری کا طریقہ بدل گیا، بادشاہ مطلق العنانی اور استبداد کے ساتھ حکومت کرنے لگے، خوشامدی، درباری، گورنر، فوجوں کے سپہ سالار ان کے مشیر تھے، جن کے معاملہ میں اگر قوم کی رائے لی جاتی تو اعتماد کی بجائے لعنت کے ہزارووٹ آتے۔
تیسرا اصول اظہار رائے کی آزادی تھا، خلفائے راشدین کے ادوار میں اسلامی معاشرہ اور ریاست کے درست راستہ پر چلنے کا انحصار اس بات پر تھا کہ لوگوں کے ضمیر اور انکی زبانیں آزاد ہوں، مجلس شوری ہی نہیں قوم کے ہر فرد کو خلیفہ کی باز پرس کی آزادی تھی، بادشاہی دور کا آغاز ہوتے ہی منہ بند کر دیئے، قاعدہ یہ ہوگیا زبان کھولو تو تعریف میں ورنہ چپ رہو، حق گوئی سے باز نہیں رہ سکتے تو قتل یا قید کے لئے تیار رہو، نتیجہ یہ نکلا کہ ایماندار، آزاد خیال اور اہل لوگ حکومت سے بے تعلق ہو گئے۔ اگلا اصول خدا اور مخلوق کے سامنے جواب دہی تھا، خدا کے سامنے جوا ب دہی کی فکر سے خلفاءراشدین کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوگیا، خلق کے سامنے جواب دہی کا جہاں تک تعلق ہے وہ ہر وقت، ہر جگہ اپنے آپ کو عوام کے سامنے جواب دہ سمجھتے کسی بھی قسم کا استثنیٰ انہیں حاصل نہ تھا۔
خلفائے راشدین نے بیت المال کو امانت سمجھا یہ اصول اپنایا کہ خلیفہ ایک ایک پائی کی آمد اور خرچ پر حساب دینے کا ذمہ دار اور مسلمانوں کو اس سے حساب مانگنے کا پورا حق ہے، مگر جب خلافت بادشاہی میں تبدیل ہوگئی تو بیت المال اللہ اور مسلمانوں کی بجائے بادشاہ کا مال بن گیا، ہر جائز ناجائز راستے سے دولت آتی اور ہر جائز ناجائز راستے پربے غل و غش صرف ہوتی، سربراہ مملکت سمیت حکومت کے سارے کل پر زے اس پر حسب توفیق ہاتھ صاف کرتے رہے، کسی کی مجال نہ تھی کہ احتساب کا سوال اٹھا سکے۔
اسلامی دستور کا اگلا راہنماءاصول قانون کی حکمرانی تھی، ریاست میں اللہ اور اس کے رسول کے قانون کی حکومت ہو، کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں، انصاف کے معاملہ کسی کو کوئی امتیاز حاصل نہیں، عدالتوں کا انصاف کی فراہمی میں ہر دباؤ سے آزاد ہونالازم ہے، خلفائے راشدین کے ادوار میں کسی کی مجال نہ تھی کہ عدالت کے کام میں قاضی پر اثر انداز ہونے کا خیال بھی کرتا، خلافت سے بادشاہی کی طرف انتقال کے بعداس قاعدے کے چیتھڑے اڑ گئے، بادشاہ، امراء، حکام سپہ سالار، حتی ٰ کہ محلات کی منہ چڑھی لونڈیاں اور غلام تک سب قانون سے بالا تر ہوگئے۔ اسلامی دستور کا اہم اصول کامل مساوات تھا کہ مراتب اور حقوق کے لحاظ مسلمانوں میں کوئی تفریق نہ ہو، نسل، وطن، زبان، قبیلہ، خاندان حسب و نسب کے اعتبار سے کسی کو کسی پر فضیلت نہ تھی۔
اسلامی خلافت کو خاندانی بادشاہت میں تبدیل کرنے والے یہ تغیرات تھے، یزید کی ولی عہدی ان تغیرات کا نقطہ آغاز تھی، کچھ مدت کے بعد ہی بادشاہی نظام میں تمام خرابیاں نمایاں ہوگئیں، امام عالی مقامؓ نے جنگ کے عظیم خطرہ میں مردانہ وار کود کر یہ بات ثابت کی اسلامی ریاست کی بنیادی خصوصیات امت مسلمہ کا بیش بہا سرمایہ ہے، جس کو بچانے کے لئے ایک مومن اپنے بچوں سمیت بڑی قربانی دے تو یہ مہنگا سودا نہیں، امام حسینؑ کی نگاہ میں یہ سراسر دینی کام تھا اس لئے انہوں نے اس کام میں جان دینے کو شہادت سمجھ کر عظیم قربانی دی۔
مسلم ریاستوں میں فی زمانہ وہ تمام خرافات قریباً موجود ہیں جو یزید کی ولی عہدی میں تھیں، جن کے خلاف امام عالی مقامؑ نے عملی جہاد کیا، انسانوں کو انسانوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی غلامی میں دینا انکی شہادت کا اہم مقصد تھا وہ چاہتے تھے کہ اسلامی ریاست کے وہی راہنما اصول ہوں جو نبی مہربان کی ریاست مدینہ میں نافذ العمل تھے، مسلم حکمرانوں کے لئے ان کی شہادت میں بڑا پیغام ہے اسلامی ریاست کے اصولوں کی روشنی میں ریاست کا جائزہ لیں، وہ اپنا وزن کس پلڑے میں ڈال رہے ہیں؟ بلا شبہ حضرت امام حسینؑ شہادت کے منصب پر فائز ہو کر تاریخ اسلامی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے امر ہوگئے۔
بشکریہ: نئی بات
