Saturday, 27 June 2026

Announcement!

اب اپ ہمارے یوٹیوب چینل کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اب آپ کی تحریر کے ساتھ آپ کی آواز اور تصویر بھی دنیا تک پہنچے گی۔ اپنی تحریر کو اپنے موبائل سے بصورت ویڈیو ریکارڈ کریں اور ہمیں ارسال کر دیں۔

مزید تفصیلات کے لئے ہم سے رابطہ کریں۔۔

  1.  Home
  2. Blog
  3. Aftab Alam
  4. Pakistan Mein Jamhuriat Ya Jamhoor Ko Dhoka?

Pakistan Mein Jamhuriat Ya Jamhoor Ko Dhoka?

پاکستان میں جمہوریت یا جمہور کو دھوکہ؟

کسی بھی سیاسی نظام پر سب سے سنگین الزام یہ نہیں ہوتا کہ وہ آمریت ہے، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود کو جمہوریت کہے مگر عوام کو حقیقی اختیار نہ دے۔ آمریت کم از کم اپنی اصل شکل میں سامنے آتی ہے، جبکہ ایک جعلی جمہوریت عوام کو یہ یقین دلاتی ہے کہ اقتدار ان کے ہاتھ میں ہے، حالانکہ اصل فیصلے کہیں اور ہو رہے ہوتے ہیں۔

پاکستان کے بارے میں سوال یہ نہیں کہ یہاں انتخابات ہوتے ہیں یا نہیں، پارلیمان موجود ہے یا نہیں، یا آئین میں جمہوری دفعات لکھی ہوئی ہیں یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام واقعی حکمرانی کے عمل پر اثرانداز ہوتے ہیں، یا وہ صرف ایک ایسے سیاسی ڈرامے کے کردار ہیں جس کا اسکرپٹ کہیں اور لکھا جاتا ہے؟

قدیم یونانی فلسفی افلاطون Plato نے جمہوریت پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ عوامی حکومت اکثر ایسے لوگوں کے ہاتھ میں چلی جاتی ہے جو عوامی جذبات کو بھڑکانے اور رائے عامہ کو متاثر کرنے کی مہارت رکھتے ہیں۔ عوام کو لگتا ہے کہ وہ فیصلے کر رہے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی سوچ اور ترجیحات دوسروں کے بنائے ہوئے بیانیوں کے تابع ہوتی ہیں۔ اگر سیاست عوامی شعور کے بجائے میڈیا مینجمنٹ، پروپیگنڈا اور بیانیہ سازی کا کھیل بن جائے تو افلاطون کی تنبیہ بے حد اہم ہو جاتی ہے۔

انیسویں صدی کے فرانسیسی مفکر الیکسس ڈی ٹوکویل Tocqueville نے جمہوری معاشروں میں ایک اور خطرے کی نشاندہی کی تھی۔ ان کے مطابق شہری آہستہ آہستہ سیاسی عمل سے لاتعلق ہو جاتے ہیں اور تمام معاملات اداروں، بیوروکریسی اور پیشہ ور سیاست دانوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ایسے میں جمہوریت برقرار تو رہتی ہے، مگر عوام محض تماشائی بن جاتے ہیں۔ پاکستان میں بھی اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کا کردار ووٹ ڈالنے تک محدود ہے، جبکہ اہم فیصلوں میں ان کی شرکت نہ ہونے کے برابر ہے۔

ماہرِ معاشیات اور سیاسی مفکر جوزف شمپیٹر Schumpeter نے جمہوریت کے روایتی تصور کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ حقیقت میں جمہوریت عوام کی حکومت نہیں بلکہ اشرافیہ کے مختلف گروہوں کے درمیان اقتدار کی ایک مسابقت ہے۔ عوام صرف یہ طے کرتے ہیں کہ ان پر حکومت کون کرے گا، یہ نہیں کہ حکومت کیسے کی جائے گی۔ پاکستان کے سیاسی منظرنامے کو دیکھیں تو چند خاندان، چند جماعتیں اور چند طاقتور حلقے دہائیوں سے اقتدار کے گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا انتخابات واقعی عوام کو طاقت دیتے ہیں یا صرف اشرافیہ کے مختلف دھڑوں کے درمیان باری بدلنے کا ذریعہ بنتے ہیں؟

جرمن ماہرِ عمرانیات رابرٹ مائیکلز Michels نے اپنی مشہور "آہنی قانونِ اشرافیہ" (Iron Law of Oligarchy) میں دعویٰ کیا کہ ہر بڑی تنظیم، چاہے وہ کتنی ہی جمہوری کیوں نہ ہو، بالآخر چند لوگوں کے قبضے میں چلی جاتی ہے۔ اگر پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا جائزہ لیا جائے تو اکثر جگہوں پر قیادت موروثی نظر آتی ہے، اندرونی انتخابات کمزور ہیں اور عام کارکن کا اثر تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ اگر جماعتیں خود جمہوری نہیں تو وہ ملک میں جمہوریت کیسے پیدا کریں گی؟

