Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Arham Shafiq
  4. Kaghazi Taleem

Kaghazi Taleem

کاغذی تعلیم

ایک زمانہ تھا جب تعلیم کو شعور، کردار اور ترقی کی بنیاد سمجھا جاتا تھا، لیکن آج ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف ڈگری حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں علم سے زیادہ کاغذات کی اہمیت دکھائی دیتی ہے۔ بظاہر سب کچھ درست نظر آتا ہے، اچھے نتائج آتے ہیں، طلبہ اچھے نمبروں سے کامیاب ہوتے ہیں اور ڈگریاں بھی حاصل کر لیتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا واقعی تعلیم بھی دی جا رہی ہے یا ہم ایک ایسے نظام کا حصہ بن چکے ہیں جہاں تعلیم صرف گریڈز اور نتائج تک محدود ہو کر رہ گئی ہے؟

میرے اپنے تعلیمی سفر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے مجھے ہمارے نظامِ تعلیم پر سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کر دیا۔ حال ہی میں میں نے اپنے دوسرے سمسٹر کے امتحانات دیے۔ ایک مضمون میں میں نے تقریباً تمام لیکچرز میں شرکت کی تھی۔ چند آن لائن کلاسز بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر مجھ سے رہ گئیں، لیکن میری حاضری اتنی ضرور تھی کہ مجھے امتحان دینے کی اجازت دی جائے۔ تاہم فائنل امتحان کے دوران اچانک مجھے یہ کہہ کر امتحانی ہال سے اٹھا لیا گیا کہ میری حاضری مطلوبہ حد سے کم ہے۔ بعد ازاں مجھے یہ تسلی دے کر دوبارہ امتحان میں بیٹھنے دیا گیا کہ حاضری کا مسئلہ حل ہو جائے گا اور میرے نمبرز شامل کر دیے جائیں گے۔

لیکن جب نتیجہ جاری ہوا تو مجھے شارٹ اٹینڈنس کی بنیاد پر ناکام قرار دے دیا گیا۔ جب میں نے اس بارے میں وضاحت طلب کی تو مجھے بتایا گیا کہ مجھے اپنا پورٹل چیک کرکے حاضری درست کروانی چاہیے تھی۔ اس موقع پر میرے ذہن میں ایک بنیادی سوال پیدا ہوا کہ اگر حاضری کا ریکارڈ مرتب کرنا ادارے اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے تو اس میں ہونے والی غلطی کی سزا ایک طالب علم کو کیوں دی جاتی ہے؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ ادارے کی اس کوتاہی کے باعث اب مجھے وہ امتحان دوبارہ دینا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف وقت ضائع ہوگا بلکہ ذہنی دباؤ اور اضافی محنت بھی برداشت کرنا پڑے گی۔

اگر یہ مسئلہ صرف ایک مضمون تک محدود ہوتا تو شاید میں اسے ایک انفرادی غلطی سمجھ کر نظر انداز کر دیتا، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک ہے۔ ہمارے بعض مضامین ایسے بھی تھے جن میں پورے سمسٹر کے دوران باقاعدہ تدریس نہ ہونے کے برابر تھی۔ بعض اساتذہ نے نہ کوئی فزیکل کلاس لی اور نہ ہی آن لائن لیکچرز کا اہتمام کیا۔ اکثر اوقات نصاب اور ہدایات کلاس نمائندے (CR) کے ذریعے طلبہ تک پہنچا دی جاتیں اور باقی تمام ذمہ داری طلبہ پر چھوڑ دی جاتی۔ نتیجتاً ہمیں خود مطالعہ کرکے امتحانات کی تیاری کرنا پڑی۔

یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے۔ اگر طالب علم کی چند غیر حاضریوں کو اتنا سنجیدہ لیا جاتا ہے تو اساتذہ کی غیر حاضری یا تدریسی ذمہ داریوں میں کوتاہی پر سوال کیوں نہیں اٹھایا جاتا؟ تعلیمی نظام کی ایسی خامیاں طلبہ کے اعتماد کو متاثر کرتی ہیں۔ جب ایک طالب علم اپنی محنت کا صلہ نہ پائے تو اس کے دل میں مایوسی جنم لیتی ہے۔ وہ آہستہ آہستہ یہ یقین کھونے لگتا ہے کہ محنت اور قابلیت ہی کامیابی کا راستہ ہیں۔ بعض طلبہ ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اور بعض اپنی آواز بلند کرنے کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں۔

اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں احتساب کا نظام صرف طلبہ تک محدود نہ رہے بلکہ اساتذہ اور انتظامیہ کو بھی اس کے دائرے میں لایا جائے۔ حاضری، تدریس اور نتائج کے تمام مراحل کو شفاف بنایا جائے تاکہ کسی طالب علم کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔ اگر ہم واقعی ایک بہتر مستقبل چاہتے ہیں تو ہمیں صرف ڈگریاں تقسیم کرنے کے بجائے معیاری تعلیم فراہم کرنے پر توجہ دینی ہوگی، کیونکہ قومیں ڈگریوں سے نہیں بلکہ علم، انصاف اور میرٹ سے ترقی کرتی ہیں۔ سوال صرف میری حاضری، میرے امتحان یا میرے ایک مضمون کا نہیں۔

سوال اس پورے نظام کا ہے جو طلبہ سے تو ذمہ داری، نظم و ضبط اور کارکردگی کا تقاضا کرتا ہے لیکن اپنی غلطیوں کا احتساب کرنے سے گریز کرتا ہے۔ اگر تعلیمی اداروں کا مقصد صرف ڈگریاں تقسیم کرنا رہ گیا ہے تو پھر ہمیں یہ تسلیم کر لینا چاہیے کہ ہم تعلیم نہیں بلکہ کاغذ تیار کر رہے ہیں۔ جس دن ہمارے ادارے علم کو نمبروں پر اور انصاف کو رسمی کارروائیوں پر ترجیح دینا شروع کر دیں گے، اسی دن حقیقی تبدیلی کا آغاز ہوگا۔ شاید اسی لیے آج ہمارے پاس ڈگری یافتہ افراد تو بہت ہیں، مگر تعلیم یافتہ افراد کم ہوتے جا رہے ہیں۔

Check Also

Sarhad Ke Molvi Bradran Aur Tareekh Ka Sabaq

By Syed Farhan Yashaf