برطانوی مفکر کولن کروچ Crouch نے "پوسٹ ڈیموکریسی" کی اصطلاح متعارف کروائی۔ ان کے مطابق بعض معاشروں میں جمہوریت کی تمام ظاہری علامات موجود ہوتی ہیں: انتخابات، پارلیمان، سیاسی مباحثے اور میڈیا۔ مگر اصل طاقت محدود طبقوں کے ہاتھ میں مرتکز ہو جاتی ہے۔ عوام کی شرکت رسمی رہ جاتی ہے اور فیصلے ان حلقوں میں ہوتے ہیں جہاں عام شہری کی رسائی نہیں ہوتی۔ پاکستان کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ہاں بھی جمہوریت ایک زندہ حقیقت ہے یا صرف ایک رسمی ڈھانچہ؟

امریکی سیاسی مفکر شیلڈن وولن Wolin نے "Managed Democracy" یعنی "منظم یا کنٹرول شدہ جمہوریت" کا تصور پیش کیا۔ ان کے مطابق بعض نظاموں میں عوام کو مکمل طور پر خاموش نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں ایک محدود دائرے میں سیاسی سرگرمی کی اجازت دی جاتی ہے۔ لوگ ووٹ بھی دیتے ہیں، جلسے بھی کرتے ہیں اور رائے بھی دیتے ہیں، مگر ان کی سیاسی طاقت اس حد سے آگے نہیں بڑھنے دی جاتی جہاں وہ نظام کی اصل سمت تبدیل کر سکیں۔ اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں عوام حکمران ہیں یا صرف سیاسی عمل کے شرکاء؟

فرانسیسی فلسفی ژاک رانسیئر Rancière اس سے بھی آگے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اشرافیہ اکثر جمہوریت کی تعریف تو کرتی ہے، مگر حقیقی عوامی شرکت سے خوفزدہ رہتی ہے۔ وہ جمہوریت کو اس حد تک قبول کرتی ہے جہاں تک اس سے ان کے مفادات متاثر نہ ہوں۔ جب بھی عام شہری واقعی فیصلہ سازی میں طاقتور ہونے لگتے ہیں، مختلف طریقوں سے ان کی طاقت کو محدود کر دیا جاتا ہے۔

ان تمام مفکرین کے خیالات کو سامنے رکھ کر پاکستان کے سیاسی نظام کو دیکھا جائے تو ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے: اصل طاقت کہاں ہے؟

اگر عوام پالیسی سازی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، حکمرانوں کا احتساب کر سکتے ہیں، اپنی سیاسی ترجیحات کو ریاستی فیصلوں میں ڈھال سکتے ہیں اور اقتدار کے تمام مراکز عوامی نگرانی کے تابع ہیں، تو پاکستان یقیناً ایک جمہوریت ہے۔

لیکن اگر عوام کا کردار صرف ووٹ ڈالنے تک محدود ہو، اگر سیاسی جماعتیں چند خاندانوں کے گرد گھومتی ہوں، اگر ریاست کے اہم فیصلے عوامی دائرۂ اثر سے باہر ہوں اور اگر انتخابی عمل کے باوجود طاقت کے اصل مراکز تبدیل نہ ہوتے ہوں، تو پھر یہ سوال اٹھانا جائز ہے کہ آیا ہم جمہوریت میں رہ رہے ہیں یا جمہوریت کے ایک ایسے تصور میں جو حقیقت سے زیادہ ایک تاثر ہے۔

شاید پاکستان کا سب سے بڑا سیاسی مسئلہ یہ نہیں کہ یہاں جمہوریت نہیں ہے۔ شاید اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جمہوریت کی تعریف، اس کی حدود اور اس کے حقیقی معنی پر کبھی سنجیدگی سے بحث ہی نہیں کی گئی۔ کیونکہ جمہوریت کا اصل معیار انتخابات نہیں، بلکہ عوام کی حقیقی سیاسی طاقت ہے اور یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پاکستان کو ابھی دینا باقی ہے۔

نوٹ: وضاحت ضروری ہے کہ اس مضمون میں پیش کیے گئے بعض نکات اور استدلال مصنف کی ذاتی آراء کے بجائے سیاسیات اور عمرانیات کے ممتاز مفکرین مثلاً افلاطون، ٹوکویل، شمپیٹر، مائیکلز، کروچ، وولن اور رانسیئر کے نظریاتی مباحث سے ماخوذ ہیں، جنہیں پاکستان کے سیاسی تناظر میں پرکھنے اور سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Check Also

Walid Ke Aalmi Din Par Aik Baap Ka Eteraf

By Javed Ayaz Khan